بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 13 hadith
عباد بن تمیم کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عبداللہؓ بن زید المازنی کو کہتے ہوئے سنا کہ رسول اللہﷺ عید گاہ تشریف لے گئے اور نماز اِستسقاء پڑھی اور اپنی چادر کو پلٹا جب قبلہ کی طرف منہ کیا۔
عباد بن تمیم اپنے چچا سے روایت کرتے ہیں کہ نبیﷺ عید گاہ کی طرف نکلے اور بارش کے لئے دعا کی اور قبلہ کی طرف رُخ کیا اور اپنی چادر الٹائی اور دو رکعت نماز ادا کی۔
حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہﷺ کو دعا میں دونوں ہاتھ اٹھائے دیکھا یہانتک کہ آپؐ کے بغلوں کی سفیدی نظر آئی۔
حضرت انس بن مالکؓ سے روایت ہے کہ نبیﷺ نے بارش کی دعا کی اور اپنی ہتھیلیوں کی پشت سے آسمان کی طرف اشارہ کیا۔
حضرت انسؓ کہتے ہیں ہم رسول اللہﷺ کے ساتھ تھے اور ہمیں بارش نے آلیا۔ راوی کہتے ہیں رسول اللہﷺ
عباد بن تمیم المازنی نے اپنے چچا سے سنا جو رسول اللہﷺ کے صحابہؓ میں سے تھے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ ایک دن بارش کی دعا کے لئے نکلے۔ آپؐ نے اپنی پشت لوگوں کی طرف کی اور ا للہ سے دعا کی اور قبلہ کی طرف رُخ کیا اور اپنی چادر الٹائی، پھر دو رکعتیں پڑھیں۔
حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ اللہ کے نبیﷺ اپنی کسی دعا میں سوائے بارش کے لئے دعا کے اپنے دونوں ہاتھ (اتنے بلند) نہیں اٹھاتے کہ آپؐ کی بغلوں کی سفیدی نظر آنے لگے۔
حضرت انس بن مالکؓ سے روایت ہے کہ ایک شخص جمعہ کے دن دارالقضاء کی طرف کے دروازے سے مسجد میں داخل ہوا اور رسول اللہﷺ کھڑے ہوئے خطبہ ارشاد فرما رہے تھے۔ وہ رسول اللہﷺ کی طرف منہ کر کے کھڑا ہو گیا پھر کہا یا رسولؐ اللہ !مال مویشی ہلاک ہو گئے اور رستے کٹ گئے۔ آپؐ اللہ سے دعا کیجئے وہ ہم پر بارش برسائے۔ راوی کہتا ہے تب رسول اللہﷺ نے دونوں ہاتھ اٹھائے۔ پھر دعا کی اے اللہ! ہم پر بارش برسا، اے اللہ! ہم پر بارش برسا۔ حضرت انسؓ کہتے ہیں خدا کی قسم! ہم آسمان میں کوئی بادل نہیں دیکھتے تھے نہ ہی بادل کا کوئی ٹکڑا اور ہمارے اور سلع پہاڑ کے درمیان کوئی گھر یا مکان نہیں تھا۔ راوی کہتے ہیں اس (پہاڑی) کے پیچھے سے ڈھال جیسی ایک بدلی اٹھی جب وہ آسمان کے درمیان آئی تو پھیل گئی پھر برسنے لگی۔ راوی کہتے ہے خدا کی قسم! پھرہم نے ایک ہفتہ سورج نہیں دیکھا۔ راوی کہتے ہیں اگلے جمعہ پھر ایک شخص اسی دروازے سے داخل ہوا اور رسول اللہﷺ کھڑے ہوئے خطبہ ارشاد فرما رہے تھے۔ وہ آپؐ کی طرف منہ کر کے کھڑا ہو گیا اور عرض کیا یارسولؐ اللہ! مال مویشی ہلاک ہو گئے اور رستے کٹ گئے۔ آپؐ اللہ سے دعا کیجئے کہ وہ ہم سے اس (بارش) کو روک دے۔ راوی کہتے ہیں تب رسول اللہﷺ نے اپنے ہاتھ اٹھائے پھرکہااے اللہ! ہمارے اردگرد اور ہم پر نہیں۔ اے اللہ! ٹیلوں اور چٹانوں پروادیوں کے اندر اور درختوں کے اگنے کی جگہوں پر، توبارش رک گئی اور ہم باہرنکل کر دھوپ میں چلنے لگے۔ شریک کہتے ہیں میں نے حضرت انس بن مالکؓ سے پوچھا کیا وہ پہلا شخص ہی تھا؟ انہوں نے کہا میں نہیں جانتا۔ داؤد بن رُشَید کی روایت جو حضرت انس بن مالکؓ سے مروی ہے انہوں نے کہا کہ لوگوں پر رسول اللہﷺ کے عہد میں قحط پڑا۔ اس دوران رسول اللہﷺ جمعہ کے دن منبر پر لوگوں کو خطبہ ارشاد فرما رہے تھے کہ ایک اعرابی کھڑا ہوا اور کہنے لگا یا رسولؐ اللہ! مال مویشی ہلاک ہو گئے اور بچّے بھوکے مر نے لگے۔ پھرراوی نے پہلی روایت کے مطابق روایت کی اور اس روایت میں (حَوْلَنَا کی بجائے) حَوَالَیناَ کہا۔ راوی کہتے ہیں جس طرف بھی آپؐ اپنے ہاتھ سے اشارہ فرماتے (بادل)چھٹ جاتے یہانتک کہ میں نے مدینہ کو(گول وسیع) میدان کی طرح دیکھا اور قناۃ وادی ایک مہینہ بہتی رہی اور کوئی بھی کسی سمت سے نہیں آیامگر اس نے موسلا دھار بارش کا بتایا۔ حضرت انس بن مالکؓ سے روایت ہے کہ نبیﷺ جمعہ کے دن خطبہ ارشاد فرما رہے تھے لوگ آپؐ کے سامنے کھڑے ہوئے اور بلند آواز سے کہنے لگے اے اللہ کے نبیؐ !بارش نہیں ہورہی، درخت سرخ ہو گئے اور جانور ہلاک ہوگئے۔ راوی نے پوری روایت بیان کی اور اس بارہ میں عبدالاعلیٰ کی ایک روایت یہ ہے پھر مدینہ سے بادل چھٹ گئے اور وہ اس کے اردگرد برسنے لگے اور مدینہ میں کوئی ایک قطرہ بھی نہ برستا تھا۔ پھر میں نے مدینہ کی طرف دیکھا اور وہ تاج(سے ڈھکے ہوئے سر) کی طرح تھا۔ ابو کریب کی روایت حضرت انسؓ سے اسی طرح مروی ہے مگر اس میں یہ بات زائد بیان کی کہ اللہ تعالیٰ نے بادلوں کو جمع کر دیا اور ہم رک گئے یہانتک کہ میں نے ایک طاقت ور شخص کو فکر کرتے دیکھا کہ وہ اپنے گھر کیسے جائے گا۔ ہارون بن سعید الایلی کی روایت حضرت انس بن مالکؓ سے مروی ہے کہ ایک اعرابی رسول اللہﷺ کے پاس جمعہ کے دن آیا اور آپؐ منبر پر تھے۔ پھر راوی نے پوری روایت بیان کی اور اس میں یہ زائد بات بیان کی کہ بادل اس طرح چھٹتے دیکھا جس طرح وہ چادرہے جب وہ لپیٹی جاتی ہے۔
عطاء بن ابی رباح سے روایت ہے انہوں نے نبیﷺ کی زوجہ مطہرہ حضرت عائشہؓ کو فرماتے ہوئے سنا کہ جب آندھی یا بادل کا دن ہوتا تو رسول اللہﷺ کے چہرہ سے یہ معلوم ہوجاتا اور آپؐ سامنے تشریف لا تے اور واپس جاتے۔ پھر جب بارش برستی تو آپؐ اس سے خوش ہوتے اور آپؐ سے وہ(کیفیت) جاتی رہتی۔ حضرت عائشہؓ کہتی ہیں میں نے(اس بارہ میں ) آپؐ سے پوچھا تو آپؐ نے فرمایا میں ڈرا کہ یہ کوئی عذاب نہ ہو جو میری امّت پر مسلط کیا گیا ہو۔ جب آپؐ بارش دیکھتے تو فرماتے یہ رحمت ہے۔