بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 70 hadith
مسدد نے ہم سے بیان کیا کہ یحيٰ (بن سعید قطان) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے شعبہ سے، شعبہ نے کہا کہ عدی (بن ثابت) نے مجھ سے بیان کیا۔ انہوں نے حضرت براء (بن عازب) اور حضرت ابن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہم سے روایت کی۔ ان دونوں نے کہا: نبی ﷺ نے گدھوں کے گوشت سے منع فرمایا۔
مسدد نے ہم سے بیان کیا کہ یحيٰ (بن سعید قطان) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے شعبہ سے، شعبہ نے کہا کہ عدی (بن ثابت) نے مجھ سے بیان کیا۔ انہوں نے حضرت براء (بن عازب) اور حضرت ابن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہم سے روایت کی۔ ان دونوں نے کہا: نبی ﷺ نے گدھوں کے گوشت سے منع فرمایا۔
اسحاق (بن راہویہ) نے ہم سے بیان کیا کہ یعقوب بن ابراہیم نے ہمیں خبر دی کہ میرے باپ نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے صالح (بن کیسان) سے، صالح نے ابن شہاب سے روایت کی کہ ابوادریس (خولانی) نے انہیں خبر دی کہ حضرت ابوثعلبہ (خشنیؓ) کہتے تھے کہ رسول اللہ ﷺ نے پالتو گدھوں کے گوشت کو حرام قرار دیا۔ (صالح کی طرح) زبیدی اور عقیل نے بھی ابن شہاب سے روایت کرتے ہوئے اس حدیث کو بیان کیا۔ اور مالک اور معمر اور (یوسف بن یعقوب) ماجشون اور یونس (بن یزید ایلی) اور (محمد) بن اسحاق نے زہری سے روایت کرتے ہوئے کہا کہ نبی ﷺ نے درندوں میں سے ہر کچلی والے جانور سے منع کر دیا۔
محمد بن سلام (بیکندی) نے ہم سے بیان کیا کہ عبدالوہاب ثقفی نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ایوب (سختیانی) سے، ایوب نے محمد (بن سیرین) سے، محمد نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس ایک آنے والا آیا اور کہنے لگا: گدھے کھائے گئے، پھر ایک اور شخص آپؐ کے پاس آیا وہ بھی یہی کہنے لگا: گدھے کھائے گئے۔ پھر آپؐ کے پاس ایک آنے والا آیا اور اس نے کہا: گدھے فنا کر دیئے گئے۔ تو آپؐ نے ایک منادی کو حکم دیا جس نے لوگوں میں منادی کی کہ اللہ اور اس کا رسول دونوں تم کو پالتو گدھوں کے گوشت سے روکتے ہیں کیونکہ وہ ناپاک ہیں۔ اس پر وہ ہنڈیاں انڈیل دی گئیں اور ابھی وہ گوشت سے ابل ہی رہی تھیں۔
علی بن عبداللہ (مدینی) نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان (بن عیینہ) نے ہمیں بتایا کہ عمرو (بن دینار) کہتے تھے کہ میں نے حضرت جابر بن زیدؓ سے کہا کہ لوگ ایسا خیال کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے پالتو گدھوں سے منع فرما دیا تو انہوں نے کہا: حضرت حکم بن عمرو غفاریؓ بھی ہمارے ہاں بصرہ میں یہی کہا کرتے تھے۔ لیکن اس سمندر یعنی حضرت ابن عباسؓ نے انکار کیا اور یہ آیت پڑھی: تو ان سے کہہ کہ جو کچھ میری طرف نازل کیا گیا ہے میں تو اس میں اس شخص پر جو کسی چیز کو کھانا چاہے سوائے مردہ یا بہتے ہوئے خون یا سؤر کے گوشت کے کوئی چیز حرام نہیں پاتا۔
عبداللہ بن یوسف (تنیسی) نے ہم سے بیان کیا کہ مالک نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابن شہاب سے، ابن شہاب نے ابوادریس خولانی سے، خولانی نے حضرت ابوثعلبہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے درندوں میں سے ہر کچلی والے جانور کو کھانے سے منع فرمایا۔ (مالک کی طرح) یونس اور معمر اور ابن عیینہ اور ماجشون نے بھی زہری سے روایت کیا۔
زہیر بن حرب نے ہمیں بتایا کہ یعقوب بن ابراہیم نے ہم سے بیان کیا کہ میرے باپ نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے صالح (بن کیسان) سے، صالح نے کہا: مجھ سے ابن شہاب نے بیان کیا کہ عبید اللہ بن عبد اللہ نے ان کو بتایا کہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے ان کو بتایا کہ رسول اللہ ﷺ ایک مردہ بکری کے پاس سے گزرے اور آپؐ نے فرمایا: تم نے اس کی کھال سے کیوں نہ فائدہ اٹھایا؟ وہ بولے یہ مردار ہے۔ آپؐ نے فرمایا: صرف اس کا کھانا حرام ہے۔
خطاب بن عثمان نے ہم سے بیان کیا کہ محمد بن حمیر نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ثابت بن عجلان سے، ثابت نے کہا: میں نے سعید بن جبیر سے سنا۔ وہ کہتے تھے: میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا۔ وہ کہتے تھے: نبی ﷺ ایک مری ہوئی بکری کے پاس سے گزرے۔ آپؐ نے فرمایا: اس کے مالکوں کو کیا تھا اگر وہ اس کے چمڑے سے فائدہ اٹھاتے؟
(تشریح)مسدد نے ہمیں بتایا۔ عبدالواحد (بن زیاد) نے ہم سے بیان کیا کہ عمارہ بن قعقاع نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابوزرعہ بن عمرو بن جریر سے، ابوزرعہ نے حضرت ابوہریرہؓ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کوئی بھی ایسا زخمی نہیں جو اللہ کے لئے زخمی ہوا ہو مگر وہ ضرور قیامت کے دن اس حالت میں آئے گا کہ اس کا زخم خون بہا رہا ہوگا، رنگ تو خون کا رنگ ہوگا اور خوشبو مشک کی خوشبو ہوگی۔
محمد بن العلاء نے ہم سے بیان کیا کہ ابواسامہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے برید (بن عبداللہ) سے، برید نے ابوبردہ سے، ابوبردہؓ نے حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے، حضرت ابوموسیٰؓ نے نبی ﷺ سے روایت کی۔ آپؐ نے فرمایا: اچھے ہم نشین اور برے ہم نشین کی مثال ایسی ہے جیسے کوئی مشک لے جا رہا ہو اور جو بھٹی کو دھونک رہا ہو۔ جو مشک کو لے جا رہا ہے یا تو تمہیں خوشبو تحفۃً دے گا اور یا تم اس سے خرید لو گے یا اس سے عمدہ خوشبو ہی سونگھ لو گے اور جو بھٹی میں دھونکنے والا ہے وہ یا تمہارے کپڑے جلا دے گا یا تم اس سے بدبو سونگھو گے۔