بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 400 hadith
حضرت عائشہ ؓ نے بیان فرمایا کہ بسا اوقات میں رسول اللہ ﷺ کے کپڑے سے منی اپنے ہاتھ سے کھرچ دیتی۔
ہَمَّام بن حارث نے بیان کیا کہ حضرت عائشہ ؓ کے ہاں ایک مہمان آیا۔ حضرت ام المؤمنینؓ نے اس کے لئے زرد رنگ کے لحاف کا حکم دیا۔ اُس کو اس (لحاف) میں احتلام ہوگیا۔ مہمان شرمایا کہ اسے واپس کرے جبکہ اس پر احتلام کے نشان ہوں۔ اُس نے اُسے پانی میں ڈبویا اور پھر اسے واپس کردیا۔ حضرت عائشہؓ نے فرمایا کہ اُس نے ہمارا کپڑا کیوں خراب کردیا۔ اُس کے لئے صرف یہ کافی تھا کہ اُسے اپنی انگلی سے کھرچ دیتا۔ بسا اوقات میں اُسے رسول اللہ ﷺ کے کپڑے سے اپنی انگلی سے کھرچ دیتی تھی۔
حضرت عائشہؓ نے بیان فرمایا کہ میں اپنے آپ کو دیکھتی کہ میں اس کو رسول اللہﷺ کے کپڑے میں پاتی تو اُسے اس (کپڑے) سے کھرچ دیتی۔
حضرت معاویہؓ بن ابی سفیان سے روایت ہے کہ انہوں نے اپنی بہن نبی ﷺ کی زوجہ مطہرہ حضرت ام حبیبہؓ سے پوچھا کہ کیا رسول اللہ ﷺ اُس کپڑے میں نماز ادا کر لیتے تھے جن میں آپؐ نے مقاربت کی ہوتی؟ انہوں نے فرمایا ہاں، اگر اُس پر کوئی تکلیف دہ چیز نہ ہوتی۔
حضرت ابو درداءؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ ہمارے پاس باہر تشریف لائے اور آپؐ کے سر سے پانی ٹپک رہا تھا۔ آپؐ نے ہمیں ایک ہی کپڑے میں لپٹے ہوئے نماز پڑھائی اور کپڑے کے دونوں اطراف کو مخالف سمت کندھے پر ڈالا ہوا تھا۔ جب آپؐ (نماز سے) فارغ ہوئے تو حضرت عمر بن خطابؓ نے عرض کیا یا رسولؐ اللہ! آپؐ نے ہمیں ایک ہی کپڑے میں نماز پڑھائی۔ آپؐ نے فرمایا ہاں میں اس میں نماز پڑھ لیتا ہوں اور اسی میں- یعنی اشارہ تھا کہ میں نے اسی کپڑے میں مقاربت بھی کی ہو۔
حضرت جابر بن سمرہؓ نے بیان کیا کہ ایک آدمی نے نبی ﷺ سے پوچھا کیا وہ نماز پڑھ لے اُس کپڑے میں جس میں وہ اپنے اہل کے پاس جاتا ہے؟ آپؐ نے فرمایا ہاں سوائے اس کے کہ وہ اس پر کچھ دیکھے تو اُسے دھو لے۔
ہَمّام بن حارث نے بیان کیا کہ حضرت جریر بن عبد اللہ ؓ نے پیشاب کیا، پھر وضو کیا اور اپنے موزوں پر مسح کیا۔ اُن کو کہا گیا، کیا آپؓ ایسا کرتے ہیں؟ انہوں نے کہا مجھے کیا چیز روکتی ہے جبکہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو ایسا کرتے دیکھا ہے۔ راوی ابراہیم نے کہا کہ لوگوں کو جریر کی حدیث بہت پسند آتی تھی کیونکہ ان کا اسلام سورۃ المائدہ کے اترنے کے بعد تھا۔
حضرت حذیفہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے وضو کیا اور اپنے موزوں پر مسح کیا۔
حضرت مغیرہ بن شعبہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ قضائے حاجت کے لئے نکلے۔ آپؐ کے پیچھے حضرت مغیرہؓ چھاگل، جس میں پانی تھا، لے کر گئے۔ آپؐ قضائے حاجت سے فارغ ہوئے تو آپؐ نے وضو کیا اور موزوں پر مسح کیا۔
حضرت ابن عمرؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے حضرت سعدؓ بن مالک کو دیکھا اور وہ موزوں پر مسح کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ آپ ایسا کرتے ہیں؟ پس ہم حضرت عمرؓ کے پاس اکٹھے ہوئے اور سعدؓ نے حضرت عمرؓ سے کہا کہ میرے بھتیجے کو موزوں پر مسح کے بارے میں فتویٰ دیں۔ حضرت عمرؓ نے کہا کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے پاس تھے اور اپنے موزوں پر مسح کرتے تھے اور اس میں کوئی حرج نہ سمجھتے تھے۔ حضرت ابن عمرؓ نے پوچھا اگرچہ کوئی بیت الخلاء سے آئے!؟ انہوں (حضرت عمرؓ) نے فرمایا: ہاں۔