بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 172 hadith
ہم سے موسیٰ بن اسمعیل نے بیان کیا، کہا: ابراہیم بن سعد نے ہمیں بتلایا۔ کہا: ابن شہاب نے حمید بن عبدالرحمن سے روایت کرتے ہوئے ہمیں بتایا کہ حضرت ابو ہریرہ اور حضرت ابوسعید دونوں نے انہیں بتلایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد کی دیوار پر کھنگار دیکھا تو آپ نے ایک کنکری لی اور اسے کھرچ دیا اور فرمایا: اگر تم میں سے کوئی کھنگارے تو اپنے منہ کے سامنے کھنگار نہ پھینکے اور نہ ہی اپنی دائیں طرف اور چاہئے کہ وہ اپنی بائیں طرف یا اپنے بائیں قدم کے نیچے تھو کے۔
(تشریح)ہم سے حفص بن عمر نے بیان کیا، کہا: شعبہ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ أَخْبَرَنِي قَتَادَةُ قَالَ نے ہم سے بیان کیا، کہا: قتادہ نے مجھے بتایا۔کہا: میں سَمِعْتُ أَنَسًا قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى الله نے حضرت انس سے سنا۔انہوں نے کہا کہ نبی صلی عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَتْفِلَنَّ أَحَدُكُمْ بَيْنَ يَدَيْهِ الله علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی نہ اپنے سامنے وَلَا عَنْ يَمِينِهِ وَلَكِنْ عَنْ يَسَارِهِ أَوْ اور نہ ہی اپنے دائیں طرف تھو کے۔البتہ اپنی بائیں طرف یا اپنے پاؤں کے نیچے۔
ہم سے آدم نے بیان کیا، کہا: شعبہ نے ہمیں بتلایا، کہا: قتادہ نے ہم سے بیان کیا، کہا: میں نے حضرت انس بن مالک سے سنا۔ وہ کہتے تھے۔ نبی صلى اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مسجد میں تھوکنا غلطی ہے اور اس غلطی کا کفارہ اُس تھوک کو مٹی میں دبا دینا ہے۔ باب ۳۸: مسجد میں کھنگار کو مٹی میں دبا دینا ہے۔
ہم سے عبد اللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا: مالک نے ہمیں بتلایا۔ انہوں نے ابوزناد سے، ابوزناد نے اعرج سے، اعرج نے حضرت ابوہریرہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم دیکھتے ہو کہ میرا منہ اس طرف ہے۔ اللہ کی قسم! مجھ پر تمہاری خشیت (گدازِ قلب) اور تمہارا رکوع پوشیدہ نہیں رہتا۔ میں تو تمہیں اپنی پیٹھ کے پیچھے سے دیکھ رہا ہوتا ہوں۔
ہم سے یحیٰ بن بکیر نے بیان کیا، کہا: لیث نے ہمیں بتلایا۔ انہوں نے عقیل سے، عقیل نے ابن شہاب سے، ابن شہاب نے حمید بن عبد الرحمن سے روایت کی کہ حضرت ابو ہریرہ اور حضرت ابوسعید دونوں نے انہیں بتلایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد کی چاردیواری میں کھنگار دیکھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک کنکری لی اور اُسے کھرچ دیا۔ پھر فرمایا: جب تم میں سے کوئی کھنگارے تو اپنے منہ کے سامنے نہ تھوکے اور نہ ہی اپنے دائیں طرف۔ اور چاہئے کہ اپنے بائیں طرف یا اپنے بائیں پاؤں کے نیچے تھوکے۔
ہم سے یحیٰ بن بکیر نے بیان کیا، کہا: لیث نے ہمیں بتلایا۔ انہوں نے عقیل سے، عقیل نے ابن شہاب سے، ابن شہاب نے حمید بن عبد الرحمن سے روایت کی کہ حضرت ابو ہریرہ اور حضرت ابوسعید دونوں نے انہیں بتلایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد کی چاردیواری میں کھنگار دیکھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک کنکری لی اور اُسے کھرچ دیا۔ پھر فرمایا: جب تم میں سے کوئی کھنگارے تو اپنے منہ کے سامنے نہ تھوکے اور نہ ہی اپنے دائیں طرف۔ اور چاہئے کہ اپنے بائیں طرف یا اپنے بائیں پاؤں کے نیچے تھوکے۔
ہم سے علی نے بیان کیا، کہا: سفیان نے ہم سے بیان کیا، (کہا:) زہری نے ہمیں بتلایا۔ انہوں نے حضرت ابوسعید سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد کے قبلہ میں کھنگار دیکھا تو آپ نے ایک کنکری سے اُسے کھرچ ڈالا۔ پھر آپ نے منع فرمایا کہ آدمی اپنے سامنے یا اپنی دائیں طرف تھوکے۔ البتہ اپنی بائیں طرف یا اپنے بائیں قدم کے نیچے تھوک لے۔ زہری سے مروی ہے کہ انہوں نے حمید سے سنا۔ وہ حضرت ابوسعید خدری سے اسی طرح روایت کرتے تھے۔
ہم سے اسحاق بن نصر نے بیان کیا، کہا: عبدالرزاق نے ہمیں بتلایا۔ انہوں نے معمر سے، معمر نے ہَمّام سے روایت کی کہ انہوں نے حضرت ابوہریرہ کو نبی ﷺ سے روایت کرتے ہوئے سنا۔ آپ نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی نماز کے لئے کھڑا ہو تو اپنے سامنے نہ تھوکے، کیونکہ جب تک وہ اپنی نمازگاہ میں ہے اللہ تعالیٰ سے مناجات کر رہا ہوتا ہے۔ اور نہ ہی اپنے دائیں طرف کیونکہ اس کی دائیں طرف فرشتہ ہوتا ہے، اور چاہیے کہ اپنی بائیں طرف یا اپنے پاؤں کے نیچے تھوک دے اور اسے دفن کر دے۔
(تشریح)ہم سے مالک بن اسمعیل نے بیان کیا، کہا: زہیر نے ہم سے بیان کیا، کہا: حمید نے حضرت انسؓ سے روایت کرتے ہوئے ہمیں بتلایا کہ نبی ﷺ نے قبلہ میں کھنگار دیکھا تو آپ نے اس کو اپنے ہاتھ سے کھرچ ڈالا اور آپ کے چہرہ پر ناپسندیدگی نمایاں تھی یا کہا کہ دیکھا گیا کہ آپ نے اسے ناپسند فرمایا ہے اور آپ کو سخت ناگوار گزرا اور آپ نے فرمایا: تم میں سے جب کوئی اپنی نماز میں کھڑا ہوتا ہے تو وہ اپنے رب سے مناجات کر رہا ہوتا ہے یا فرمایا: اُس کا رب اُس کے اور اُس کے قبلہ کے درمیان ہوتا ہے اس لئے وہ اپنے قبلہ میں نہ تھوکے۔ البتہ اپنی بائیں طرف یا اپنے قدم کے نیچے۔ پھر آپ نے اپنی چادر کا کنارہ لیا اور اس میں تھوکا اور پھر اس کو تہ کر دیا۔ فرمایا: یا وہ اس طرح کرے۔
(تشریح)