بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 3 of 13 hadith
نبیﷺ کی زوجہ مطہرہ حضرت عائشہؓ سے روایت ہے وہ کہتی ہیں کہ جب آندھی چلتی تونبیﷺ کہتے اے اللہ! میں تجھ سے اس کی بھلائی چاہتا ہوں اور اس کی خیر جو اس میں ہے اور وہ خیر جس کے ساتھ یہ بھیجی گئی ہے اور میں تجھ سے اس کے شرّ سے پناہ چاہتا ہوں اور اس کے شر سے جو اس میں ہے اور اس شر سے جس کے ساتھ یہ بھیجی گئی ہے۔ وہ فرماتی ہیں جب آسمان ابر آلود ہوتا تو آپؐ کا رنگ متغیر ہو جاتا اور کبھی باہر تشریف لے جاتے اور کبھی اندر تشریف لاتے اور آتے اور واپس جاتے۔ جب بارش برستی تو آپؐ کی یہ کیفیت دور ہو جاتی۔ میں آپؐ کے چہرے سے یہ پہچان گئی۔ حضرت عائشہؓ کہتی ہیں میں نے آپؐ سے پوچھا تو آپؐ نے فرمایا اے عائشہ! کیا پتہ جیسے عاد کی قوم نے جب انہوں نے اُسے ایک بادل کی صورت میں دیکھا جو اُن کی وادیوں کی طرف بڑھ رہا تھا تو کہا یہ ایسا بادل ہے جو ہم پر بارش برسانے والا ہے۔ (الاحقاف: 25)
نبیﷺ کی زوجہ مطہرہ حضرت عائشہؓ سے روایت ہے کہ میں نے نبیﷺ کو کبھی کھل کر اس طرح ہنستے نہیں دیکھا کہ مجھے آپؐ کا حلق نظر آئے٭ بس آپؐ تبسم فرماتے تھے۔ حضرت عائشہؓ کہتی ہیں اور جب آپؐ بادل یا آندھی دیکھتے آپؐ کے چہرہ سے معلوم ہوجاتا۔ انہوں (حضرت عائشہؓ ) نے عرض کیا یا رسولؐ اللہ! میں لوگوں کو دیکھتی ہوں کہ جب بادل دیکھیں توخوش ہوتے ہیں اس امید پر کہ اس سے بارش ہوگی اور میں آپؐ کو دیکھتی ہوں کہ جب آپؐ اسے دیکھتے ہیں تو میں آپؐ کے چہرے سے ناپسندیدگی پہچان لیتی ہوں۔ وہ کہتی ہیں آپؐ نے فرمایااے عائشہؓ مجھے کیا چیز اس سے امن دے سکتی ہے کہ اس (میں ) کوئی عذاب ہو۔ ایک قوم کو آندھی سے عذاب دیا گیا تھا اور ایک قوم نے عذاب کو دیکھا تو کہا کہ یہ ایسا بادل ہے جو ہم پر بارش برسانے والا ہے۔ (الاحقاف: 25)
حضرت ابن عباسؓ نبیﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپؐ نے فرمایا کہ میری مدد صبا کے ذریعہ کی گئی ہے اور قوم عاد کو دبور سے ہلاک کیا گیا۔