بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 14 hadith
آدم نے ہم سے بیان کیا کہ شعبہ نے ہمیں بتایا۔ (دوسری سند)اور محمد بن بشارنے بھی مجھے بتایا۔ غندر (محمد بن جعفر) نے ہم سے بیان کیا کہ شعبہ نے سلمہ سے روایت کرتے ہوئے ہمیں بتایا۔ (کہتے تھے) کہ میں نے سُوید بن غفلہ سے سنا۔ انہوں نے کہا: میں حضرت ابی بن کعب ص سے ملا تو انہوں نے کہا: میں نے ایک تھیلی پائی جس میں ایک سو اَشرفیاں تھیں۔ میں نبی ﷺ کے پاس آیا۔ آپؐ نے فرمایا: سال بھر (لوگوں میں) اس کا اعلان کرتے رہو۔ چنانچہ مَیں سال بھر تک اُس کی شناخت کراتا رہا۔ میں نے کوئی نہ پایا جو اُسے پہچانتا ہو۔ پھر میں آپؐ کے پاس آیا۔ آپؐ نے فرمایا: ایک سال اور اسے شناخت کرائو۔ چنانچہ میں نے اس کو شناخت کرایا تو بھی نہ پایا۔ پھرمیں آپؐ کے پاس تیسری بار آیا۔ آپؐ نے فرمایا: اس کی تھیلی اور اس کا بندھن محفوظ رکھو اور اس کی رقم کی گنتی بھی یاد رکھو۔ اگر اس کا مالک آجائے تو بہتر ورنہ اس سے فائدہ اٹھائو۔ چنانچہ میں نے (اس سے) فائدہ اٹھایا۔ پھر بعد میں مکہ میں اس کا مالک مجھے مل گیا۔ کہتے تھے: مجھے پتہ نہیں کہ (حضرت ابیؓ نے) تین سال بتائے یا ایک سال۔ طرفہُ: ۲۴۳۷۔
عمرو بن عباس نے مجھے بتایا۔ عبدالرحمن (بن مہدی) نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان نے ربیعہ سے روایت کرتے ہوئے ہمیں بتایا۔ (انہوں نے کہا:) منبعث کے غلام یزید نے مجھے بتایا کہ حضرت زید بن خالد جُہنی ص سے روایت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک بدوی نبی ﷺ کے پاس آیا اور آپؐ سے ان چیزوں کی نسبت پوچھا جو وہ گری پڑی اٹھا لیتا ہے۔ آپؐ نے فرمایا: ایک سال تک اسے شناخت کرائو اور اس کی تھیلی اور بندھن محفوظ رکھو۔ اگر (مالک) آجائے اوروہ تمہیں اس کا صحیح صحیح پتہ بتائے تو اس کے سپرد کردو، ورنہ اس کو اپنے کام میں لائو۔ اس نے کہا: یارسول اللہ! بھولی بھٹکی بکری ہو (تو اس کے متعلق کیا ارشاد ہے؟) آپؐ نے فرمایا: وہ تیری یا تیرے بھائی کی یا بھیڑئیے کی ہے۔ اُس نے کہا: بھولا بھٹکا اونٹ ہو؟ اس پر نبی ﷺ کے چہرے کا رنگ بدلا۔ آپؐ نے فرمایا: تجھے اس سے کیا غرض؟ اس کے پاس پائوں ہیں اور اس کی مشک ہے۔ پانی پی لیتا ہے اور درختوں سے کھا لیتا ہے۔
اسماعیل بن عبد اللہ نے ہم سے بیان کیا، کہا: سلیمان بن بلال (تیمی) نے مجھے بتایا۔ انہوں نے یحيٰ ( بن سعید انصاری) سے، یحيٰ نے منبعث کے آزادکردہ غلام یزید سے روایت کی کہ انہوں نے حضرت زید بن خالد ص سے سنا۔ وہ کہتے تھے: نبی ﷺ سے گری پڑی چیز کی نسبت پوچھا گیا تو ان کا خیال تھا کہ آپؐ نے فرمایا: اس کی تھیلی اور بندھن پہچان رکھو۔ پھر اس کو سال بھر شناخت کراتے رہو۔ یزید کہتے تھے: اگر وہ پہچانی نہ جائے تو جس نے وہ اٹھائی ہو، وہ اس کو کام میں لائے اور وہ چیز اس کے پاس امانت ہوگی۔ یحيٰ نے کہا: یہ (فقرہ) میں نہیں جانتا کہ آیا رسول اللہ ﷺ کی حدیث میں ہے یا ایسی ہی بات ہے جو یزید کی طرف سے (بڑھائی ہوئی) ہے۔ پھر اس نے پوچھا: بھولی بھٹکی بکری سے متعلق آپؐ کا کیا خیال ہے؟ نبی ﷺ نے فرمایا: اُسے بھی لے لو کیونکہ وہ تیری ہے یا تیرے بھائی کی یا بھیڑئیے کی۔ یزید نے کہا: اور وہ بھی شناخت کرائی جائے۔ پھر اس شخص نے کہا:بھولے بھٹکے اونٹ سے متعلق آپؐ کا کیا خیال ہے؟ (یزید نے) کہا: آپؐ نے فرمایا: اسے رہنے دو کیونکہ اس کے ساتھ پائوں ہیں اور مشک ہے۔ پانی پی لیتا ہے اور درختوں سے کھاتا ہے، یہاں تک کہ اس کا مالک اسے پالیتا ہے۔
عبداللہ بن یوسف نے ہم سے بیان کیا کہ مالک نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ربیعہ بن ابی عبدالرحمن سے، ربیعہ نے منبعث کے آزاد کردہ غلام یزید سے، یزید نے حضرت زید بن خالد ص سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: ایک شخص رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور اُس نے آپؐ سے گری پڑی چیز کی نسبت پوچھا۔ آپؐ نے فرمایا: اس کی تھیلی اور اس کا بندھن پہچان رکھو اور پھر سال بھر تک اس کا اعلان کرتے رہو۔ اگر اُس کا مالک آگیا تو بہتر ورنہ جو چاہو کرو۔ اس نے پوچھا: بھولی بھٹکی بکری ہو تو اس کے متعلق کیا حکم ہے؟ آپؐ نے فرمایا: وہ تمہاری ہے یا تمہارے بھائی کی یابھیڑئیے کی۔ اس نے پوچھا: بھولا بھٹکا اُونٹ ہو تو اُس کے متعلق کیا ارشاد ہے؟ آپؐ نے فرمایا: تجھے اس سے کیا غرض ؟ اس کے ساتھ اس کی مشک ہے اور اس کے پائوں ہیں۔ پانی پی لیتا ہے اور درختوں سے کھاتا ہے، یہاں تک کہ اس کا مالک اس سے آملتا ہے۔
محمد بن یوسف نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے منصور (بن معتمر) سے، منصور نے طلحہ(بن مصرف)سے، طلحہ نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم راستے میں گری پڑی کھجور کے پاس سے گزرے ۔ آپؐ نے فرمایا: اگر مجھے خوف نہ ہوتا کہ کہیں صدقے کی نہ ہو تو میں اسے کھا لیتا۔ طرفہُ: ۲۰۵۵۔
اور یحيٰ (بن سعید قطان) نے کہا: سفیان (ثوری) نے ہم سے بیان کیا کہ منصور نے مجھے بتایا اور زائدہ (بن قدامہ) نے (بھی) منصور سے روایت کرتے ہوئے کہا، منصور نے طلحہ سے۔(طلحہ نے کہا) کہ حضرت انسؓ نے ہمیں بتایا۔ (دوسری سند) اور محمد بن مقاتل نے بھی ہم سے بیان کیا کہ عبداللہ (بن مبارک) نے ہمیں خبردی کہ معمر نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ہمام بن منبّہ سے، ہمام نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے، حضرت ابوہریرہؓ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپؐ نے فرمایا: میں اپنے گھر والوں کے پاس لوٹ کرجاتا ہوں اور کبھی اپنے بستر پر کھجور گری ہوئی پاتا ہوں تو میں اُسے کھانے کے لئے اُٹھا لیتا ہوں ۔ پھر ڈرتا ہوںکہ کہیں صدقے کی نہ ہواور اُسے چھوڑ دیتا ہوں۔
اور احمد بن سعید (رباطی) نے کہا: روح نے ہمیں بتایا کہ زکریا نے ہم سے ذکر کیا۔ (انہوں نے کہا:) عمرو بن دینار نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عکرمہ سے، عکرمہ نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اس (مکہ) کا درخت نہ کاٹا جائے، اور نہ وہاں کا شکار بھگایا جائے، اور نہ وہاں کی گری پڑی چیز اُٹھانی جائز ہے مگر صرف اُسی شخص کو گری پڑی چیز اُٹھانے کی اجازت ہے جو اعلان کرکے اُس کو شناخت کروائے، اور نہ وہاں کی گھاس کاٹی جائے۔ اس پر حضرت عباسؓ نے کہا: یارسول اللہ! اذخر گھاس کو مستثنیٰ کردیجئے۔ آپؐ نے فرمایا: اچھا اذخر گھاس کاٹ سکتے ہو۔
یحيٰ بن موسیٰ نے ہمیں بتایا۔ ولید بن مسلم نے ہم سے بیان کیا کہ اوزاعی نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے کہا: یحيٰ بن ابی کثیر نے مجھ سے بیان کیا، کہا: ابوسلمہ بن عبدالرحمن نے مجھ سے بیان کیا۔ کہتے تھے: حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے مجھے بتایا۔ انہوں نے کہا: جب اللہ نے اپنے رسول ﷺ کے لیے مکہ کو فتح کرادیا تو آپؐ لوگوں میں تقریر کرنے کے لئے کھڑے ہوئے اور اللہ کی حمد و ثنا کی۔ پھر آپؐ نے فرمایا کہ اللہ نے مکہ کو اَصحاب فیل کے حملہ سے محفوظ رکھا تھا اور اپنے رسول کو اور مومنوں کو اُس پر غلبہ دے دیا۔ مجھ سے پہلے کسی کے لئے وہ جائز نہ تھا اور میرے لئے بھی دن کی ایک گھڑی ہی جائز کیا گیا اور اب میرے بعد کسی کے لئے بھی جائز نہ ہوگا۔ اس لئے اس کا شکار نہ بھگایا جائے، اور نہ اس کے کانٹے توڑے جائیں، اور نہ اس کی گری پڑی چیز اُٹھانی جائز ہوگی مگر ایسے شخص کے لئے جو اس کی شناخت کرانے کے لئے اعلان کرے۔اور جس کا کوئی عزیز مارا جائے تو اُسے دو باتوں کا اختیار ہے۔یا تو دیت لے یا قصاص۔ حضرت عباسؓ نے کہا: اذخر کو مستثنیٰ فرمادیجئے کیونکہ ہم اس کو اپنی قبروں اور اپنے گھروں (کی چھتوں) پر ڈالتے ہیں۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا: اِذخر گھاس مستثنیٰ کی جاتی ہے۔ پھر ابوشاہؓ کھڑے ہوئے جو اہل یمن میں سے تھے۔ وہ کہنے لگے: یارسول اللہ! (یہ خطبہ) مجھے لکھوادیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ابوشاہؓ کو (یہ) لکھ دو۔ میں نے اوزاعی سے پوچھا: ان کی اس بات کا کیا مطلب تھا کہ یا رسول اللہ! مجھے لکھوادیں ۔ انہوں نے کہا: یہ خطبہ جو انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا تھا۔
عبداللہ بن یوسف نے ہم سے بیان کیا کہ مالک نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے نافع سے، نافع نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کوئی کسی شخص کے مویشی بغیر اُس کی اجازت کے نہ دوہے۔ کیا تم میں سے کوئی پسند کرتا ہے کہ کوئی اُس کے گودام میں آئے اور اُس کے ذخیرہ کا تالہ توڑے اور اس کا اناج اُٹھا لے جائے۔ اسی طرح ان کے مواشی کے تھن ان کے لئے ان کے کھانے پینے کی چیزیں جمع رکھتے ہیں۔ اس لئے کوئی کسی کے مویشی بغیر اس کی اجازت کے نہ دوہے۔