بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 8 of 78 hadith
حضرت انس بن مالکؓ بیان کرتے ہیں کہ ہم مکہ اور مدینہ کے درمیان حضرت عمرؓ کے ساتھ تھے۔ ہم پہلی رات کا چاند دیکھنے لگے اور میری نظر تیز تھی میں نے اسے دیکھ لیا اور میرے علاوہ کسی اور نے نہیں کہا کہ اُس نے بھی دیکھا ہے۔ میں حضرت عمرؓ سے کہنے لگا کیا آپؓ نہیں دیکھ رہے _وہ اسے دیکھ نہیں پائے تھے_ راوی کہتے ہیں حضرت عمرؓ نے کہا میں اسے دیکھ لوں گا اور میں اپنے بستر پر لیٹا ہوا ہوں گا۔ پھر انہوں نے ہمیں بدر (میں ہلاک ہونے) والوں کے متعلق بتانا شروع کیا اور کہا رسول اللہﷺ نے ہمیں (جنگ سے) ایک دن قبل بدر (میں قتل ہونے) والوں کے گرنے کی جگہیں دکھائیں۔ آپؐ فرماتے تھے کل انشاء اللہ یہ فلاں کے گرنے کی جگہ ہوگی۔ راوی کہتے ہیں حضرت عمرؓ نے کہا اس ذات کی قسم جس نے آپؐ کو حق کے ساتھ بھیجا وہ (گرنے والے) رسول اللہﷺ کی بتائی ہوئی جگہوں سے ادھر اُدھر نہیں ہوئے۔ راوی کہتے ہیں پھر وہ سب ایک دوسرے کے اوپر ایک گڑھے میں ڈالے گئے۔ پھر رسول اللہﷺ چلے یہاں تک کہ ان کے پاس پہنچے اور فرمایا اے فلاں بن فلاں اور اے فلاں بن فلاں کیا تم نے اس وعدہ کو جو اللہ اور اس کے رسولؐ نے تم سے کیا تھا سچا پالیا؟ یقینًا میں نے تو جو مجھ سے اللہ نے وعدہ کیا تھا سچا پایا۔ حضرت عمرؓ نے عرض کیا یارسولؐ اللہ! آپؐ کیسے ان جسموں سے گفتگو کرتے ہیں جن میں روحیں نہیں ہیں۔ آپؐ نے فرمایا جو میں ان سے کہہ رہا ہوں تم ان سے زیادہ نہیں سنتے سوائے اس کے کہ وہ جواب دینے کی طاقت نہیں رکھتے۔
حضرت انس بن مالکؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے بدر کے مقتولوں کو تین دن رہنے دیا۔ پھر آپؐ ان کے پاس آئے اور ان کے قریب کھڑے ہوئے اور انہیں پکار کر کہا اے ابو جہل بن ہشام، اے امیہ بن خلف، اے عتبہ بن ربیعہ، اے شیبہ بن ربیعہ کیا تم نے اس وعدے کو سچا نہیں پایا جو تمہارے ربّ نے (تم سے) کیا تھا؟ میرے ساتھ میرے رب نے جو وعدہ کیا تھا میں نے تو اسے سچا پایا ہے۔ حضرت عمرؓ نے نبیﷺ کی یہ بات سنی تو کہا یا رسولؐ اللہ! وہ کیسے سنیں اور کیونکر جواب دیں؟ وہ تو مردہ ہیں۔ آپؐ نے فرمایا اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے تم لوگ میری بات کو ان سے زیادہ نہیں سن رہے لیکن وہ جواب دینے کی طاقت نہیں رکھتے۔ پھر آپؐ نے ان کے بارہ میں ارشاد فرمایا تو انہیں گھسیٹ کر بدر کے ایک گڑھے میں ڈال دیا گیا۔ قتادہ کہتے ہیں کہ ہمیں حضرت انس بن مالکؓ نے بتایا کہ حضرت ابو طلحہؓ نے بیان کیا کہ جب بدر کا دن تھا اور نبیﷺ ان پر غالب آئے تو آپؐ نے بیس سے کچھ اوپر آدمیوں کے بارہ میں حکم دیا _ اور رَوح کی روایت میں ہے چوبیس قریش کے سرداروں کے بارہ میں _ تو وہ بدر کے (متروک) گڑھوں میں سے ایک گڑھے میں ڈال دئیے گئے۔ باقی روایت پہلی روایت کی طرح ہے۔
حضرت عائشہؓ بیان فرماتی ہیں رسول اللہﷺ نے فرمایا جس کا قیامت کے دن حساب لیا گیا اسے عذاب دیا گیا۔ میں نے عرض کیا اللہ عزّوجل نے نہیں فرمایا فَسَوْفَ یُحَاسَبُ حِسَابًا یَسِیْرًا ترجمہ: تو یقینا اُس کا آسان حساب لیا جائے گا۔ آپؐ نے فرمایا یہ حساب نہیں یہ تو محض پیشی ہے۔ جس سے قیامت کے دن کرید کر حساب لیا گیا وہ عذاب دیا گیا۔
حضرت عائشہؓ بیان فرماتی ہیں کہ نبیﷺ نے فرمایا جس کسی سے بھی حساب لیا جائے گا وہ ہلاک ہو جائے گا۔ میں نے عرض کیا یا رسولؐ اللہ ! کیا اللہ نے یہ نہیں فرمایا حِسَابًا یَسِیْرًا ترجمہ: آسان حساب۔۔۔ آپؐ نے فرمایا یہ پیشی ہے ہاں مگر جس سے کرید کر حساب لیا گیا وہ ہلاک ہو گیا۔ ایک روایت میں وَلَکِنْ کا لفظ نہیں ہے۔
حضرت جابرؓ بیان کرتے ہیں میں نے نبی ﷺ کو اپنی وفات سے تین دن پہلے فرماتے سنا تم میں سے کسی پر موت نہ آئے مگر اس حال میں کہ وہ اللہ پر حسن ظن رکھتا ہو۔
حضرت جابرؓ بن عبد اللہ انصاری بیان کرتے ہیں میں نے رسول اللہﷺ کو اپنی وفات سے تین دن پہلے فرماتے سنا تم میں سے کسی پر موت نہ آئے مگر اس حال میں کہ وہ اللہ عزّ وجل پر حسن ظن رکھتا ہو۔
حضرت جابرؓ بیان کرتے ہیں میں نے نبی ﷺ کو فرماتے سنا ہر بندہ جس (حال) پر مرا اسی پر اٹھایا جائے گا۔
حضرت عبد اللہ بن عمرؓ بیان کرتے ہیں میں نے رسول اللہﷺ کو فرماتے ہوئے سنا جب اللہ تعالیٰ کسی قوم کو عذاب دینے کا ارادہ کرتا ہے تو جو لوگ (بھی) ان میں ہوتے ہیں اُن کو عذاب پہنچتا ہے پھر وہ اپنے اعمال کے مطابق اٹھائے جاتے ہیں۔