بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 167 hadith
حضرت ابو سعیدؓ سے روایت ہے کہ نبیﷺ نے کچھ لوگوں کا ذکر فرمایا جو آپؐ کی امت میں ہوں گے وہ لوگوں میں اختلاف کے وقت خروج کریں گے ان کی نشانی سر منڈوانا ہے۔ آپؐ نے فرمایا وہ بدترین مخلوق ہیں یا (فرمایا) بدترین مخلوق میں سے ہیں۔ دو گروہوں میں سے جو حق کے زیادہ قریب ہے ان کو قتل کرے گا۔ راوی کہتے ہیں نبیﷺ نے ان کے لئے ایک مثال بیان فرمائی یا ایک بات کہی کہ ایک شخص شکار یا فرمایا ہدف کو تیر مارتا ہے پھر وہ پھل کو دیکھتا ہے تو کوئی نشانی نہیں پاتا اور وہ لکڑی میں دیکھتا ہے تو کوئی نشانی نہیں پاتا اور وہ فوق کو دیکھتا ہے تو کوئی نشانی خون لگنے کی نہیں پاتا۔ راوی کہتے ہیں حضرت ابو سعیدؓ نے کہا اے اہل عراق تم نے انہیں قتل کیا۔
حضرت ابو سعید خدریؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا مسلمانوں میں اختلاف کے وقت دین سے نکلنے والا گروہ دین سے نکل جائے گا اس گروہ کو وہ قتل کرے گا جو دونوں میں سے حق کے زیادہ قریب ہوگا۔
حضرت ابو سعید خدریؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا میری امت میں دو گروہ ہوں گے ان دونوں کے درمیان میں سے ایک نکلنے والا فرقہ خروج کرے گا ان میں سے حق کے زیادہ قریب ان کے قتل پر قدرت پائے گا۔
حضرت ابو سعید خدریؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا لوگوں میں اختلاف کے وقت دین سے نکلنے والا گروہ نکلے گا اور ان دونوں میں سے حق کے زیادہ قریب ان کے قتل پر قدرت پائے گا۔
حضرت ابو سعید خدریؓ سے روایت ہے انہوں نے نبی ﷺ سے ایک روایت بیان کی جس میں آپؐ نے ایسے لوگوں کا ذکر کیا جو افتراق و اختلاف کے وقت خروج کریں گے ان گروہوں میں سے حق کے زیادہ قریب گروہ ان کے قتل پر قدرت پائے گا۔
سوید بن غفلہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں حضرت علیؓ نے کہا جب میں تمہارے پاس رسول اللہﷺ سے کوئی بات بیان کروں تو میرا آسمان سے گرنا مجھے زیادہ پسند ہوگا بہ نسبت اس کے کہ آپؐ کی طرف ایسی بات منسوب کروں جو آپؐ نے نہیں فرمائی اور جب میں تمہیں اس بارہ میں جو میرے اور تمہارے درمیان ہے (کچھ) بیان کروں تو یقینا جنگ داؤ پیچ ہے۔ میں نے رسول اللہﷺ کو فرماتے سنا کہ آخری زمانہ میں ایک قوم خروج کرے گی نو عمر عقل سے بے بہرہ ہونگے مخلوق کی باتوں میں سے بہترین کہیں گے۔ وہ قرآن پڑھیں گے (مگر) وہ ان کے گلے سے تجاوز نہیں کرے گا وہ دین سے ایسے نکل جائیں گے جیسے تیر شکار میں سے پار ہو جاتا ہے۔ جب تمہارا ان سے مقابلہ ہو تو انہیں قتل کر دو۔ یقینا اللہ کے نزدیک ان کو قتل کرنے میں اس شخص کے لئے جو انہیں قتل کرے قیامت کے دن اجر ہے۔ ایک دوسری روایت میں یَمْرُقُوْنَ مِنَ الدِّیْنِ کَمَا یَمْرُقُ السَّہْمُ مِنَ الرَّمِیَّۃِ کے الفاظ نہیں ہیں۔
حضرت علیؓ سے روایت ہے کہ آپؓ نے خوارج کا ذکر کیا اور فرمایا ان میں ایک ایسا شخص ہے جس کا ہاتھ ناقص ہے یا فرمایا چھوٹے ہاتھ والا یا فرمایا ناقص الخلقت ہاتھ والا ہے اگر تم اتراؤ نہیں تو میں ضرور تمہیں وہ حدیث سناؤں جس میں اللہ نے ان لوگوں سے جو انہیں قتل کریں گے۔ حضرت محمدﷺ کی زبان پر وعدہ فرمایا ہے۔ راوی کہتے ہیں میں نے کہا آپ نے خود محمدﷺ سے یہ سنا ہے؟ انہوں نے کہا ہاں رب کعبہ کی قسم! ہاں ربّ کعبہ کی قسم! ہاں رب کعبہ کی قسم!
زید بن وہب جہنی بیان کرتے ہیں کہ وہ اس لشکر میں تھے جو حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھا جو خوارج کی طرف چلا تھا۔ حضرت علیؓ نے کہا اے لوگو! میں نے رسول اللہﷺ کو فرماتے سنا ہے کہ میری امّت سے ایک قوم نکلے گی جو قرآن پڑھیں گے تمہاری قراءت ان کی قراءت کے مقابلہ میں کچھ چیز نہیں اور نہ تمہاری نماز ان کی نماز کے مقابل کوئی چیز ہے اور نہ تمہارے روزے ان کے روزوں کے مقابل کچھ چیز ہیں وہ قرآن پڑھیں گے اور گمان کریں گے کہ وہ ان کے حق میں ہے مگر وہ ان کے خلاف ہوگا۔ ان کی نماز ان کے گلے سے آگے نہیں گذرے گی وہ اسلام سے نکلیں گے جیسے تیر شکار میں سے پار ہوجاتا ہے اگر اس لشکر کو جو اُن پر حملہ آور ہوگا اس کا پتہ ہو جو اُن کے نبیﷺ کی زبان پر ان کے لئے مقدر ہے تو وہ اس پر بھروسہ کرتے ہوئے باقی اعمال چھوڑ بیٹھتے اور اس کی نشانی یہ ہے کہ ان میں ایک ایسا شخص ہے جس کا بازو کندھے سے کہنی تک ہے اور کہنی سے ہاتھ تک نہیں۔ اس کے بازو کے سرے پر پستان کے اُبھار جیسا (اُبھار) ہے۔ جس پر سفید بال ہیں پس تم معاویہؓ اور اہلِ شام کی طرف جاتے ہو اور ان لوگوں کو اپنی اولاد اور اپنے اموال میں اپنا جانشین بنا کر جاتے ہو اور خدا کی قسم میں سمجھتا ہوں کہ یہی وہ لوگ ہیں کیونکہ انہوں نے حرام خون بہایا اور لوگوں کے ریوڑوں پر حملہ کیا۔ پس اللہ کا نام لے کر روانہ ہو جاؤ۔ (راوی) سلمہ بن کُہیل کہتے ہیں زید بن وہب نے مجھے ایک منزل پر اُتارا یہانتک کہ اس نے کہا ہم ایک پُل پر سے گذرے جب ہماری مٹھ بھیڑ ہوئی اور خوارج کا سردار اس وقت عبد اللہ بن وہب راسبی تھا اس نے ان کو کہا نیزے پھینک دو اور تلواریں نیاموں سے نکالو کیونکہ میں ڈرتا ہوں کہ وہ تمہیں اس طرح قسم دیں جس طرح انہوں نے حروراء کے دن تمہیں قسم دی تھی۔ پس وہ واپس لوٹے۔ انہوں نے اپنے نیزے پھینک دیئے اور تلواریں سونت لیں اور لوگوں نے ان پر اپنے نیزوں سے حملہ کیا۔ راوی کہتے ہیں ان میں سے بعض قتل ہوکر بعض پر گرے اور لوگوں میں سے اس دن صرف دو شہید ہوئے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کہا ان میں سے وہ ٹنڈے بازو والا تلاش کرو۔ انہوں نے تلاش کیا مگر اسے نہ پایا۔ پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ خود کھڑے ہوئے یہانتک کہ ان لوگوں کے پاس پہنچے جن میں سے بعض قتل ہوکر بعض پر گرے تھے حضرت علیؓ نے کہا انہیں ہٹاؤ تو انہوں نے اس کو نیچے زمین پر پایا۔ اس پر آپؓ (حضرت علیؓ) نے اللہ اکبر کہا پھر کہا اللہ نے سچ فرمایا اور اس کے رسولﷺ نے اسے خوب پہنچایا۔ راوی کہتے ہیں عَبِیدہ سلمانی کھڑے ہوکر ان کے پاس گئے۔ انہوں نے کہا اے امیر المؤمنین! کیا آپ اس اللہ کی جس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں (قسم کھاتے ہیں) کیا آپ نے خود یہ حدیث رسول اللہﷺ سے سنی ہے؟ انہوں نے کہا ہاں، اس اللہ کی قسم جس کے سوا کوئی معبود نہیں یہانتک کہ اس نے آپ کو تین دفعہ قسم دلائی اور آپ اس کے (جواب میں) قسم اُٹھاتے رہے۔
رسول اللہﷺ کے آزاد کردہ غلام ابو رافع کے بیٹے عبید اللہ سے روایت ہے کہ حروریہ (فرقہ) نے جب خروج کیا اور وہ (یعنی عبید اللہ) حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے۔ انہوں (یعنی خوارج) نے کہا حکم صرف اللہ کا ہے۔ حضرت علیؓ نے کہا (یہ) بات سچی مگر اس سے ارادہ باطل کا کیا گیا ہے۔ رسول اللہﷺ نے کچھ لوگوں کا ذکر فرمایا۔ (حضرت علیؓ نے کہا) یقینا میں اُن لوگوں کی نشانی اِن لوگوں میں دیکھتا ہوں۔ (آپؐ نے فرمایا تھا) یہ زبانوں سے حق کہیں گے مگر وہ ان کی اس جگہ سے نہیں گذرے گا۔ اور آپؓ نے اپنے گلے کی طرف اشارہ کیا۔ اللہ کی مخلوق میں سے ایک سب سے ناپسندیدہ سیاہ رنگ والا شخص ان میں سے ہے جس کا ایک ہاتھ بکری کے سرِ پستان (یا فرمایا) پستان کے کنارے جیسا ہے۔ جب حضرت علیؓ بن ابی طالب نے انہیں قتل کیا تو فرمایا تلاش کرو۔ انہوں نے دیکھا مگر کچھ نہ پایا آپؓ نے فرمایا پھر جاؤ۔ اللہ کی قسم نہ میں نے جھوٹ کہا نہ ہی مجھ سے جھوٹ کہا گیا ہے دو یا تین مرتبہ آپ نے ایسا فرمایا پھر انہوں نے اسے ایک ویرانے میں پایا تو وہ اسے لے آئے یہاں تک کہ اسے آپؓ کے سامنے رکھا۔ عبید اللہ کہتے ہیں ان کے اس سارے معاملہ کے موقعہ پر اور حضرت علیؓ کے ان کے بارہ میں یہ کہنے کے وقت میں موجود تھا۔ ایک شخص نے ابن حنین سے روایت کیا ہے کہ میں نے اس سیاہ شخص کو دیکھا تھا۔
حضرت ابوذرؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا میرے بعد میری امت سے یا فرمایا میرے بعد میری امت میں سے ایک قوم ہوگی جو قرآن پڑھیں گے وہ ان کے گلوں سے آگے نہیں جائے گا وہ دین سے نکلیں گے جیسے تیر شکار سے پار ہو جاتا ہے پھر وہ اس میں لوٹ کر نہیں آئیں گے۔ یہ مخلوق اور اخلاق میں بد ترین ہوں گے۔ ابن صامت کہتے ہیں کہ میں حکم غفاری کے بھائی حضرت رافع بن عمروؓ غفاری سے ملا میں نے کہا یہ کیا حدیث ہے جو میں نے حضرت ابو ذرؓ سے اس طرح سنی ہے اور پھر میں نے انہیں یہ حدیث سنائی تو وہ کہنے لگے میں نے بھی یہ رسول اللہﷺ سے سنا ہے۔