بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 505 hadith
محمد بن سنان نے ہمیں بتایا کہ فلیح (بن سلیمان) نے ہم سے بیان کیا کہ ہلال نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عطاء بن یسار سے، عطاء نے حضرت ابوہریرہؓ سے، حضرت ابوہریرہؓ نے نبی ﷺ سے روایت کی۔ آپؐ نے فرمایا: جس نے کہا کہ میں یونس بن متٰی سے بہتر ہوں، اس نے جھوٹ کہا۔
(تشریح)سلیمان بن حرب نے ہم سے بیان کیا کہ شعبہ نے ہمیں بتایا۔ ابواسحاق سے روایت ہے۔ (انہوں نے کہا کہ) میں نے حضرت براء رضی اللہ عنہ سے سنا۔ انہوں نے کہا: سب سے آخری سورة جو نازل ہوئی وہ برأت ہے اور آخری آیت جو نازل ہوئی وہ يَسْتَفْتُوْنَكَ… ہے۔ یعنی تم سے فتویٰ پوچھتے ہیں۔
(تشریح)محمد بن بشار نے مجھے بتایا کہ عبدالرحمٰن (بن مہدی) نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان (ثوریؒ) نے ہمیں بتایا، اُنہوں نے قیس (بن مسلم) سے، قیس نے حضرت طارق بن شہابؓ سے روایت کی کہ یہود حضرت عمرؓ سے کہنے لگے: آپ لوگ ایک آیت پڑھتے ہیں، اگر وہ ہم میں نازل ہوتی تو ہم اس دن عید مناتے۔ حضرت عمرؓ نے (یہ سن کر) فرمایا: میں خوب جانتا ہوں کہ وہ کب نازل کی گئی اور کہاں نازل کی گئی اور رسول اللہ ﷺ اس وقت کہاں تھے، جب وہ نازل ہوئی۔ عرفات کے دن اور ہم بھی اللہ کی قسم اس دن عرفات ہی میں تھے۔ سفیان نے کہا: مجھے شک ہے (حضرت عمرؓ نے کہا:) اس دن جمعہ تھا یا نہیں۔ (کہا: وہ آیت یہ ہے:) آج میں نے تمہارے لئے تمہارا دین کامل کر دیا۔
(تشریح)اسماعیل (بن ابی اویس) نے ہم سے بیان کیا، کہا: مالک نے مجھے بتایا۔ اُنہوں نے عبدالرحمٰن بن قاسم سے، عبدالرحمٰن نے اپنے باپ (قاسم بن محمد) سے، اُنہوں نے نبی ﷺ کی زوجہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، وہ فرماتی تھیں: ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ آپؐ کے کسی سفر میں نکلے۔ جب ہم بیداء یا ذات الجیش مقام پر پہنچے، میرا ہار ٹوٹ کر کہیں گر گیا تو رسول اللہ ﷺ اس کے ڈھونڈنے کے لئے ٹھہر گئے اور لوگ بھی آپؐ کے ساتھ ٹھہر گئے اور وہ پانی کے قریب نہ تھے، نہ اُن کے ساتھ پانی تھا۔ (یہ دیکھ کر) لوگ حضرت ابوبکر صدیقؓ کے پاس آئے اور کہنے لگے: عائشہؓ نے یہ کیا کِیا، رسول اللہ ﷺ اور لوگوں کو ٹھہرا رکھا ہے بحالیکہ وہ پانی کے قریب نہیں اور نہ پانی ان کے ساتھ ہے۔ (یہ سن کر) حضرت ابوبکرؓ آئے اور رسول اللہ ﷺ نے اپنا سر میری ران پر رکھا ہوا تھا، آپؐ سو گئے تھے۔ حضرت ابوبکرؓ کہنے لگے: تم نے رسول اللہ ﷺ کو اور لوگوں کو روکے رکھا ہے اور وہ کسی پانی کے قریب نہیں اور نہ پانی اُن کے ساتھ ہے۔ حضرت عائشہؓ فرماتی تھیں: حضرت ابوبکرؓ نے مجھ پر ناراضگی کا اظہار کیا اور جو اللہ نے کہلانا چاہا انہوں نے کہا اور میرے پہلو میں اپنے ہاتھ سے کونچ مارنے لگے اور مجھے ہلنے جلنے سے صرف یہی بات روکتی تھی کہ رسول اللہ ﷺ میری ران پر (سر رکھے ہوئے) تھے۔ جب صبح ہوئی تو رسول اللہ ﷺ اُٹھے، وہ کسی پانی کے پاس نہیں تھے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے تیمم کی آیت نازل کی۔ حضرت اُسَید بن حضیرؓ بولے: اے ابو بکرؓ کے خاندان! یہ تمہاری پہلی برکت نہیں ہے۔ فرماتی تھیں: ہم نے اس اونٹ کو جو اُٹھایا جس پر میں تھی، کیا دیکھتے ہیں کہ ہار اس کے نیچے ہے۔
یحيٰ بن سلیمان نے ہم سے بیان کیا، اُنہوں نے کہا: (عبداللہ) بن وہب نے مجھے بتایا، کہا: عمرو (بن حارث) نے مجھے خبر دی کہ عبدالرحمٰن بن قاسم نے اُن سے بیان کیا: اُنہوں نے اپنے باپ سے، اُن کے باپ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی (اُنہوں نے کہا) کہ بیداء مقام میں میرا ایک ہار گر گیا اور ہم اس وقت مدینہ کو آ رہے تھے تو نبی ﷺ نے اونٹ بٹھایا اور اُتر پڑے۔ نیند کی وجہ سے میری گود میں اپنا سر رکھ دیا۔ حضرت ابوبکرؓ آئے، اُنہوں نے مجھے زور سے گھونسہ مارا اور کہنے لگے: ایک ہار کے لئے تمام لوگوں کو تو نے روک رکھا ہے۔ رسول اللہ ﷺ کی موجودگی کی وجہ سے (میں نہ ہلی۔) گویا مجھ پر موت وارد تھی۔ اور مجھے اُن کے مارنے سے بہت درد ہوا۔ پھر اِس کے بعد نبی ﷺ جاگے اور صبح کا وقت ہوگیا۔ پانی کی تلاش کی گئی نہ ملا۔ پھر یہ آیت نازل ہوئی: اے ایماندارو! جب تم نماز کے لیے اٹھو۔ حضرت اُسید بن حضیرؓ بولے: اے ابوبکرؓ کے خاندان! اللہ نے تمہاری وجہ سے لوگوں کو بہت برکت دی ہے۔ تم تو اِن کے لئے سراسر برکت ہی ہو۔
(تشریح)ابو نعیم نے ہم سے بیان کیا کہ اسرائیل نے ہمیں بتایا، اُنہوں نے مخارق سے، مخارق نے حضرت طارق بن شہابؓ سے روایت کی کہ میں نے حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے سنا۔ اُنہوں نے کہا: میں اس وقت موجود تھا جب حضرت مقدادؓ (بن اسود) نے… اور حمدان بن عمر نے مجھے بتایا کہ ابو نضر (ہاشم بن قاسم) نے ہم سے بیان کیا، (کہا: عبید اللہ بن عبید الرحمن) اشجعی نے ہمیں بتایا، اُنہوں نے سفیان (ثوری) سے، سفیان نے مخارق (بن خلیفہ بن جابر) سے، مخارق نے حضرت طارق (بن شہابؓ) سے، حضرت طارقؓ نے حضرت عبداللہ (بن مسعودؓ) سے روایت کی، اُنہوں نے کہا: مقدادؓ (بن اسود) نے جنگ بدر کے دن کہا: یا رسول اللہ! ہم آپؐ سے نہیں کہیں گے جیسا کہ بنی اسرائیل نے حضرت موسیٰؑ سے کہا تھا کہ جا تُو اور تیرا ربّ دونوں لڑو ہم یہاں بیٹھے ہیں۔ بلکہ آپؐ چلیے اور ہم آپؐ کے ساتھ ہیں۔ یہ سنتے ہی ایسا معلوم ہوا کہ گویا رسول اللہ ﷺ سے سارا غم جاتا رہا۔ اس حدیث کو وکیع نے بھی بیان کیا۔ اُنہوں نے سفیان (ثوری) سے، سفیان نے مخارق سے، مخارق نے حضرت طارقؓ سے روایت کی کہ حضرت مقدادؓ نے نبی ﷺ سے یہ کہا۔
(تشریح)علی بن عبداللہ (مدینی) نے ہم سے بیان کیا کہ محمد بن عبد اللہ انصاری نے ہمیں بتایا: (عبد اللہ) بن عون نے ہم سے بیان کیا، کہا: ابوقلابہ کے آزاد کردہ غلام سلمان ابورجاء نے مجھے بتایا کہ ابوقلابہ سے روایت ہے کہ وہ حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ کے پیچھے بیٹھے تھے۔ لوگوں نے (قسامۃ کا) ذکر کیا اور اُنہوں نے کچھ کہا۔ پھر اُنہوں نے کچھ کہا اور وہ بولے: خلفاء نے بھی قسامۃ میں قصاص لیا ہے۔ حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ نے ابوقلابہ کو مڑ کر دیکھا اور وہ ان کی پیٹھ کے پیچھے تھے، کہنے لگے: عبداللہ بن زید آپ کیا کہتے ہیں؟ یا کہا: ابوقلابہ آپ کیا کہتے ہیں؟ میں نے کہا: مجھے کسی ایسے نفس کی نسبت علم نہیں جس کا مار ڈالنا اسلام میں جائز ہوا ہو۔ سوائے اس شخص کے جو شادی کرنے کے بعد زنا کرے یا ناحق کسی نفس کو مار ڈالے، یا اللہ اور اس کے رسول ﷺ سے جنگ کرے۔ عنبسہ (بن سعید) نے یہ سن کر کہا: حضرت انسؓ نے ہم سے ایسا ایسا بیان کیا ہے۔ میں نے کہا: مجھ سے بھی حضرت انسؓ نے ایسا ہی بیان کیا۔ اُنہوں نے کہا: کچھ لوگ نبیﷺ کے پاس آئے اور اُنہوں نے آپؐ سے گفتگو کی اور کہنے لگے: ہم نے اس زمین کی آب و ہوا ناموافق پائی ہے۔ آپؐ نے فرمایا: یہ ہمارے اونٹ ہیں جو چرنے کے لیے باہر جا رہے ہیں تم بھی ان کے ساتھ جاؤ اور ان کا دودھ اور پیشاب پیو۔ چنانچہ وہ ان کے ساتھ چلے گئے۔ اُن کا پیشاب اور دودھ پیا اور تندرست ہوگئے۔ پھر وہ چرواہے پر پَل پڑے اور اسے مار ڈالا اور اونٹ ہانک کر لے گئے۔ تو ایسے لوگوں کی سزا میں کیا تأمل ہوسکتا ہے جنہوں نے ایک جان کا خون کیا اور اللہ اور اس کے رسولؐ سے جنگ کی اور رسول اللہ ﷺ کو خوف زدہ کرنا چاہا۔ عنبسہ نے یہ سن کر کہا: سبحان اللہ۔ میں نے کہا: تم مجھے جھوٹا سمجھتے ہو؟ اُنہوں نے کہا: حضرت انسؓ نے ہم سے ایسا ہی بیان کیا ہے۔ کہتے تھے: پھر عنبسہ کہنے لگے: اے شام والو! تم ہمیشہ ہی اچھے رہو گے، جب تک کہ یہ اور اس جیسے تم میں باقی رہیں گے۔
(تشریح)محمد بن سلام نے مجھ سے بیان کیا کہ (مروان بن معاویہ) فزاری نے ہمیں بتایا، اُنہوں نے حمید (طویل) سے، حمید نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی اُنہوں نے کہا: ربیعؓ نے جو کہ حضرت انس بن مالکؓ کی پھوپھی تھیں ایک انصاری لڑکی کا دانت توڑ ڈالا۔ لڑکی والوں نے قصاص کا مطالبہ کیا اور نبی ﷺ کے پاس آئے تو نبی ﷺ نے قصاص کا حکم دیا۔ حضرت انس بن نضرؓ نے جو حضرت انس بن مالکؓ کے چچا تھے کہا: یا رسول اللہ! ہرگز نہیں، اللہ کی قسم! اس کا دانت نہیں توڑا جائے گا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا، انس! اللہ کی کتاب تو قصاص ہی کا حکم دیتی ہے۔ پھر وہ لوگ راضی ہوگئے اور انہوں نے دیت قبول کر لی۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ کے بعض بندے ایسے بھی ہوتے ہیں جو اگر اللہ پر (توکل کر کے) قسم کھا لیں تو وہ (ان کی) وہ قسم ضرور پوری کردے۔
(تشریح)محمد بن یوسف (فریابی) نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان (ثوری) نے ہمیں بتایا، اُنہوں نے اسماعیل (بن ابی خالد) سے، اسماعیل نے (عامر) شعبی سے، شعبی نے مسروق سے، مسروق نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی اُنہوں نے فرمایا: جو تم سے یہ بیان کرے کہ محمد ﷺ نے اُس کلام سے جو آپؐ پر نازل کیا گیا کچھ چھپایا تھا تو یقیناً اُس نے جھوٹ کہا، اور اللہ فرماتا ہے: اے رسول! تیرے ربّ کی طرف سے جو (کلام بھی) تجھ پر اُتارا گیا ہے اُسے (لوگوں تک) پہنچا۔
(تشریح)علی بن سلمہ نے ہمیں بتایا کہ مالک بن سُعَیر نے ہم سے بیان کیا کہ ہشام (بن عروہ) نے ہمیں بتایا، اُنہوں نے اپنے باپ سے، ان کے باپ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ آیت لَا یُؤَاخِذُکُمُ اللّٰہُ بِاللَّغۡوِ فِیۡۤ اَیۡمَانِکُمۡ یعنی ’’اللہ تمہاری قسموں میں جو لغو ہے اس پر تم سے مؤاخذہ نہیں کرتا‘‘ آدمی کے تکیہ کلام سے متعلق نازل کی گئی ہے (جو یہ کہتا ہے:) اللہ کی قسم نہیں۔ اللہ کی قسم ہرگز نہیں۔