بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 266 hadith
حضرت ابو ہریرہ ؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میرے صحابہ کو بُرا مَت کہو مجھے اس کی قسم ہے جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اگر تم میں سے کوئی اُحد پہاڑ کے برابر بھی سونا خرچ کرے تو بھی ان کے ایک مُد یا نصف مُد کو نہیں پہنچے گا۔
حضرت ابن عمرؓ بیان کیا کرتے تھے کہ محمد ﷺ کے صحابہؓ کو بُرا نہ کہو کیونکہ ان کا ایک گھڑی کھڑے رہنا تم میں سے ہر ایک کے عمر بھر کے عمل سے بہتر ہے۔
حضرت براء بن عازبؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس نے انصارؓ سے محبت کی اللہ نے اس سے محبت کی اور جس نے انصارؓ سے نفرت کی۔ اللہ نے اس سے نفرت کی۔ شعبہ کہتے ہیں مَیں نے عدی سے پوچھا کہ کیا آپ نے حضرت براءؓ بن عازب سے یہ حدیث سنی تھی تو انہوں نے جواب دیا کہ براءؓ نے یہ حدیث خود مجھ سے بیان کی تھی۔
عبد المہیمن بن عباس بن سہل بن سعد اپنے والد سے اور وہ ان کے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا انصار شِعَار ہیں (یعنی وہ لباس ہیں جو جسم کے ساتھ لگا رہتا ہے) اور باقی لوگ دثار ہیں (دثار اوپر کے لباس کو کہتے ہیں۔) اور اگر لوگ ایک وادی یا گھاٹی میں جائیں اور انصارؓ کسی دوسری وادی میں تو یقینی طور پر مَیں انصارؓ کی وادی میں چلوں گا۔ اگر ہجرت نہ ہوتی تو مَیں انصارؓ میں سے ایک شخص ہوتا۔
کثیر بن عبداللہ بن عمرو بن عوف اپنے والد سے اور وہ ان کے دادا سے روایت کرتے ہیں انہوں نے کہا رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ رحم کرے انصارؓ پر اور انصارؓ کے بیٹوں پر اور ان کے بیٹوں کے بیٹوں پر۔
حضرت ابن عباسؓ نے بیان کیا کہ مجھے رسول اللہﷺ نے اپنے ساتھ لگایا اور فرمایا اے اللہ! تو اسے حکمت اور قرآن کریم کے مطالب سکھا دے۔
حضرت علی بن ابی طالبؓ نے خوارج کا ذکر کیا اور کہا ان میں ایک ایسا انسان ہے جس کا ہاتھ ناقص ہے یا فرمایا چھوٹے ہاتھ والا یا فرمایا ناقص الخلقت ہاتھ والا ہے۔ اگر تم اِتراؤ نہیں تو مَیں تمہارے سامنے بیان کروں جو اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ کی زبان مبارک سے ان کو قتل کرنے والوں سے وعدہ کیا۔ مَیں نے کہا کہ آپ نے محمد ﷺ سے سنا ہے ؟ آپ (حضرت علیؓ) نے تین دفعہ فرمایا ہاں ربّ کعبہ کی قسم۔
حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا آخری زمانے میں کچھ کم عقل نوجوانوں کا ایک گروہ نکلے گا وہ لوگوں میں سے سب سے اچھی باتیں کہنے والے ہوں گے۔ قرآن پڑھیں گے جو اُن کے حلق سے نہیں اترے گا۔ وہ اسلام سے ایسے نکل جائیں گے جیسے تیر شکار سے نکل جاتا ہے۔ جس کا ان سے سامنا ہو وہ ان کو قتل کر دے کیونکہ ان کا قتل اللہ کے نزدیک باعثِ اجر ہے اس کے لئے جو اُن کو قتل کرے۔
ابو سلمہ نے بیان کیا کہ میں نے حضرت ابو سعید خدری ؓ سے دریافت کیا کہ کیا آپؓ نے رسول اللہ ﷺ کو حروریہ کے بارے میں کچھ ذکر کرتے ہوئے سنا ہے ؟ انہوں نے کہا کہ مَیں نے آپ ﷺ کو ایک قوم کا ذکر کرتے ہوئے سُنا ہے جو تصنّع سے عبادت کریں گے اور تم میں سے ہر ایک اپنی نماز کو ان کی نماز کے مقابل میں اور اپنے روزے کو ان کے روزے کے مقابل میں حقیر سمجھے گا وہ دین سے ایسے نکل جائیں گے جیسے تیر شکار سے۔ پھر تیر چلانے والا اپنا تیر اُٹھاتا ہے اس کے پھل کو دیکھتا ہے اس میں کچھ بھی (خون وغیرہ ) نہیں دیکھتا پھر وہ تیر کے رصاف میں بھی کچھ (خون وغیرہ ) لگا ہوا نہیں دیکھتا پھر اس کی لکڑی کو دیکھتا ہے اس میں بھی کچھ نہیں دیکھتا پھر وہ تیر کے پروالی جگہ کو دیکھتا ہے تو اسے شک ہوتا ہے کہ اس میں کچھ لگا ہے یا نہیں۔
حضرت ابو ذر ؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میرے بعد میری امت میں سے ایک قوم ہوگی وہ قرآن پڑھیں گے مگر ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا۔ وہ دین میں سے ایسے نکل جائیں گے جیسے تیر شکار سے نکل جاتا ہے۔ پھر اس میں واپس نہیں آئیں گے۔ وہ خلقت اور عادات میں بد ترین لوگ ہوں گے۔ حضرت عبد اللہ بن صامت ؓ نے کہا کہ مَیں نے یہ حدیث حضرت رافع بن عمرو ؓ جو حضرت حکم بن عمرو غفاری ؓ کے بھائی تھے کے سامنے بیان کی، انہوں نے کہا مَیں نے بھی یہ بات رسول اللہ ﷺ سے سنی ہے۔