بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 5 of 15 hadith
ابوالولید نے ہم سے بیان کیا کہ شعبہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عبدالرحمن بن اصبہانی سے، عبدالرحمن نے عبداللہ بن معقل سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: حضرت کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ کے پاس میں بیٹھا اور فدیہ کی بابت ان سے پوچھا تو انہوں نے کہا: یہ آیت خاص طور پر میرے متعلق نازل ہوئی اور تمہارے لئے عام ہے۔ رسول اللہ ﷺ کے پاس مجھے سوار کرکے لے گئے اور حالت یہ تھی کہ جوئیں میرے منہ پر لگاتار جھڑ رہی تھیں تو آپؐ نے فرمایا: میں نہیں سمجھتا تھا کہ تمہاری بیماری اس حد تک پہنچ چکی ہے؛ جو میں دیکھ رہا ہوں۔ یا فرمایا: میں نہیں سمجھتا کہ تکلیف اس حد تک ہوچکی ہے؛ جس میں مَیں تمہیں دیکھ رہا ہوں۔ کیا بکری کی طاقت ہے؟ میں نے کہا: نہیں۔ تو آپؐنے فرمایا:ـ تین روزے رکھو یا چھ مسکینوں کو کھانا کھلائو؛ ہر مسکین کو نصف صاع (اناج)۔
(تشریح)اور محمد بن یوسف سے بھی مروی ہے کہ (انہوں نے کہا:) ورقاء نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے ابن ابی نجیح سے، انہوں نے مجاہد سے روایت کی کہ عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ نے ہمیں خبر دی کہ حضرت کعب بن عجرہ ص سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دیکھا اور حالت یہ تھی کہ ان کی جوئیں ان کے منہ پر گر رہی تھیں۔ پھر انہوں نے ویسا ہی کیا۔ ( جیسا اوپر کی روایت میں ہے۔)
سلیمان بن حرب نے ہم سے بیان کیا کہ شعبہ نے ہمیں بتایا۔ انہوںنے منصور سے، منصور نے ابوحازم سے، ابوحازم نے حضرت ابوہریرہ ص سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: رسول اللہ ا نے فرمایا: جس نے اس گھر کا حج کیا اور شہوت کی بات نہ کی اور نہ الٰہی احکامات کی نافرمانی کی تو گویا وہ لوٹ گیا؛ ایسا ہی جیسا کہ اس کی ماں نے اسے جنا۔
محمد بن یوسف(فریابی) نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان (ثوری) نے ہمیں بتایا۔ انہوںنے منصور سے، منصور نے ابوحازم سے، ابوحازم نے حضرت ابوہریرہ ص سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: نبی ﷺ نے فرمایا: جس نے اس گھر کا حج کیا اور شہوت کی کوئی بات نہ کی اورنہ نافرمانی کی تو وہ اس دن کی طرح لوٹا؛ جس دن کہ اس کی ماں نے اسے جنا تھا۔
اسحق نے ہم سے بیان کیا کہ روح نے ہمیں بتایا۔ شبل نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے (عبداللہ) بن ابی نجیح سے، ابن ابی نجیح نے مجاہد سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ نے حضرت کعب بن عجرہ ص سے روایت کی کہ (انہوں نے مجھ سے بیان کیا۔) رسول اللہﷺ نے انہیں دیکھا اور حالت یہ تھی کہ جوئیں ان کے منہ پر گر رہی تھیں۔ تو آپؐ نے فرمایا: کیا تیری جوئیں تجھے تکلیف دے رہی ہیں۔میں نے کہا: جی ہاں۔ آپؐ نے انہیں فرمایا کہ سر منڈوا لو۔ اس وقت آپؐحدیبیہ میں تھے اور ابھی تک انہیں واضح طور پر معلوم نہیں ہوا تھا کہ وہ وہیں احرام کھول کر آزاد ہوجائیں گے اور انہیں امید تھی کہ مکہ میں داخل ہوں گے۔ تو اللہ تعالیٰ نے فدیہ کا حکم اتارا ۔ رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا: ایک فرق (اناج) چھ آدمیوں کے درمیان کھانے کے لئے تقسیم کر دیںیا ایک بکری قربانی کریں۔ یا تین دن روزے رکھیں۔