بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 163 hadith
محمد بن بشار نے ہم سے بیان کیا کہ محمد بن ابی عدی نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے شعبہ سے، شعبہ نے قتادہ سے، قتادہ نے ابوالصدیق ناجی (بکر بن قیس) سے، انہوں نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے، حضرت ابوسعیدؓ نے نبی ﷺ سے روایت کی کہ آپؐ نے فرمایا: بنی اسرائیل میں ایک شخص تھا جس نے ننانوے آدمیوں کو قتل کیا تھا۔ پھر وہ مسئلہ پوچھنے کے لئے نکلا اور ایک راہب کے پاس آیا اور اس سے کہنے لگا کہ کیا میری توبہ قبول ہوسکتی ہے؟ اس نے کہا: نہیں۔ یہ سن کر اس نے اس کو بھی مار ڈالا اور پھر وہ اسی طرح مسئلہ پوچھنے لگا تو ایک شخص نے اس سے کہا: فلاں فلاں بستی میں جاؤ تو راستے میں اس کو موت نے آلیا اور مرتے وقت اس نے اپنے سینے کو اس بستی کی طرف جھکا دیا۔ اب اس کے متعلق رحمت کے فرشتے اور عذاب کے فرشتے جھگڑنے لگے۔ اللہ نے اس بستی کو وحی کی کہ اس کے قریب ہوجا اور اللہ نے اس بستی کو جہاں سے وہ نکلا تھا حکم دیا کہ اس سے دور ہوجا۔ پھر فرشتوں سے فرمایا: دونوں بستیوں کے درمیان جو فاصلہ ہے اس کو ناپو۔ تو اس بستی کے جس کی طرف جانے کا قصد رکھتا تھا، ایک بالشت زیادہ قریب پایا گیا۔ اس لئے اس کو بخش دیا گیا۔
علی بن عبد اللہ نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان (بن عُیَینہ) نے ہمیں بتایا کہ ابوالزناد نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے اعرج سے، اعرج نے ابوسلمہ سے، ابوسلمہ نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت۔ انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے صبح کی نماز پڑھائی۔ پھر لوگوں سے متوجہ ہوئے اور فرمایا: ایک بار کوئی شخص ایک گائے کو ہانکے لے جا رہا تھا۔ اتنے میں اس پر سوار ہوگیا، اس کو مارا۔ وہ بولی: ہم اس غرض کے لئے نہیں پیدا کئے گئے۔ ہم تو صرف کھیتی کے لیے پیدا کیے گئے ہیں۔ لوگ سن کر کہنے لگے: سبحان اللہ! گائے بھی باتیں کرتی ہے۔ آپؐ نے فرمایا: میں اور ابوبکرؓ اور عمرؓ اس پر یقین رکھتے ہیں اور وہ دونوں وہاں موجود نہ تھے۔ اور ایک بار کوئی شخص اپنی بکریوں میں تھا کہ اتنے میں بھیڑئیے نے حملہ کیا اور ان میں سے ایک بکری لے گیا۔ وہ (مالک) اس کے پیچھے لگا، یہاں تک کہ اس نے اس بکری کو اس سے چھڑا لیا۔ اتنے میں بھیڑیا اس سے بولا: بھلا یہ بکری تو تم نے مجھ سے چھڑا لی ہے مگر اس زمانے میں اس کا کون نگران ہوگا جبکہ میرے سوا اس کا کوئی چرواہا نہ ہوگا۔ لوگوں نے سن کر کہا: سبحان اللہ! بھیڑیا بھی بات کرتا ہے۔ آپؐ نے فرمایا: میں تو اس پر یقین رکھتا ہوں اور ابوبکرؓ اور عمرؓ بھی۔ اور وہ دونوں وہاں موجود نہ تھے۔ اور علی (بن عبد اللہ مدینی) نے ہمیں بتایا۔ سفیان (بن عُیَینہ) نے مِسْعَر سے، مِسْعَر نے سعد بن ابراہیم سے، سعد نے ابو سلمہ سے، ابوسلمہ نے حضرت ابوہریرہؓ سے، حضرت ابوہریرہؓ نے نبی ﷺ سے یہی حدیث روایت کی۔
اسحاق بن نصر نے ہم سے بیان کیا کہ عبدالرزاق نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے معمر سے، معمر نے ہمام سے، ہمام نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: نبی ﷺ نے فرمایا: ایک شخص نے کسی شخص سے اس کی زمین خریدی۔ جس شخص نے وہ زمین لی تھی، اس نے اس کی زمین میں ایک گھڑا پایا جس میں سونا تھا۔ تو جس شخص نے اس زمین کو لیا تھا اس نے کہا: مجھ سے اپنا سونا لے لو کیونکہ ہم نے تو تم سے صرف زمین خریدی ہے اور تم سے سونا نہیں خریدا اور وہ شخص جس کی زمین تھی کہنے لگا: میں نے تمہیں زمین اور جو کچھ اس میں تھا بیچا ہے۔ آخر وہ دونوں ایک شخص کے پاس تصفیہ کے لیے گئے تو اس شخص نے جس کے پاس وہ جھگڑا نپٹانے کے لئے گئے تھے، پوچھا: کیا تمہاری اولاد ہے؟ ان میں سے ایک نے کہا: ہاں ایک لڑکا اور دوسرے نے کہا: میری ایک لڑکی ہے۔ تو اس نے کہا: لڑکے کا اس لڑکی سے نکاح کر دو اور اس سونے سے ان دونوں پر خرچ کرو اور صدقہ بھی دو۔
عبدالعزیز بن عبداللہ (اویسی) نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا: مالک نے مجھے بتایا۔ انہوں نے محمد بن منکدر اور ابوالنضر سے، جو عمر بن عبیداللہ کے آزاد کردہ غلام تھے۔ ان دونوں نے عامر بن سعد بن ابی وقاص سے، عامر نے اپنے باپ سے روایت کی کہ انہوں نے ان سے کہا۔ وہ حضرت اسامہ بن زیدؓ سے پوچھتے تھے: آپؓ نے طاعون کے متعلق رسول اللہ ﷺ سے کیا سنا؟ حضرت اسامہؓ نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: طاعون ایک نہایت ہی سخت عذاب ہے جو بنی اسرائیل کے ایک گروہ پر نازل کیا گیا یا فرمایا: ان پر بھیجا گیا جو تم سے پہلے تھے۔ اس لئے جب تم سنو کہ کسی جگہ پر یہ بیماری پھیل گئی ہے تو وہاں نہ جاؤ اور جب کسی جگہ پر یہ بیماری پھیل جائے اور تم وہاں ہو تو اس سے بھاگ کر نہ نکلو۔ ابونضر نے یوں کہا: تمہاری اگر اس سے بھاگنے ہی کی نیت ہو تو یہ نیت تمہیں وہاں سے نہ نکالے۔
موسیٰ بن اسماعیل نے ہم سے بیان کیا کہ دائود بن ابی الفرات نے ہمیں بتایا کہ عبداللہ بن بریدہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے یحيٰ بن یَعمر سے، یحيٰ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نبی ﷺ کی زوجہ سے روایت کی کہ وہ کہتی تھیں: میں نے رسول اللہ ﷺ سے طاعون کے متعلق پوچھا تو آپؐ نے مجھے بتایا: وہ ایک عذاب ہے جس کو اللہ جن پر چاہتا ہے بھیجتا ہے اور یہ کہ اللہ نے اس کو مومنوں کے لئے رحمت بنایا ہے جو کوئی بھی طاعون میں مبتلا ہو اور وہ اپنے شہر میں ہی صبر کرکے اس کی رضامندی کی خاطر ٹھہرا رہے اور وہ یقین رکھے کہ اسے صرف وہی مصیبت پہنچے گی جو اللہ نے اس کے لئے لکھ دی ہے تو ضرور اس کو ایک شہید جتنا ثواب ہوگا۔
قُتَیبہ بن سعید نے ہم سے بیان کیا کہ لیث نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابن شہاب سے، ابن شہاب نے عروہ سے، عروہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ قریش کو اس مخزومی عورت کے معاملہ نے فکر میں ڈال دیا تھا، جس نے چوری کی تھی۔ انہوں نے کہا: کون اس کے بارہ میں رسول اللہ ﷺ سے سفارش کرے گا؟ لوگوں نے کہا: سوائے اسامہ بن زیدؓ کے جو رسول اللہ ﷺ کا محبوب ہے اور کون آپؐ کے پاس جرأت کرسکتا ہے۔ چنانچہ حضرت اسامہؓ نے آپؐ سے کہا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کیا تم اللہ کی سزاؤں میں سے کسی سزا کے متعلق سفارش کرتے ہو۔ پھر آپؐ کھڑے ہوئے اور تقریر کرتے ہوئے فرمایا: تم سے جو پہلے تھے، ان کو صرف اسی بات نے ہلاک کر دیا کہ ان کی عادت تھی کہ جب ان میں کوئی بڑا چوری کرتا تو اس کو چھوڑ دیتے اور اگر ان میں سے غریب چوری کرتا تو اس کے خلاف سزا کا فیصلہ کرتے۔ اور اللہ کی قسم! اگر فاطمہ بنت محمد (ﷺ) چوری کرے گی تو میں اس کا بھی ہاتھ کاٹ ڈالوں گا۔
آدم (بن ابی ایاس) نے ہم سے بیان کیا کہ شعبہ نے ہمیں بتایا کہ عبدالملک بن میسرہ نے ہم سے بیان کیا، کہا: میں نے نزال بن سبرہ ہلالی سے سنا۔ وہ حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے تھے۔ انہوں نے کہا: میں نے ایک شخص سے سنا کہ اس نے قرآن کی آیت ایسی طرز سے پڑھی کہ میں نے نبی ﷺ کو اس کی قرأت کے خلاف پڑھتے سنا تھا۔ میں اس کو نبی ﷺ کے پاس لے آیا اور آپؐ کو بتایا۔ میں نے آپؐ کے چہرے سے ناپسندیدگی محسوس کی اور آپؐ نے فرمایا: تم دونوں ہی اچھا پڑھتے ہو اور آپس میں جھگڑا نہ کیا کرو کیونکہ جو لوگ تم سے پہلے تھے انہوں نے آپس میں جھگڑا کیا اور وہ ہلاک ہوگئے۔
عمر بن حفص نے ہم سے بیان کیا کہ میرے باپ نے ہمیں بتایا کہ اعمش نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا: شقیق (بن سلمہ) نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت عبداللہ (بن مسعودؓ) نے کہا: گویا میں نبی ﷺ کو اَب بھی دیکھ رہا ہوں کہ نبیوں میں سے ایک نبی کا حال آپؐ سنا رہے ہیں جس کو اس کی قوم نے مار مار کر لہو لہان کر دیا تھا اور وہ اپنے چہرے سے خون پونچھ رہے تھے اور کہتے جاتے تھے: اے اللہ! میری قوم کو بخش کیونکہ وہ نہیں جانتے (کہ میں اللہ کا رسول ہوں)
ابوالولید نے ہم سے بیان کیا کہ ابوعوانہ نے قتادہ سے، قتادہ نے عقبہ بن عبدالغافر سے، عقبہ نے حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے، حضرت ابوسعیدؓ نے نبی ﷺ سے روایت کی کہ تم سے پہلے ایک شخص تھا جس کو اللہ نے بہت مال دیا تھا۔ جب اس کی موت کا وقت آیا۔ اس نے اپنے بیٹوں سے کہا: میں تمہارا کیسا باپ تھا؟ انہوں نے کہا: آپ بہت اچھے باپ تھے۔ اس نے کہا: میں نے کبھی کوئی اچھا کام نہیں کیا۔ جب میں مر جاؤں تو مجھے جلا دینا۔ پھر مجھے پیسنا اور کسی آندھی کے دن میرے ذرات کو بکھیر دینا۔ چنانچہ انہوں نے ایسا ہی کیا۔ اللہ عزوجل نے اس کے ذرات کو اکٹھا کیا اور فرمایا: تمہیں اس فعل پر کس نے آمادہ کیا؟ اس نے عرض کیا: تیرے ڈر نے ہی۔ یہ جواب سن کر اللہ نے اسے اپنی آغوشِ رحمت میں لے لیا۔ اور معاذ نے کہا: شعبہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے قتادہ سے روایت کی، کہا: میں نے عقبہ بن عبد الغافر سے سنا۔ انہوں نے کہا: میں نے حضرت ابو سعید خدریؓ سے سنا۔ انہوں نے نبی ﷺ سے روایت کی۔
مسدد نے ہم سے بیان کیا کہ ابوعوانہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عبد الملک بن عُمَیر سے، عبدالملک نے رِبعی بن حِراش سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: حضرت عقبہؓ (بن عمرو ابومسعود انصاری) نے حضرت حذیفہؓ سے کہا: کیا آپؓ ہمیں وہ باتیں نہیں بتائیں گے جو آپؓ نے نبی ﷺ سے سنیں؟ انہوں نے کہا: میں نے آپؐ کو فرماتے سنا کہ ایک شخص تھا جس پر موت کا وقت آیا اور جب وہ زندگی سے بالکل مایوس ہوگیا تو اس نے اپنے گھر والوں کو وصیت کی کہ جب میں مر جائوں تو میرے لئے بہت سی لکڑیاں اکٹھی کرنا پھر آگ سلگا کر مجھ کو جلا دینا۔ جب وہ میرے گوشت کو بھسم کر لے اور میری ہڈیوں تک پہنچ جائے تو ان ہڈیوں کو لے کر ان کو پیسنا اور میری راکھ کو سمندر میں جس دن گرمی ہو یا فرمایا: جس دن ہوا چل رہی ہو، بکھیر دینا۔ اللہ نے اس کو اکٹھا کیا اور فرمایا: تم نے ایسا کیوں کیا؟ اس نے عرض کیا: تیرے ڈر کی وجہ سے۔ تو اللہ نے اسے بخش دیا۔ حضرت عقبہؓ نے کہا: اور میں نے بھی آپؐ کو یہ بیان کرتے سنا۔ موسیٰ (بن اسماعیل) نے ہم سے بیان کیا کہ ابوعوانہ نے ہمیں بتایا کہ عبدالملک نے ہم سے بیان کیا اور انہوں نے (یوں) کہا کہ جس دن ہوا چل رہی ہو۔