بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 70 hadith
اسماعیل (بن ابی اویس) نے ہم سے بیان کیا، کہا: مالک نے مجھے بتایا۔ انہوں نے نافع سے، نافع نے ایک انصاری شخص سے، اس انصاری نے معاذ بن سعد یا حضرت سعد بن معاذؓ سے روایت کی۔ انہوں نے اس کو خبر دی کہ حضرت کعب بن مالکؓ کی ایک لونڈی سلع میں بکریاں چرا رہی تھی، اتنے میں ایک بکری گر کر زخمی ہوئی۔ وہ اس کے پاس مرنے سے پہلے پہنچ گئی اور ایک پتھر سے اسے ذبح کر ڈالا۔ نبی ﷺ سے پوچھا گیا۔ آپؐ نے فرمایا: اس کو کھاؤ۔
قبیصہ (بن عقبہ) نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان (ثوری) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے اپنے باپ (سعید بن مسروق) سے، سعید نے عبایہ بن رفاعہ سے، عبایہ نے حضرت رافع بن خدیجؓ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: نبی ﷺ نے فرمایا: کھاؤ یعنی اس چیز کا ذبح کیا ہوا جو خون بہائے سوائے دانت اور ناخن کے۔
(تشریح)محمد بن عبیداللہ نے ہم سے بیان کیا کہ اسامہ بن حفص مدنی نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ہشام بن عروہ سے، ہشام نے اپنے باپ سے، ان کے باپ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ ایک قوم نے نبی ﷺ سے کہا۔ کچھ لوگ ہمارے پاس گوشت لاتے ہیں ہم نہیں جانتے آیا اس پر اللہ کا نام لیا گیا ہے یا نہیں؟ آپؐ نے فرمایا: تم اس پر اللہ کا نام لے لیا کرو اور اس کو کھا لو۔ حضرت عائشہؓ کہتی تھیں اور یہ لوگ کفر سے قریب العہد (نئے نئے آئے) تھے۔ اسامہ بن حفص کی طرح علی (بن مدینی) نے (عبدالعزیز) دراوردی سے یہی حدیث روایت کی۔ اور اسامہ کی طرح ابو خالد اور طفاوی نے بھی اسے روایت کیا۔
ابوالولید (ہشام بن عبدالملک) نے ہم سے بیان کیا کہ شعبہ (بن حجاج) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے حمید بن ہلال سے، حمید نے حضرت عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: ہم خیبر کے قلعہ کا محاصرہ کئے ہوئے تھے اتنے میں کسی آدمی نے ایک تھیلا پھینکا جس میں کچھ چربی تھی۔ میں اس کو لینے کے لیے لپکا، مڑ کر جو دیکھا تو سامنے نبی ﷺ ہیں۔ آپؐ سے مجھے شرم آئی۔
(تشریح)عمرو بن علی نے ہم سے بیان کیا کہ یحيٰ (بن سعید قطان) نے ہمیں بتایا۔ سفیان (ثوری) نے ہم سے بیان کیا۔ (انہوں نے کہا:) میرے باپ (سعید بن مسروق) نے ہم سے بیان کیا۔ سعید نے عبایہ بن رفاعہ بن رافع بن خدیج سے، عبایہ نے حضرت رافع بن خدیجؓ سے روایت کی۔ وہ کہتے تھے۔ میں نے کہا: یا رسول اللہ! کل دشمن سے ہماری مڈبھیڑ ہوگی اور ہمارے پاس چھریاں نہیں۔ آپؐ نے فرمایا: ابھی سے جلدی کرو، یا (فرمایا:) اَرِنْ یعنی (خوشی سے اچھل کر) لپکو، جو بھی خون کو بہادے اور اللہ کا نام اس پر لیا جائے وہ کھاؤ۔ دانت اور ناخن نہ ہو اور میں تمہیں بتائے دیتا ہوں کہ دانت جو ہے وہ تو ہڈی ہے اور ناخن جو ہے تو حبشیوں کی چھریاں ہیں۔ اور ہم نے کچھ اونٹ اور بکریاں غنیمت میں پائیں اور ان میں سے ایک اونٹ بھاگ نکلا تو ایک شخص نے اس کو تیر مار کر ٹھہرا دیا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ان اونٹوں میں بھی ایسے جانور ہیں جو قابو میں نہیں آتے جیسے جنگلی جانور ہوتے ہیں جب ان میں سے کوئی جانور تم کو بے بس کردے تو پھر اس کے ساتھ ایسا ہی کرو۔
خلاد بن یحيٰ نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان (ثوری) نے ہمیں بتایا۔ ہشام بن عروہ نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا: مجھے میری بیوی فاطمہ بنت منذر نے بتایا۔ فاطمہ نے حضرت اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہما سے روایت کی، کہتی تھیں: ہم نے نبی ﷺ کے زمانہ میں ایک گھوڑا نحر کیا اور ہم نے اس کا گوشت کھایا۔
اسحاق (بن راہویہ) نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے عبدہ (بن سلیمان) سے، عبدہ نے ہشام (بن عروہ) سے، ہشام نے فاطمہ سے، فاطمہ نے حضرت اسماءؓ سے روایت کی، وہ کہتی تھیں: ہم نے رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں ایک گھوڑا ذبح کیا اور اسے کھایا اور ہم اس وقت مدینہ میں تھے۔
قتیبہ (بن سعید) نے ہم سے بیان کیا کہ جریر (بن عبدالحمید) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ہشام (بن عروہ) سے، ہشام نے فاطمہ بنت منذر سے روایت کی کہ حضرت اسماء بنت ابی بکرؓ کہتی تھیں۔ ہم نے رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں ایک گھوڑا نحر کیا اور ہم نے اس کو کھایا۔ (جریر کی طرح) وکیع اور ابن عیینہ نے بھی ہشام سے نحر کے متعلق یہی روایت کیا۔
(تشریح)ابوالولید نے ہم سے بیان کیا کہ شعبہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ہشام بن زید سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: میں حضرت انسؓ کے ساتھ حکم بن ایوب کے پاس گیا اور وہاں چند لڑکوں یا (کہا:) چند نوجوانوں کو دیکھا کہ انہوں نے ایک مرغی کو باندھ کر کھڑا کیا ہوا ہے اور اس پر تیر مار رہے ہیں۔ حضرت انسؓ نے یہ دیکھ کر کہا کہ نبی ﷺ نے جانور کو اس طرح باندھ کر نشانہ کرنے سے منع کیا ہے۔
احمد بن یعقوب نے ہم سے بیان کیا کہ اسحاق بن سعید بن عمرو نے اپنے باپ سے، انہوں نے ان کو بیان کرتے ہوئے سنا۔ ان کے باپ نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ وہ یحيٰ بن سعید (بن عاص) کے پاس گئے اور یحيٰ کے بیٹوں میں سے ایک لڑکے نے ایک مرغی باندھی ہوئی تھی۔ اس پر تیر کا نشانہ مار رہا تھا۔ حضرت ابن عمرؓ اس مرغی کے پاس گئے اور جاکر اس کو کھول دیا اور پھر اس مرغی کو لے کر مع اس لڑکے کے یحيٰ کے پاس آئے اور کہنے لگے: اپنے اس لڑکے کو سختی سے روکو کہ اس پرندہ کو اس طرح باندھ کر مارا نہ کرے کیونکہ میں نے نبی ﷺ سے سنا۔ آپؐ نے چوپایا یا اس کے سوا کسی دوسرے جانور کو مارنے کے لئے اس طرح باندھنا منع فرمایا۔