بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 6 of 16 hadith
محمد بن بشار نے ہم سے بیان کیا کہ محمد بن ابی عدی نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے شعبہ سے، شعبہ نے سعد بن ابراہیم سے، سعد نے حمید بن عبدالرحمن سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہؓ سے،حضرت ابوہریرہؓ نے نبی ﷺ سے روایت کی کہ آپؐ نے فرمایا: میں یہ ارادہ کرنے لگا تھا کہ نماز پڑھنے کا حکم دوں اور وہ شروع کی جائے۔ پھر اس کے بعدایسے لوگوں کے گھروں پر جائوں جو نماز میں حاضر نہیں ہوتے۔ وہ اندر ہوں اور میں باہر سے اُن کے گھروں کو آگ لگا دوں۔
(تشریح)عبداللہ بن یوسف نے ہمیں بتایا کہ لیث نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا کہ مجھے سعید بن ابی سعید نے بتایا۔ انہوں نے حضرت ابوہریرہ ص سے سنا۔ وہ کہتے تھے:نبی ﷺ نے نجد کی طرف کچھ سوار بھیجے اور وہ بنی حنیفہ کا ایک شخص پکڑ لائے۔ اُسے ثمامہ بن اُثال کہتے تھے اور انہوں نے اُس کو مسجد کے ستونوں میں سے ایک ستون سے باندھ دیا۔
عبداللہ بن محمد نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے زہری سے، زہری نے عروہ سے، عروہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ عبدبن زمعہ اور سعد بن ابی وقاص نبی ﷺ کے پاس زمعہ کی لونڈی کے لڑکے سے متعلق جھگڑا لے کر گئے۔ سعدؓ نے کہا: یا رسول اللہ! میرے بھائی نے مجھے وصیت کی تھی کہ جب میں (مکہ) پہنچوں تو ’’زمعہ کی لونڈی کے لڑکے کو دیکھو اور اُسے قبضہ میں لے لو کیونکہ وہ میرا بیٹا ہے۔‘‘ اور عبدبن زمعہ نے کہا: (وہ لڑکا) میرا بھائی ہے اور میرے باپ کی لونڈی کا بیٹا ہے جو میرے باپ کے بستر پر پیدا ہوا۔ نبی ﷺ نے عتبہ سے کھلے طور پر مشابہت دیکھی اور فرمایا: عبدبن زمعہ یہ لڑکا تجھے ہی ملے گا کیونکہ بچہ اُس کو ملتا ہے جو عورت کا خاوند یا مالک ہو اور (امّ المؤمنین) حضرت سودہؓ (بنت زمعہ) سے کہا: سودہؓ! تم اس سے پردہ کیا کرو۔
(تشریح)قتیبہ نے ہم سے بیان کیا کہ لیث نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے سعید بن ابی سعید سے روایت کی کہ انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا۔ کہتے تھے: رسول اللہ ﷺ نے نجد کی طرف کچھ سوار بھیجے اور وہ قبیلہ بنی حنیفہ کا ایک شخص لے آئے جسے ثمامہ بن اُثال کہتے تھے۔ وہ یمامہ والوں کا سردار تھا۔ صحابہؓ نے مسجد کے ستونوں میں سے ایک ستون سے اُسے باندھ دیا۔ رسول اللہ ﷺ اُس کے پاس باہر آئے۔ آپؐ نے پوچھا: ثمامہ! تم نے کیا کہنا ہے۔ اُس نے کہا: محمدؐ بھلی بات ہی کہنی ہے اور پھر آخر تک واقعہ بیان کیا۔ آپؐ نے فرمایا: ثمامہ کو چھوڑ دو۔
(تشریح)یحيٰ بن بکیر نے ہم سے بیان کیا کہ لیث نے ہمیں بتایا۔ ( انہوں نے کہا:) جعفر بن ربیعہ سے روایت ہے اور یحيٰ کے سوا اَور راویوں نے بھی کہا کہ لیث نے مجھے بتایا۔ وہ کہتے تھے: جعفر بن ربیعہ نے مجھے بتایا۔انہوں نے عبدالرحمن ۲؎ بن ہرمز سے، عبدالرحمن نے عبداللہ بن کعب بن مالک انصاری سے، انہوں نے حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ حضرت عبداللہ بن ابی حَدْرَدْاسلمیؓ کے ذمّہ ان کا کچھ قرضہ تھا۔ وہ عبداللہ ؓسے ملے اور ان سے چمٹ گئے اور آپس میں باتیں کرنے لگے، یہاں تک کہ اُن کی آوازیں بلند ہوئیں۔ اتنے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس سے گزرے۔ آپؐ نے فرمایا: کعبؓ! آپؐ نے ہاتھ سے اشارہ کیا۔ جس سے معلوم ہوتا تھا کہ آپؐ فرماتے ہیں کہ آدھا چھوڑ دو۔ چنانچہ حضرت عبداللہؓکے ذمّہ جو قرضہ تھا۔ حضرت کعبؓ نے اُن سے آدھا لیا اور آدھا چھوڑ دیا۔
(تشریح)اسحاق (بن راہویہ) نے ہمیں بتایا کہ وہب بن جریر بن حازم نے ہم سے بیان کیا کہ شعبہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے اعمش سے، اعمش نے ابوضحی سے، انہوں نے مسروق سے، مسروق نے حضرت خبابؓ سے روایت کی ۔ انہوں نے کہا: میں زمانہ جاہلیت میں لوہار تھا اور عاص بن وائل کے ذمّے میرے کچھ درہم قرضہ تھے۔ میں اس کے پاس آیا اور اس سے تقاضا کرنے لگا۔ اُس نے کہا: میں تجھے اُس وقت تک نہیں دوں گا جب تک کہ تو محمدؐ کا انکار نہ کرے۔ میں نے کہا: بخدا ایسا ہرگز نہیں ہوسکتا۔ اگر اللہ تجھے مار کر پھر اُٹھا بھی دے تب بھی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا انکار نہیں کر سکتا۔ اس نے کہا: مجھے پھر مرنے دو۔ دوبارہ زندہ ہوکر مال بھی ملے گا اور اولاد بھی۔ پھر تمہارا قرض چکائوں گا۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی: کیا تو نے اُس شخص کو دیکھا جس نے اللہ کے حکموں کا انکار کیااور اُس نے کہا: مجھے مال اور اولاد ضرور دئیے جائیں گے۔
(تشریح)