بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 505 hadith
علی (بن عبداللہ مدینی) نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان (بن عیینہ) نے ہمیں بتایا کہ یحيٰ بن سعید (انصاری) نے ہمیں خبر دی۔ کہا: میں نے عبید بن حنین سے سنا۔ عبید کہتے تھے: میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا۔ وہ کہتے تھے: میں نے چاہا کہ حضرت عمر (بن خطاب) رضی اللہ عنہ سے پوچھوں اور میں نے اتنا ہی کہا تھا کہ امیر المؤمنین وہ دو عورتیں کون ہیں جنہوں نے رسول اللہ ﷺ کے برخلاف ایکا کیا تھا؟ تو میں نے ابھی اپنی بات پوری نہیں کی تھی کہ انہوں نے کہا: عائشہؓ اور حفصہؓ۔
(تشریح)حمیدی نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان نے ہمیں بتایا۔ یحيٰ بن سعید نے ہم سے بیان کیا، کہا: میں نے عبید بن حنین سے سنا۔ وہ کہتے تھے: میں نے حضرت ابن عباسؓ سے سنا۔ وہ کہتے تھے: میں نے چاہا کہ حضرت عمرؓ سے اُن دو عورتوں کے متعلق پوچھوں جنہوں نے رسول اللہ ﷺ کے برخلاف ایکا کیا تھا۔ میں ایک سال ٹھہرا رہا مگر میں نے اس کا کوئی موقع نہ پایا۔ یہاں تک کہ میں آپؓ کے ساتھ حج کے لیے نکلا۔ جب ہم مرالظہران پہنچے، حضرت عمرؓ حاجت کے لئے گئے اور فرمایا: میرے لیے وضو کا پانی لاؤ۔ میں نے پانی کی ایک چھاگل پائی اور اُن پر پانی ڈالا۔ اور میں نے موقع دیکھا تو کہا: اے امیر المؤمنین! وہ دو عورتیں کون ہیں جنہوں نے (رسول اللہ ﷺ کے برخلاف) ایکا کیا تھا؟ حضرت ابن عباسؓ نے کہا: میں نے ابھی اپنی بات پوری نہیں کی تھی کہ انہوں نے فرمایا: عائشہؓ اور حفصہؓ۔
(تشریح)عمر و بن عون نے ہم سے بیان کیا کہ ہشیم نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے حمید سے، حمید نے حضرت انسؓ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: حضرت عمر رضی اللہ عنہ کہتے تھے: نبی ﷺ کی ازواج نے بوجہ غیرت آپؐ کے متعلق ایکا کیا۔ میں نے ان سے کہا: ہو سکتا ہے کہ اگر وہ تمہیں طلاق دے دے تو اُس کا ربّ تم سے بہتر بیویاں بدلہ میں اس کو دے۔ تو پھر یہی آیت نازل ہوئی۔
(تشریح)محمود (بن غیلان) نے ہم سے بیان کیا کہ عبیداللہ بن موسیٰ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے اسرائیل (بن یونس) سے، اسرائیل نے ابوحصین (عثمان بن عاصم) سے، ابوحصین نے مجاہد سے، مجاہد نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ عُتُلٍّۭ بَعْدَ ذٰلِكَ زَنِيْمٍ (جو آیت ہے اس کے بارے میں) انہوں نے کہا: اس سے مراد قریش میں سے ایک آدمی تھا۔ جس کا بکری کے کان کی لَو کی طرح گوشت کا ایک ٹکڑا لٹک رہا تھا۔
ابونعیم نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان (ثوری) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے معبد بن خالد سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: میں نے حضرت حارثہ بن وہب خزاعیؓ سے سنا۔ وہ کہتے تھے: میں نے نبیؐ ﷺ سے سنا۔ آپؐ فرماتے تھے: کیا میں تمہیں جنتی نہ بتاؤں؟ ہر غریب، انکساری کرنے والا، جو اگر اللہ کو بھی قسم دے تو وہ اس کی قسم کو پورا کر دے۔ کیا میں تمہیں دوزخی نہ بتاؤں؟ ہر ایک اَکھڑ، اُجڈ، اینٹھ کر چلنے والا مغرور۔
(تشریح)آدم (بن ابی ایاس) نے ہم سے بیان کیا کہ لیث (بن سعد) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے خالد بن یزید سے، خالد نے سعید بن ابی ہلال سے، سعید نے زید بن اسلم سے، زید نے عطاء بن یسار سے، عطاء نے حضرت ابو سعید (خدری) رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: میں نے نبی ﷺ سے سنا۔ آپؐ فرماتے تھے: ہمارا ربّ اپنی پنڈلی ننگی کرے گا جس پر ہر مؤمن مرد اور مؤمن عورت اس کو سجدہ کرے گا اور وہی باقی رہ جائے گا جو دنیا میں ریا اور شہرت کی خاطر عبادت کرتا تھا۔ وہ سجدہ کرنے لگے گا تو اس کی پیٹھ اکڑ کر ایک تختہ ہو جائے گی۔
(تشریح)ابراہیم بن موسیٰ نے ہم سے بیان کیا کہ ہشام (بن یوسف) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابن جریج سے روایت کی۔ اور عطاء نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی۔ (انہوں نے کہا:) وہ بُت جو کہ قوم نوحؑ میں تھے، وہ بعد میں عربوں میں آگئے۔ وُدّ جو تھا تو وہ اس کلب قبیلے کا تھا جو دومۃ الجندل میں آباد تھا۔ اور جو سُواع تھا تو وہ ہُذیل قبیلہ کا تھا اور یَغُوث مراد قبیلے کا تھا، پھر وہ بنو غُطیف کا ہو گیا جو سبا شہر کے پاس جرف میں رہتا تھا۔ اور جو يَعُوق تھا وہ ہمدان قبیلے کا۔ اور جو نَسْر تھا تو وہ حِمْیَر کا، جو ذِي الْكَلَاع کی اولاد تھے۔ یہ سب ان چند نیک آدمیوں کے نام ہیں جو حضرت نوحؑ کی قوم میں سے تھے۔ جب وہ مر گئے تو شیطان نے ان کی قوم کے دل میں یہ ڈالا کہ اُن جگہوں میں جہاں وہ بیٹھا کرتے تھے بُت کھڑے کر دو اور اُن کے ناموں پر اِن کے نام رکھو۔ چنانچہ انہوں نے (ایسا ہی) کیا۔ اور ان کو نہیں پوجا جاتا تھا۔ مگر جب وہ لوگ ہلاک ہوگئے اور اصل معلومات نہ رہیں تو ان کو پوجنا شروع کر دیا۔
(تشریح)موسیٰ بن اسماعیل نے ہم سے بیان کیا کہ ابوعوانہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابوبشر سے، ابوبشر نے سعید بن جبیر سے، سعید نے حضرت ابن عباسؓ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ اپنے ساتھیوں میں سے چند لوگوں کے ساتھ عکاظ کی منڈی کا قصد کرتے ہوئے چل پڑے۔ اور اُن دنوں شیطانوں کو آسمان کی خبر معلوم کرنے سے روک دیا گیا تھا اور ان پر شہاب ثاقب برسائے جاتے تھے۔ یہ دیکھ کر شیطان لوٹ آئے۔ لوگوں نے پوچھا: تمہیں کیا ہوا ؟ تو انہوں نے کہا: آسمان کی ٹوہ لگانے سے ہمیں روک دیا گیا ہے اور ہم پر شہاب ثاقب برسائے گئے۔ کسی نے کہا: یہ جو آسمان کی خبر معلوم کرنے سے تمہارے لئے روک ہوگئی ہے تو ضرور کوئی نہ کوئی نئی بات ہوئی ہے۔ اس لئے زمین کے مشرق و مغرب میں پھر کر دیکھو، یہ کیا نئی بات ہے جو ہوئی ہے۔ وہ روانہ ہو گئے اور زمین کے مشرق و مغرب میں پھرے، دیکھنے لگے، یہ کیا بات ہے کہ جو اُن کے اور آسمان کی خبر کے درمیان حائل ہوگئی ہے؟ (حضرت ابن عباسؓ) کہتے تھے کہ وہ لوگ جو کہ تہامہ کی طرف گئے تھے رسول اللہ ﷺ کے پاس نخلہ مقام میں آئے جبکہ آپؐ سوق عکاظ میں جا رہے تھے۔ آپؐ اپنے ساتھیوں کو فجر کی نماز پڑھا رہے تھے۔ جب انہوں نے قرآن سنا تو کان لگا کر اس کو سننے لگے۔ انہوں نے کہا: یہ ہے وہ جو تمہارے اور آسمان کی خبر کے درمیان روک ہوا۔ پھر وہ وہیں سے اپنی قوم کے پاس لوٹ گئے اور کہنے لگے: اے ہماری قوم! ہم نے ایک عجیب قرآن سنا جو سرا سر بھلائی کی طرف راہنمائی کرتا ہے۔ ہم اس پر ایمان لائے اور ہم تو اپنے ربّ کے ساتھ کسی کو بھی ہرگز شریک نہیں ٹھہرائیں گے۔ اور اللہ عزوجل نے اپنے نبی ﷺ پر یہ وحی نازل کی: تو کہہ! میری طرف یہ وحی کی گئی ہے کہ جنوں میں سے ایک جماعت نے (قرآن) سنا ہے۔ اور آپؐ کو جنوں کی یہ بات وحی سے ہی بتائی گئی تھی۔
(تشریح)یحيٰ (بن موسیٰ بلخی) نے مجھ سے بیان کیا کہ وکیع نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے علی بن مبارک سے، علی نے یحيٰ بن ابی کثیر سے روایت کرتے ہوئے بتایا۔ (انہوں نے کہا:) میں نے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن سے قرآن کی اس آیت کے متعلق پوچھا جو پہلے اُتری۔ انہوں نے کہا: يٰۤاَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ۔ میں نے کہا: (لوگ) کہتے ہیں: اِقْرَاْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ۔ ابوسلمہ نے کہا: میں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے اس کے متعلق پوچھا۔ اور میں نے بھی ان سے ویسے ہی کہا جو تم نے کہا، تو حضرت جابرؓ نے جواب دیا: میں تم سے وہی بیان کروں گا جو ہم سے رسول اللہ ﷺ نے بیان کیا۔ آپؐ نے فرمایا: میں حرا میں گوشۂ نشین تھا۔ جب میں اپنا اعتکاف پورا کر چکا تو نیچے اُترا۔ مجھے کسی نے آواز دی۔ میں نے اپنی دائیں طرف نگاہ ڈالی، میں نے کوئی چیز نہ دیکھی اور میں نے بائیں طرف نگاہ ڈالی تو بھی کسی چیز کو نہ دیکھا۔ میں نے اپنے آگے نگاہ ڈالی پھر بھی کچھ نہ دیکھا، اور میں نے اپنے پیچھے نگاہ ڈالی تب بھی کچھ نہ دیکھا۔ میں نے اپنے سر کو اٹھایا اور کچھ دیکھا۔ میں خدیجہؓ کے پاس آیا اور میں نے کہا: مجھے کپڑا اُوڑھا دو اور ٹھنڈا پانی مجھ پر ڈالو۔ اور فرماتے تھے: چنانچہ انہوں نے مجھے کپڑا اُوڑھا دیا اور مجھ پر ٹھنڈا پانی ڈالا۔ فرمایا: (مجھ پر یہ آیتیں) نازل ہوئی ہیں: اے کپڑا اوڑھنے والے، اُٹھ اور خطرے سے آگاہ کر۔ اور اپنے ربّ کی بڑائی بیان کر۔
محمد بن بشار نے مجھ سے بیان کیا کہ عبدالرحمٰن بن مہدی نیز ان کے سوا کسی اور نے ہمیں بتایا۔ ان دونوں نے کہا: حرب بن شداد نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے یحيٰ بن ابی کثیر سے، یحيٰ نے ابوسلمہ سے، ابوسلمہ نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے، حضرت جابرؓ نے نبی ﷺ سے روایت کی۔ آپؐ نے فرمایا: میں حرا میں گوشۂ نشین تھا۔ (پھر انہوں نے) ویسی حدیث (بیان کی) جو عثمان بن عمر نے علی بن مبارک سے روایت کی۔