بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 193 hadith
موسیٰ نے ہم سے بیان کیا کہ ابوعوانہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے اعمش سے، اعمش نے ابراہیم سے، ابراہیم نے علقمہ سے، علقمہ نے حضرت عبداللہؓ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: یہودیوں کا ایک عالم رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور کہنے لگا: محمد! اللہ آسمان کو ایک انگلی پر اور زمین کو ایک انگلی پر اور پہاڑوں کو ایک انگلی پر اور درختوں اور ندیوں کو ایک انگلی پر اور باقی تمام مخلوق کو ایک انگلی پر رکھ لے گا اور پھر اپنے ہاتھ سے فرمائے گا: میں ہی بادشاہ ہوں۔ رسول اللہ ﷺ یہ سن کر ہنس پڑے اور فرمایا: یعنی ان لوگوں نے اللہ (کی صفات) کا اندازہ اس طرح نہیں کیا تھا جس طرح کرنا چاہیئے۔
(تشریح)سعید بن ابی مریم نے ہم سے بیان کیا کہ محمد بن جعفر نے ہمیں بتایا۔ شریک بن عبداللہ بن ابی نمر نے مجھ سے بیان کیا۔ شریک نے کریب سے، کریب نے حضرت ابن عباسؓ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: ایک رات میں حضرت میمونہؓ کے گھر میں ٹھہرا اور نبی ﷺ انہیں کے ہاں تھے تا کہ میں دیکھوں کہ رسول اللہ ﷺ رات کو کس طرح نماز پڑھتے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے اپنی گھر والوں کے ساتھ کچھ دیر باتیں کیں۔ پھر اس کے بعد سو گئے۔ جب رات کی آخری تہائی ہوئی یا کچھ حصہ رہ گیا تو آپؐ اُٹھ بیٹھے اور آسمان کی طرف دیکھنے لگے اور آپؐ نے یہ آیت پڑھی: اِنَّ فِيْ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ…۔ پھر آپؐ کھڑے ہوئے اور آپؐ نے وضو کیا اور مسواک کی۔ پھر آپؐ نے گیارہ رکعتیں پڑھیں۔ اس کے بعد حضرت بلالؓ نے نماز کی اذان دی تو آپؐ نے دو رکعتیں پڑھیں۔ پھر باہر گئے اور آپؐ نے لوگوں کو صبح کی نماز پڑھائی۔
(تشریح)اسماعیل نے ہم سے بیان کیا کہ مالک نے مجھے بتایا۔ انہوں نے ابوالزناد سے، ابوالزناد نے اعرج سے، اعرج نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب اللہ مخلوق پیدا کر چکا تو اس نے اپنے عرش کے اوپر اپنے پاس یہ لکھا: میری رحمت میرے غضب سے بڑھ گئی۔
آدم نے ہم سے بیان کیا کہ شعبہ نے ہمیں بتایا۔ اعمش نے ہم سے بیان کیا کہ میں نے زید بن وہب سے سنا۔ (انہوں نے کہا:) میں نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے سنا کہ رسول اللہ ﷺ نے ہم سے بیان کیا، اور وہ سچے تھے اور سچ ان سے کہا گیا کہ تم میں سے ایک کی پیدائش کے سامان اس کی ماں کے پیٹ میں چالیس دن یا چالیس رات تک جمع ہوتے رہتے ہیں۔ پھر اس کے بعد وہ اتنی ہی مدت تک علقہ بن جاتا ہے۔ پھر اتنی مدت تک مضغہ ہو جاتا ہے۔ پھر اس کی طرف فرشتہ بھیجا جاتا ہے جسے چار باتوں کا حکم دیا جاتا ہے۔ وہ اس کی روزی اور اس کی عمر اور اس کا عمل لکھتا ہے اور یہ بھی کہ آیا وہ بدبخت ہے یا نیک بخت۔ پھر اس میں روح پھونکی جاتی ہے۔ پھر تم میں سے کوئی جنتیوں کے کام کرتا رہتا ہے یہاں تک کہ جنت اور اس کے درمیان صرف ایک ہی ہاتھ رہ جاتا ہے تو تقدیر کا لکھا اس پر جلدی سے چل جاتا ہے اور دوزخیوں کے کام کرتا ہے اور وہ آگ میں داخل ہو جاتا ہے اور تم میں سے کوئی دوزخیوں کے کام کرتا رہتا ہے یہاں تک کہ دوزخ اور اس کے درمیان صرف ایک ہاتھ ہی رہتا ہے اتنے میں تقدیر کا لکھا اس پر جلدی سے چل جاتا ہے اور وہ جنتیوں کے کام کرتا ہے اور جنت میں داخل ہو جاتا ہے۔
خلاد بن یحيٰ نے ہم سے بیان کیا کہ عمر بن ذر نے ہمیں بتایا۔ (انہوں نے کہا:) میں نے اپنے باپ سے سنا۔ وہ سعید بن جبیر سے روایت کرتے ہوئے بیان کرتے تھے کہ سعید نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ نبی ﷺ نے فرمایا: جبریل تمہیں کیا مانع ہے کہ ہمیں اُس سے زیادہ ملا کرو جو تم ہمیں ملتے ہو؟ اس پر یہ آیت نازل ہوئی: وَ مَا نَتَنَزَّلُ اِلَّا بِاَمْرِ رَبِّكَ…۔ حضرت ابن عباسؓ نے کہا: یہ تھا جواب محمد ﷺ کے لیے۔
یحيٰ نے ہم سے بیان کیا کہ وکیع نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے اعمش سے، اعمش نے ابراہیم سے، ابراہیم نے علقمہ سے، علقمہ نے حضرت عبداللہؓ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ایک کھیت میں چلا جا رہا تھا جو مدینہ میں تھا اور آپؐ کھجور کی ایک لکڑی پر سہارا لے رہے تھے۔ اتنے میں آپؐ کچھ یہودی لوگوں کے پاس سے گزرے تو انہوں نے ایک دوسرے سے کہا: ان سے روح کے متعلق پوچھو اور ان میں سے بعض نے کہا: ان سے نہ پوچھو۔ آخر انہوں نے آپؐ سے روح کے متعلق پوچھا۔ آپؐ لکڑی پر سہارا لئے کھڑے ہوگئے اور میں آپؐ کے پیچھے تھا۔ میں سمجھا کہ آپؐ کو وحی ہوگئی اور آپؐ نے فرمایا: وَ يَسْـَٔلُوْنَكَ عَنِ الرُّوْحِ…۔ تو وہ ایک دوسرے سے کہنے لگے: ہم نے تم سے کہہ دیا تھا کہ ان سے نہ پوچھو۔
اسماعیل نے ہم سے بیان کیا کہ مالک نے مجھے بتایا۔ انہوں نے ابوالزناد سے، ابوالزناد نے اعرج سے، اعرج نے حضرت ابوہریرہؓ سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے اللہ کی راہ میں جہاد کیا صرف اس کی راہ میں جہاد نے ہی اور اس کے کلام کی تصدیق نے ہی اس کو نکالا ہو ایسے شخص کے لئے اللہ ضامن ہوگیا ہے کہ اس کو جنت میں داخل کرے یا اس ٹھکانے کی طرف اس کو لوٹا دے جس سے وہ نکلا تھا مع اس ثواب یا غنیمت کے جو اس نے حاصل کیا۔
محمد بن کثیر نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے اعمش سے، اعمش نے ابووائل سے، ابووائل نے حضرت ابو موسیٰؓ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: ایک شخص نبی ﷺ کے پاس آیا اور اس نے پوچھا کہ آدمی حمیت کی وجہ سے بھی لڑتا ہے اور بہادری کی وجہ سے بھی لڑتا ہے اور دکھلاوے کے لئے بھی لڑتا ہے۔ ان میں سے کونسی لڑائی اللہ کی راہ میں ہے؟ آپؐ نے فرمایا: جو اس لئے لڑے کہ اللہ کا ہی بول بالا ہو تو یہ اللہ کی راہ میں ہے۔
(تشریح)شہاب بن عباد نے ہم سے بیان کیا کہ ابراہیم بن حمید نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے اسماعیل سے، اسماعیل نے قیس سے، قیس نے حضرت مغیرہ بن شعبہؓ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: میں نے نبی ﷺ سے سنا۔ آپؐ فرما رہے تھے: میری امت میں سے ایک قوم لوگوں پر ہمیشہ غالب رہے گی یہاں تک کہ اللہ کا امر ان کو آجائے۔
حمیدی نے ہم سے بیان کیا کہ ولید بن مسلم نے ہمیں بتایا۔ ابن جابر نے ہم سے بیان کیا کہ عمیر بن ہانی نے مجھے بتایا کہ انہوں نے حضرت معاویہؓ سے سنا۔ انہوں نے کہا: میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا۔ آپؐ فرماتے تھے: میری اُمت میں سے ایک گروہ ہمیشہ اللہ کے حکم پر قائم رہے گا۔ جو لوگ ان کو جھٹلائیں گے اور جو ان کی مخالفت کریں گے وہ اس کو نقصان نہیں پہنچا سکیں گے یہاں تک کہ اللہ کا حکم آجائے گا جبکہ وہ اسی حالت میں ہوں گے۔ مالک بن یخامر نے کہا: میں حضرت معاذؓ کو یہ کہتے سنا: یہ لوگ شام میں ہی ہیں۔ حضرت معاویہؓ نے کہا: یہ دیکھو۔ مالک کہتے ہیں کہ انہوں نے حضرت معاذؓ سے سنا۔ وہ کہتے تھے: وہ شام میں ہی ہیں۔