بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 163 hadith
عبدالعزیز بن عبداللہ نے ہم سے بیان کیا کہ ابراہیم بن سعد نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابن شہاب سے، ابن شہاب نے عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ سے، عبیداللہ نے حضرت ابوہریرہؓ سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ایک شخص تھا جو لوگوں کو قرض دیا کرتا تھا اور اپنے خدام سے کہا کرتا تھا کہ جب تم کسی شخص کو تنگدست پائو تو اس سے درگذر کرو۔ شاید اللہ ہم سے بھی درگذر کرے۔ آپؐ نے فرمایا: چنانچہ وہ اللہ سے ملا تو اس نے (اسی نیکی کی وجہ سے) اس سے درگذر کر دیا۔
اور سات دنوں میں ایک دن ہر مسلمان پر فرض ہے کہ وہ اپنا سر اور جسم دھوئے۔
عبداللہ بن محمد (مسندی) نے مجھ سے بیان کیا کہ ہشام نے ہمیں بتایا کہ معمر نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے زہری سے، زہری نے حُمَید بن عبدالرحمن سے، حُمَید نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے، حضرت ابوہریرہؓ نے نبیﷺ سے روایت کی کہ آپؐ نے فرمایا: ایک شخص بہت گناہ کیا کرتا تھا۔ جب موت کا وقت اس پر آیا تو اس نے اپنے بیٹوں سے کہا: جب میں مر جائوں تو مجھے جلا ڈالنا، پھر مجھے پیسنا اور ہوا میں بکھیر دینا۔ اللہ کی قسم! اگر میرے اللہ نے مجھ پر قابو پا لیا تو وہ مجھے ضرور ایسی سزا دے گا کہ اس نے کسی کو بھی نہ دی ہوگی۔ جب وہ مر گیا تو اس سے ایسا ہی کیا گیا۔ اللہ نے زمین کو حکم دیا اور فرمایا: جو ذرات اس کے تم میں ہیں ان کو اکٹھا کرو۔ زمین نے وہ سب ذرات اکٹھے کر دئیے اور کیا دیکھا کہ وہ کھڑا ہے۔ اللہ نے فرمایا: جو تم نے کیا ہے اس پر کس بات نے آمادہ کیا؟ وہ بولا: اے میرے رب! تیرے ڈر نے ہی۔ اللہ نے اس پر پردہ پوشی فرماتے ہوئے اس سے درگذر فرمایا۔ اور حضرت ابوہریرہؓ کے سوا اَوروں نے یوں کہا: تیرے خوف نے اے میرے ربّ ایسا کرنے پر آمادہ کیا۔
عبداللہ بن محمد بن اسماء نے مجھ سے بیان کیا کہ جویریہ بن اسماء نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے نافع سے، نافع نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ایک عورت کو ایک بلی کی وجہ سے سزا دی گئی جس نے اس کو دیر تک قید کر رکھا یہاں تک کہ وہ بھوک سے مر گئی اور اس وجہ سے وہ (عورت) دوزخ میں داخل ہوئی۔ نہ تو اس نے بلی کو کچھ کھلایا اور نہ ہی پانی پلایا۔ اس نے اس کو روک رکھا۔ نہ خود کھانا دیا اور نہ اس کو چھوڑا کہ وہ زمین کے کیڑے مکوڑے کھاتی۔
احمد بن یونس نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے زُہَیر سے روایت کی کہ منصور نے ہمیں بتایا کہ رِبعی بن حراش سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: حضرت ابومسعود عقبہ (بن عمرو انصاریؓ) نے ہم سے بیان کیا، کہا: نبی ﷺ نے فرمایا: لوگوں نے جو پہلے انبیاء کی باتوں میں سے روایتاً بات یاد رکھی، ان میں سے ایک یہ ہے کہ جب تو شرم نہ کرے تو پھر جو تو چاہے کر۔
آدم نے ہم سے بیان کیا کہ شعبہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے منصور سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: میں نے رِبعی بن حراش سے سنا۔ وہ حضرت ابومسعودؓ سے روایت کرتے تھے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: لوگوں نے جو پہلے انبیاء کے کلام سے یاد رکھا ہے، اس میں سے یہ بھی ہے کہ جب تو شرم نہ کرے تو پھر جو تو چاہے کر۔
بشر بن محمد نے ہم سے بیان کیا کہ عبداللہ (بن مبارک) نے ہمیں بتایا۔ یونس نے ہمیں بتایا کہ زُہری سے روایت ہے۔ (کہ انہوں نے کہا:) سالم نے مجھے بتایا کہ حضرت ابن عمرؓ نے ان سے بیان کیا کہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ ایک شخص تکبر سے اپنے تہہ بند کو گھسیٹتے چلا آرہا تھا کہ اتنے میں وہ زمین میں دھنسا دیا گیا اور وہ قیامت کے دن تک زمین میں لڑکھڑاتا ہوا چلا جا رہا ہے۔ یونس کی طرح عبد الرحمن بن خالد نے بھی زُہری سے یہی روایت نقل کی۔
موسیٰ بن اسماعیل نے ہم سے بیان کیا کہ وُہَیب نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے کہا: (عبداللہ) بن طائوس نے مجھ سے بیان کیا۔ انہوں نے اپنے باپ سے، ان کے باپ نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے، حضرت ابوہریرہؓ نے نبی ﷺ سے روایت کی کہ آپؐ نے فرمایا: ہم سب سے آخر ہیں اور قیامت کے دن سب سے آگے ہوں گے۔ ہاں ہر ایک امت کو ہم سے پہلے کتاب دی گئی اور ہمیں ان کے بعد دی گئی۔ تو یہ (جمعہ کا دن) وہ دن ہے جس کے متعلق انہوں نے اختلاف کیا۔ کل کا دن یہود کا ہے اور کل کے بعد نصاریٰ کا۔
آدم نے ہم سے بیان کیا کہ شعبہ نے ہمیں بتایا کہ عمرو بن مرہ نے ہم سے بیان کیا کہ میں نے سعید بن مسیب سے سنا۔ انہوں نے کہا: حضرت معاویہ بن ابی سفیانؓ جب آخری دفعہ مدینہ میں آئے تو ہم سے مخاطب ہوئے اور بالوں کا ایک گچھا نکالا اور کہا: میں نہیں سمجھتا تھا کہ یہودیوں کے سوا اور بھی ایسا کرتا ہوگا اور نبی ﷺ نے اس کا نام فریب رکھا ہے یعنی بالوں میں پیوند لگانے کا۔ آدم کی طرح غندر نے بھی شعبہ سے اس حدیث کو روایت کیا۔
احمد بن سعید ابوعبداللہ نے ہم سے بیان کیا کہ وہب بن جریر نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے اپنے باپ (جریر بن حازم) سے، انہوں نے ایوب (سختیانی) سے، ایوب نے عبداللہ بن سعید بن جبیر سے، سعید نے اپنے باپ سے، ان کے باپ نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے، انہوں نے نبی ﷺ سے روایت کی کہ آپؐ نے فرمایا: اللہ اسماعیلؑ کی ماں پر رحم کرے۔ اگر وہ جلدی نہ کرتیں تو زمزم ایک بہتا چشمہ ہوتا۔