بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 505 hadith
مالک بن اسماعیل نے ہم سے بیان کیا کہ اسرائیل نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابو حصین سے، ابو حصین نے ابو الضحیٰ سے، ابو الضحیٰ نے حضرت ابن عباسؓ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: حضرت ابراہیمؑ کی آخری بات جب وہ آگ میں ڈالے گئے یہ تھی: اللہ ہی مجھے بس ہے اور وہ اچھا کارساز ہے۔
(تشریح)عبداللہ بن منیر نے مجھ سے بیان کیا۔ انہوں نے ابونضر (ہاشم بن قاسم) سے سنا کہ عبدالرحمٰن نے جو کہ عبداللہ بن دینار کے بیٹے ہیں ہمیں بتایا۔ انہوں نے اپنے باپ سے، ان کے باپ نے ابوصالح سے، ابوصالح نے حضرت ابوہریرہؓ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس شخص کو اللہ نے مال دیا ہو اور پھر وہ اس کی زکوٰة نہ دے تو اس کا مال اس کے سامنے قیامت کے دن گنجے سانپ کی شکل میں پیش کیا جائے گا۔ جس کی آنکھوں پر دو کالے نقطے ہوں گے۔ وہ اپنی دونوں باچھوں سے پکڑ کر کہے گا: میں تمہارا مال ہوں، میں تمہارا خزانہ ہوں۔ پھر آپؐ نے یہ آیت پڑھی: اور جو لوگ اس (مال کے دینے) میں جو اللہ نے ان کو اپنے فضل سے دیا ہے بخل کرتے ہیں۔ وہ اپنے لئے (اس کو) ہر گز اچھا نہ سمجھیں (اچھا نہیں) بلکہ وہ ان کے لئے بُرا ہے جن مالوں میں وہ بخل سے کام لیتے ہیں قیامت کے دن یقیناً ان کا طوق بنایا جائے گا (اور ان کے گلوں میں ڈالا جائے گا) اور آسمانوں اور زمین کی میراث اللہ ہی کے لئے ہے اور جو (کچھ) تم کرتے ہو اللہ اس سے آگاہ ہے۔
(تشریح)ابوالیمان نے ہم سے بیان کیا۔ شعیب نے ہمیں بتایا کہ زہری سے روایت ہے۔ انہوں نے کہا: عروہ بن زبیر نے مجھے بتایا کہ حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما نے ان سے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ ایک گدھے پر سوار ہوئے جس پر فدک کی بنی ہوئی کملی ڈالی ہوئی تھی اور آپؐ نے حضرت اسامہ بن زیدؓ کو اپنے پیچھے بٹھا لیا۔ حضرت سعد بن عبادہؓ کی عیادت کو جا رہے تھے جو بنو حارث بن خزرج کے محلہ میں تھے۔ یہ واقعہ غزوہ بدر سے پہلے کا ہے۔ حضرت اسامہؓ کہتے تھے: چلتے چلتے آپؐ ایک ایسی مجلس کے پاس سے گزرے جس میں عبداللہ بن اُبَیّ بن سلول تھا اور یہ اس وقت کا واقعہ ہے کہ عبداللہ بن اُبَیّ ابھی مسلمان نہیں ہوا تھا۔ اس مجلس میں کچھ مشرک یعنی بت پرست اور کچھ یہودی اور کچھ مسلمان ملے جلے لوگ تھے، اور مجلس میں حضرت عبداللہ بن رواحہؓ بھی تھے۔ جب اس جانور کی گرد مجلس پر پڑی تو عبداللہ بن اُبَیّ نے اپنی چادر سے اپنی ناک ڈھانکی اور کہنے لگا: ہم پر گرد نہ اڑاؤ۔ رسول اللہ ﷺ نے ان کو السلام علیکم کہا اور ٹھہر گئے اور گدھے سے اترے۔ آپؐ نے ان کو اللہ کی طرف بلایا اور انہیں قرآن پڑھ کر سنایا۔ عبداللہ بن اُبَیّ بن سلول نے کہا: اے مرد! بات جو تم کہتے ہو اس سے اچھی کوئی اور بات نہیں۔ اگر یہ سچ ہے تو ہماری مجلس میں آکر اس سے تکلیف نہ دیا کرو۔ اپنے ٹھکانے پر ہی واپس جاؤ۔ پھر جو تمہارے پاس آئے اس سے یہ بیان کیا کرو۔ حضرت عبداللہ بن رواحہؓ نے یہ سن کر کہا: نہیں، یا رسول اللہ۔ ہماری ان مجلسوں ہی میں آکر ہمیں آپؐ پڑھ کر سنایا کریں۔ ہمیں تو یہ بات پسند ہے۔ اس پر مسلمان، مشرک اور یہودی ایک دوسرے کو بُرا بھلا کہنے لگے۔ قریب تھا کہ وہ ایک دوسرے پر حملہ کرتے، مگر نبی ﷺ جوش دباتے رہے۔ آخر وہ رک گئے۔ پھر اس کے بعد نبی ﷺ اپنے جانور پر سوار ہوکر چلے گئے یہاں تک کہ حضرت سعد بن عبادہؓ کے پاس آئے۔ نبی ﷺ نے ان سے کہا: سعد! کیا تم نے نہیں سنا جو ابو حباب نے کہا؟ آپؐ کی مراد عبداللہ بن اُبَیّ سے تھی۔ آپؐ نے فرمایا: اس نے (مجھے) یوں یوں کہا ہے۔ حضرت سعد بن عبادہؓ نے کہا: یا رسول اللہ! آپؐ اس کو معاف کر دیں اور اس سے درگزر کیجئے۔ اس ذات کی قسم ہے جس نے آپؐ پر کتاب نازل فرمائی ہے، اللہ اب وہ حق یہاں لے آیا ہے جس کو اس نے آپؐ پر نازل کیا۔ اس بستی والوں نے تو یہ فیصلہ کیا تھا کہ اس (عبداللہ بن اُبَیّ) کو سرداری کا تاج پہنا کر عمامہ اس کے سر پر باندھیں۔ جب اللہ نے اس حق کی وجہ سے جو اللہ نے آپؐ کو عطا کیا ہے یہ منظور نہ کیا۔ تو وہ حسد کی آگ میں جل گیا۔ اس لئے اس نے وہ کچھ کیا جو آپؐ نے دیکھا۔ یہ سن کر نبی ﷺ نے اس سے درگزر کیا اور نبی
سعید بن ابی مریم نے ہم سے بیان کیا کہ محمد بن جعفر نے ہمیں خبر دی، کہا: زید بن اسلم نے مجھے بتایا۔ انہوں نے عطاء بن یسار سے، عطاء نے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں منافقوں میں سے کچھ آدمی ایسے تھے کہ جب رسول اللہ ﷺ کسی مہم کے وقت نکلتے تو وہ آپؐ سے پیچھے رہ جاتے اور رسول اللہ ﷺ سے پیچھے بیٹھ رہنے پر خوش ہوتے۔ جب رسول اللہ ﷺ (واپس) آتے تو وہ آپؐ سے معذرتیں کرتے اور قسمیں کھاتے اور یہ چاہتے کہ جو کام انہوں نے کیا نہیں اس پر ان کی تعریف کی جائے۔ اس لئے یہ آیت نازل ہوئی: تو ان لوگوں کے متعلق جو اپنے کئے پر خوش ہوتے ہیں ہرگز گمان نہ کر۔
ابراہیم بن موسیٰ نے مجھ سے بیان کیا کہ ہشام نے ہمیں خبر دی۔ ابن جریج نے ان کو بتایا کہ ابن ابی ملیکہ سے روایت ہے کہ علقمہ بن وقاص نے ان سے بیان کیا کہ مروان نے اپنے دربان سے کہا: رافع! حضرت ابن عباسؓ کے پاس جاؤ اور ان سے پوچھو: اگر تو ہر اُس شخص کو سزا دی جائے گی جو عطا کردہ نعمتوں پر اترایا اور چاہا کہ جو اس نے نہیں کیا اس پر اس کی تعریف کی جائے تو یقیناً ہم سبھی کو سزا دی جائے گی۔ حضرت ابن عباسؓ نے یہ سن کر کہا: اس آیت سے تمہارا کیا تعلق۔ واقعہ تو صرف یہ ہوا تھا کہ نبی ﷺ نے یہود کو بلایا اور ان سے کسی بات کا مطلب پوچھا، جو انہوں نے آپؐ سے چھپایا اور انہوں نے آپؐ کو کوئی اور بات بتائی۔ پھر یہ سمجھنے لگے کہ اب وہ آپؐ کے نزدیک قابل تعریف ہوگئے ہیں، اس لئے کہ انہوں نے آپؐ کو وہ بات بتا دی جو آپؐ نے ان سے پوچھی تھی اور جو حکم انہیں دیا گیا تھا اسے چھپا کر وہ خوش ہوگئے۔ پھر (یہ واقعہ بیان کرکے) حضرت ابن عباسؓ نے یہ آیت پڑھی: اور (اس وقت کو یاد کرو) جب اللہ نے ان لوگوں سے جنہیں کتاب دی گئی ہے عہد لیا تھا کہ تم ضرور لوگوں کے پاس اس (کتاب) کو ظاہر کرو گے اور اسے چھپاؤ گے نہیں مگر باوجود اس کے انہوں نے اسے اپنی پیٹھوں کے پیچھے پھینک دیا اور اسے چھوڑ کر تھوڑی (سی) قیمت لے لی، جو کچھ وہ لیتے ہیں وہ کیا ہی بُرا ہے۔ تُو ان لوگوں کو جو اپنے کیے پر اتراتے ہیں اور جو (کام) انہوں نے نہیں کیا اس کی بابت (بھی) چاہتے ہیں کہ ان کی تعریف کی جائے…۔ (ہشام بن یوسف کی طرح) عبدالرزاق نے بھی ابن جریج سے یہی روایت بیان کی۔ (محمد) ابن مقاتل نے ہم سے بیان کیا کہ حجاج (بن محمد) نے ہمیں بتایا۔ ابن جریج سے روایت ہے کہ ابن ابی ملیکہ نے مجھے بتایا۔ حمید بن عبدالرحمٰن بن عوف سے مروی ہے کہ انہوں نے مروان کا یہ واقعہ بیان کیا۔
(تشریح)سعید بن ابی مریم نے ہم سے بیان کیا کہ محمد بن جعفر نے ہمیں خبر دی۔ انہوں نے کہا: شریک بن عبداللہ بن ابی نمر نے مجھے بتایا۔ انہوں نے کریب سے، کریب نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: میں اپنی خالہ حضرت میمونہؓ کے پاس ایک رات رہا۔ رسول اللہ ﷺ نے اپنی زوجہ سے کچھ دیر باتیں کیں۔ پھر سو گئے۔ جب رات کی آخری تہائی ہوئی آپؐ اٹھ کر بیٹھ گئے اور آسمان کی طرف دیکھا اور یہ آیت پڑھی: ان بلندیوں اور اس زمین کی پیدائش میں اور رات اور دن کے یکے بعد دیگرے آنے جانے میں عقلمندوں کے لئے کئی ایک نشان ہیں۔ پھر آپؐ کھڑے ہوگئے اور آپؐ نے وضو کیا اور مسواک کی۔ پھر گیارہ رکعت نماز پڑھی۔ اس کے بعد حضرت بلالؓ نے اذان دی اور آپؐ دو رکعتیں پڑھ کر باہر چلے گئے اور جاکر صبح کی نماز پڑھائی۔
(تشریح)علی بن عبداللہ (مدینی) نے ہم سے بیان کیا کہ عبدالرحمٰن بن مہدی نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے مالک بن انس سے، مالک نے مخرمہ بن سلیمان سے، مخرمہ نے کریب سے، کریب نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی۔ انہوں نے کہا کہ میں اپنی خالہ حضرت میمونہؓ کے پاس ایک رات رہا۔ میں نے کہا: میں رسول اللہ ﷺ کی نماز ضرور دیکھوں گا (کیونکر پڑھتے ہیں۔) رسول اللہ ﷺ کے لئے ایک توشک بچھایا گیا۔ رسول اللہ ﷺ اس کی لمبان میں سو گئے۔ (پھر جب آدھی رات گزری تو آپؐ جاگے۔) اپنے چہرہ پر ہاتھ پھیر کر نیند کا اثر دور کرنے لگے۔ پھر آپؐ نے سورۂ آلِ عمران کی آخری دس آیتیں پڑھیں۔ جب ختم کیں، اس کے بعد ایک بڑے مشکیزہ سے جو پاس لٹک رہا تھا آپؐ نے اس سے پانی لیا اور وضو کیا۔ پھر کھڑے ہو کر نماز پڑھنے لگے۔ میں بھی اٹھا اور جس طرح آپؐ نے کیا تھا میں نے بھی کیا اور پھر آ کر آپؐ کے پہلو میں کھڑا ہوگیا۔ آپؐ نے اپنا ہاتھ میرے سر پر رکھا اور پھر میرا کان پکڑ کر ملنے لگے۔ آپؐ نے دو رکعتیں پڑھیں، پھر دو رکعتیں پڑھیں، پھر دو رکعتیں پڑھیں، پھر دو رکعتیں پڑھیں، پھر دو رکعتیں پڑھیں، پھر دو رکعتیں پڑھیں، پھر وتر پڑھا۔
(تشریح)علی بن عبداللہ (مدینی) نے ہمیں بتایا۔ معن بن عیسیٰ نے ہم سے بیان کیا۔ مالک سے روایت ہے۔ انہوں نے مخرمہ بن سلیمان سے، مخرمہ نے حضرت عبداللہ بن عباسؓ کے آزاد کردہ غلام کریب سے روایت کی کہ حضرت عبداللہ بن عباسؓ نے ان سے بیان کیا: وہ نبی ﷺ کی زوجہ حضرت میمونہؓ کے پاس ایک رات رہے اور وہ ان کی خالہ تھیں۔ حضرت ابن عباسؓ کہتے تھے: میں تو شک کی چوڑائی میں لیٹ گیا اور رسول اللہ ﷺ اور آپؐ کی زوجہؓ اس کی لمبان میں لیٹ گئے۔ رسول اللہ ﷺ سو گئے۔ جب رات آدھی ہوئی، اس سے کچھ پہلے یا اس سے کچھ بعد کا وقت ہوگا، تو رسول اللہﷺ جاگے اور اپنے چہرہ پر ہاتھ پھیر کر نیند کا اثر دور کرنے لگے۔ پھر آپؐ نے سورۂ آلِ عمران کی آخری دس آیتیں پڑھیں اور اٹھ کر ایک پرانے مشکیزہ کی طرف گئے جو لٹک رہا تھا۔ آپؐ نے اس سے وضو کیا اور اچھی طرح وضو کیا۔ پھر کھڑے ہو کر نماز پڑھنے لگے۔ (یہ دیکھ کر) میں نے بھی ویسے ہی کیا جو آپؐ نے کیا تھا۔ پھر جا کر آپؐ کے پہلو میں کھڑا ہوگیا۔ رسول اللہ ﷺ نے اپنا دایاں ہاتھ میرے سر پر رکھا اور میرے دائیں کان کو ملنے لگے۔ پھر آپؐ نے دو رکعتیں پڑھیں، پھر دو رکعتیں پڑھیں، پھر دو رکعتیں پڑھیں، پھر دو رکعتیں پڑھیں، پھر دو رکعتیں پڑھیں، پھر دو رکعتیں پڑھیں۔ پھر اس کے بعد وتر پڑھا، پھر لیٹ گئے۔ یہاں تک کہ مؤذن آپؐ کے پاس آیا۔ آپؐ اٹھے اور آپؐ نے دو ہلکی سی رکعتیں پڑھیں۔ پھر باہر گئے اور جا کر صبح کی نماز پڑھائی۔
(تشریح)قتیبہ بن سعید نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے مالک سے، مالک نے مخرمہ بن سلیمان سے، مخرمہ نے حضرت ابن عباسؓ کے آزاد کردہ غلام کریب سے روایت کی۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے انہیں بتایا کہ وہ نبی ﷺ کی زوجہ حضرت میمونہؓ کے پاس ایک رات رہے اور وہ ان کی خالہ تھیں۔ حضرت ابن عباسؓ کہتے تھے: میں تو شک کی چوڑائی میں لیٹ گیا اور رسول اللہ ﷺ اور آپؐ کی زوجہؓ اس کی لمبان میں لیٹ گئے۔ رسول اللہ ﷺ سو گئے جب رات آدھی ہوئی یا اس سے کچھ پہلے یا اس کے کچھ بعد کا وقت ہوگا تو رسول اللہ ﷺ جاگے اور بیٹھ گئے۔ چہرے پر ہاتھ پھیر کر نیند کو دور کرنے لگے۔ پھر آپؐ نے سورۂ آلِ عمران کی آخری دس آیتیں پڑھیں۔ پھر اٹھ کر ایک مشکیزے کی طرف گئے جو لٹک رہا تھا اور آپؐ نے اس سے وضو کیا اور اچھی طرح وضو کیا۔ پھر کھڑے ہو کر نماز پڑھنے لگے۔ حضرت ابن عباسؓ کہتے تھے: میں بھی کھڑا ہوگیا اور میں نے وہی کیا جو آپؐ نے کیا۔ پھر اس کے بعد جا کر آپؐ کے پہلو میں کھڑا ہوگیا۔ رسول اللہ ﷺ نے اپنا دایاں ہاتھ میرے سر پر رکھا اور میرا دایاں کان پکڑ کر ملنے لگے اور آپؐ نے دو رکعتیں پڑھیں۔ پھر دو رکعتیں پڑھیں، پھر دو رکعتیں پڑھیں، پھر دو رکعتیں پڑھیں، پھر دو رکعتیں پڑھیں، پھر دو رکعتیں پڑھیں، پھر وتر پڑھا۔ اس کے بعد آپؐ لیٹ گئے۔ یہاں تک کہ مؤذن آپؐ کے پاس آیا۔ پھر آپؐ کھڑے ہوئے اور آپؐ نے دو ہلکی رکعتیں پڑھیں۔ پھر باہر گئے اور صبح کی نماز پڑھائی۔
ابراہیم بن موسیٰ نے ہم سے بیان کیا کہ ہشام (بن یوسف) نے ہمیں بتایا کہ ابن جریج سے روایت ہے۔ انہوں نے کہا: ہشام بن عروہ نے اپنے باپ سے روایت کرتے ہوئے مجھے بتایا۔ ان کے باپ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ ایک شخص کے پاس یتیم لڑکی تھی۔ پھر اس نے اس سے نکاح کر لیا اور اس لڑکی کے کھجور کے درخت تھے، اس شخص نے اس لڑکی کو اپنے پاس اسی وجہ سے رکھا تھا حالانکہ اس کا نفس اس کی طرف کچھ بھی مائل نہ تھا، تو اس شخص کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی: اگر تم ڈرو کہ یتیموں کے بارے میں انصاف نہیں کر سکو گے۔ (ہشام بن یوسف کہتے تھے) میں سمجھتا ہوں (ابن جریج نے یوں) کہا کہ وہ لڑکی کھجور کے اُن درختوں میں اور اُس کے مال میں اُس کی شریک تھی۔