بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 3 of 163 hadith
۲۴۔ بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {وَهَلْ أَتَاكَ حَدِيثُ مُوسَى}، {وَكَلَّمَ اللَّهُ مُوسَى تَكْلِيمًا}
24. The Statement of Allah Taa'la: "And to Moses Allah spoke directly."
محمد بن بشار نے مجھے بتایا کہ غندر نے ہم سے بیان کیا کہ شعبہ نے ہمیں بتایا کہ قتادہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: میں نے ابوالعالیہ سے سنا کہ تمہارے نبی کے چچا زاد بھائی یعنی حضرت ابن عباسؓ نے ہمیں بتایا کہ نبی ﷺ سے مروی ہے۔ آپؐ نے فرمایا: کسی بندے کو بھی یہ نہیں کہنا چاہیے کہ میں یونس بن متّٰی سے اچھا ہوں اور راوی نے یونس کے باپ کا نام متّٰی بیان کیا۔
۳۵۔ بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {وَإِنَّ يُونُسَ لَمِنَ الْمُرْسَلِينَ} إِلَى قَوْلِهِ: {فَمَتَّعْنَاهُمْ إِلَى حِينٍ}
35. The Statement of Allah Taa'la: "And verily, Yunus was one of the Messengers..."
۴۰۔ بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {وَوَهَبْنَا لِدَاوُدَ سُلَيْمَانَ نِعْمَ الْعَبْدُ إِنَّهُ أَوَّابٌ}
40. The Statement of Allah Taa'la: "And to Dawud, We gave Sulaiman (for a son). How excellent (a) slave he was ever oft-returning in repentance (to us)" (38.30)
یحيٰ بن بکیر نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے لیث سے، لیث نے عبدالعزیز بن ابی سلمہ سے، انہوں نے عبداللہ بن فضل سے، انہوں نے اعرج سے، اعرج نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: ایک بار ایک یہودی اپنا تجارتی سامان بیچ رہا تھا، اس کو اس سامان کی کچھ ایسی ہی قیمت پیش کی گئی کہ جس کو اُس نے برا منایا اور اس نے کہا: نہیں۔ اس ذات کی قسم جس نے موسیٰؑ کو تمام بشر سے بہتر چنا۔ انصار میں سے ایک شخص نے یہ بات سنی وہ اُٹھا اور اس نے اس کے منہ پر طمانچہ مارا اور کہا: تو یہ کہتا ہے کہ اسی ذات کی قسم جس نے موسیٰؑ کو تمام بشر سے بہتر سمجھ کر چن لیا ہے۔ حالانکہ نبی ﷺ ہم میں موجود ہیں۔ وہ یہودی آپؐ کے پاس گیا اور کہا: ابوالقاسم! میری حفاظت کا آپؐ نے ذمہ لیا ہوا ہے اور میرے ساتھ معاہدہ ہے۔ پھر فلاں کو کیا شہ تھی کہ اس نے میرے منہ پر طمانچہ مارا۔ آپؐ نے (انصاری سے بلا کر) پوچھا: تم نے اس کے منہ پر تھپڑ کیوں مارا؟ اس نے واقعہ بیان کیا۔ نبی ﷺ یہ سن کر اس قدر غصہ میں آئے کہ آپؐ کے چہرہ سے وہ غصہ دکھائی دیا۔ پھر آپؐ نے فرمایا: اللہ کے نبیوں کو ایک دوسرے پر فضیلت مت دو کیونکہ صور پھونکا جائے گا اور وہ جو آسمانوں میں ہیں اور وہ جو زمین میں، بیہوش ہو کر گر پڑیں گے سوائے اس کے کہ جسے اللہ چاہے۔ پھر دوبارہ صور پھونکا جائے گا اور میں پہلا ہوں گا جو اُٹھے گا۔ میں کیا دیکھوں گا کہ موسیٰ عرش کو پکڑے ہوئے ہیں۔ میں نہیں جانتا کہ طور کے دن جو وہ بیہوش ہوئے تھے وہ بے ہوشی کافی سمجھی گئی یا مجھ سے پہلے وہ اُٹھائے گئے۔
ابوالیمان نے ہم سے بیان کیا۔ شعیب نے ہمیں خبر دی کہ ابوالزناد نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عبدالرحمن سے روایت کی کہ انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا۔ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا۔ آپؐ فرماتے تھے: میری اور لوگوں کی مثال اس شخص کی مثال ہے جس نے آگ جلائی اور پتنگے اور کیڑے مکوڑے اس آگ میں گرنے لگے۔