بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 70 hadith
ابونعیم نے ہم سے بیان کیا کہ زکریا (بن ابی زائدہ) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عامر سے، عامر نے حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس شکار کے متعلق پوچھا جو کسی چپٹی چیز سے مارا جائے۔ آپؐ نے فرمایا: اگر تو تیز دھار سے مارا جائے تو اس کو کھاؤ اور جو چپٹی چیزسے مارا جائے تو وہ موقوذہ ہے۔ اور میں نے آپؐ سے کتے کے شکار کے متعلق پوچھا تو آپؐ نے فرمایا: جو تو اس نے تمہارے لئے پکڑا ہے اس کو کھاؤ کیونکہ کتے کا پکڑنا بھی ذبح کرنا ہی ہے۔ اور اگر تم اپنے کتے کے ساتھ یا (فرمایا:) کتوں کے ساتھ کسی دوسرے کتے کو پاؤ اور تمہیں یہ ڈر ہو کہ کہیں دوسرے کتے نے بھی اس کے ساتھ اسے پکڑا ہے اور اس کو مار ڈالا ہو تو نہ کھاؤ کیونکہ تم نے اپنے کتے کو چھوڑتے وقت اللہ کا نام لیا تھا اور اس کے علاوہ کسی اور پر اللہ کا نام نہیں لیا تھا۔
(تشریح)موسیٰ بن اسماعیل نے ہم سے بیان کیا کہ عبدالعزیز بن مسلم نے ہمیں بتایا۔ عبداللہ بن دینار نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا: میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے سنا۔ حضرت ابن عمرؓ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی۔ آپؐ نے فرمایا: جس نے ایسا کتا رکھا جو نہ تو ریوڑ کی حفاظت کرنے والا کتا ہے اور نہ ہی شکاری۔ اس کے عمل سے ہر روز دو دو قیراط کم ہوتے رہیں گے.
مکی بن ابراہیم نے ہم سے بیان کیا کہ حنظلہ بن ابی سفیان نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے کہا: میں نے سالم کو بیان کرتے سنا۔ (انہوں نے کہا) میں نے حضرت عبداللہ بن عمرؓ سے سنا۔ حضرت عبداللہ بن عمرؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: جس نے کتا رکھا- وہ شکاری کتا نہیں جو شکار کے لئے ہو یا وہ کتا نہیں جو ریوڑ کی رکھوالی کے لئے ہو- تو اس کے ثواب میں سے ہر روز دو دو قیراط کم ہوتے رہیں گے۔
عبداللہ بن یوسف (تنیسی) نے ہم سے بیان کیا کہ ہمیں مالک نے بتایا ۔ انہوں نے نافع سے، نافع نے حضرت عبداللہ بن عمرؓ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے کتا رکھا سوائے ریوڑ کے کتے کے یا شکاری کے تو اس کے عمل سے ہر روز دو دو قیراط کم ہوتے رہیں گے۔
(تشریح)سلیمان بن حرب نے ہم سے بیان کیا کہ شعبہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عبداللہ بن ابی سفر سے، عبداللہ نے شعبی سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: میں نے حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ سے سنا۔ وہ کہتے تھے: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس شکار کے متعلق پوچھا جو کسی چپٹی چیز سے مارا جائے؟ آپؐ نے فرمایا: اگر تو تم نے اس کی دھار سے مارا ہو تو کھاؤ اور اگر اس کی چپٹی طرف سے پڑے اور اس کو مارڈالے تو یہ مَوْقُوذَة ہے اس کونہ کھاؤ۔ میں نے پوچھا: میں اپنے کتے کو چھوڑ دوں تو؟ آپؐ نے فرمایا: جب تم اپنا کتا چھوڑو اور اللہ کا نام لو تو کھاؤ۔ میں نے پوچھا: اگر وہ کتا کھالے تو؟ آپؐ نے فرمایا: پھر اس کو نہ کھاؤ کیونکہ اس نے وہ تمہارے لئے نہیں پکڑا بلکہ اپنے لئے پکڑا ہے۔ میں نے پوچھا: میں اپنے کتے کو چھوڑوں اور اس کے ساتھ کسی اور کتے کو پاؤں؟ آپؐ نے فرمایا: نہ کھاؤ کیونکہ تم نے اپنا کتا چھوڑتے وقت اس پر بسم اللہ پڑھی اور دوسرے پر (اللہ کا) نام نہیں لیاتھا۔
(تشریح)قبیصہ (بن عقبہ) نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان (ثوری) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے منصور (بن معتمر) سے، منصور نے ابراہیم (نخعی) سے، ابراہیم نے ہمام بن حارث سے، ہمام نے حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: میں نے پوچھا: یا رسول اللہ! ہم اپنے سکھائے ہوئے کتوں کو چھوڑتے ہیں۔ آپؐ نے فرمایا: جو تمہارے لئے پکڑ لیں ان کو کھاؤ۔ میں نے پوچھا: اگر وہ مار ہی ڈالیں؟ آپؐ نے فرمایا: گو وہ مار ہی ڈالیں۔ میں نے پوچھا: اور ہم بے پر کے تیر سے بھی مارتے ہیں؟ آپؐ نے فرمایا: جو چیز پھاڑ ڈالے اسے کھاؤ اور جو اس کی چپٹی طرف سے لگے اسے نہ کھاؤ۔
عبداللہ بن یزید (عدوی) نے ہم سے بیان کیا کہ حیوۃ (بن شریح) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے کہا: مجھے ربیعہ بن یزید دمشقی نے بتایا۔ ربیعہ نے ابوادریس (عائذ اللہ خولانی) سے، ابوادریس نے ابوثعلبہ خشنی سے روایت کی۔ وہ کہتے تھے۔ میں نے کہا: یا نبی اللہ! ہم ایسی قوم کے ملک میں ہیں کہ جو اہل کتاب ہیں، کیا ہم ان کے برتنوں میں کھالیں؟ اور ایسے ملک میں ہیں جہاں شکار ہوتا ہے میں اپنی کمان سے اور اپنے کتے کے ذریعہ سے جو سکھایا ہوا نہیں ہوتا یا اپنے اس کتے کے ذریعہ سے جو سکھایا ہوا ہوتا ہے شکار کروں تو کون سا شکار میرے لئے درست ہے؟ آپؐ نے فرمایا: جو تم نے اہل کتاب کا ذکر کیا ہے اگر تمہیں ان برتنوں کے سوا اور برتن ملیں تو ان میں نہ کھانا اور اگر نہ ملیں تو انہی کو دھو لو اور ان میں کھاؤ۔ اور جو تم اپنی کمان کے ذریعہ شکار کرو اور اللہ کا نام لیا ہو اسے کھاؤ اور جو اپنے سدھائے ہوئے کتے کے ذریعہ سے شکار کرو اور اس(اللہ) کا نام لیا ہو تو اسے بھی کھاؤ اور جو تم نے ایسے کتے سے شکار کیا ہو جو سکھایا ہوا نہیں اور پھر تم نے اس کو ذبح کر لیا ہو اسے بھی کھالو۔
(تشریح)یوسف بن راشد نے مجھ سے بیان کیا کہ وکیع اور یزید بن ہارون نے ہمیں بتایا۔ الفاظ یزید کے ہیں۔ان دونوں نے کہمس بن حسن سے، کہمس نے عبداللہ بن بریدہ سے، عبداللہ نے حضرت عبداللہ بن مغفلؓ سے روایت کی۔ انہوں نے ایک شخص کو دیکھا کہ وہ چھوٹے چھوٹے پتھر پھینک رہا تھا تو انہوں نے اس سے کہا: پتھر نہ پھینکو کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان پتھروں کے پھینکنے سے روکا ہے یا آپؐ ان پتھروں کے پھینکنے کو ناپسند کرتے تھے اور فرمایا کہ ان سے کوئی شکار نہیں ہوتا اور نہ کسی دشمن کو خراش پہنچتی ہے۔ البتہ دانت تو ڑ دیتے ہیں اور آنکھ پھوڑ دیتے ہیں۔ پھر حضرت عبداللہ بن مغفلؓ نے اس کو ان چھوٹے پتھروں کو پھینکتے دیکھا تو انہوں نے اس سے کہا: میں تم کو رسول اللہﷺ سے روایت کرتے ہوئے یہ بات بتاتا ہوں کہ آپؐ نے ان پتھروں کے پھینکنے سے روکا یا (کہا) ناپسند کیا اور تم پتھر پھینکتے ہو میں تم سے اتنی مدت تک بات نہیں کروں گا۔
(تشریح)قتیبہ بن سعید نے ہم سے بیان کیا کہ محمد بن فضیل نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے بیان (بن بشر) سے، بیان نے شعبی سے، شعبی نے حضرت عدی بن حاتم ؓ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا۔ میں نے کہا: ہم ایسے لوگ ہیں کہ جو ان کتوں کے ذریعہ سے شکار کرتے ہیں۔ آپؐ نے فرمایا: جب اپنے سدھائے کتے چھوڑو اور اللہ کا نام لے لو پھر جو تمہارے لئے پکڑیں اسے کھاؤ گو وہ مار ڈالیں مگر اس وقت نہیں کہ جب کتا اس میں سے کھائے کیونکہ میں ڈرتا ہوں کہیں اس نے اپنے لئے ہی پکڑا ہو۔ اور اگر تمہارے کتوں کے ساتھ ان کے علاوہ دوسرے کتے بھی شامل ہوگئے ہوں تو پھر نہ کھاؤ۔
موسیٰ بن اسماعیل نے ہمیں بتایا کہ ثابت بن یزید نے ہم سے بیان کیا۔ عاصم (بن سلیمان) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے شعبی سے، شعبی نے حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ سے، حضرت عدیؓ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی۔ آپؐ نے فرمایا: جب تم اپنے کتے کو چھوڑو اور اللہ کا نام لے لو پھر اس نے پکڑ لیا ہو اور مارڈالے تم اس کو کھاؤ اور اگر اس (کتے) نےکچھ کھا لیا ہو تو پھر نہ کھاؤ کیونکہ اس نے اپنے لئے پکڑا ہے اور اگر (وہ کتا)ایسے کتوں کے ساتھ مل گیا ہو کہ جن کو چھوڑتے وقت اللہ کا نام نہیں لیا گیا اور پھر وہ کچھ پکڑ لیں اور مار ڈالیں تو نہ کھاؤ کیونکہ تم نہیں جانتے کہ ان میں سے کس نے مارا اور اگر تم نے شکار کو تیرمارا ہو اور اس کو ایک یا دو دن کے بعد پا لیا ہو اور اس میں صرف تمہارے تیر کا نشان ہے تو کھاؤ، اگر پانی میں گر پڑا ہو تو نہ کھاؤ۔