بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 34 hadith
حمیدی نے ہم سے بیان کیا کہ ولید بن مسلم نے ہمیں بتایا کہ عبداللہ بن علاء بن زبر نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا: میں نے بسر بن عبیداللہ سے سنا کہ انہوں نے ابو ادریس سے سنا۔ انہوں نے کہا: میں نے حضرت عوف بن مالکؓ سے سنا۔ انہوں نے کہا: میں غزوئہ تبوک میں نبی ﷺ کے پاس گیا۔ آپؐ ایک چمڑے کے بڑے خیمہ میں تھے۔ آپؐ نے فرمایا: موعودہ گھڑی سے پہلے چھ علامتوں کو گن رکھو۔ میری وفات، پھر بیت المقدس کی فتح، پھر مری جو تم میں پڑے گی جیسے بکریوں میں مری پڑتی ہے۔ پھر مال کا اس کثرت سے آنا کہ ایک ایک آدمی کو سو سو دینار دئیے جائیں گے اور وہ ابھی ناخوش ہوگا۔ پھر اس کے بعد ایک فتنہ ایسا اُٹھے گا کہ عربوں کا کوئی گھر بھی باقی نہیں رہے گا جس میں وہ داخل نہ ہو۔ پھر ایک میعادی صلح جو تمہارے اور عیسائیوں کے درمیان ہوگی اور وہ دغا کریں گے اور وہ اَسی جھنڈوں کے نیچے تمہاری طرف آئیں گے۔ ہر جھنڈے کے نیچے بارہ ہزار (فوج) ہوگی۔
(تشریح)ابوالیمان نے ہم سے بیان کیا کہ شعیب نے ہمیں خبر دی۔ انہوں نے زُہری سے روایت کی کہ حمید بن عبدالرحمن نے ہمیں بتایا کہ حضرت ابوہریرہؓ نے کہا: حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے مجھے ان لوگوں کے ساتھ بھیجا جنہوں نے قربانی کے دن منیٰ مقام میں اعلان کرنا تھا کہ اس سال کے بعد کوئی مشرک حج کرنے کیلئے نہ آئے اور نہ کوئی ننگا بیت اللہ کا طواف کرے اور حج اَکبر کا دن یہی قربانی کا دن ہے اور اسے حج اَکبر اس لئے کہا گیا ہے کہ لوگ (عمرے کو) حج اَصغر کہتے ہیں۔ سو حضرت ابوبکرؓ نے اس سال لوگوں کو اِطلاع دی کہ ان کے ساتھ کوئی معاہدہ نہیں رہا۔ اس لئے کوئی مشرک حجۃ الوداع کے سال حج کرنے کے لئے نہیں آیا جس میں نبی ﷺ نے حج کیا تھا۔
(تشریح)قُتَیبہ بن سعید نے ہم سے بیان کیا کہ جریر نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے اعمش سے، اعمش نے عبداللہ بن مرہ سے، انہوں نے مسروق سے، مسروق نے حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ چار خصلتیں ہیں۔ جس میں وہ پائی جائیں وہ پکا منافق ہے۔ جب بات کرے تو جھوٹ بولے اور جب وعدہ کرے تو خلاف ورزی کرے۔ اور جب عہد کرے تو عہد شکنی کرے۔ جب جھگڑا کرے تو گالی دے۔ جس شخص میں ان خصلتوں میں سے کوئی ایک خصلت پائی جاتی ہو تو وہ نفاق کی خصلت ہوگی۔ جب تک اسے چھوڑ نہ دے۔
محمد بن کثیر نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان (بن ثوری) نے ہمیں خبر دی۔ انہوں نے اعمش سے، اعمش نے ابراہیم تیمی سے، ابراہیم نے اپنے باپ (یزید بن شریک) سے، انہوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: ہم نے نبی ﷺ سے سوائے قرآنِ مجید کے اور ان باتوں کے جو اس ورق میں ہیں اور کچھ نہیں لکھا۔ نبی ﷺ نے فرمایا: مدینہ جبل عائر سے لے کر فلاں جگہ تک حرم ہے جس نے (اس میں) بدعت پیدا کی یا بدعتی کو پناہ دی تو اس پر اللہ تعالیٰ، ملائکہ اور سب لوگوں کی لعنت ہوگی۔ اس سے کوئی بدل قبول نہ کیا جائے گا اور نہ کوئی نقدی اور مسلمانوں کی ذمہ داری ایک سی ہے۔ ان میں سے ایک ادنیٰ شخص بھی اس ذمہ داری سے متعلق کوشش کر سکتا ہے۔ پس جس نے کسی مسلمان کی ذمہ داری کو توڑا تو اس پر اللہ، ملائکہ اور تمام لوگوں کی لعنت ہوگی نہ اس سے نقدی قبول ہوگی اور نہ کوئی معاوضہ۔ اور جس نے بغیر اپنے موالی کی اجازت کے کسی قوم سے موالات کی تو اس پر بھی اللہ اور ملائکہ اور سب لوگوں کی لعنت ہوگی۔ اس سے نہ کوئی نقدی قبول کی جائے گی اور نہ معاوضہ۔
اور ابو موسیٰ (محمد بن مثنیٰ) نے کہا: ہاشم بن قاسم نے ہم سے بیان کیا کہ اسحاق بن سعید نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے اپنے باپ (سعید بن عمرو) سے، ان کے باپ نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: تمہارا کیا حال ہوگا جب تم (خراج سے) نہ دینار وصول کرو گے نہ درہم؟ تو ان سے پوچھا گیا: ابوہریرہ! آپؓ کے خیال میں یہ کیسے ہوگا؟ تو انہوں نے کہا: اس خدا کی قسم جس کے ہاتھ میں ابوہریرہ کی جان ہے! میں نے یہ بات اُس کے بتانے سے لی ہے جو سچے تھے اور ان سے سچی بات ہی کہی جاتی تھی۔ لوگوں نے کہا: بیان کریں کہ کس وجہ سے ایسا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی ذمہ داری کی ہتک کی جائے گی۔ تو اللہ عز وجل ذمیوں کے دلوں کو سخت کر دے گا تو وہ مال جو ان کے ہاتھوں میں ہوں گے، روک لیں گے۔
(تشریح)عبدان نے ہم سے بیان کیا کہ ابوحمزہ نے ہمیں خبر دی، کہا: میں نے اعمش سے سنا۔ انہوں نے کہا: میں نے ابووائل سے پوچھا۔ کیا آپ صفین کی جنگ میں موجود تھے؟ انہوں نے کہا: ہاں اور میں نے حضرت سہل بن حنیفؓ سے سنا۔ لوگوں سے کہہ رہے تھے کہ اپنی رائے کمزور سمجھو۔ میں نے ابو جندلؓ کے واقعہ میں دیکھا۔ مجھے خیال آیا: کاش مجھے طاقت ہو کہ میں نبی ﷺ کی بات ردّ کر دوں تو میں ضرور ردّ کر دیتا اور ہم نے اپنے کندھوں پر کسی ایسے امر کے لئے جس نے ہمیں گھبرا دیا ہو تلواریں نہیں رکھیں۔ مگر آخر وہ امر ہمارے لئے آسان ہوگیا اور ہمیں اس کی حقیقت معلوم ہوگئی۔ لیکن ہمارا یہ ایسا امر ہے کہ ہمیں معلوم نہیں کہ اس کا انجام کیا ہو۔
عبداللہ بن محمد نے ہم سے بیان کیا کہ یحيٰ بن آدم نے ہمیں بتایا۔ (انہوں نے کہا:) یزید بن عبدالعزیز نے اپنے باپ سے روایت کرتے ہوئے ہمیں بتایا۔ (ان کے باپ نے کہا) کہ حبیب بن ابی ثابت نے ہم سے بیان کیا، کہا: ابووائل نے مجھے بتایا۔ انہوں نے کہا: ہم صفین میں تھے کہ حضرت سہل بن حنیفؓ کھڑے ہوئے اور کہنے لگے: اے لوگو! اپنے آپ کو ہی غلطی پر سمجھو۔ کیونکہ ہم حدیبیہ کے واقعہ میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھے۔ اگر ہم مقابلہ کی صورت دیکھتے تو ضرور مقابلہ کرتے۔ اتنے میں حضرت عمر بن خطابؓ آئے اور انہوں نے کہا: یا رسول اللہ! کیا ہم حق پر نہیں اور وہ (کافر) باطل پر؟ تو آپؐ نے فرمایا: کیوں نہیں۔ انہوں نے کہا: کیا ہمارے مقتول جنت میں نہیں اور ان کے مقتول آگ میں؟ آپؐ نے فرمایا: کیوں نہیں۔ تو حضرت عمرؓ نے کہا: ہم اپنے دین سے متعلق ایسی ذلت کیوں برداشت کریں؟ کیا ہم یہاں سے یونہی لوٹ جائیں یہاں تک کہ اللہ ہمارے اور ان کے درمیان فیصلہ نہ کردے؟ تو آپؐ نے فرمایا: خطاب کے بیٹے! میں اللہ کا رسول ہوں اور اللہ مجھے ہرگز کبھی ضائع نہیں کرے گا۔ پھر حضرت عمرؓ حضرت ابوبکرؓ کے پاس گئے اور ان سے وہی کچھ کہا جو نبی ﷺ سے عرض کیا تھا۔ حضرت ابوبکرؓ نے کہا: وہ اللہ کے رسول ہیں اور اللہ ان کو کبھی ضائع نہیں کرے گا۔ پھر سورۃ فتح نازل ہوئی اور رسول اللہ ﷺ نے حضرت عمرؓ کو آخرة تک پڑھ کر سنائی۔ حضرت عمرؓ نے کہا: یا رسول اللہ! کیا یہ صلح فتح ہے؟ آپؐ نے فرمایا: ہاں۔
قُتَیبہ بن سعید نے ہم سے بیان کیا کہ حاتم بن اسماعیل نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ہشام بن عروہ سے، ہشام نے اپنے باپ سے، ان کے باپ نے حضرت اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہما سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: میری ماں اپنے باپ (حارث بن مدرک) کے ساتھ اس حالت میں کہ وہ مشرکہ تھی میرے پاس اس وقت آئی جب قریش سے عہد تھا اور میعادی صلح تھی تو انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے فتویٰ دریافت کیا، کہا: یا رسول اللہ! میری ماں میرے پاس اپنی خواہش سے آئی ہے کیا میں اس سے نیک سلوک کروں؟ فرمایا: ہاں۔ اس سے نیک سلوک کرو۔
(تشریح)احمد بن عثمان بن حکیم نے ہم سے بیان کیا کہ شریح بن مسلمہ نے مجھے بتایا۔ (انہوں نے کہا:) ابراہیم بن یوسف بن ابی اسحاق نے ہم سے بیان کیا، کہا: میرے باپ نے مجھ سے بیان کیا کہ ابو اسحاق سے مروی ہے۔ انہوں نے کہا: حضرت براء (بن عازب) رضی اللہ عنہ نے مجھے بتایا کہ نبی ﷺ نے جب عمرہ کا ارادہ کیا، مکہ والوں کو کہلا بھیجا اور مکہ میں آنے کی اجازت طلب کی تو انہوں نے آپؐ پر یہ شرط عائد کی کہ آپؐ مکہ میں تین دن سے زیادہ نہیں ٹھہریں گے اور ہتھیار غلافوں میں ہی لے کر داخل ہوں گے اور اہل مکہ میں سے کسی کو اپنے پاس نہیں بلائیں گے۔ انہوں نے کہا: حضرت علیؓ بن ابی طالب ان کے درمیان یہ شرطیں لکھنے لگے اور انہوں نے یوں لکھا کہ یہ وہ صلح نامہ ہے جس پر محمد رسول اللہ (ﷺ) نے تصفیہ کیا ہے۔ تو کفارِ قریش بولے۔ اگر ہم جانتے کہ تم اللہ کے رسول ہو تو ہم تمہیں نہ روکتے اور ضرور تمہاری بیعت کرلیتے۔ بلکہ یوں لکھو: یہ وہ صلح نامہ ہے جس پر محمد بن عبداللہ نے تصفیہ کیا ہے۔ آپؐ نے فرمایا: بخدا! میں محمد بن عبداللہ بھی ہوں اور اللہ کا رسول بھی۔ حضرت براء بن عازبؓ کہتے تھے کہ رسول اللہ لکھنا نہیں جانتے تھے تو آپؐ نے حضرت علیؓ سے کہا: رسول اللہ کے الفاظ مٹا دو تو حضرت علیؓ نے کہا: بخدا! میں تو ہرگز نہیں مٹائوں گا۔ تو آپؐ نے فرمایا: تو پھر مجھے جگہ دکھا دو۔ حضرت براءؓ کہتے تھے: تو حضرت علیؓ نے آپؐ کو وہ جگہ دکھائی اور نبی ﷺ نے اپنے ہاتھ سے وہ لفظ مٹا دئیے۔ جب آپؐ مکہ میں داخل ہوئے اور وہ دن گزر گئے تو اہل مکہ حضرت علیؓ کے پاس آئے اور کہنے لگے: اپنے ساتھی سے کہو، اب یہاں سے کوچ کر جائے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ ﷺ سے اس کا ذکر کیا تو آپؐ نے فرمایا: ہاں اور آپؐ نے وہاں سے کوچ کیا۔
عبدان بن عثمان نے ہم سے بیان کیا، کہا: میرے باپ نے مجھے خبر دی۔ انہوں نے شعبہ سے، شعبہ نے ابو اسحاق سے، ابو اسحاق نے عمرو بن میمون سے، انہوں نے حضرت عبداللہ (بن مسعود) رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: نبی ﷺ ایک بار سجدہ میں تھے اور آپؐ کے پاس مشرکین قریش میں سے کچھ لوگ بھی تھے کہ اتنے میں عقبہ بن ابی معیط اونٹنی کا بچہ دان لایا اور نبی ﷺ کی پیٹھ پر اسے ڈال دیا تو آپؐ نے اپنا سر نہ اُٹھایا۔ اتنے میں حضرت فاطمہ علیہا السلام آئیں اور انہوں نے آپؐ کی پیٹھ سے وہ اُٹھا لیا اور اسے بد دعا دینے لگیں جس نے یہ حرکت کی تھی۔ نبی ﷺ نے فرمایا: اے میرے اللہ! تو ہی قریش کے سرداروں سے سمجھ۔ اے اللہ! ابوجہل بن ہشام اور عتبہ بن ربیعہ اور شیبہ بن ربیعہ اور عقبہ بن ابی معیط اور امیہ بن خلف یا فرمایا ابی بن خلف سے نپٹ۔ تو میں نے ان کو دیکھا کہ وہ بدر کی لڑائی میں مارے گئے اور وہ کنوئیں میں ڈالے گئے۔ سوائے امیہ یا ابی کے کیونکہ وہ موٹا آدمی تھا۔ جب انہوں نے اسے گھسیٹا تو اس کا جوڑ جوڑ الگ ہوگیا۔ پیشتر اس کے کہ وہ کنوئیں میں ڈالا جاتا۔
(تشریح)