بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 288 hadith
علقمہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں حضرت ابو درداءؓ سے ملا تو انہوں نے مجھ سے پوچھا کہ تم کن میں سے ہو؟ میں نے کہا کہ میں اہلِ عراق سے ہوں۔ انہوں نے پوچھا کہ ان میں سے کونسے لوگوں میں سے ہو؟ میں نے کہا کہ اہلِ کوفہ سے۔ انہوں نے کہا کہ کیا تم حضرت عبداللہؓ بن مسعود کی قراءت پر پڑھ سکتے ہو؟ میں نے کہا ہاں۔ انہوں نے کہا کہ وَاللَّیْلِ اِذَا یَغْشَی پڑھو۔ تو راوی کہتے ہیں کہ میں نے وَاللَّیْلِ اِذَا یَغْشَی وَالنَّھَارِ اِذَا تَجَلّٰی وَالذَّکَرِ وَالْاُنْثَی پڑھی۔ راوی کہتے ہیں اس پر وہ ہنسے۔ پھر انہوں نے کہا کہ اسی طرح میں نے اسے رسول اللہﷺ کو پڑھتے ہوئے سنا۔ ایک اور روایت میں علقمہ سے مروی روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں شام آیا اور پھر حضرت ابو درداءؓ سے ملا۔ پھر راوی نے ابن علیّہ جیسی روایت بیان کی۔
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے عصر کے بعد سورج غروب ہونے تک نماز پڑھنے سے منع فرمایا اور فجر کے بعد نماز سے (منع فرمایا) یہاں تک کہ سورج طلوع ہو جائے۔
حضرت ابن عباسؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہﷺ کے ایک سے زیادہ صحابہ سے سنا جن میں سے حضرت عمر بن خطابؓ بھی تھے جو مجھے ان سب سے زیادہ پیارے تھے۔ کہ رسول اللہﷺ نے فجر کی نماز کے بعد نماز سے منع فرمایا ہے یہانتک کہ سورج طلوع ہو جائے اور عصر کے بعد یہانتک کہ سورج غروب ہو جائے۔ ایک دوسری روایت میں ہے جو قتادہ سے اسی سند سے مروی ہے سوائے اس کے کہ سعید اور ہشام کی روایت میں ’’صبح کے بعد یہانتک کہ سورج روشن ہو جائے‘‘ کے الفاظ ہیں۔
حضرت ابو سعید خدریؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ عصر کی نماز کے بعد کوئی نماز نہیں یہاں تک کہ سورج غروب ہو جائے اور نہ ہی فجر کی نماز کے بعد کوئی نماز ہے یہاں تک کہ سورج طلوع ہو جائے۔
حضرت ابن عمرؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ تم میں سے کوئی اس بات کی جستجو نہ کرے کہ وہ سورج طلوع ہوتے وقت نماز پڑھے اور نہ ہی اس کے غروب ہوتے ہوئے۔
حضرت ابن عمرؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ تم سورج طلوع ہوتے اور اس کے غروب ہوتے وقت نماز کی جستجو نہ کرو وہ یقینا شیطان کے دونوں سینگوں کے ساتھ نکلتا ہے۔
حضرت ابن عمرؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ جب سورج کا کنارہ ظاہر ہو جائے تو نماز مؤخر کر دو یہانتک کہ وہ مکمل ظاہر ہو جائے اور جب سورج کا کنارہ غائب ہونے لگے تو نماز مؤخر کر دو یہانتک کہ وہ مکمل غائب ہو جائے۔
حضرت ابو بصرہؓ غفاری سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں مخمّص میں عصر کی نماز پڑھائی پھر فرمایا کہ یہ نماز تم سے پہلے لوگوں کو پیش کی گئی لیکن انہوں نے اسے ضائع کر دیا۔ پس جس نے اس کی حفاظت کی تو اس کے لئے اس کا دوبار اجر ہو گا اور اس کے بعد کوئی نماز نہیں یہاں تک کہ شاہد طلوع ہو جائے اور شاہد سے مراد ستارہ ہے۔
حضرت عقبہ بن عامرؓ جہنی کہتے ہیں کہ تین اوقات ایسے ہیں جن میں رسول اللہﷺ نے ہمیں منع فرمایا کہ ہم نماز پڑھیں یا اپنے مُردوں کو دفنائیں (ایک) جب سورج چمکتا ہوا طلوع ہو رہا ہو یہانتک کہ بلند ہو جائے، (دوسرے) جب دوپہر ہو جائے یہانتک کہ سورج ڈھل جائے (تیسرے) سورج غروب ہوتے وقت یہانتک کہ (مکمل) غروب ہو جائے۔
حضرت ابو اُمامہؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ عمروؓ بن عبسہ سلمی نے کہا کہ میں جاہلیت میں گمان کرتا تھا کہ لوگ گمراہ ہیں اور کسی چیز پر (قائم) نہیں ہیں اور وہ بتوں کی عبادت کرتے ہیں۔ پھر میں نے مکہ کے ایک شخص کے بارہ میں سنا کہ وہ غیب کی خبریں دیتا ہے۔ میں اپنی سواری پر بیٹھا اور اس کے پاس گیا اور کیا دیکھتا ہوں کہ رسول اللہ ﷺ پر آپؐ کی قوم پس پردہ حملے کرتی تھی۔ میں نے حکمت سے کام لیا یہانتک کہ میں مکہ میں آپؐ کے پاس پہنچ گیا اور حضورؐ سے کہا کہ آپؐ کون ہیں؟ آپؐ نے فرمایا کہ میں نبی ہوں۔ میں نے پوچھا نبی کیا ہوتا ہے؟ آپؐ نے فرمایا کہ مجھے اللہ نے بھیجا ہے۔ میں نے پوچھا کہ اس نے کس چیز کے ساتھ آپؐ کو بھیجا ہے؟ آپؐ نے فرمایا کہ اس نے مجھے صلہ رحمی کرنے، بتوں کو توڑنے اور اللہ کو واحد ماننے اور یہ کہ اس کے ساتھ کوئی شریک نہیں کے ساتھ بھیجا ہے۔ میں نے آپؐ سے پوچھا کہ اس بات پر آپؐ کے ساتھ کون ہیں؟ آپؐ نے فرمایا ایک آزاد اور ایک غلام۔ انہوں نے کہا کہ ان دنوں آپؐ کے ساتھ آپؐ پر ایمان لانے والوں میں حضرت ابو بکرؓ اور حضرت بلالؓ تھے۔ میں نے کہا کہ میں آپ کی پیروی کروں گا۔ آپؐ نے فرمایا کہ تم آج اس کی طاقت نہیں رکھتے، کیا تم میرا اور لوگوں کا حال نہیں دیکھتے؟ ہاں تم اپنے گھر لوٹ جاؤ پھر جب میرے بارہ میں سنو کہ میں غالب آگیا ہوں تب میرے پاس آجانا۔ وہ کہتے ہیں کہ پھر میں اپنے گھر چلا گیا اور رسول اللہ ﷺ مدینہ تشریف لائے تو میں اپنے گھر میں تھا۔ جب آپؐ مدینہ تشریف لائے تب میں خبریں لینے لگا اور لوگوں سے پوچھنے لگا یہانتک کہ اہل یثرب۔ مدینہ والوں کی طرف سے میرے پاس کچھ لوگ آئے میں نے کہا کہ ان کا کیا حال ہے جو مدینہ آئے ہیں؟ انہوں نے کہا کہ لوگ تیزی سے ان کی طرف آرہے ہیں جبکہ اُن کی قوم نے اُن کے قتل کا ارادہ کیا تھا لیکن وہ ایسا نہیں کرسکے پھر میں مدینہ آیا اور آپؐ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا یارسول اللہ! کیا آپؐ مجھے پہچانتے ہیں؟ آپؐ نے فرمایا ہاں تم وہی ہو جو مجھے مکہ میں ملے تھے۔ وہ کہتے ہیں میں نے عرض کیا جی ہاں۔ پھر میں نے عرض کیا اے اللہ کے نبیؐ ! مجھے اس بارہ میں بتائیے جو اللہ نے آپؐ کو سکھایا ہے اور میں اس سے بے خبر ہوں۔ مجھے نماز کے بارہ میں بتائیے۔ حضورؐ نے فرمایا کہ صبح کی نماز پڑھو، پھر نماز سے رکے رہو یہانتک کہ سورج طلوع ہو جائے اور بلند ہو جائے کیونکہ جب یہ طلوع ہورہا ہوتا ہے تو شیطان کے دو سینگوں کے درمیان سے نکلتا ہے اور اس وقت کفار اسے سجدہ کرتے ہیں۔ پھر نماز پڑھو کیونکہ (اس وقت کی) نماز کی گواہی دی جاتی ہے اور اس میں حاضر ہوا جاتا ہے یہانتک کہ سایہ کم ہوکر نیزہ کے برابر ہو جائے۔ پھر نماز سے رکے رہو یقینا اس وقت جہنم بھڑکائی جاتی ہے پھر جب سایہ ڈھل جائے تب نماز پڑھو کیونکہ (اس وقت کی) نماز کی گواہی دی جاتی ہے اور اس میں حاضر ہوا جاتا ہے یہانتک کہ تم عصر کی نماز پڑھ لو۔ پھر نماز سے رکے رہو، یہانتک کہ سورج غروب ہو جائے اور وہ شیطان کے دو سینگوں کے درمیان غروب ہوتا ہے اور اس وقت کفار اسے سجدہ کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں تب میں نے عرض کیا اے اللہ کے نبیؐ ! اور وضوء! اس کے بارہ میں مجھے بتائیے۔ حضورؐ نے فرمایا کہ تم میں سے جو کوئی آدمی بھی وضوء کا پانی لیتا ہے اور کلی کرتا ہے اور ناک میں پانی ڈالتا ہے اور اسے صاف کرتا ہے تو اس کے چہرے اس کے منہ اور اس کے ناک کے سب گناہ گر جاتے ہیں جیسے اللہ نے اسے حکم دیا ہے وہ اپنا چہرہ دھوتا ہے تو اس کی داڑھی کے کناروں سے پانی کے ساتھ سب خطائیں گر جاتی ہیں۔ پھر وہ اپنے دونوں ہاتھ کہنیوں تک د ھوتا ہے تو اس کے ہاتھوں کی انگلیوں کے پوروں سے پانی کے ساتھ سب خطائیں گر جاتی ہیں پھر وہ اپنے سر کا مسح کرتا ہے تو اس کے سر کے بالوں کے کناروں سے پانی کے ساتھ سب خطائیں گر جاتی ہیں۔ پھر وہ اپنے دونوں پاؤں ٹخنوں تک دھوتا ہے تو اس کے دونوں پاؤں کی انگلیوں کے پوروں سے پانی کے ساتھ سب خطائیں گر جاتی ہیں۔ پھر اگر وہ کھڑا ہوتا ہے اور نماز پڑھتا ہے اور اللہ کی حمد کرتا اور ثناء کرتا ہے اور اس کی مجد بیان کرتا ہے جس کا وہ اہل ہے اور اپنے دل کو اللہ کے لئے فارغ کردیتا ہے تو وہ اپنی خطاؤں سے دور ہوجاتا ہے اس دن کی طرح جب اس کی ماں نے اسے جنا تھا۔ عمروؓ بن عبسہ نے یہ حدیث رسول اللہ ﷺ کے صحابی ابو امامہؓ کو بتائی تو ابو امامہؓ نے ان سے کہا کہ اے عمروؓ بن عبسہ! دیکھ لو تم کیا کہہ رہے ہو؟ کیا ایک (ہی) مقام پر ایک آدمی کو اتنا اجر دیا جائے گا۔ عمروؓ نے کہا اے ابو امامہؓ میں تو بوڑھا ہوگیا ہوں اور میری ہڈیاں کمزور پڑ گئی ہیں اور میری موت قریب آگئی ہے۔ مجھے کوئی ضرورت نہیں کہ میں اللہ پر اور رسول اللہ ﷺ پر جھوٹ بولوں۔ اگر میں نے یہ ایک، دو، تین۔۔ یہانتک کہ انہوں نے کہا سات مرتبہ رسول اللہ ﷺ سے نہ سنا ہوتا تو میں اسے کبھی بھی بیان نہ کرتا لیکن میں نے اس (بات) کو اس سے بھی زیادہ مرتبہ سنا۔