بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 30 hadith
محمد بن بشار نے ہمیں بتایا کہ غندر نے ہم سے بیان کیا کہ شعبہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے زبید ایامی سے، زبید نے شعبی سے، شعبی نے حضرت براء (بن عازب) رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہم اپنے اس دن میں پہلا کام جو شروع کرتے ہیں یہ ہے کہ ہم نماز پڑھتے ہیں پھر وہاں سے لَوٹ کر قربانی کرتے ہیں جس نے ایسا کیا تو اس نے ہمارے طریقہ کے مطابق عمل کیا اور جس نے پہلے ذبح کیا تو وہ صرف گوشت ہی ہے جو اس نے اپنے گھروالوں کے لئے پہلے کیا ہے عبادت سے اسے کچھ تعلق نہیں۔ اس پر حضرت ابوبردہ بن نیارؓ کھڑے ہوئے اور وہ ذبح کرچکے تھے، کہنے لگے: میرے پاس ایک سال کا بکری کا بچہ ہے۔ آپؐ نے فرمایا: اسی کو ذبح کرلو اور تمہارے بعد کسی کی طرف سے ایسا پلوٹھا قربانی کے قائمقام نہیں ہو گا۔ مطرف نے عامر سے نقل کیا۔ عامرنے حضرت براءؓ سے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے نماز کے بعد ذبح کیا تو اس کی قربانی پوری ہوئی اور اس نے مسلمانوں کے طریقہ پر عمل کیا۔
مسدد نے ہم سے بیان کیا کہ اسماعیل (بن علیہ) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ایوب (سختیانی) سے، ایوب نے محمد (بن سیرین) سے، انہوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے نماز سے پہلے ذبح کیا تو اس نے صرف اپنے لئے ذبح کیا اور جس نے نماز کے بعد ذبح کیا تو اس کی قربانی پوری ہوئی اور اس نے مسلمانوں کے طریقے پر عمل کیا۔
معاذ بن فضالہ نے ہم سے بیان کیا کہ ہشام (دستوائی) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے یحيٰ (بن ابی کثیر) سے، یحيٰ نے بعجہ (بن عبداللہ) جہنی سے، بعجہ نے حضرت عقبہ بن عامر جہنیؓ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ کے درمیان کچھ قربانی کے جانور تقسیم کئے اور حضرت عقبہؓ کو ایک کم عمر بکروٹا ملا۔ میں نے کہا: یا رسول اللہ ! کم عمر بکروٹا ملا ہے؟ آپؐ نے فرمایا: اسی کی قربانی کر لو۔
محمد بن ابی بکر مقدمی نے ہمیں بتایا کہ خالد بن حارث نے ہم سے بیان کیا کہ عبیداللہ (عمری) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے نافع سے روایت کی۔ انہوں نے کہا کہ حضرت عبداللہؓ (بن عمر) قربان گاہ میں ہی نحر کیا کرتے تھے۔ عبیداللہ نے کہا: یعنی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی قربان گاہ میں۔
یحيٰ بن بکیر نے ہم سے بیان کیا کہ لیث نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے کثیر بن فرقد سے، کثیر نے نافع سے روایت کی کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے ان کو خبر دی ۔ انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عیدہ گاہ میں ہی ذبح اور نحر کیا کرتے تھے۔
(تشریح)آدم بن ابی ایاس نے ہم سے بیان کیا کہ شعبہ نے ہمیں بتایا۔ عبدالعزیز بن صہیب نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا: میں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا۔ وہ کہتے تھے: نبی صلی اللہ علیہ وسلم دو مینڈھوں کی قربانی کیا کرتے تھے اور میں بھی دو مینڈھوں کی قربانی کرتا ہوں.
مسدد نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان (بن عیینہ) نے ہمیں بتایا۔انہوں نے عبدالرحمٰن بن قاسم سے، عبدالرحمٰن نے اپنے باپ قاسم (بن محمد) سے، قاسم نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس سرف(مقام) میں آئے اور انہیں مکہ میں داخل ہونے سے پہلے ہی حیض آ گیا تھا او ر وہ رو رہی تھیں۔ آپؐ نے پوچھا: تمہیں کیا ہوا ہے؟ کیا تمہیں حیض آ گیا؟ انہوں نے کہا: ہاں ۔ آپؐ نے فرمایا: یہ ایک ایسا امر ہے جس کو اللہ نے آدم کی بیٹیوں کے لئے مقدر کردیا ہے۔ اس لئے جو کام حج کرنے والے کرتے ہیں وہ تم کرو مگر بیت اللہ کا طواف نہ کرو ۔ جب ہم منیٰ میں پہنچے تو میرے پاس گائے کا گوشت لایا گیا۔ میں نے پوچھا: یہ کیا ہے؟ لوگوں نے کہا: رسول اللہﷺ نے اپنی ازواج کی طرف سے گائے کی قربانی کی ہے۔
صدقہ (بن فضل) نے ہم سے بیان کیا کہ (اسماعیل) بن علیہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ایوب (سختیانی) سے، ایوب نے ابن سیرین سے، انہوں نے حضرت انس بن مالکؓ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قربانی کے دن فرمایا: جس نے نماز سے پہلے ذبح کیا ہو وہ پھر ذبح کرے۔ یہ سن کر ایک شخص کھڑا ہوا اور کہنے لگا: یا رسول اللہ ! یہ ایسا دن ہے کہ اس میں گوشت کی خواہش کی جاتی ہے اور اس نے اپنے ہمسایوں کا ذکر کیا اور )کہا کہ( میرے پاس ایک سال کا بکری کا بچہ ہے جو گوشت کی دوبکریوں سے بہتر ہے تو آپؐ نے اس کو اجازت دی۔ میں نہیں جانتا کیا یہ اجازت اس کے سوا اور کو بھی ہے یا نہیں۔ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے (نماز سے) لَوٹ کر دو مینڈھے لئے اور ان کو ذبح کیا اور لوگ بھی اپنی بکریوں کی طرف گئے اور ان کو بانٹ لیا یا کہا اُن کے حصے کر لیے۔
(تشریح)محمد بن سلام نے ہمیں بتایاکہ عبدالوہاب نے ہم سے بیان کیاکہ ایوب (سختیانی) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے محمد (بن سیرین) سے، محمد نے (عبدالرحمٰن) بن ابی بکرہ سے، عبدالرحمٰن نے حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے، حضرت ابوبکرہؓ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی۔ آپؐ نے فرمایا: زمانہ پھر چکر کھا کر ہوبہو اسی حالت میں آگیا ہے کہ جس حالت پر وہ اس دن تھا جس دن اللہ نے آسمانوں اور زمین کوپیدا کیا۔ سال بارہ مہینے کا ہوتا ہے۔ ان میں سے چار مہینے حرمت والے ہیں۔ تین لگا تار ۔ ذوالقعدہ، ذوالحجہ اور محرم اور ایک مضر کا رجب جو جمادی اور شعبان کے درمیان ہے۔ یہ کون سا مہینہ ہے؟ ہم نے کہا: اللہ اور اس کا رسولؐ بہتر جانتے ہیں۔ آپؐ خاموش ہوگئے یہاں تک کہ ہم سمجھے کہ آپؐ اس کا کوئی اور نام رکھیں گے۔ آپؐ نے فرمایا: کیا یہ ذوالحج نہیں؟ ہم نے کہا: ہاں۔ آپؐ نے فرمایا کہ یہ کون سا شہر ہے؟ ہم نے کہا: اللہ اور اس کا رسولؐ بہتر جانتے ہیں۔ آپؐ خاموش ہورہے یہاں تک کہ ہم سمجھے کہ آپؐ اس کا کوئی اور نام رکھیں گے۔ آپؐ نے فرمایا: کیا یہ وہی شہر نہیں ؟ ہم نے کہا: ہاں۔ آپؐ نے فرمایا: یہ کون سا دن ہے؟ ہم نے کہا: اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں۔ یہ سن کر آپؐ خاموش ہوگئے یہاں تک کہ ہم سمجھے کہ آپؐ اس کا کوئی اور نام رکھیں گے۔ آپؐ نے فرمایا: کیا یہ قربانی کا دن نہیں؟ ہم نے کہا: ہاں۔ آپؐ نے فرمایا: دیکھو کہ تمہارے خون اور تمہارے مال، محمد (بن سیرین) کہتے تھے اور میں یہ خیال کرتا ہوں کہ آپؐ نے یہ بھی فرمایا اور تمہاری عزتیں تم پر ایسی حرام ہیں جیسے تمہارے اس دن کی حرمت تمہارے اس شہر میں تمہارے اس مہینے میں۔ اور تم اپنے رب سے ضرور ملو گے اور وہ تم سے تمہارے اعمال کے متعلق ضرور پوچھے گا ۔ دیکھو خبردار! میرے بعد پھر گمراہ نہ ہوجانا کہ تم ایک دوسرے کی گردنیں مارو۔ سنو کہ جو موجو د ہے وہ اس کو پہنچا دے جو موجود نہیں کیونکہ ہو سکتا ہے کہ جن کو یہ بات پہنچے ان میں سے بعض اس کو زیادہ یاد رکھنے والے یا سمجھنے والے ہوں، ان بعض سے جنہوں نے یہ بات سنی ہے۔ اور محمد (بن سیرین) جب اس حدیث کا ذکر کرتے تو کہتے: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سچ فرمایا۔ اس کے بعد آپؐ نے فرمایا: سنو کیا میں نے پہنچا دیا، سنو کیا میں نے پہنچا دیا؟
قتیبہ بن سعید نے ہم سے بیان کیا کہ عبدالوہاب (ثقفی) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ایوب (سختیانی) سے، ایوب نے ابوقلابہ سے، ابوقلابہ نے حضرت انسؓ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (نماز سے) لَوٹ کر دو سینگدار چتکبرے مینڈھے لئے اور ان کو اپنے ہاتھ سے ذبح کیا۔ (عبد الوہاب کی طرح( اس حدیث کو وہیب (بن خالد) نے بھی ایوب سے روایت کیا۔ اور اسماعیل (بن علیہ) اور حاتم بن وردان نے ایوب سے، ایوب نے (محمد) بن سیرین سے، انہوں نے حضرت انسؓ سے روایت کرتے ہوئے یہی کہا۔