بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 16 hadith
ابوالولید نے ہم سے بیان کیا کہ شعبہ نے ہمیں بتایا، کہا: عبدالملک بن میسرہ نے مجھے بتایا۔ انہوں نے کہا کہ میں نے نزال بن سَبرہ سے سنا۔ (وہ کہتے تھے:) میں نے حضرت عبداللہ(بن مسعودؓ) سے سنا۔ انہوں نے کہا: میں نے ایک شخص کو سنا۔ اُس نے ایک آیت اس طرح پڑھی کہ میں نے وہ آیت نبی ﷺ سے بالکل اور طرح سنی تھی۔ میں نے اُس کا ہاتھ پکڑا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے آیا۔ آپؐ نے فرمایا: تم دونوں ہی ٹھیک پڑھتے ہو۔ شعبہ نے کہا: میں سمجھتا ہوں کہ آپؐ نے یہ بھی فرمایا: آپس میں اختلاف نہ کیا کرو کیونکہ تم سے جو پہلے تھے انہوں نے آپس میں اختلاف کیا اور وہ ہلاک ہو گئے۔
موسیٰ( بن اسماعیل) نے ہم سے بیا ن کیا کہ ہمام نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے قتادہ سے، قتادہ نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ ایک یہودی نے کسی لڑکی کا سر دو پتھروں سے کُچلا۔ اُس (لڑکی) سے پوچھا گیا کہ تیرا سر کس نے کُچلا ہے؟ کیا فلاں نے یا فلاں نے ؟ جب اُس یہودی کا نام لیا گیا تو اُس نے اپنے سر سے اشارہ کیا۔ وہ یہودی پکڑا گیا اور اُس نے اقرار کیا تو نبی
موسیٰ بن اسماعیل نے ہمیں بتایا۔ عبدالعزیز بن مسلم نے ہم سے بیان کیا۔( انہوں نے کہا:) عبداللہ بن دینار نے ہم سے بیان کیا، کہا: میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے سنا۔ وہ کہتے تھے: ایک شخص کو خریدوفروخت میں فریب دیا جاتا تھا۔ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اُس سے فرمایا: جب تم خریدوفروخت کرو تو یہ کہہ دیا کرو کہ دھوکہ فریب کی بات نہیں ہوگی۔ چنانچہ وہ یہ کہہ دیا کرتا تھا۔
عاصم بن علی نے ہم سے بیان کیا کہ ابن ابی ذئب نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے محمد بن منکدر سے، انہوں نے حضرت جابررضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ ایک شخص نے اپنے غلام کو آزاد کردیا۔ اس کے سوا اُس کی کوئی جائیداد نہ تھی۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اُس کے آزاد کرنے کو روا نہ رکھا اور پھر نُعَیم بن نحام نے اُس سے وہ (غلام) خرید لیا۔
یحيٰ بن قزعہ نے ہم سے بیان کیا کہ ابراہیم بن سعد نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابن شہاب سے، ابن شہاب نے ابوسلمہ اور عبدالرحمن اعرج سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔انہوں نے کہا کہ دو اشخاص نے آپس میں گالی گلوچ کی۔ ایک مسلمان تھا اور ایک یہودی۔ مسلمان نے کہا:اُس ذات کی قسم! جس نے حضرت محمد ﷺ کو تمام قوموں میں سے بہتر سمجھ کر منتخب کیا۔ تو یہودی نے کہا: اُس ذات کی قسم! جس نے حضرت موسٰی ؑ کوتمام قوموں میں سے بہتر سمجھ کر منتخب کیا۔ اس پر مسلمان نے اپنا ہاتھ اٹھایا اوریہودی کے منہ پر تھپڑ لگایا۔ وہ یہودی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا اور اُس نے جو واقعہ اُس کے اور مسلمان کے درمیان گزرا تھا، وہ بیان کیا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اُس مسلمان کو بلایا اور آپؐ نے اس سے اس (شکایت) کی بابت دریافت فرمایا۔ اُس نے آپؐ سے سارا ماجرا بیان کیا تونبی ﷺ نے فرمایا: موسٰی ؑ پر مجھے فضیلت نہ دو؛ کیونکہ لوگ قیامت کے روز بے ہوش ہو جائیں گے۔ میں بھی اُن کے ساتھ بے ہوش ہوں گا اور میں ہی پہلا ہوں گا جسے ہوش آئے گا۔ تو میں کیا دیکھتا ہوں کہ موسٰی ؑ عرشِ الٰہی کا پایہ پکڑے ہوئے ہیں۔ میں نہیں جانتا آیا وہ بھی اُن میں سے تھے جو بے ہوش ہوئے اورپھر انہوں نے مجھ سے پہلے ہوش سنبھالا، یا وہ اُن میں سے تھے جنہیں اللہ نے مستثنیٰ کیا تھا۔
موسیٰ بن اسماعیل نے مجھے بتایا۔ وہیب نے ہم سے بیان کیا کہ عمرو بن یحيٰ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے اپنے باپ سے، اُن کے باپ نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: ایک دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک یہودی آیا اور اُس نے کہا: اے ابوالقاسم ! آپؐ کے ساتھیوں میں سے ایک شخص نے میرے منہ پر تھپڑ مارا ہے۔ آپؐ نے پوچھا : کس نے ؟ اُس نے کہا:انصار میں سے ایک شخص نے۔ آپؐ نے فرمایا: اُسے بلائو۔ (جب وہ آیا) آپؐ نے (اُس سے ) پوچھا:کیا تم نے اسے مارا ہے؟ اُس نے جواب دیا: میں نے اس (یہودی) کو بازار میں یہ قسم کھاتے سنا تھا کہ اس ذات کی قسم! جس نے حضرت موسٰی ؑکو تمام لوگوں سے بہتر سمجھ کر چن لیا ہے۔ میں نے کہا: او خبیث! حضرت محمد ﷺ پربھی۔مجھے غصہ آیا اور میں نے اس کے منہ پر طمانچہ مارا۔ نبی ﷺ نے فرمایا: انبیاء کو ایک دوسرے پر (اس طرح) فضیلت نہ دیا کرو کیونکہ لوگ قیامت کے دن بے ہوش ہو جائیں گے اور میں پہلا ہوں گا جو زمین پھٹنے پر باہر نکلوں گا اور میں کیا دیکھتا ہوں کہ موسٰی ؑعرش کے پایوں میں سے ایک پایہ پکڑے ہوئے ہیں۔ میں نہیں جانتا، آیا وہ اُن میں سے تھے جو بے ہوش ہوئے یا پہلے کی بے ہوشی ہی اُن کے لئے کافی سمجھی گئی۔
محمد (بن سلام) نے ہم سے بیا ن کیا کہ ابومعاویہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے اعمش سے، اعمش نے شقیق سے، شقیق نے حضرت عبداللہ (بن مسعود) رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شخص قسم کھائے اور وہ اُس میں جھوٹا ہو اور اس (قسم) کے ذریعے سے کسی مسلم کا مال مارلے تو وہ اللہ سے ایسی حالت میں ملے گا کہ اللہ اُس سے ناراض ہوگا۔ کہا کہ حضرت اشعثؓ کہتے تھے: بخدا یہ بات تو (آپؐ نے) میری ہی نسبت (فرمائی) تھی۔ (واقعہ یہ ہوا کہ) میری اور ایک یہودی کی مشترکہ زمین تھی تو اُس نے میرے حق کا انکار کر دیا۔ میں نے نبی ﷺ کے سامنے اُسے پیش کیا تو رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے پوچھا: کیا تمہارے پاس شہادت ہے؟ میں نے کہا: نہیں۔ (حضرت اشعثؓ) کہتے تھے:آپؐ نے اس یہودی سے کہا: قسم کھائو۔ (حضرت اشعثؓ) کہتے تھے: میں نے کہا: یارسول اللہ! یہ تو قسم کھالے گا اور میرا مال لے جائے گا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی: جو لوگ اللہ کے عہد اور اپنی قسموں کے بدلے تھوڑی پونجی لیتے ہیں۔
محمد (بن سلام) نے ہم سے بیا ن کیا کہ ابومعاویہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے اعمش سے، اعمش نے شقیق سے، شقیق نے حضرت عبداللہ (بن مسعود) رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شخص قسم کھائے اور وہ اُس میں جھوٹا ہو اور اس (قسم) کے ذریعے سے کسی مسلم کا مال مارلے تو وہ اللہ سے ایسی حالت میں ملے گا کہ اللہ اُس سے ناراض ہوگا۔ کہا کہ حضرت اشعثؓ کہتے تھے: بخدا یہ بات تو (آپؐ نے) میری ہی نسبت (فرمائی) تھی۔ (واقعہ یہ ہوا کہ) میری اور ایک یہودی کی مشترکہ زمین تھی تو اُس نے میرے حق کا انکار کر دیا۔ میں نے نبی ﷺ کے سامنے اُسے پیش کیا تو رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے پوچھا: کیا تمہارے پاس شہادت ہے؟ میں نے کہا: نہیں۔ (حضرت اشعثؓ) کہتے تھے:آپؐ نے اس یہودی سے کہا: قسم کھائو۔ (حضرت اشعثؓ) کہتے تھے: میں نے کہا: یارسول اللہ! یہ تو قسم کھالے گا اور میرا مال لے جائے گا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی: جو لوگ اللہ کے عہد اور اپنی قسموں کے بدلے تھوڑی پونجی لیتے ہیں۔
عبداللہ بن محمد نے ہم سے بیان کیا کہ عثمان بن عمر نے ہمیں بتایا، (کہا:) یونس نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے زہری سے، زہری نے عبداللہ بن کعب بن مالک سے، عبداللہ نے حضرت کعب رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے (حضرت عبد اللہ)بن ابی حَدْرَدْ ؓ سے مسجدمیں اپنے قرض کا تقاضا کیا جو اُن کے ذمہ تھا۔ اُن دونوں کی آوازیں اِتنی بلندہوئیں کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی سنیں حالانکہ آپؐ اپنے گھر میں تھے۔ اس پر آپؐ اُن کی طرف آئے اور اپنے حجرے کا پردہ اُٹھا کر آوازدی: کعبؓ! انہوں نے کہا: یا رسول اللہ! حاضر ہوں۔ آپؐ نے فرمایا: اپنے اس قرضے سے اتنا چھوڑ دو، اور اُن کو اشارہ سے بتایا یعنی آدھا۔ حضرت کعبؓ نے کہا: یا رسول اللہ! میں نے چھوڑ دیا۔ تب آپؐ نے (عبداللہ ؓسے) فرمایا: اُٹھو اوراس کا قرضہ ادا کرو۔
عبداللہ بن یوسف نے ہم سے بیان کیا کہ مالک نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابن شہاب سے، ابن شہاب نے عروہ بن زبیر سے، عروہ نے عبدالرحمن بن عبدالقاری سے روایت کی کہ انہوں نے کہا:میں نے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے سنا۔ وہ کہتے تھے: میں نے حضرت ہشام بن حکیم بن حزامؓ کو سورۃ فرقان جیسے میں پڑھاکرتا تھا اس کے سوا دوسری طرح پڑھتے سنا۔ اور مجھے یہ (سورۃ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑھائی تھی اور قریب تھا کہ میں اُن پر لپک پڑتا مگر میں نے انہیں اتنی مہلت دی کہ انہوں نے نمازپڑھ لی۔ اُس کے بعد میں نے اُن کی چادر سینے سے پکڑ کر انہیں کھینچا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے آیا۔ میں نے کہا: (سورۂ فرقان) جس طرح آپؐ نے مجھے پڑھائی تھی اس کے خلاف (ہشام کو) اور طرح پڑھتے سنا ہے۔ آپؐ نے مجھ سے فرمایا: ان کو چھوڑ دو۔ پھر آپؐ نے اُن سے کہا: پڑھو۔ چنانچہ انہوں نے پڑھا۔ آپؐ نے فرمایا: اسی طرح نازل ہوئی ہے۔ اس کے بعد آپؐ نے مجھ سے فرمایا: تم پڑھو اور میں نے پڑھی تو آپؐ نے فرمایا: اسی طرح نازل ہوئی ہے۔ (پھر فرمایا:) قرآن سات اُسلوب پر نازل ہوا ہے۔ تم اُس میں سے جو بھی آسان ہو پڑھو۔
(تشریح)