بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 33 hadith
حضرت عائشہؓ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد وَمَنْ کَانَ غَنِیًّا فَلْیَسْتَعْفِفْ وَمَنْ کَانَ فَقِیْرًا فَلْیَاْکُلْ بِالْمَعْرُوْفِ۔۔۔ ۔ الآیۃ ترجمہ: جو امیر ہو تو چاہئے کہ وہ (ان کا مال کھانے سے) کلیۃً احتراز کرے ہاں جو غریب ہو تو وہ مناسب طریق پر کھائے۔ کے بارہ میں فرمایا کہ یہ آیت یتیم کے نگران کے بارہ میں اتری کہ اگر وہ محتاج ہو تو اس کے مال کی حیثیت کو مدنظر رکھ کے معروف طریق سے لے سکتا ہے۔
حضرت عائشہؓ نے اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد اِذْ جَائُ وْکُمْ مِنْ فَوْقِکُمْ وَمِنْ اَسْفَلَ مِنْکُم۔ ترجمہ: اور جب وہ تمہارے پاس تمہارے اوپر کی طرف سے بھی اور تمہارے نشیب کی طرف سے بھی آئے اور جب آنکھیں پتھرا گئیں اور دل (اچھلتے ہوئے) ہنسلیوں تک جا پہنچے اور تم لوگ اللہ پر طرح طرح کے گمان کر رہے تھے۔ کے بارہ میں فرمایا کہ یہ خندق کے دن ہوا ہے۔
حضرت عائشہ ؓ اس آیت وَاِنِ امْرَئَ ۃ ٌ خَافَتْ مِنْ بَعْلِھَا نُشُوْزًا اَوْ اِعْرَاضًا ترجمہ: اور اگر کوئی عورت اپنے خاوند سے مخاصمانہ رویے یا عدم توجہی کا خوف کرے تو ان دونوں پر کوئی گناہ تو نہیں کہ اپنے درمیان اصلاح کرتے ہوئے صلح کرلیں۔ کے بارہ میں فرماتی ہیں کہ یہ اس عورت کے بارہ میں نازل ہوئی جو ایک مرد کے نکاح میں ہے اور لمبا عرصہ اس کے ساتھ رہی اب وہ اس کو طلاق دینا چاہتا ہے اور وہ عورت کہتی ہے کہ مجھے طلاق نہ دو اور مجھے اپنے پاس روک رکھو اور میری طرف سے تمہیں اجازت ہے۔ تو اس بارہ میں یہ آیت نازل ہوئی۔
حضرت عائشہؓ نے اس آیت وَاِنِ امْرَئَ ۃٌ خَافَتْ مِنْ بَعْلِ ھَا نُشُوْزًا اَوْ اِعْرَاضًا ترجمہ: اور اگر کوئی عورت اپنے خاوند سے مخاصمانہ رویے یا عدم توجہی کا خوف کرے تو ان دونوں پر کوئی گناہ تو نہیں کہ اپنے درمیان اصلاح کرتے ہوئے صلح کر لیں۔ کے بارہ میں فرمایا کہ یہ اس عورت کے بارہ میں نازل ہوئی جو ایک مرد کے نکاح میں ہے اور شاید وہ اس سے بہت کچھ حاصل نہیں کر سکتا مگر اس کا ساتھ بھی رہا ہے اور اس سے بچے بھی ہیں اس لئے عورت ناپسند کرتی ہے کہ وہ اس کو چھوڑ دے اس لئے اس کو کہتی ہے تم پر میری طرف سے کوئی پابندی نہیں ہے۔
حضرت عروہؓ بیان کرتے ہیں کہ حضرت عائشہؓ نے مجھے کہا میرے بھانجے لوگوں کو حکم دیا گیا تھا کہ نبی ﷺ صحابہؓ کے لئے مغفرت کی دعائیں کریں مگر یہ ان کو برا بھلا کہتے ہیں۔
سعید بن جبیر بیان کرتے ہیں کہ اہل کوفہ نے اس آیت کے بارہ میں اختلاف کیا وَمَنْ یَّقْتُلْ مُؤْمِنًا مُتَعَمِّدًا فَجَزٓائُ ہُ جَہَنَّمْ ترجمہ: اور جو جان بوجھ کر کسی مومن کو قتل کردے تو اس کی جزا جہنم ہے۔ تو میں حضرت ابن عباسؓ کے پاس گیا اور اس کے بارہ میں ان سے پوچھا انہوں نے فرمایا یہ(آیت) آخر زمانہ میں نازل ہونے والی (وحی) میں سے ہے۔ اس کو کسی چیز نے منسوخ نہیں کیا۔ ایک روایت میں نَزَلَتْ فِیْ آخِرِ مَا اُنْزِلَتْ اور ایک روایت میں اِنَّھَا لَمِنْ آخِرِ مَا أُنْزِلَتْ کے الفاظ ہیں۔
سعید بن جبیر بیان کرتے ہیں کہ مجھے حضرت عبد الرحمانؓ بن ابزٰی نے حکم دیا کہ میں حضرت ابن عباسؓ سے ان دو آیات کے متعلق دریافت کروں وَمَنْ یَّقْتُلْ مُؤْمِنًا مُتَعَمِّدًا فَجَزٓائُہُ جَہَنَّمَ خَالِدًا فِیْھَا ترجمہ: اور جو جان بوجھ کر کسی مومن کو قتل کردے تو اس کی جزا جہنم ہے۔ وہ اس میں لمبا عرصہ رہے گا۔ میں نے ان سے پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ اس آیت کو کسی نے منسوخ نہیں کیا اور اس آیت کے متعلق وَالَّذِیْنَ لَا یَدْعُوْنَ مَعَ اللَّہِ اِلٰھًا آخَرَ وَلَا یَقْتُلُوْنَ النَّفْسَ الَّتِی حَرَّمَ اللَّہُ اِلَّا بِالْحَقِّ ترجمہ: اور وہ لوگ جو اللہ کے ساتھ کسی دوسرے معبود کو نہیں پکارتے اور کسی ایسی جان کو جسے اللہ نے حرمت بخشی ہو ناحق قتل نہیں کرتے اور زنا نہیں کرتے اور جو کوئی ایسا کرے گا گناہ کی سزا پائے گا۔ انہوں نے کہا کہ یہ مشرکوں کے بارہ میں نازل ہوئی۔
حضرت ابن عباسؓ بیان کرتے ہیں کہ جب یہ آیت مکہ میں نازل ہوئی وَالَّذِیْنَ لَا یَدْعُوْنَ مَعَ اللّٰہِ اِلٰھًا آخَرَ وَلَا یَقْتُلُوْنَ النَّفْسَ الََّتی حَرَّمَ اللّٰہُ اِلَّا بِالْحَقِّ۔۔۔ اِلٰی قَوْلِہِ مُھَانًا ترجمہ: اور وہ لوگ جو اللہ کے ساتھ کسی دوسرے معبود کو نہیں پکارتے اور کسی ایسی جان کو جسے اللہ نے حرمت بخشی ناحق قتل نہیں کرتے اور زنا نہیں کرتے اور جو کوئی ایسا کرے گا گناہ کی سزا پائے گا۔ 2 تو مشرکوں نے کہا اسلام ہمارے کس کام آئے گا، ہم نے اللہ کے ساتھ شریک ٹھہرایا ہے ہم نے اس نفس کو قتل کیا ہے جس کو اللہ نے قابلِ احترام قرار دیا ہے اور ہم نے بے حیائیوں کا ارتکاب کیا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی اِلاَّّ مَنْ تَابَ وَاٰ مَنَ وَعَمِلَ صَالِحًا 1 انہوں (حضرت ابن عباسؓ) نے کہا جو اسلام میں داخل ہوگیا اور اس نے اسے سمجھ لیا پھر (کسی کو) قتل کیا تو اس کی توبہ نہیں۔
سعید بن جبیر بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عباسؓ سے کہا اس شخص کے لئے جو کسی مومن کو عمداً قتل کرے توبہ ہے انہوں نے کہا نہیں وہ کہتے ہیں میں نے ان کو یہ آیت پڑھ کر سنائی جو سورۃ فرقان میں ہے وَالَّذِیْنَ لَا یَدْعُوْنَ مَعَ اللّٰہِ اِلٰھًا آخَرَ وَلَا یَقْتُلُوْنَ النَّفْسَ الَّتِی حَرَّمَ اللّٰہُ اِلَّا بِالْحَقِّ الآیۃ ترجمہ: اور وہ لوگ جو اللہ کے ساتھ کسی دوسرے معبود کو نہیں پکارتے اور کسی ایسی جان کو جسے اللہ نے حرمت بخشی ناحق قتل نہیں کرتے اور زنا نہیں کرتے اور جو کوئی ایسا کرے گا گناہ کی سزا پائے گا۔ 2 انہوں نے کہا کہ یہ آیت مکی ہے اس کو اس مدنی آیت نے منسوخ کر دیا ہے وَمَنْ یَّقْتُلْ مُؤْمِنًا مُّتَعَمِّدًا فَجَزٓائُہُ ایک روایت میں فَتَلَوْتُ عَلَیْہِ ھَذِہِ الاٰیَۃِ الَّتِیْ فِی القُرْآنِ کے الفاظ ہیں یعنی میں نے یہ آیت پڑھ کر سنائی جو (سورۃ) فرقان میں ہے اِلاَّ مَنْ تَابَ۔
عبد اللہ بن عبد اللہ بن عتبہ بیان کرتے ہیں کہ مجھے حضرت ابن عباسؓ نے کہا تمہیں پتہ ہے کہ آخری سورۃ جو قرآن میں نازل ہوئی وہ اکٹھی نازل ہوئی میں نے کہا ہاں اِذَاجَآئَ نَصْرُ اللّٰہِ وَالْفَتْحْ جب اللہ کی مدد اور فتح آئے گی۔ انہوں نے کہا تم ٹھیک کہتے ہو۔ ایک روایت میں (تَدْرِیْ آخِرَ سُوْرَۃٍ نَزَلَتْ کی بجائے) تَعْلَمُ أیُّ سُوْرَۃٍ وَلَمْ یَقُلْ آخِرَ کے الفاظ ہیں یعنی تم جانتے ہو کونسی آیت۔۔۔ اور آخر کا لفظ نہیں کہا۔