بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 8 of 8 hadith
اسحاق بن نصر نے مجھے بتایا کہ ابواسامہ نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا: مجھے برید (بن عبداللہ) نے ابوبردہ سے روایت کرتے ہوئے بتایا۔ ابوبردہ نے حضرت ابوموسیٰ (اشعری) رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: میرے ہاں لڑکا پیدا ہوا تو میں اس کو لے کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا۔ آپؐ نے اس کا نام ابراہیم رکھا اور آپؐ نے ایک کھجور (چبا کر) اس کو گھٹی دی اور اس کے لئے برکت کی دعا کی اور بچہ مجھ کو دیا اور یہ حضرت ابوموسیٰؓ کی اولاد میں سب سے بڑا لڑکا تھا۔
مسدد نے ہم سے بیان کیا کہ یحيٰ (بن سعید قطان) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ہشام (بن عروہ) سے، ہشام نے اپنے باپ سے، ان کے باپ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی۔ وہ کہتی تھیں: نبی ﷺ کے پاس ایک بچہ لایا گیا کہ آپؐ اس کو گھٹی دیں۔ اس نے آپؐ پر پیشاب کردیا تو آپؐ نے اس (مقام) پر پانی بہادیا۔
علی بن عبداللہ (مدینی) نے ہمیں بتایا کہ سفیان (بن عیینہ) نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا: زہری نے ہمیں بتایا۔ زہری نے سعید بن مسیب سے، سعید نے حضرت ابوہریرہؓ سے، حضرت ابوہریرہؓ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی۔ آپؐ نے فرمایا کہ نہ فرع ہے اور نہ عتیرہ۔ سعید کہتے تھے اور فرع پہلے جنم کا اونٹنی کا بچہ ہے جو ان کے ہاں پیدا ہوتا وہ اسے اپنے پنڈتوں کے لئے ذبح کرتے تھے اور عتیرہ وہ قربانی ہے جو رجب میں ہوا کرتی۔
اسحاق بن نصر نے ہمیں بتایا کہ ابواُسامہ نے ہم سے بیان کیا کہ ہشام بن عروہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے اپنے باپ سے، ان کے باپ نے حضرت اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ وہ مکہ میں تھیں۔عبداللہ بن زبیرؓ ان کے حمل میں تھے۔ کہتی تھیں: میں جب (مکہ سے) نکلی تو (حمل کی مدت کو) پورا کررہی تھی۔ مدینہ میں آئی اور قباء میں اتری اور میں نے قباء میں بچہ جنا۔ پھر میں عبداللہؓ کو لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور اسے آپؐ کی گود میں رکھ دیا۔ آپؐ نے ایک کھجور منگوائی اور اس کو چبا کر اس کے منہ میں لعاب سے گھٹی دی، تو پہلی چیز جو اس کے پیٹ میں داخل ہوئی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا لعاب تھا۔ پھر آپؐ نے کھجور کو اس کے تالو میں لگا دیا اور آپؐ نے اس کے لئے دعا کی اور اس کو برکت دی۔ اور عبداللہ بن زبیرؓ پہلا بچہ تھا جو اسلام میں پیدا ہوا تو لوگ اس کے پیدا ہونے سے بہت ہی خوش ہوئے کیونکہ انہیں کہا گیا تھا کہ یہود نے تم پر جادو کردیا ہے۔ اب تمہارے ہاں اولاد نہیں پیدا ہوگی۔
مطر بن فضل نے مجھے بتایا کہ یزید بن ہارون نے ہم سے بیان کیا کہ عبداللہ بن عون نے ہمیں خبر دی۔انہوں نے انس بن سیرین سے، انس نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: حضرت ابوطلحہؓ کا ایک بیٹا بیمار تھا۔ حضرت ابوطلحہؓ کہیں باہر گئے اور وہ بچہ فوت ہو گیا۔ جب حضرت ابوطلحہؓ لَوٹے، پوچھنے لگے میرے بیٹےکا کیا حال ہے؟ حضرت امّ سلیمؓ نے کہا: اسے پہلے سے بہت آرام ہے اور حضرت امّ سلیمؓ نے ان کے سامنے شام کا کھانا رکھا اور انہوں نے کھایا۔ پھر انہوں نے ان سے تعلق قائم کیا۔ جب فارغ ہوئے تو کہنے لگیں: بچے کو دفن کر آؤ۔ جب حضرت ابوطلحہؓ صبح کو اٹھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپؐ سے یہ واقعہ بیان کیا۔ آپؐ نے یہ سن کر فرمایا: آج رات تم آپس میں ملے ہو؟ انہوں نے کہا: ہاں۔ آپؐ نے فرمایا: اے اللہ! ان دونوں کے لئے یہ رات مبارک کر۔ تو حضرت امّ سلیمؓ نے ایک لڑکا جنا۔ (حضرت انسؓ کہتے تھے:) مجھے حضرت ابوطلحہؓ نے کہا: اس بچہ کو حفاظت سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے جاؤ۔ چنانچہ وہ اس کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے آئے اور حضرت امّ سلیمؓ نے اس کے ساتھ کچھ کھجوریں بھی بھیجیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بچے کو لیا اور پوچھا: کیا اس کے ساتھ کچھ بھیجا ہے؟ لوگوں نے کہا: ہاں کچھ کھجوریں ہیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کھجور کو لیا اس کو چبایا۔ پھر اپنے منہ سے نکال کر بچے کے منہ میں ڈالیں اور آپؐ نے اس کو اس کی گھٹی دی اور اس کا نام عبداللہؓ رکھا۔ محمد بن مثنیٰ نے ہم سے بیان کیا کہ ابن ابی عدی نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابن عون سے، ابن عون نے محمد (بن سیرین) سے، محمد نے حضرت انسؓ سے روایت کی… اور پھر اسی حدیث کو بیان کیا۔
(تشریح)ابونعمان نے ہم سے بیان کیا کہ حماد بن زید نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ایوب (سختیانی) سے، ایوب نے محمد (بن سیرین) سے، محمد نے حضرت سلمان بن عامرؓ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: لڑکا پیدا ہوتو عقیقہ کرنا چاہیے۔ اور حجاج (بن منہال) نے بتایا کہ ہم سے حماد (بن سلمہ) نے بیان کیا کہ ہمیں ایوب (سختیانی) اور قتادہ اور ہشام (بن حسان) اور حبیب (بن شہید) نے (محمد) بن سیرین سے، انہوں نے حضرت سلمانؓ (بن عامر) سے، حضرت سلمانؓ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہوئے بتایا۔ اور کئی آدمیوں نے عاصم (بن سلیمان) اور ہشام (بن حسان) سے نقل کیا کہ انہوں نے حفصہ بنت سیرین سے، حفصہ نے رباب (بنت صلیع) سے، رباب نے حضرت سلمان بن عامر ضبیؓ سے، حضرت سلمانؓ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس حدیث کو روایت کیا۔ نیز یزید بن ابراہیم نے بھی (محمد) بن سیرین سے، انہوں نے حضرت سلمانؓ سے… یہی بات روایت کی۔
اور اصبغ (بن فرج) نے کہا: مجھے (عبداللہ) بن وہب نے جریر بن حازم سے، جریر نے ایوب سختیانی سے، ایوب نے محمد بن سیرین سے روایت کرتے ہوئے مجھے بتایا کہ ہم سے حضرت سلمان بن عامرضبیؓ نے بیان کیا۔ انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپؐ فرماتے تھے: لڑکے کے ساتھ عقیقہ چاہیے اور اس کی طرف سے خون بہاؤ اور تکلیف دینے والی شے کو اس سے دور کرو۔ عبداللہ بن ابی الاسود نے مجھ سے بیان کیا کہ قریش بن انس نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے حبیب بن شہید سے روایت کی۔ انہوں نے کہا کہ (محمد) بن سیرین نے مجھے حکم دیا کہ میں حسن (بصری) سے پوچھوں: انہوں نے عقیقہ کی حدیث کس سے سنی؟ میں نے ان سے پوچھا۔ انہوں نے کہا: حضرت سمرہ بن جندبؓ سے۔
(تشریح)عبدان نے ہم سے بیان کیا کہ عبداللہ (بن مبارک) نے ہمیں بتایا۔ معمر نے ہمیں خبر دی کہ زہری نے ہمیں بتایا۔ زہری نے (سعید) بن مسیب سے، سعید نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے، حضرت ابوہریرہؓ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی۔ آپؐ نے فرمایا: نہ اب فرع ہے اور نہ عتیرہ۔ اور فرع پہلے جنم کا بچہ ہے جسے وہ اپنے پنڈتوں وغیرہ کے لئے ذبح کیا کرتے تھے اور عتیرہ وہ قربانی ہے جو وہ رجب میں کیا کرتے تھے.