بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 33 hadith
عبداللہ بن یوسف نے ہم سے بیان کیا کہ مالک نے ہمیں خبردی ۔ انہوں نے سمی سے جو ابوبکر بن عبدالرحمن کے آزاد کردہ غلام تھے۔ انہوں نے ابوصالح سمان سے، سمان نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک عمرہ دوسرے عمرہ تک کفارہ ہے، ان کوتاہیوں کا جو اِن دونوں کے درمیان ہو گئی ہوں اور مقبول حج کا بدلہ جنت ہی ہے۔
(تشریح)اور ہم نے حجرے میں حضرت عائشہ امّ المومنین (رضی اللہ عنہا) کے مسواک کرنے کی آواز سنی تو عروہ نے کہا: ام المومنین! کیا آپؓ نہیں سن رہیں جو ابو عبدالرحمنؓ کہہ رہے ہیں؟ تو انہوں نے کہا: کیا کہتے ہیں؟ عروہ نے کہا کہ وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چار عمرے کئے۔ ان میں سے ایک ماہِ رجب میں تھا۔ (حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے) کہا: اللہ ابوعبدالرحمن پر رحم کرے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی عمرہ نہیں کیا؛ مگر وہ اس میں موجود تھے اور آپؐ نے رجب میں قطعاً عمرہ نہیں کیا۔
ابوعاصم نے ہم سے بیان کیا کہ ابن جریج نے ہمیں خبردی۔ کہا: عطاء نے مجھے بتایا کہ عروہ بن زبیر سے مروی ہے۔ انہوں نے کہا:میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا تو انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے رجب میں عمرہ نہیں کیا ہے۔
حسان بن حسان نے ہم سے بیان کیا کہ ہمام نے ہمیں بتایا۔ قتادہ سے مروی ہے کہ (انہوں نے کہا:) میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کتنے عمرے کئے؟ تو انہوں نے کہا: چار۔ عمرئہ حدیبیہ جو ذوالقعدہ میں کیا؛ جب مشرکوں نے آپؐ کو روکا تھا۔ وہ عمرہ دوسرے سال ذی القعدہ میں ہوا۔ جب آپؐ نے ان سے صلح کی اور عمرئہ جعرّانہ جب آپؐ نے مالِ غنیمت تقسیم کیا۔ میرا خیال ہے کہ یہ جنگ حنین کی غنیمت تھی۔ میں نے کہا: آپؐ نے کتنے حج کئے؟ کہا: ایک ہی۔
ابوالولید ہشام بن عبدالملک نے ہم سے بیان کیا کہ ہمام نے ہمیں بتایا۔ قتادہ سے مروی ہے۔ انہوںنے کہا: میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا تو انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک عمرہ وہ کیا تھا جبکہ قریش نے آپؐ کو لوٹا دیا تھا اور ایک دوسرے سال عمرہ حدیبیہ کا اور ایک عمرہ ذی قعدہ میں اور ایک عمرہ اپنے حج کے ساتھ۔
ہدبہ (بن خالد) نے ہم سے بیان کیا کہ ہمام نے ہمیں بتایا اور کہا: آپؐ نے چار عمرے ذی القعدہ میں کئے؛ سوائے اس عمرہ کے جو آپؐ نے حج کے ساتھ کیا تھا اور ایک عمرہ حدیبیہ کا اور ایک اس سے اگلے سال ہوا اور ایک جعرّانہ کا عمرہ جبکہ آپؐ نے حنین کی غنیمتیںتقسیم کیں۔ ایک عمرہ اپنے حج کے ساتھ۔
احمد بن محمد نے ہم سے بیان کیا کہ عبداللہ (بن مبارک) نے ہمیں خبردی ۔ ابن جریج نے ہمیں بتایا کہ عکرمہ بن خالد (مخزومی) نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے حج سے قبل عمرہ کرنے کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: کوئی قباحت نہیں۔ عکرمہ نے کہا کہ حضرت ابن عمرؓ نے بتا یا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حج کرنے سے پہلے عمرہ کیا تھا۔ ابراہیم بن سعد نے (محمد) بن اسحاق سے نقل کیا: عکرمہ بن خالد نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت ابن عمرؓ سے میں نے پوچھا۔۔۔۔ ویسا ہی بیان کیا۔ عمرو بن علی نے ہم سے بیان کیا کہ ابوعاصم نے ہمیں بتایا۔ ابن جریج نے ہمیں خبردی کہ عکرمہ بن خالد نے کہا: میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا ۔۔۔۔ انہوں نے بھی یہی روایت بیان کی۔
(تشریح)قتیبہ نے ہم سے بیان کیا کہ جریر نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے منصور سے، منصور نے مجاہد سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: میں اور عروہ بن زبیر مسجد میں داخل ہوئے تو کیا دیکھتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما حجرئہ عائشہؓ کے قریب بیٹھے ہیں اور کچھ لوگ مسجد میں اشراق کی نماز پڑھ رہے ہیں۔ مجاہد نے کہا کہ ہم نے ان کی اس نماز کی بابت (حضرت عبداللہ بن عمرؓ) سے پوچھا۔ انہوں نے کہا: یہ بدعت ہے۔ پھر ان سے پوچھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کتنے عمرے کئے؟ انہوں نے کہا: چار۔ ان میں سے ایک ماہِ رجب میں کیا تھا۔ تو ہم برا سمجھے کہ ان کی بات ردّ کریں۔
احمد بن عثمان نے ہم سے بیان کیا کہ شریح بن مسلمہ نے ہمیں بتایا کہ ابراہیم بن یوسف نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے اپنے باپ سے، ان کے باپ نے ابواسحاق سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: میں نے مسروق، عطاء اور مجاہد سے پوچھا تو انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حج کرنے سے قبل ذی القعدہ میں عمرہ کیا اور ابواسحاق نے کہا: میں نے حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہما سے سنا۔ وہ کہتے تھے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ذی القعدہ میں دو دفعہ عمرہ کیا۔ پیشتر اس کے کہ آپؐ حج کرتے۔
(تشریح)مسدد نے ہم سے بیان کیا کہ یحيٰ (بن قطان) نے ہمیں بتایا انہوں نے ابن جریج سے، ابن جریج نے عطاء سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہماسے سنا۔ انہوں نے ہمیں خبر دی کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک انصاری عورت سے فرمایا۔ حضرت ابن عباسؓ نے اس کانام لیا تھا مگر میں اس کا نام بھول گیا۔ ہمارے ساتھ حج کرنے سے تمہیں کس بات نے روکا؟ تو اس نے کہا: ہمارا ایک پانی لادنے والا اونٹ تھا۔ اس پر فلاں کا باپ اور اس کا بیٹا جو اس کے خاوند سے ہے اور میرا بیٹا سوار ہوکر چلے گئے اور ایک ہی لادو اونٹ چھوڑ گئے۔ جس پر ہم پانی لادتے ہیں۔ آپؐ نے فرمایا: جب رمضان کا مہینہ ہو تو اس میں عمرہ کرو۔ کیونکہ رمضان میں عمرہ حج ہے۔ یا کچھ ایسی ہی بات آپؐ نے فرمائی۔
(تشریح)