حارث بن سوید سے روایت ہے کہ حضرت عبداللہ بن مسعودؓ نے ہم سے دو حدیثیں بیان کیں۔ میں ان میں سے ایک نبی ﷺ سے اور ایک اپنی طرف سے۔ یہ کہا کہ مؤمن اپنے گناہوں کو یوں دیکھتا ہے گویا وہ پہاڑ کے نیچے بیٹھا ہوا ہے ڈرتا ہے کہ کہیں وہ اس پر نہ آپڑے اور فاجر اپنے گناہوں کو یوں سمجھتا ہے جیسے مکھی اس کے ناک پر سے گزر گئی اور انہوں نے اپنے ہاتھ سے اس طرح اشارہ کیا۔ ابو شہاب نے یہ اشارہ اپنے ہاتھ کو ناک پر گزار کر بتلایا پھر انہوں نے (آنحضرت ﷺ کی حدیث بیان کی) فرمایا اللہ اپنے بندے کی توبہ سے اس سے بھی زیادہ خوش ہوتا ہے جتنا وہ شخص کہ جو ایک مقام پر اترا اور وہاں ہلاکت کے سب سامان موجود ہیں۔ اس کے ساتھ اس کی اونٹنی ہے جس پر اس کا کھانا اور پانی بندھا ہوا ہے۔ وہ اپنا سر رکھ کر تھوڑا سا سو گیا اور پھر جاگا کیا دیکھا کہ اس کی اونٹنی کہیں چلی گئی ہے۔ نوبت یہاں تک پہنچی کہ گرمی اور پیاس نے اسے سخت لاچار کر دیا یا فرمایا اتنی سخت گرمی اور پیاس لگی جتنی اللہ نے چاہی۔ کہنے لگا۔ میں اپنی جگہ لوٹ جاتا ہوں اور وہ لوٹا اور تھوڑا سا سویا تو پھر اس نے اپنا سر اٹھایا تو کیا دیکھتا ہے کہ اس کی اونٹنی اس کے پاس کھڑی ہے۔
(سنن دارمی ، ومن کتاب الرقاق باب فی حسن الظن باللہ 2733)
حضرت واثلہؓ کی روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں اپنے بندے کے گمان کے مطابق اپنا آپ اس پر ظاہر کرتا ہوں پس جیسا وہ میرے متعلق گمان کرے ایسا ہی میرا اس سے سلوک ہوتا ہے۔
(مسلم کتاب التوبۃ باب فی الحض علی التوبۃ و الفرح بھا 4918)
اسحاق بن عبداللہ ابن ابو طلحہؓ کہتے ہیں ہمیں حضرت انس بن مالکؓ نے بتایا اور وہ ان کے چچا تھے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا یقیناً اللہ اپنے بندہ کی توبہ پر جب وہ اس کے حضور توبہ کرتا ہے تم میں سے اس شخص سے بھی زیادہ خوش ہوتا ہے جو کسی جنگل میں اپنی سواری پر تھا۔ پھر وہ اس سے چھوٹ گئی جبکہ اس پر اس کا کھانا اور اس کا پانی تھا۔ پھر وہ اپنی سواری سے مایوس ہو کر ایک درخت کے پاس آیا اور اس کے سایہ کے نیچے آ کر لیٹ گیا۔ اچانک کیا دیکھتا ہے کہ اس کی سواری اس کے پاس کھڑی ہے۔ چنانچہ اس نے اس کی نکیل سے پکڑا۔ خوشی کی شدت سے کہا اے اللہ! تو میرا بندہ اور میں تیرا رب ہوں۔ خوشی کی شدت کی وجہ سے اس سے غلطی ہو گئی۔
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ اللہ عزوجل نے فرمایا میں اپنے بندہ سے اس کے میرے متعلق ظن کے مطابق ہوتا ہوں اور میں اس کے ساتھ ہوتا ہوں جب وہ میرا ذکر کرتا ہے اور اللہ کی قسم! اللہ اپنے بندہ کی توبہ پر اس سے زیادہ خوش ہوتا ہے جو تم میں سے اپنی گمشدہ اونٹنی جنگل میں پالینے پر ہوتا ہے اور جو ایک بالشت میرے قریب آتا ہے میں ایک ہاتھ اس کے قریب آجاتا ہوں۔ جو ایک ہاتھ میرے قریب آتا ہے میں دو ہاتھ اس کے قریب آجاتا ہوں اور جب وہ میرے پاس چل کر آتا ہے میں اس کی طرف دوڑ کر جاتا ہوں۔
(بخاری کتاب التوحید باب قول اللہ تعالیٰ یحزرکم اللہ نفسہ 7405)
حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے میں وہیں ہوتا ہوں جہاں میرا بندہ میرے متعلق خیال کرتا ہے اور میں اس کے ساتھ ہی ہوتا ہوں جب وہ مجھے یاد کرتا ہے اگر وہ اپنے دل میں مجھے یاد کرے تو میں بھی اپنے دل میں اس کو یاد کرتا ہوں اور اگر وہ بھری مجلس میں مجھے یاد کرتا ہے تو میں بھی اس کو بھری مجلس میں یاد کرتا ہوں جو اس مجلس سے بہتر ہوتی ہے اور اگر وہ ایک بالشت میرے قریب ہوتا ہے تو میں ایک ہاتھ اس کے قریب ہوتا ہوں اور اگر وہ ایک ہاتھ میرے قریب ہوتا ہے تو میں ایک باع اس کے قریب ہوتا ہوں اور اگر وہ میرے پاس چل کر آئے تو میں اس کے پاس دوڑتا ہوا آتا ہوں۔
حدیقۃ الصالحین, توبہ و استغفار اور
اللہ تعالیٰ کے بارہ میں حسن ظن, باب نمبر ۱۴, حدیث نمبر ۱۲۳, جلد نمبر صفحہ نمبر ۱۵۳
(الدر المنثور فی تفسیر بالماثور ،البقرہ آیت 222)
حضرت انس ؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ گناہ سے سچی توبہ کرنے والا ایسا ہی ہے جیسے اس نے کوئی گناہ کیا ہی نہیں جب اللہ تعالیٰ کسی انسان سے محبت کرتا ہے تو گناہ اسے کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا۔ پھر حضور ﷺ نے یہ آیت پڑھی۔ اللہ تعالیٰ توبہ کرنے والوں اور پاکیزگی اختیار کرنے والوں سے محبت کرتا ہے عرض کیا گیا یا رسول اللہ! توبہ کی علامت کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا ندامت اور پشیمانی (علامت توبہ ہے)۔
حضرت انسؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ گناہ سے سچی توبہ کرنے والا ایسا ہی ہے جیسے اس نے کوئی گناہ کیا ہی نہیں۔ جب اللہ تعالیٰ کسی انسان سے محبت کرتا ہے تو گناہ اسے کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا۔ یعنی گناہ کے محرکات اسے بدی کی طرف مائل نہیں کر سکتے اور گناہ کے بدنتائج سے اللہ تعالیٰ اسے محفوظ رکھتا ہے۔ پھر حضور ﷺ نے یہ آیت پڑھی إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ التَّوَّابِينَ وَيُحِبُّ الْمُتَطَهِّرِينَ اللہ تعالیٰ توبہ کرنے والوں اور پاکیزگی اختیار کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔ عرض کیا گیا یا رسول اللہ! توبہ کی علامت کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا ندامت اور پشیمانی (علامت توبہ ہے)۔
(مسلم کتاب التوبۃ باب قبول التوبۃ القاتل و ان کثر قتلہ 4953)
حضرت ابو سعید خدریؓ سے روایت ہے کہ اللہ کے نبیﷺ نے فرمایا کہ تم سے پہلے لوگوں میں ایک آدمی تھا جس نے ننانوے قتل کئے تھے۔ اس نے ملک کے سب سے بڑے عالم کے بارہ میں پوچھا چنانچہ اسے ایک راہب کا پتہ بتایا گیا۔ وہ شخص اس کے پاس آیا اور عرض کیا کہ اس نے ننانوے قتل کئے ہیں کیا اس کی توبہ ہو سکتی ہے؟ اس نے کہا نہیں۔ اس نے اسے بھی قتل کر دیا اور اس طرح سو پورے کر دئے۔ اس نے پھر ملک کے سب سے بڑے عالم کے متعلق پوچھا۔ تو پھر اسے ایک عالم کا پتہ بتایا گیا۔ اس نے کہا کہ اس نے سو آدمیوں کو قتل کیا ہے کیا اس کی توبہ قبول ہو سکتی ہے۔ اس نے کہا ہاں۔ بندہ اور اس کی توبہ کے درمیان کون حائل ہو سکتا ہے۔ فلاں علاقہ کی طرف چلے جاؤ۔ وہاں کچھ لوگ ہیں جو اللہ کی عبادت کرتے ہیں۔ پس تم بھی ان کے ساتھ اللہ کی عبادت کرو اور واپس اپنے ملک مت لوٹنا کیونکہ وہ ملک بُرا ہے۔ پس وہ چل پڑا، ابھی اس نے آدھا راستہ ہی طے کیا تھا کہ اسے موت نے آ لیا۔ اس کے بارہ میں رحمت کے فرشتے اور عذاب کے فرشتے آپس میں جھگڑنے لگے۔ رحمت کے فرشتوں نے کہا کہ یہ اپنے دل سے توبہ کرتے ہوئے اللہ کی طرف آ رہا تھا۔ مگر عذاب کے فرشتوں نے کہا کہ اس نے کبھی کوئی نیکی نہیں کی۔ اتنے میں ان کے پاس انسانی صورت میں ایک فرشتہ آیا۔ انہوں نے اسے اپنے درمیان حکم بنا لیا۔ اس نے کہا کہ دونوں زمینوں کی پیمائش کرو۔ پس جس کے وہ زیادہ قریب ہوگا وہ اسی کا ہوگا۔ چنانچہ انہوں نے اس کی پیمائش کی تو انہوں نے اسے اس زمین کے زیادہ قریب پایا جس کی طرف جانے کا اس نے ارادہ کیا تھا۔ تو رحمت کے فرشتوں نے اسے قبضہ میں لے لیا۔
حضرت ابو سعیدؓ نے نبی ﷺ سے روایت کی کہ آپؐ نے فرمایا بنی اسرائیل میں ایک شخص تھا جس نے ننانوے آدمیوں کو قتل کیا تھا۔ پھر وہ (مسئلہ) پوچھنے کے لئے نکلا اور ایک راہب کے پاس آیا اور اس سے کہنے لگا کہ کیا میری توبہ قبول ہو سکتی ہے؟ اس نے کہا نہیں۔ یہ سن کر اس نے اس کو بھی مار ڈالا اور پھر وہ اسی طرح (مسئلہ) پوچھنے لگا تو ایک شخص نے اس سے کہا فلاں فلاں بستی میں جاؤ تو راستے میں اس کو موت نے آ لیا اور مرتے وقت اس نے اپنے سینے کو اس بستی کی طرف جھکا دیا۔ اب اس کے متعلق رحمت کے فرشتے اور عذاب کے فرشتے جھگڑنے لگے۔ اللہ نے اس بستی کو وحی کی کہ اس کے قریب ہو جا اور اللہ نے اس بستی کو جہاں سے وہ نکلا تھا حکم دیا کہ اس سے دور ہو جا۔ پھر فرشتوں سے فرمایا دونوں بستیوں کے درمیان جو فاصلہ ہے اس کو ناپو۔ تو اس بستی کے جس کی طرف جانے کا قصد رکھتا تھا، ایک بالشت زیادہ قریب پایا گیا۔ اس لئے اس کو بخش دیا گیا۔
ابن شہاب نے عبدالرحمٰن بن عبداللہ بن کعب بن مالک سے روایت کی کہ عبداللہ بن کعب بن مالک اور وہ ان کے بیٹوں سے کعب کو جب وہ نابینا ہوگئے تھے پکڑ کر لے جایا کرتے تھے کہا کہ میں نے کعب بن مالک کو وہ واقعہ بیان کرتے سنا کہ جب کہ وہ پیچھے رہ گئے تھے یعنی تبوک کا واقعہ۔ کعب نے کہا میں رسول اللہ ﷺ سے کسی غزوہ میں بھی پیچھے نہیں رہا جو آپ نے کیا ہو۔ سوائے غزوہ تبوک کے۔ ہاں غزوہ بدر میں بھی پیچھے رہ گیا تھا اور آپ نے کسی پر بھی ناراضگی کا اظہار نہیں کیا تھا کہ جو اس جنگ کے پیچھے رہ گیا تھا۔ رسول اللہ ﷺ صرف قریش کے قافلہ کو روکنے کے ارادے سے نکلے تھے۔ مگر نتیجہ یہ ہوا کہ اللہ نے بغیر اس کے کہ جنگ کی ٹھانی ہو ان کو دشمن سے ٹکرا دیا اور میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ عقبہ کی رات میں بھی موجود تھا۔ جب ہم نے اسلام پر قائم رہنے کا پختہ عہدوپیمان کیا تھا اور میں نہیں چاہتا کہ اس رات کے عوض مجھے بدر میں شریک ہونے کی توفیق ملتی۔ اگرچہ بدر لوگوں میں اس سے زیادہ مشہور ہے اور میری حالت یہ تھی کہ میں کبھی بھی اتنا تنو مند اور خوشحال نہیں تھا جتنا کہ اس وقت جب کہ میں آپ سے اس غزوہ میں پیچھے رہ گیا۔ اللہ کی قسم اس سے پہلے کبھی بھی میرے پاس اونٹ اکٹھے نہیں ہوئے اور اس حملہ کے اثناء میں دواونٹ اکٹھے کرلئے تھے اور رسول اللہ ﷺ جس غزوہ کا بھی ارادہ کرتے تھے تو آپ اس کو چھپا کر کسی اور طرف جانے کا اظہار کرتے۔ جب وہ غزوہ ہوا تو نبی ﷺ اس حملہ میں سخت گرمی کے وقت نکلے اور آپ کے سامنے دور دراز کا سفر اور غیر آباد بیابان اور دشمن تھا۔ جو بہت سی تعداد میں تھا۔ آپ نے مسلمانوں کو ان کی حالت کھول کر بیان کردی تا کہ وہ اپنے اس غزوہ کے لئے جو تیاری کرنے کا حق ہے تیاری کریں۔ آپ نے ان کو اس جہت کا بھی پتہ کردیا جس طرف آپ جا نا چاہتے تھے اور مسلمان رسول اللہ ﷺ کے ساتھ بکثرت تھے اور محفوظ رکھنے والی کوئی کتاب نہ تھی۔ جو ان کی تعداد کو ضبط میں رکھتی۔ کعب کی مراد اس سے رجسٹر تھا۔ کعب کہتے تھے اور کوئی شخص بھی ایسا نہ تھا جو غیر حاضر رہنا چاہتا ہو۔ وہ خیال نہ کرتا کہ اس کا غیر حاضر رہنا آپ سے پوشیدہ رہے گا۔ جب تک کہ اس سے متعلق اللہ کی وحی نازل نہ ہو اور رسول اللہ ﷺ نے یہ غزوہ اس وقت کیا کہ جب پھل لگ چکے تھے اور سائے اچھے تھے اور رسول اللہ ﷺ نے سفر کی تیاری شروع کردی۔ آپ کے ساتھ مسلمانوں نے بھی اور میں صبح کو جاتا تا میں بھی ان کے ساتھ سامان سفر کی تیاری کروں۔ میں واپس لوٹتا اور کچھ بھی نہ کیا ہوتا۔ میں اپنے دل میں کہتا کہ میں تیاری کرسکتا ہوں۔ یہ خیال مجھے لیت و لعل میں رکھتا رہا۔ یہاں تک کہ وہ وقت آگیا کہ لوگوں کو سفر کی جلدی پڑی اور رسول اللہ ﷺ ایک صبح روانہ ہوگئے اور مسلمان بھی آپ کے ساتھ روانہ ہوئے اور میں اپنے سامان سفر کی تیاری میں سے کچھ بھی نہ نپٹایا تھا۔ میں نے سوچا کہ آپ کے جانے کے ایک دن یا دو دن بعد تیاری کرلوں گا اور پھر ان سے جاملوں گا۔ ان کے چلے جانے کے بعد دوسری صبح باہر گیا کہ سامان تیار کرلوں۔ مگر پھر واپس آگیا اور کچھ بھی نہ کیا۔ پھر میں دوسرے دن گیا اور واپس لوٹ آیا اور کچھ بھی نہ نپٹایا اور یہی حال رہا یہاں تک کہ تیزی سے سفر کرتے ہوئے لشکر بہت آگے نکل گئے۔ میں نے بھی ارادہ کرلیا کہ کوچ کروں اور ان کو پالوں اور کاش کہ میں ایسا کرتا۔ مگر مجھ سے یہ مقدر بھی نہ ہوا۔ رسول اللہ
(بخاری کتاب المغازی باب حدیث کعب بن مالک و قول اللہ عزوجل و علی الثلاثۃ… 4418)
ﷺ
کے جانے کے بعد جب بھی میں لوگوں میں نکلتا اور ان میں چکر لگاتا تو میں ایسے ہی شخص دیکھتا جن پر نفاق کا عیب لگایا جاتا تھا۔ ایسا شخص جس کو بوجہ نفاق ہونے کے حقارت سے دیکھا جاتا تھا یا کمزوروں میں سے ایسا شخص جس کو اللہ نے معذور ٹھہرایا تھا اور رسول اللہ
ﷺ
نے بھی مجھے اس وقت یا د کیا جب آپ تبوک میں پہنچے۔ آپ نے فرمایا اور اس وقت آپ تبوک میں لوگوں کے ساتھ بیٹھے تھے، کعب کہاں ہے؟ بنو سلمہ میں سے ایک شخص نے کہا اللہ کی قسم ! یا رسول اللہ ! اس کو اس کی دو چادروں نے اور اس کے اپنے دائیں بائیں مڑ مڑ کر دیکھنے سے روک رکھا ہے۔ معاذ بن جبل نے یہ سن کر کہا کیا یہ بری بات ہے جو تم نے کہی ہے؟ یا رسول اللہ ! اس کے متعلق ہمیں بھی اچھا ہی تجربہ ہے۔ رسول اللہ
ﷺ
یہ سن کر خاموش ہوگئے۔ کعب بن مالک کہتے تھے۔ جب مجھے یہ خبر پہنچی کہ آپ واپس آرہے ہیں مجھے فکر ہوئی اور میں جھوٹی باتیں سوچنے لگا کہ کس بات سے کل آپ کی ناراضگی سے بچ جاؤں اور اپنے گھر والوں سے ہر ایک اہل رائے سے میں نے اس بارے میں مشورہ لیا۔ جب یہ کہا گیا کہ رسول اللہ
ﷺ
آن پہنچے میرے دل سے سارے جھوٹے خیالات کافور ہوگئے اور میں نے سمجھ لیا میں کبھی بھی آپ کے غصہ سے ایسی بات سے بچنے کا نہیں جس میں جھوٹ ہو۔ اس لئے میں نے آپ سے سچ سچ بیان کرنے کی ٹھان لی اور رسول اللہ
ﷺ
تشریف لے آئے۔ جب آپ کسی سفر سے آتے پہلے مسجد میں جاتے۔ اس میں دو رکعتیں پڑھتے۔ پھر لوگوں سے ملنے کے لئے بیٹھ جاتے۔ جب آپ نے یہ کیا تو پیچھے رہے ہوئے لوگ آپ کے پاس آگئے اور لگے آپ سے معذرتیں کرنے اور قسمیں کھانے اور ایسے لوگ اسی سے کچھ اوپر تھے۔ رسول اللہ
ﷺ
نے ان سے ان کے ظاہر عذر مان لئے اور ان سے بیعت لی اور ان کے لئے مغفرت کی دعا کی اور ان کا اندرونہ اللہ کے سپرد کیا۔ پھر میں آپ کے پاس آیا۔ جب میں نے آپؐ کو سلام کیا آپؐ نے ناراضگی والا تبسم فرمایا پھر فرمایا آؤ۔ میں آپ کے سامنے بیٹھ گیا۔ آپ نے مجھے پوچھا۔ کس بات نے تمہیں پیچھے رکھا؟ کیا تم نے سواری نہیں خریدی تھی؟ میں نے کہا ہاں ،میں اللہ کی قسم ایسا ہوں کہ اگر آپ کے سوا دنیا کے لوگوں میں سے کسی اور کے پاس بیٹھا ہوتا تو میں سمجھتا ہوں کہ میں ضرور ہی اس کی ناراضگی سے عذر کرکے بچ جاتا۔( مجھے خوش بیان دی گئی ہے)۔ مگر اللہ کی قسم میں خوب سمجھ چکا ہوں اگر میں نے آج آپ سے کوئی ایسی جھوٹی بات بیان کی جس سے آپ مجھ پر راضی ہوجائیں تو اللہ عنقریب مجھ پر آپ کو ناراض کردے گا اور اگر یہ آپ سے سچی بات بیان کروں گا جس کی وجہ سے آپ مجھ پر ناراض ہوں تو میں اس میں اللہ کے عفو کی امید رکھوں گا۔ نہیں اللہ کی قسم میرے لئے کوئی عذر نہیں تھا۔ اللہ کی قسم میں کبھی بھی ایسا تنو مند اور آسودہ حال نہیں ہوا جتنا کہ اس وقت تھا جب آپ سے پیچھے رہ گیا۔ رسول اللہ
ﷺ
نے یہ سن کر فرمایا اس نے تو سچ بیان کردیا ہے۔ اٹھو جاؤ۔ یہاں تک کہ اللہ تمہارے متعلق کوئی فیصلہ کرے۔ میں اٹھ کر چلا گیا اور بنو سلمہ میں سے بعض لوگ بھی اٹھ کر میرے پیچھے ہولئے۔ انہوں نے مجھے کہا اللہ کی قسم ہمیں علم نہیں کہ تم نے اس سے پہلے کوئی قصور کیا ہو اور تم یہ بھی نہ کرسکے کہ رسول اللہ
ﷺ
کے پاس کوئی بہانہ ہی بناتے۔ جب کہ ان پیچھے رہنے والوں نے آپ کے سامنے بنائے۔ رسول اللہ
ﷺ
کا تمہارے لئے مغفرت کی دعا کردینا ہی تمہارے اس گناہ بخشانے کے لئے کافی تھا۔ اللہ کی قسم یہ لوگ مجھے ملامت ہی کرتے رہے۔ یہاں تک کہ میں نے بھی ارادہ کرلیا کہ لوٹ جاؤں اور اپنے آپ کو جھٹلا دوں۔ پھر میں نے ان سے پوچھا۔ کیا کوئی میرے ساتھ اور بھی ہے جس نے آپ سے اس قسم کا اقرار کیا ہو؟ انہوں نے کہا ہاں۔ دو اور شخص ہیں۔ انہوں نے بھی وہی کیا ہے جو تم نے کیا ہے اور ان کو بھی وہی جواب ملا ہے جو تمہیں دیا گیا ہے۔ میں نے کہا وہ کون ہیں؟ کہنے لگے۔ مرارہ بن ربیع اور ہلال بن امیہ واقفی۔ انہوں نے مجھ سے ایسے نیک آدمیوں کا ذکر کیا جو بدر میں شامل ہوئے تھے۔ وہ دونوں ( میرے لئے ) اسوہ تھے۔ تو میں چلا گیا اور رسول اللہ
ﷺ
نے مسلمانوں کو ہم سے بات چیت کرنے سے منع کردیا۔ یعنی ان میں سے جو ان لوگوں میں سے تھے جو آپ سے پیچھے رہ گئے تھے لوگ کترانے لگے۔ گویا کہ ہم سے بالکل نا آشنا ہیں۔ یہاں تک کہ یہ زمین بھی مجھے اوپری نظر آنے لگی۔ وہ نہ تھی جس کو میں جانتا تھا۔ ہم اس حالت پر پچاس راتیں رہے۔ میرے جو ساتھی تھے وہ تو رہ گئے اور اپنے گھروں میں بیٹھ کر رونے لگے اور میں ان لوگوں میں سے زیادہ جوان تھا اور ان لوگوں سے مصیبت کو زیادہ برداشت کرنے والا تھا۔ میں گھر سے نکلتا اور مسلمانوں کے ساتھ نمازوں میں شریک ہوتا اور بازاروں میں پھرتا۔ مگر مجھ سے کوئی بات نہ کرتا اور رسول اللہ
ﷺ
کے پاس بھی جاتا۔ آپ کو السلام علیکم کہتا۔ جب کہ آپ نماز کے بعد اپنی جگہ بیٹھے ہوتے اور اپنے دل میں کہتا۔ کیا آپ نے مجھے سلام کا جواب دینے میں اپنے ہونٹ ہلائے یا نہیں؟ اور آپ کے قریب ہوکر نماز پڑھتا اور نظر چرا کر آپ کو دیکھتا۔ یہاں تک کہ لوگوں کی یہ درشتی مجھ پر لمبی ہو گئی۔ تو میں چلا گیا اور ابوقتادہ کے باغ کی دیوار پر چڑھ گیا۔ یہ میرے چچا کے بیٹے تھے اور مجھے تمام لوگوں سے زیادہ پیارے تھے۔ میں نے ان کو السلام علیکم کہا اللہ کی قسم انہوں نے سلام کا جواب تک نہ دیا۔ میں نے کہا ابوقتادہ میں تم سے اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں۔ کیا تم جانتے ہو کہ میں اللہ اور اس کے رسول سے محبت رکھتا ہوں ؟ وہ خاموش رہے۔ پھر ان سے پوچھا او ران کو قسم دی اور انہوں نے کہا اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں۔ یہ سن کر میری آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے۔ میں پیٹھ موڑ کر دیوار پھاند ی ( اور وہاں سے چلا آیا)۔ کعب کہتے تھے اس اثناء میں کہ میں مدینہ کے بازار میں چلا جارہا تھا کیا دیکھتا ہوں کہ اہل شام کے قبطیوں سے ایک قبطی ان لوگوں میں سے ہے جو مدینہ میں غلہ لے کر بیچنے کے لئے آئے تھے وہ کہہ رہا ہے کعب بن مالک کا کون بتائے گا؟ یہ سن کر لوگ اس کو اشارہ سے بتانے لگے۔ جب وہ میرے پاس آیا تو اس نے غسّان کے بادشاہ کی طرف سے ایک خط مجھے دیا۔ اس میں یہ مضمون تھا۔ اما بعد مجھے یہ خبر پہنچی ہے کہ تمہارے ساتھی نے تمہارے ساتھ سختی کا معاملہ کرکے تمہیں الگ تھلگ چھوڑ دیا ہے اور تمہیں تو اللہ نے کسی ایسے گھر میں پیدا نہیں کیا تھا جہاں ذلت ہو اور تمہیں ضائع کردیا جائے۔ تم ہم سے آکر ملو۔ ہم تمہاری خاطر مدارت کریں گے۔ جب میں نے یہ خط پڑھا میں نے کہا یہ بھی مصیبتوں کی ایک مصیبت ہے۔ میں نے وہ خط لے کر تنور کی طرف گیا اور اس میں جھونک دیا۔ جب پچاس راتوں میں سے چالیس راتیں گزریں کیا دیکھتا ہوں کہ رسول اللہ
ﷺ
کا پیغام لانے والا میرے پاس آرہا ہے۔ اس نے کہا رسول اللہ
ﷺ
تم سے فرماتے ہیں کہ اپنی بیوی سے الگ ہوجاؤ۔ میں نے پوچھا۔ کیا میں اسے طلاق دے دوں یا کیا کروں؟ اس نے کہا اس سے الگ رہو اور اس کے قریب نہ جاؤ۔ آپ نے میرے دونوں ساتھیوں کو بھی ایسا ہی کہلا بھیجا۔ میں نے اپنی بیوی سے کہا اپنے گھر والوں کے پاس چلی جاؤ اور اس وقت تک انہیں کے پاس رہنا کہ اللہ اس معاملہ میں کوئی فیصلہ کرے۔ کعب کہتے تھے۔ پھر ہلال بن امیہ کی بیوی رسول اللہ
ﷺ
کے پاس آئی اور کہنے لگی۔ یا رسول اللہ ! ہلال بن امیہ بہت بوڑھا ہے۔ اس کا کوئی نوکر نہیں۔ کیا آپ ناپسند فرمائیں گے اگر میں اس کی خدمت کروں؟ آپ نے فرمایا نہیں۔ لیکن تمہارے قریب نہ ہو۔ کہنے لگی۔ اللہ کی قسم اس کو تو کسی بات کی تحریک نہیں ہوتی۔ اللہ کی قسم وہ اس دن سے آج تک رو رہا ہے جب سے اس کے ساتھ یہ معاملہ ہوا ہے۔ میرے بعض رشتہ داروں نے مجھ سے کہا اگر تم بھی رسول اللہ
ﷺ
سے اپنی بیوی کے متعلق ویسے ہی اجازت لے لو جب کہ آپ نے ہلال بن امیہ کو اس کی خدمت کرنے کی اجازت دی ہے۔ میں نے کہا اللہ کی قسم میں تو رسول اللہ
ﷺ
سے کبھی اس بارے میں اجازت نہ لوں اور مجھے کیا معلوم رسول اللہ
ﷺ
مجھے کیا جواب دیں اور میں جوان آدمی ہوں۔ اس کے بعد میں رات اور ٹھہرا رہا۔ یہاں تک کہ ہمارے لئے پچاس راتیں اس وقت سے پوری ہوئیں کہ جب رسول اللہ
ﷺ
نے ہمارے ساتھ بات چیت کرنے سے منع کیا تھا۔ جب پچاس رات کی صبح کو نماز فجر پڑھ چکا اور میں اس وقت اپنے گھروں میں سے ایک گھر کی چھت پر تھا ور اسی حالت میں بیٹھا ہوا تھا جس کا اللہ نے ذکر کیا ہے یعنی مجھ پر میری جان تنگ ہوچکی تھی اور مجھ پر زمین بھی باوجود کشادہ ہونے کے تنگ ہوگئی تھی۔ اس اثناء میں ایک پکارنے والے کی آواز سنی جو سلع پہاڑ پر چڑھ کر بلند آواز سے پکار رہا تھا۔ اے کعب بن مالک تمہیں بشارت ہو۔ میں یہ سن کر سجدہ میں گر پڑا اور سمجھ گیا کہ مصیبت دور ہوگئی اور رسول اللہ نے جب آپ فجر کی نماز پڑھ چکے اعلان فرمایا کہ اللہ نے مہربانی کرکے ہماری غلطی کو معاف کردیا ہے۔ یہ سن کر لوگ مجھے خوشخبری دینے لگے اور میرے ساتھیوں کی طرف بھی خوشخبری دینے والے گئے اور ایک شخص میرے پاس گھوڑا بھگائے ہوئے آیا اور اسلم قبیلہ کا ایک شخص دوڑاآیا اور پہاڑ پر چڑھ گیا اور اس کی آواز گھوڑے سے زیادہ جلدی پہنچنے والی تھی۔ جب وہ شخص میرے پاس بشارت دینے آیا جس کی آواز میں نے سنی تھی میں نے اس کے لئے اپنے دونوں کپڑے اتارے اور اس کو پہنائے۔ اس لئے کہ اس نے مجھے بشارت دی تھی اور اللہ کی قسم اس وقت ان کے سوا میرے پاس اور کچھ نہ تھا اور میں نے دواور کپڑے عاریتا لئے اور انہیں پہنا اور رسول اللہ
ﷺ
کے پاس چلا گیا اور لوگ مجھے فوج در فوج ملتے اور توبہ کی قبولیت کی وجہ سے مجھے مبارک دیتے تھے۔ کہتے تھے۔ تمہیں مبارک ہو۔ جو اللہ نے تم پر رحم کرکے توبہ قبول کی ہے۔ کعب کہتے تھے۔ آخر میں مسجد میں پہنچا۔ کیا دیکھتا ہوں رسول اللہ
ﷺ
مسجد میں بیٹھے ہیں۔ آپ کے ارد گرد لوگ ہیں۔ طلحہ بن عبداللہ مجھے دیکھ کر میرے پاس دوڑے آئے اور مجھ سے مصافحہ کیا اور مبارک دی۔ مہاجرین میں سے ان کے سوا بخدا کوئی شخص بھی میرے پاس اٹھ کر نہیں آیا اور طلحہ کی یہ بات میں کبھی بھی نہیں بھولوں گا اور کعب کہتے تھے۔ جب میں نے رسول اللہ
ﷺ
کو السلام علیکم کہا تو رسول اللہ
ﷺ
نے فرمایا اور آپ کا چہرہ خوشی سے چمک رہا تھا۔ تمہیں بشارت ہو۔ نہایت ہی اچھے دن کی ان دنوں میں سے جب سے تمہاری ماں نے تمہیں جنا تم پر گزرے ہیں۔ کہتے تھے میں نے پوچھا۔ یا رسول اللہ ! کیا یہ بشارت آپ کی طرف سے ہے یا اللہ کی طرف سے۔ آپ نے فرمایا نہیں بلکہ اللہ کی طرف سے۔ رسول اللہ
ﷺ
جب خوش ہوتے تو آپ کا چہرہ ایسا روشن ہوجاتا کہ گویا وہ چاند کا ٹکڑا ہے اور ہم اس سے آپ کی خوشی پہچان لیا کرتے تھے۔ جب میں آپ کے سامنے بیٹھ گیا۔ میں نے کہا یا رسول اللہ ! میں اس توبہ کے قبول ہونے کے عوض اپنی جائیداد سے دست بردار ہوتا ہوں جو رسول اللہ
ﷺ
کی خاطر صدقہ ہوگی۔ رسول اللہ
ﷺ
نے فرمایا اپنی جائیداد میں سے کچھ اپنے لئے بھی رکھو۔ کیونکہ یہ تمہارے لئے بہتر ہے۔ میں نے کہا اپنا وہ حصہ رکھ لیتا ہوں جو خیبر میں ہے۔ میں نے کہا یا رسول اللہ ! اللہ نے مجھے صدقہ کی وجہ سے نجات دی اور میری توبہ میں سے یہ بھی ہے کہ میں ہمیشہ سچ ہی بولا کروں گا۔ جب تک کہ میں زندہ رہوں گا۔ کیونکہ اللہ کی قسم میں مسلمانوں میں سے کسی کو نہیں جانتا کہ اللہ نے اس کو سچی بات کہنے کی وجہ سے اس خوبی کے ساتھ آزمایا ہو۔ جس خوبی سے میری آزمائش کی ہے۔ اس وقت سے کہ میں نے رسول اللہ
ﷺ
سے اصل واقعہ بیان کیا میں نے آج تک عمدا جھوٹ نہیں بولا اور میں امید رکھتا ہوں کہ اللہ آئندہ بھی جب تک زندہ ہوں مجھے محفوظ رکھے گا اور اللہ نے اپنے رسول اللہ
۔ اللہ کی قسم کہ اس کے بعد اللہ نے مجھے اسلام کی ہدایت دی۔ کبھی بھی اس نے کوئی انعام میرے نزدیک اس سے بڑھ کر نہیں کیا کہ میں نے رسول اللہ
ﷺ
سے سچ سچ بیان کردیا۔ شکر ہے کہ میں نے آپ سے جھوٹ نہیں بولا۔ ورنہ میں ہلاک ہوجاتا جب کہ وہ لوگ ہلاک ہوگئے جنہوں نے جھوٹ بولا تھا۔ نہایت ہی نفرت آمیز الفاظ استعمال کئے ہیں۔ جو اس نے کسی کے لئے استعمال کئے ہوں۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا
۔ یعنی اللہ ان بدعہد لوگوں سے کبھی خوش نہیں ہوگا اور کہتے تھے اور ہم تینوں کا فیصلہ ان لوگوں کے فیصلے سے پیچھے رکھا گیا۔ جن سے رسول اللہ
ﷺ
نے عذر قبول کیا تھا اور ان سے بیعت لی اور ان کے لئے مغفرت کی دعا کی تھی اور رسول اللہ
ﷺ
نے ہمارے فیصلہ کو ملتوی کردیا۔ یہاں تک کہ اللہ نے اس کے متعلق فیصلہ فرمایا سو وہ یہی بات ہے کہ اللہ نے فرمایا ہے
وَعَلَى الثَّلَاثَةِ الَّذِينَ خُلِّفُوا
اور جب پیچھے رکھے جانے کا اللہ نے (اس میں) ذکر کیا ہے۔ وہ غزوہ سے ہمارے پیچھے رہنا نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کا فیصلہ ہی ہمیں ان لوگوں سے پیچھے رکھنا ہے کہ جنہوں نے رسول اللہ
ﷺ
کے پاس قسمیں کھائی تھیں اور آپ کے پاس معذرتیں کی تھیں اور آپ نے ان کی معذرت قبول کرلی تھی۔