بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 188 hadith
عبداللہ بن یوسف (تنیسی) نے ہم سے بیان کیا کہ مالک نے ہمیں بتایا۔ اُنہوں نے نافع سے، نافع نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی ولیمہ کے لیے بلایا جائے تو وہ اس میں آئے۔
مسدد نے ہم سے بیان کیا کہ یحيٰ (بن سعید قطان) نے ہمیں بتایا۔ اُنہوں نے سفیان (ثوری) سے روایت کی۔ اُنہوں نے کہا: مجھے منصور (بن معتمر) نے بتایا۔ اُنہوں نے ابووائل سے، ابووائل نے حضرت ابوموسیٰ (اشعریؓ) سے، حضرت ابوموسیٰ (اشعریؓ) نے نبی ﷺ سے روایت کی۔ آپؐ نے فرمایا: قیدی کو چھڑاؤ اور دعوت پر بلانے والے کی دعوت قبول کرو اور بیمار کی عیادت کرو۔
حسن بن ربیع نے ہم سے بیان کیا کہ ابوالاحوص (سلام بن سلیم) نے ہمیں بتایا۔ اُنہوں نے اشعث (بن ابی شعثاء) سے، اشعث نے معاویہ بن سُوَید سے روایت کی کہ حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہما نے کہا: ہمیں نبی ﷺ نے سات باتوں کے کرنے کا حکم دیا اور سات باتوں سے روکا۔ آپؐ نے ہمیں بیمار پرسی کرنے اور جنازوں کے ساتھ جانے اور چھینک مارنے والے کو دعا دینے اور قسم پوری کرنے اور مظلوم کی مدد کرنے اور عام طور پر سب کو سلام کرنے اور دعوت کرنے والے کی دعوت قبول کرنے کا حکم دیا اور آپؐ نے ہمیں سونے کی انگوٹھیاں پہننے اور چاندی کے برتن اور ریشمی زین پوشوں اور قسیّ استبرق اور دیباج (ریشم) کے استعمال کرنے سے روکا۔ (ابوالاحوص کی طرح) ابوعوانہ اور شیبانی نے بھی اشعث سے عام طور پر سب لوگوں کو سلام کرنے کے متعلق روایت کی ہے۔
قتیبہ بن سعید نے ہم سے بیان کیا کہ عبدالعزیز بن ابی حازم نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابو حازم سے، ابو حازم نے حضرت سہل بن سعدؓ سے روایت کی۔ اُنہوں نے کہا: ابو اُسید ساعدیؓ نے رسول اللہ ﷺ کو اپنی شادی میں دعوت دی اور ان کی بیوی ہی ان دنوں ان کے گھر کا کام کاج کرتی تھیں اور وہ اُس وقت دلہن بھی تھیں۔ حضرت سہلؓ نے کہا: تم جانتے ہو کہ اس نے رسول اللہ ﷺ کی کس مشروب سے تواضع کی؟ اس نے آپؐ کے لئے رات کو کھجوریں بھگو چھوڑیں جب آپؐ کھانا کھا چکے تو اس نے آپؐ کو وہی (مشروب) پلایا۔
عبداللہ بن یوسف نے ہم سے بیان کیا کہ مالک نے ہمیں بتایا، اُنہوں نے ابن شہاب سے، ابن شہاب نے اعرج سے، اعرج نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ وہ کہا کرتے تھے کہ بدترین کھانا ولیمہ کا وہ کھانا ہے کہ جس کے لئے مال داروں کو بلایا جائے اور فقراء کو چھوڑ دیا جائے اور جس نے دعوت کو قبول نہ کیا، اس نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی۔
عبدان نے ہمیں بتایا، اُنہوں نے ابو حمزہ سے، ابو حمزہ نے اعمش سے، اعمش نے ابو حازم سے، ابو حازم نے حضرت ابو ہریرہؓ سے، حضرت ابو ہریرہؓ نے نبی ﷺ سے روایت کی۔ آپؐ نے فرمایا: مجھے بکری کے پائے کی بھی دعوت دی جائے تو میں ضرور قبول کروں اور اگر مجھے بکری کا پایہ تحفہ دیا جائے تو میں ضرور قبول کر لوں۔
علی بن عبداللہ بن ابراہیم (بغدادی) نے ہم سے بیان کیا کہ حجاج بن محمد (اعور) نے ہمیں بتایا۔ اُنہوں نے کہا: ابن جریج نے کہا: موسیٰ بن عقبہ نے مجھے خبر دی، موسیٰ نے نافع سے روایت کی۔ اُنہوں نے کہا: میں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے سنا، وہ کہتے تھے: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اس دعوت کو قبول کیا کرو جب تمہیں اس کے لیے بلایا جائے۔ نافع نے کہا: حضرت عبداللہ (بن عمرؓ) شادی وغیرہ کی دعوت میں جایا کرتے تھے جبکہ وہ روزہ دار بھی ہوتے۔
عبدالرحمٰن بن مبارک نے ہم سے بیان کیا کہ عبدالوارث (بن سعید) نے ہمیں بتایا کہ عبدالعزیز بن صہیب نے ہمیں بتایا، اُنہوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: نبی ﷺ نے کچھ عورتوں اور بچوں کو شادی سے آتے ہوئے دیکھا آپؐ خوشی سے اُٹھ کھڑے ہوئے اور فرمایا: بارے خدایا، تم مجھے تمام لوگوں سے پیارے ہو۔
اسماعیل (بن ابی اویس) نے ہم سے بیان کیا۔ اُنہوں نے کہا کہ مالک نے مجھے بتایا۔ اُنہوں نے نافع سے، نافع نے قاسم بن محمد (بن ابی بکر) سے، قاسم نے حضرت عائشہؓ نبی ﷺ کی زوجہ سے روایت کی۔ حضرت عائشہؓ نے اُنہیں بتایا کہ اُنہوں نے ایک گدا خریدا جس میں تصویریں تھیں۔ جب رسول اللہ ﷺ نے اس کو دیکھا تو دروازے پر ہی کھڑے ہو گئے اور اندر نہیں آئے۔ میں نے آپؐ کے چہرے پر ناپسندیدگی کو پہچانا۔ میں نے کہا: یا رسول اللہ! میں اللہ اور اس کے رسولؐ کی طرف رجوع کرتی ہوں، میں نے کیا قصور کیا؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: یہ گدا کیسا ہے؟ حضرت عائشہؓ کہتی تھیں میں نے کہا: میں نے یہ آپؐ کے لیے خریدا ہے تا کہ آپؐ اس پر بیٹھا کریں اور اس پر تکیہ لگائیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ان تصویروں والوں کو قیامت کے دن سزا دی جائے گی اور اُن سے کہا جائے گا اب زندہ بھی کرو جنہیں تم نے بنایا۔ نیز آپؐ نے فرمایا: اور وہ گھر جس میں مورتیاں ہوں اس میں ملائکہ نہیں داخل ہوتے۔
سعید بن ابی مریم نے ہمیں بتایا کہ ابوغسان (محمد بن مطرف) نے ہمیں بتایا۔ اُنہوں نے کہا: مجھے ابوحازم (سلمہ بن دینار) نے حضرت سہلؓ (بن سعد ساعدی) سے روایت کرتے ہوئے بتایا۔ اُنہوں نے کہا: جب ابو اُسید ساعدیؓ نے شادی کی تو اُنہوں نے نبی ﷺ اور آپؐ کے صحابہ کو دعوت دی تو اُن کی بیوی اُم اُسیدؓ نے ہی ان کے لئے کھانا بنایا اور اُن کے سامنے کھانا پیش کیا۔ اُنہوں نے رات کو ایک پتھر کے پیالے میں کچھ کھجوریں بگھو دیں جب نبی ﷺ کھانے سے فارغ ہوئے تو اُنہوں نے اسے آپؐ کے لیے حل کیا اور آپؐ کو خصوصیت سے بطور تحفہ یہ مشروب پلایا۔