بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 15 hadith
حضرت زید بن ارقمؓ بیان کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہﷺ کے ساتھ ایک سفر میں نکلے جس میں لوگوں کو سخت تکلیف پہنچی۔ اس پر عبد اللہ بن اُبیّ نے اپنے ساتھیوں سے کہا جسے قرآن کریم نے ان لفظوں سے بیان کیا۔ لاَ تُنْفِقوُا عَلیٰ مَنْ عِنْدَ رَسُوْلِ اللَّہِ۔ جو لوگ اللہ کے رسول کے پاس رہتے ہیں اُن پر خرچ نہ کرو یہانتک کہ وہ بھاگ جائیں _(راوی) زہیر کہتے ہیں یہ قراءت اس شخص کی ہے جو ’’حَولَہُ‘‘ کو مجرور پڑھتے ہیں _ اور اس (عبداللہ بن ابی) نے کہا تھا لَئِنْ رَّجَعْنَا اِلَی الْمَدِیْنَۃِ۔ ۔ ۔ 2 اگر ہم مدینہ کی طرف لوٹیں گے تو ضرور وہ جو سب سے زیادہ معزز ہے اسے جو سب سے زیادہ ذلیل ہے اس میں سے نکال باہر کرے گا۔ راوی کہتے ہیں میں نبیﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور یہ بات بتائی تو آپؐ نے عبداللہ بن اُبی کو بلایا اور اس سے پوچھا اس نے پختہ قسم کھائی کہ اس نے ایسا نہیں کیا اور کہا کہ زیدؓ نے رسول اللہﷺ سے جھوٹ بولا ہے۔ وہ (حضرت زیدؓ ) کہتے ہیں لوگوں کی ان باتوں سے میرے دل کو بہت رنج پہنچا یہانتک کہ اللہ تعالیٰ نے میری تصدیق میں یہ آیت نازل فرمائی۔ اِذَا جَا ئَ کَ المُنَافِقُون جب منافق تیرے پاس آتے ہیں وہ کہتے ہیں پھر ان (منافقین)کو نبیﷺ نے بلایا تاکہ ان کے لئے استغفار کریں۔ راوی کہتے ہیں انہوں نے اپنے سر پھیر لئے اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کَاَنَّھُمْ خُشُبٌ مُسَنَّدَۃٌ وہ ایسے ہیں جیسے ایک دوسرے کے سہارے چنی ہوئی خشک لکڑیا ں۔ راوی کہتے ہیں وہ لوگ (ظاہرًا)خوش شکل تھے۔
حضرت جابرؓ بیان کرتے ہیں کہ نبیﷺ عبداللہ بن ابی (بن سلول) کی قبر پر آئے اور اسے اس کی قبر سے نکالا اور اسے اپنے گھٹنوں پر رکھا اور اپنا لعاب اس کو لگایا اور اسے اپنی قمیص پہنائی۔ و اللہ اعلم۔ ایک روایت میں ہے کہ نبیﷺ عبداللہ بن ابی (کی قبر) کے پاس اس وقت آئے جب اسے قبر میں داخل کیا جاچکا تھا۔ باقی روایت سابقہ روایت کی طرح ہے۔
حضرت ابن عمرؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں جب عبداللہ بن ابی بن سلول کی وفات ہوئی تو اس کا بیٹا عبداللہ بن عبداللہ رسول اللہﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپؐ سے آپؐ کا قمیص اپنے باپ کو اس میں کفنانے کے لئے مانگا۔ آپؐ نے انہیں وہ (قمیص) دے دیا۔ پھر انہوں نے اس کی نماز جنازہ پڑھانے کے لئے درخواست کی۔ رسول اللہﷺ اس کی نماز جنازہ پڑھانے کے لئے اٹھے تو حضرت عمرؓ کھڑے ہوگئے اور انہوں نے رسول اللہﷺ کو کپڑے سے پکڑ لیا اور عرض کیا یا رسولؐ اللہ!کیا آپؐ اس کی نماز جنازہ پڑھائیں گے حالانکہ اللہ تعالیٰ نے آپؐ کو اس کی نماز جنازہ پڑھانے سے منع فرمایا ہے۔ اس پر رسول اللہﷺ نے فرمایا مجھے اللہ تعالیٰ نے اختیار دیا ہے اور فرمایا ہے کہ اِ سْتَغْفِرْلَھُمْ اَوْ لاَ تَسْتَغْفِرْ لَھُمْ۔ ۔ ۔ ’’تو اُن کے لئے مغفرت طلب کر یا ان کے لئے مغفرت نہ طلب کر‘‘۔ اگر تو ان کے لئے ستر مرتبہ بھی مغفرت مانگے۔‘‘1 اور میں اس کے لئے ستر سے زیادہ مرتبہ مغفرت طلب کروں گا۔ انہوں (حضرت عمرؓ ) نے عرض کیا یقینا وہ منافق ہے۔ پھر رسول اللہﷺ نے اس کی نماز جنازہ پڑھائی تب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی وَلَا تُصَلِّ عَلٰی اَحَدٍ مِنْھُمْ مَاتَ اَبَدًا اور تو اُن میں سے کسی مرنے والے پر کبھی (جنازہ کی) نماز نہ پڑھ اور کبھی اس کی قبر پر (دعا کے لئے) کھڑا نہ ہو۔ ایک روایت میں مزید ہے کہ آپؐ نے اُن (منافقین) کی نماز جنازہ پڑھانی چھوڑ دی۔
حضرت ابن مسعودؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں بیت اللہ کے پاس تین آدمی اکٹھے ہوئے دو قریشی تھے اور ایک ثقفی یا دو ثقفی تھے اور ایک قریشی ان کے دلوں کی سمجھ کم اور ان کے پیٹوں کی چربی زیادہ تھی ان میں سے ایک نے کہا تمہا را کیا خیال ہے کہ ہم جو کچھ کہتے ہیں اللہ سنتا ہے اور دوسرے نے کہا اگر ہم اونچی آواز سے بولیں تو وہ سنتا ہے اور اگر ہم آہستہ بولیں تو وہ نہیں سنتا اور (تیسرے) نے کہا اگر وہ ہمارے اونچا بولنے پر سنتا ہے تو آہستہ بولنے پر بھی سنتا ہے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی وَمَا کُنْتُمْ تَسْتَتِرُوْنَ اَنْ یَشْھَدَ عَلَیکُمْ۔ ۔ ۔ اور تم اس سے چھپ نہیں سکتے کہ تمہارے خلاف تمہاری سماعت گواہی دے اور نہ تمہاری نظریں گواہی دیں اور نہ تمہاری جلدیں۔
حضرت زید بن ثابتؓ سے روایت ہے کہ نبیﷺ احد کی طرف نکلے توجو آپؐ کے ساتھ تھے ان میں سے کچھ لوگ واپس آگئے ان کے بارہ میں نبیﷺ کے صحابہؓ میں دو گروہ تھے ان میں سے بعض نے کہا کہ ہم انہیں قتل کریں گے اور بعض نے کہا کہ نہیں اس پر یہ آیت اُتری فَمَا لَکُمْ فیِ الْمُنَافِقیِنَ فِئَتَینِ 2 پس تمہیں کیا ہوا ہے کہ منافقوں کے بارہ میں دو گروہوں میں بٹے ہوئے ہو۔
حضرت ابو سعید خدریؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ کے زمانہ میں منافقین میں سے کچھ لوگ ایسے تھے کہ جب نبیﷺ کسی غزوہ کے لئے تشریف لے جاتے تو وہ آپؐ سے پیچھے رہ جاتے اور رسول اللہﷺ کے پیچھے بیٹھے رہنے پر خوش ہوتے جب نبیﷺ تشریف لاتے تو آپ کے پاس آکر عذر کرتے اور قسمیں کھاتے اور وہ پسند کرتے تھے کہ جوکام انہوں نے کیا نہیں اس پر ان کی تعریف کی جائے اس پر یہ آیت نازل ہوئی وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذیِنَ یَفْرَحُونَ بِمَا اَتَوْا۔ ٭ تو ان لوگوں کے متعلق جو اپنی کارستانیوں پر خوش ہورہے ہیں اور پسند کرتے ہیں کہ ان کی ان کاموں میں بھی تعریف کی جائے جو انہوں نے نہیں کئے (ہاں ) ہر گز ان کے متعلق گمان نہ کر کہ وہ عذاب سے بچ سکیں گے۔
حُمید بن عبدالرحمن بن عوف نے بیان کیا کہ مروان نے اپنے دربان سے کہا اے رافع! حضرت ابن عباسؓ کے پاس جاؤ اور کہو اگر ہم میں سے ہر شخص اپنے کئے پر خوش ہوتا ہے اور پسند کرتا ہے کہ جو اس نے نہیں کیا اس پر بھی اس کی تعریف ہو اُسے عذاب دیا جائے گا۔ پھر تو ہم سب کو عذاب دیا جائے گا۔ حضرت ابن عباسؓ نے جواب دیا تمہارا اس آیت سے کیا تعلق ہے؟ یہ آیت تو صرف اہل کتاب کے بارہ میں نازل ہوئی ہے۔ پھر حضرت ابن عباسؓ نے یہ آیت تلاوت فرمائی۔ وَإِذْ أَخَذَ اللَّہُ مِیْثَاقَ الَّذِیْنَ أُوتُوْا الْکِتَابَ۔ ۔ ۔ ترجمہ: اور جب اللہ نے ان لوگوں کا میثاق لیا جنہیں کتاب دی گئی کہ تم لوگوں کی بھلائی کے لئے اس کو کھول کھول کر بیان کرو گے اور اسے چھپاؤ گے نہیں۔ پھر انہوں نے اس (میثاق) کو اپنے پسِ پُشت پھینک دیا اور اس کے بدلے معمولی قیمت وصول کر لی۔ پس بہت ہی بُرا ہے جو وہ خرید رہے ہیں اور حضرت ابن عباسؓ نے یہ آیت بھی تلاوت فرمائی وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذیِنَ یَفْرَحُونَ۔ ۔ ۔ 2ترجمہ: تو ان لوگوں کے متعلق جو اپنی کارستانیوں پر خوش ہورہے ہیں اور پسند کرتے ہیں کہ ان کی ان کاموں میں بھی تعریف کی جائے جو انہوں نے نہیں کئے۔ (ہاں ) ہر گز ان کے متعلق گمان نہ کر کہ وہ عذاب سے بچ سکیں گے اور حضرت ابن عباسؓ نے کہا: نبیﷺ نے اُن (اہلِ کتاب) سے ایک بات پوچھی مگر انہوں نے آپؐ سے وہ چھپائی اور کوئی اور ہی بات بتادی۔ پھر وہ اس طرح باہر نکلے آپؐ پر ظاہر کرتے ہوئے کہ انہوں نے وہ بات آپؐ کو بتا دی ہے جو آپؐ نے اُن سے پوچھی تھی اور اس پر وہ آپؐ سے چاہتے تھے کہ اُن کی تعریف ہواور اپنی اس کرتوت پر خوش ہوئے کہ انہوں نے آپؐ سے وہ بات چھپائی جو آپؐ نے اُن سے پوچھی تھی۔
قیس سے روایت ہے وہ کہتے ہیں میں نے حضرت عمارؓ سے کہا آپؓ کا وہ فعل جو حضرت علیؓ کے معاملہ میں کیا ہے، کیا یہ آپؓ کی اپنی رائے ہے یا کوئی ایسی چیز ہے جس کا رسول اللہﷺ نے آپؐ سے کوئی عہد لیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ہم سے رسول اللہﷺ نے کوئی ایسا عہدنہیں لیا تھا جو دوسرے لوگوں سے نہ لیا ہولیکن حضرت حذیفہؓ نے نبیﷺ کی طرف سے ہمیں بتایا کہ نبیﷺ نے فرمایا کہ میرے ’’صحابہ‘‘ میں بارہ منافق ہیں۔ اُن میں سے آٹھ لَا یَدْخُلُوْنَ الْجَنَّۃَ حَتَّی یَلِجَ الْجَمَلُ فِیْ سَمِّ الْخِیَاطِجنت میں داخل نہیں ہوں گے یہانتک کہ اونٹ سوئی کے ناکہ میں سے داخل ہو٭۔ اُن میں سے آٹھ کے (شر) کے خلاف تو تمہیں (اُن کے)پیٹ کا پھوڑا ہی کافی ہوگااور(ایک راوی کہتے ہیں ) چار کے بارہ میں یادنہیں کہ راوی شعبہ نے اُن کے بارہ میں کیا بتایا۔
قیس بن عُباد سے روایت ہے وہ کہتے ہیں ہم نے حضرت عمارؓ سے کہا بتائیے آپؓ کا جنگ کرنا کیا یہ آپؓ کی اپنی رائے ہے _کیونکہ رائے کبھی غلط ہوتی ہے اور کبھی صحیح_ یا کوئی ایسا عہد ہے جو رسول اللہﷺ نے آپؓ سے لیا تھا؟اس پر انہوں نے کہا رسول اللہﷺ نے ہم سے کوئی عہد ایسا نہیں لیا جو باقی تمام لوگوں سے نہ لیا ہو اور کہنے لگے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا تھامیری اُمت میں بارہ منافق ہیں جو جنت میں داخل نہیں ہوں گے اور نہ اس کی خوشبو سونگھیں گے حَتَّی یَلِجَ الْجَمَلُ فِیْ سَمِّ الْخِیَاطِیہاں تک کہ اونٹ سوئی کے ناکہ میں سے داخل ہوجائے٭۔ ان میں سے آٹھ کے (شر) کے خلاف تمہیں دُبَیْلَۃ ہی کافی ہے اور یہ آگ کا شعلہ ہے جو اُن کے کندھوں میں سے ظاہر ہوگا اور سینوں میں سے نمودار ہو گا۔
حضرت ابو طفیلؓ بیان کرتے ہیں کہ اہل عقبہ میں سے ایک شخص اور حضرت حذیفہؓ کے درمیان کوئی معاملہ تھا جیسا کہ لوگوں کے درمیان ہو جایا کرتا ہے۔ اس نے کہا میں آپ کو اللہ کی قسم دیتا ہوں (بتائیں ) کہ عقبہ والے٭ کتنے تھے؟راوی کہتے ہیں لوگوں نے ان سے کہا جب اس نے آپؓ سے پوچھا ہے تو آپؓ اسے بتائیں۔ تو وہ کہنے لگے ہمیں بتایا جاتا تھا کہ وہ چودہ تھے اور اگر تم بھی ان میں سے ہو تو پھر وہ پندرہ ہوئے اور میں اللہ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ ان میں سے بارہ تو اس دنیوی زندگی میں اور جس دن گواہ اُٹھیں گے اللہ اور اُس کے رسولﷺ کے لئے مجسم جنگ ہیں اور ان تین کو معذور قرار دیا جنہوں نے کہا تھا ہم نے رسول اللہﷺ کے منادی کی آواز نہیں سُنی اور نہ ہی ہمیں علم تھا کہ ان لوگوں کا کیا ارادہ ہے۔ (یہ اس وقت کی بات ہے) جب وہ حرّہ میں تھے وہ چلے اور کہا پانی تھوڑا ہے۔ کوئی مجھ سے پہلے نہ جائے۔ انہوں نے کچھ لوگوں کو پایا، وہ اُن سے پہلے چلے گئے تھے۔ ان کو بُرا بھلا کہا۔