بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 35 hadith
مسدد نے ہم سے بیان کیا، کہا: ابوعوانہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے قتادہ سے، قتادہ نے حضرت انسؓ (بن مالک) سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: اس اثناء میں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے دن لوگوں سے مخاطب تھے کہ ایک شخص آپؐ کے پاس آیا ۔ اس نے کہا: یا رسول اللہ ! بارش نہیں ہوئی۔ آپؐ اللہ سے دعا کریں کہ ہم پر مینہ برسائے ۔ آپؐ نے دعا کی اور بارش ہوئی اور اتنی ہوئی کہ ہمارے لئے اپنے گھروں کو جانا مشکل ہوگیا۔ آئندہ جمعہ تک بارش ہوتی رہی۔ (حضرت انسؓ) کہتے تھے: و ہی شخص یا کوئی اور کھڑا ہوا اور کہا: یا رسول اللہ ! آپؐ اللہ سے دعا کریں کہ اب اس کو ہم سے ہٹا دے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے اللہ ! ہمارے ارد گرد ہو اور ہم پرنہ ہو۔ (حضرت انسؓ) کہتے تھے: میں نے دیکھا کہ بادل پھٹتے ہوئے دائیں اور بائیں طرف جارہے ہیں۔ لوگوں پر تو بار ش ہوتی تھی مگر مدینہ والوں پر نہ ہوتی تھی۔
(تشریح)حسن بن بشر نے ہم سے بیان کیا، کہا: معافیٰ ابن عمران نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے اوزاعی سے، اوزاعی نے اسحق بن عبداللہ (بن ابی طلحہ) سے، اسحق نے حضرت انس بن مالکؓ سے روایت کی کہ ایک شخص نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے جانور مرجانے اور بال بچوں کے تکلیف اٹھانے کی شکایت کی تو آپؐ نے اللہ تعالیٰ سے بارش کے لئے دعا کی اور اس نے یہ ذکر نہیں کیا کہ آپؐ نے چادر اُلٹائی اور نہ یہ بتایا کہ آپؐ قبلہ رخ ہوئے۔
ابوالیمان نے ہم سے بیان کیا، کہا: شعیب نے ہمیں بتایا۔ زہری سے مروی ہے۔ انہوں نے کہا: عباد بن تمیم نے مجھ سے بیان کیا کہ ان کے چچا نے جو کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے تھے، ان کو بتایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کو باہر لے گئے تا ان کے لئے مینہ برسنے کی دعا کریں۔ آپؐ کھڑے ہوئے اور کھڑے ہی کھڑے اللہ تعالیٰ سے دعا کی۔ پھر قبلہ کی طرف منہ کیا اور اپنی چادراُلٹائی اور اُن پر بارش ہوئی۔
ابونعیم نے ہم سے بیان کیا،( کہا: عبداللہ) بن ابی ذئب نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے زہری سے، زہری نے عباد بن تمیم سے، عباد نے اپنے چچا (حضرت عبداللہ بن زیدؓ) سے روایت کی۔ انہوں نے کہا کہ نبی ﷺ نماز استسقاء کے لئے نکلے اور قبلہ رخ ہوکر دعا کرتے رہے اور آپؐ نے اپنی چادر اُلٹائی۔ پھر آپؐ نے دو رکعتیں پڑھیں۔ ان میں بلند آواز سے قرآن مجید پڑھا۔
(تشریح)عبداللہ بن مسلمہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے مالک سے، مالک نے شریک بن عبداللہ (بن ابی نمر) سے، شریک نے حضرت انسؓ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا کہ ایک شخص نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور اس نے کہا: مویشی مرگئے اور راستے بند ہوگئے ہیں۔ آپؐ نے دعا کی اور اس جمعہ سے دوسرے جمعہ تک ہم پر بارش ہوتی رہی۔ پھر وہ آ یا اور اس نے کہا: گھر گر گئے اور راستے بند ہوگئے اور مویشی مر گئے۔آپ اللہ سے دعا کریں کہ بارش ہم سے روک لے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور آپؐ نے دعا کی: اے اللہ ! ٹیلوں پر اور پہاڑیوں پر اور نالوں پر اور درختوں کے اُگنے کی جگہ پر مینہ برسا چنانچہ مدینہ سے بادل کپڑے کی طرح پھٹ گئے۔
(تشریح)اسماعیل (بن ابی اویس ) نے ہم سے بیان کیا، کہا: مالک نے مجھے بتایا۔ انہوں نے شریک بن عبداللہ بن ابی نمر سے، شریک نے حضرت انسؓ بن مالک سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور اس نے کہا: یا رسول اللہ! مویشی مرگئے۔ راستے بند ہوگئے۔ آپؐ اللہ سے دعا کریں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی اور ان پر ایک جمعہ سے دوسرے جمعہ تک بارش ہوتی رہی۔ پھر ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ یا اور اس نے کہا: یارسو ل اللہ ! گھر گر گئے، راستے بند ہوگئے اور مویشی مرگئے ۔ رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی: یا اللہ ! پہاڑوں کی چوٹیوں پر اور ٹیلوں پر اور نالوں کے نشیبوں میں اور درخت اُگنے کی جگہوں میں بارش ہو۔ اس پر بادل مدینہ سے کپڑے کی طرح پھٹ گئے۔
(تشریح)عبداللہ بن یوسف نے ہم سے بیان کیا، کہا: مالک نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے شریک بن عبداللہ بن ابی نمر سے، شریک نے حضرت انس بن مالکؓ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور اس نے کہا: یا رسول اللہ ! مویشی مرگئے اور راستے بند ہوگئے۔ آپؐ اللہ سے دعا کریں۔ اس پر آپؐ نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی اور ہم پر ایک جمعہ سے دوسرے جمعہ تک بارش ہوتی رہی۔ پھر ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا۔ اس نے کہا: یا رسول اللہ! گھر گرگئے، راستے بند ہو گئے اور مویشی مرگئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی: اے اللہ ! پہاڑوں اور ٹیلوں کی پشتوں پر اور وادیوں کے نشیبوں اور درختو ں کے اُگنے کی جگہوں پر برسا ۔ چنانچہ مدینہ سے بادل کپڑے کی طرح پھٹ گئے۔
(تشریح)محمد بن کثیر نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان (ثوری) سے مروی ہے۔ انہوں نے کہا: منصور اوراعمش نے ابوالضحیٰ سے روایت کرتے ہوئے ہمیں بتایا کہ مسروق سے مروی ہے۔ انہوں نے کہا: میں حضرت ابن مسعودؓ کے پاس گیا تو انہوں نے کہا: قریش نے اسلام قبول کرنے میں توقف کیا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے خلاف دعاکی تو قحط سالی نے انہیں ایسا پکڑا کہ وہ اس میں ہلاک ہوگئے اور انہوں نے مردے اور ہڈیاں کھائیں۔ ابوسفیان آپؐ کے پاس آئے اور انہوں نے کہا: اے محمدؐ: آپؐ تو صلہ رحمی کا حکم کرنے کے لئے آئے ہیں اور حالت یہ ہے کہ آپؐ کی قوم ہلاک ہوگئی ہے۔ اللہ (عزو جل) سے دعا مانگیں۔ آپؐ نے یہ آیت پڑھی: فَارْتَقِبْ یَوْمَ تَأْتِی السَّمَآئُ بِدُخَانٍ مُّبِیْنٍ۔(خیر آپؐ نے دعا کی اور بارش ہوئی۔ قحط جاتا رہا۔) مگر پھر وہ ویسے ہی منکر ہوگئے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا تھا: (یعنی) جس دن ہم بہت بڑی گرفت کریں گے یعنی بدر کے دن۔(ابوعبد اللہ نے) کہا: اور اسباط (بن محمد) نے منصور سے روایت کرتے ہوئے یہ بات زائد کہی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی اور ان پر بارش ہوئی اور سات روز تک بادل ان پر چھایا رہا اور لوگوں نے کثرتِ باراں کی شکایت کی تو آپؐ نے فرمایا: اے اللہ ہمارے آس پاس ہو ہم پر نہ ہو تو بدلی آپؐ کے سر سے پھٹ گئی اور ان کے ارد گرد لوگوں پر بارش ہونے لگی۔
(تشریح)محمد بن ابی بکر نے ہم سے بیان کیا، (کہا:) معتمر نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عبید اللہ (عمری) سے، عبیداللہ نے ثابت سے، ثابت نے حضرت انسؓ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے دن (لوگوں سے) مخاطب تھے تو لوگ کھڑے ہوگئے اور چلائے اور کہا: یا رسول اللہ! بارش نہیں ہوتی اور درخت پیلے ہوگئے اور جانور تباہ ہوگئے۔ آپؐ اللہ سے دعا کریں کہ ہم پر بارش برسائے۔ آپؐ نے دعا کی۔ اے اللہ! ہمیں پانی پلا۔ دو دفعہ (آپؐ نے یہ کہا) اور اللہ کی قسم ہم آسمان میں بادل کا ایک ٹکڑا بھی نہیں دیکھتے تھے کہ اتنے میں ایک بدلی اٹھی اور برسنے لگی۔ آپؐ منبر سے اُتر آئے اور نماز پڑھی۔ جب نماز سے فارغ ہوگئے تو بارش برابر ہورہی تھی اور آئندہ جمعہ تک ہوتی رہی۔ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوکر خطبہ دینے لگے تو لوگ پھر آپؐ کے سامنے چلائے۔ گھر گرگئے اور راستے کٹ گئے۔ اس لئے آپؐ اللہ سے دعا کریں کہ وہ ہم سے بارش روک لے۔ اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم مسکرائے اور کہا: اے اللہ ! ہمارے گردا گردبرسے ہم پر نہ برسے ۔ مدینہ سے (بادل) پھٹ گئے اور اردگرد بارش ہونے لگی۔ مدینہ میں ایک قطرہ بھی نہیں برستا تھا۔ میں نے مدینہ کو دیکھا۔ یوں معلوم ہوتا کہ وہ (چاروں طرف پانی کی وجہ سے) تاج جیسی چیز میں رکھا ہوا ہے۔
(تشریح)اورابونعیم نے ہمیں بتایا اور انہوں نے زُہیر سے، زہیر نے ابواسحق سے روایت کی کہ( انہوں نے کہا:) حضرت عبداللہ بن یزید انصاری نکلے اور ان کے ساتھ حضرت براء بن عازب اور حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہم بھی نکلے۔ انہوں نے بارش کے لئے دعا کی۔ وہ ان کو لے کر اپنے پائوں پر کھڑے ہوئے منبر پر نہیں اور بارش٭ کے لئے دعا کی۔ پھر بلند آواز سے تلاوت کرتے ہوئے دو رکعتیں پڑھیں۔ نہ اذان دی اور نہ اقامت کہی۔ ابواسحق کہتے تھے:حضرت عبداللہ بن یزید (انصاریؓ) نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا تھا۔