بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 5 of 15 hadith
حضرت جابرؓ بن عبداللہؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا جو گھاٹی پر چڑھے گا _ مُرار کی گھاٹی پر_ اس کے گناہ معاف ہو جائیں گے جس طرح بنی اسرائیل سے معاف ہوئے تھے۔ راوی کہتے ہیں اس پر سب سے پہلے ہمارے گھوڑے یعنی بنو خزرج کے گھوڑے چڑھے۔ پھر تمام لوگ آگئے۔ اس پر رسول اللہﷺ نے فرمایا تم میں سے ہر ایک بخشا جائے گا۔ سوائے سُرخ اونٹ والے کے۔ ہم اس کے پاس آئے اور اس سے کہا آؤکہ رسول اللہﷺ تیرے لئے مغفرت طلب کریں؟ اس نے کہا اللہ کی قسم میں اپنی گمشدہ اونٹنی پالوں تو یہ مجھے زیادہ پسند ہے اس سے کہ تمہارا ساتھی میرے لئے بخشش طلب کرے۔ راوی کہتے ہیں یہ شخص اپنی گمشدہ اونٹنی کا اعلان کر رہا تھا۔ ایک روایت میں (مَنْ یَصْعَدُ الثَّنِیَّۃَ ثَنِیَّۃَ الْمُرَارِ کی بجائے) مَنْ یَصْعَدُ ثَنِیَّۃَ الْمُرَارِ اَوِ الْمَرَارِکے الفاظ ہیں اور اس روایت میں یہ بھی ہے کہ دیکھو ایک بدّو تھا جو اپنی گمشدہ اونٹنی کا اعلان کررہا تھا۔
حضرت انسؓ بن مالک بیان کرتے ہیں کہ ہم میں ایک شخص بنو نجار میں سے تھا۔ جس نے سورۃ البقرۃ اور آل عمران پڑھی ہوئی تھی۔ وہ رسول اللہﷺ کا کاتب تھا۔ پھر وہ بھاگ گیا اور اہلِ کتاب سے جاملا۔ راوی کہتے ہیں انہوں نے اس سے عزت و احترام کا سلوک کیا اور کہنے لگے یہ محمد(ﷺ ) کا کاتب تھا۔ وہ اسے پاکر بہت خوش تھے۔ جبکہ وہ انہیں کے پاس تھا اللہ نے اس کی گردن توڑدی۔ انہوں نے اس کے لئے گڑھا کھودا اور اسے دفن کر دیالیکن زمین نے اسے نکال کر(زمین کی) سطح پر پھینک دیا۔ انہوں نے (دوبارہ) اس کے لئے گڑھا کھودا اور اُسے دفن کیا تو زمین نے اسے پھر باہر پھینک دیا۔ انہوں نے اس کے لئے پھرگڑھا کھودا اور اُسے دفن کیا۔ زمین نے اسے پھر نکال کر باہر پھینک دیا۔ پھر انہوں نے اسے یونہی پڑا رہنے دیا۔
حضرت جابرؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ ایک سفر سے تشریف لائے۔ جب آپؐ مدینہ کے قریب تھے تو شدید آندھی چلی۔ قریب تھا کہ وہ سوار کو دفن کردے۔ راوی کا گمان ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا یہ آندھی کسی منافق کی موت کے لئے بھیجی گئی ہے۔ جب آپؐ مدینہ پہنچے تو منافقوں میں سے ایک بڑا سردار مر چکا تھا۔
ایاس کہتے ہیں میرے والدنے بتایا کہ ہم رسول اللہﷺ کے ساتھ ایک شخص کی عیادت کرنے گئے جسے بخار تھا۔ وہ کہتے ہیں میں نے اپنا ہاتھ اس پر رکھا اور کہا اللہ کی قسم! میں نے آج کے دن تک کسی شخص کو اتنا زیادہ گرم نہیں دیکھا تھا۔ اس پر نبیﷺ نے فرمایا کیا میں تمہیں اس شخص کے بارہ میں نہ بتاؤں جس کاجسم قیامت کے دن اس سے بھی زیادہ گرم ہوگا۔ یہ دو سوار شخص جو اپنی گردن موڑے جا رہے ہیں۔ آپؐ نے اپنے ساتھیوں میں سے دو مَردوں کی طرف اشارہ کیا۔
حضرت ابن عمرؓ سے روایت ہے کہ نبیﷺ نے فرمایا منافق کی مثال اس بکری کی طرح ہے جو دوریوڑوں کے درمیان پریشان ہے کبھی اس کی طرف جاتی ہے کبھی اس کی طرف۔ ایک روایت میں (تَعِیْرُ اِلَی ہٰذِہِ مَرَّۃً وَ اِلَی ہٰذِہِ مَرَّۃًکی بجائے) تَکِرُّ فِیْ ہٰذِہِ مَرَّۃً وَفِیْ ہٰذِہِ مَرَّۃً کے الفاظ ہیں۔