بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 81 hadith
عبد اللہ بن مسلمہ نے ہم سے بیان کیا، کہا: میں نے مالک کو پڑھ کر سنایا کہ ابن شہاب سے مروی ہے کہ عمر بن عبد العزیز نے ایک دن نماز میں تاخیر کر دی تھی تو عروہ بن زبیر اُن کے پاس گئے اور انہیں بتایا که حضرت مغیرہ بن شعبہ نے جبکہ وہ عراق میں تھے ایک دن نماز میں تا خیر کر دی تو حضرت ابو مسعود انصاری ان کے پاس گئے اور کہا: مغیرہ! یہ کیا؟ کیا تمہیں علم نہیں کہ جبرائیل (علیہ السلام) انترے اور انہوں نے نماز پڑھی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی نماز پڑھی۔ پھر اس کے بعد انہوں نے نماز پڑھی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی نماز پڑھی پھر انہوں نے نماز پڑھی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی نماز پڑھی پھر انہوں نے نماز پڑھی اور رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی نماز پڑھی۔پھر انہوں نے نماز پڑھی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی نماز پڑھی۔پھر جبرائیل نے کہا: اس کا مجھے حکم دیا گیا ہے۔اس پر عمر بن عبد العزیز) نے عروہ سے کہا: جو بات آپ بیان کرتے ہیں تحقیق کر لیں۔کیا جبرائیل ہی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے نماز کے اوقات مقرر کئے تھے؟ عروہ نے کہا: بشیر بن ابی مسعود اسی طرح اپنے باپ سے روایت کرتے تھے۔
عروہ نے کہا: حضرت عائشہ نے بھی مجھے بتایا که رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عصر کی نماز پڑھا کرتے تھے اور ابھی دھوپ آپ کی کوٹھڑی میں ہوتی۔یعنی پیشتر اس کے کہ وہ دیوار پر چڑھتی۔
(تشریح)محمد بن مثنی نے ہم سے بیان کیا، کہا: انہوں نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے کہا: اسماعیل نے ہم سے بیان کیا، کہا: قیس نے حضرت جریر بن عبداللہ سے روایت کرتے ہوئے ہمیں بتایا۔ کہتے تھے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نماز سنوار کر ادا کرنے، زکوٰۃ دینے اور ہر ایک مسلمان کے لیے خیر خواہی کرنے کا عہد کیا۔
موسیٰ بن اسماعیل نے ہم سے بیان کیا، کہا: مہدی نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے غیلان سے، غیلان نے حضرت انس سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: ان باتوں میں سے جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں تھیں میں اب کچھ بھی نہیں پہچانتا۔ کہا گیا: نماز (جو ہے) حضرت انس نے کہا: کیا تم نے اس میں بھی وہ کچھ نہیں کیا جو کیا ہے۔
قتیبہ بن سعید نے ہم سے بیان کیا ، کہا: عباد نے جو عباد کے بیٹے ہیں ہمیں بتایا۔انہوں نے ابو جمرہ سے۔ابو جمرہ نے حضرت ابن عباس سے روایت کرتے ہوئے بیان کیا۔کہتے تھے کہ عبد القیس کا وفد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور انہوں نے کہا کہ ہم اس ربیعہ قبیلے سے ہیں اور ہم آپ کے پاس محرم کے مہینہ میں ہی پہنچ سکتے ہیں۔آپ ہمیں کوئی ایسا حکم دیجئے کہ جو ہم آپ سے سیکھ لیں اور ہم ان لوگوں کو بھی اس کی طرف بلائیں جو ہمارے پیچھے ہیں۔آپ نے فرمایا: میں تم کو چار باتوں کا حکم دیتا ہوں اور چار باتوں سے روکتا ہوں۔الله تعالیٰ پر ایمان لانے کا۔پھر آپ نے ان سے کھول کر بیان کیا کہ اس بات کا اقرار کرنا کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں اور یہ کہ میں اللہ کا رسول ہوں اور نماز ہمیشہ سنوار کر ادا کرنا اور زکوۃ دینا۔اور یہ کہ جو
(تشریح)مسدد نے ہم سے بیان کیا، کہا بچی نے ہمیں بتایا کہ اعمش سے روایت ہے۔ کہا: شقیق نے مجھ سے بیان کیا، کہا: میں نے حضرت حذیفہ سے سنا۔ انہوں نے کہا: ہم حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے تو انہوں نے کہا: تم میں سے کون فتنہ سے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات یاد رکھتا ہے؟ میں نے کہا: میں ویسے ہی جیسے کہ آپ نے فرمایا تھا تو حضرت عمر نے کہا: تم تو آنحضرت لعمل۔یا کہا روایت کرنے پر بہت ہی دلیر ہو۔میں نے کہا: آدمی کو ابتلا اُس کی بیوی اور اُس کے مال اور اُس کی اولا د اور اُس کے پڑوسی کی وجہ سے آتا ہے۔نماز ، روزہ،صدقہ اور نیکیوں کا حکم کرنا اور بدلیوں سے روکنا اس ابتلا کو دور کر دیتے ہیں۔حضرت عمر نے کہا: میری مراد اس سے نہیں بلکہ اس فتنے سے ہے جو اس طرح موجیں لے گا جس طرح سمندر۔حضرت حذیفہ نے کہا: امیر المومنین! آپ کو اس سے کوئی خطرہ نہیں۔کیونکہ آپ کے اور اس کے درمیان ایک بند کیا ہوا دروازہ ہے۔حضرت عمرؓ نے کہا: کیا وہ تو ڑا جائے گا یا کھولا جائے ؟ انہوں نے کہا: تو ڑا جائے گا تو حضرت عمر نے کہا: تب تو کبھی بھی بند نہیں ہو گا۔ہم نے کہا: کیا حضرت عمرؓ اس دروازے کو جانتے تھے؟ حضرت حذیفہ نے کہا: ہاں ( وہ اُسے ایسا ہی جانتے تھے ) جیسا یہ کہ کل سے پہلے رات ہے۔میں نے ان سے ایک ایسی حدیث بیان کی تھی جو ہر گز غلط نہیں ہے۔ہم جھجکے کہ حضرت حذیفہ سے پوچھیں۔اس لیے ہم نے مسروق سے کہا اور انہوں نے ان سے پوچھا تو انہوں نے کہا: وہ دروازہ حضرت عمرؓ ہی تھے۔
قتیبہ نے ہم سے بیان کیا، کہا: یزید بن زُرَیع نے ہمیں بتایا۔انہوں نے سلیمان تیمی سے، سلیمان نے ابو عثمان نہدی سے ، ابوعثمان نے حضرت ابن مسعودؓ سے روایت کی کہ ایک آدمی نے کسی عورت کا بوسہ لیا اور وہ نبی کے پاس آیا اور اس نے آپ کو بتایا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: دن کے دونوں پہروں میں نماز سنوار کر ادا کرو اور رات کے بعض حصوں میں بھی۔ کیونکہ نیکیاں بدیوں کو دور کر دیتی ہیں تو اس آدمی نے پوچھا: کیا یہ میرے لیے ہے؟ فرمایا: میری ساری امت کے لیے۔
(تشریح)ابوالولید ہشام بن عبدالملک نے ہم سے بیان کیا، کہا: شعبہ نے ہمیں بتایا، کہا: ولید بن عیز ار نے مجھے بتایا۔ وہ کہتے تھے: میں نے ابوعمر وشیبانی کو یہ کہتے سنا کہ اس گھر والے نے ہمیں بتایا اور انہوں نے حضرت عبد اللہ کے گھر کی طرف اشارہ کیا کہ انہوں نے کہا: میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: کونسا عمل اللہ تعالیٰ کو زیادہ پیارا ہے؟ فرمایا: نماز وقت پر پڑھنا۔ انہوں نے کہا: پھر کونسا؟ فرمایا: پھر والدین سے اچھا سلوک کرنا۔ انہوں نے کہا: پھر کونسا ؟ فرمایا: اللہ کی راہ میں جہاد کرنا۔ (حضرت عبد الله) نے کہا کہ (رسول اللہ ﷺ نے) یہ (تین باتیں) مجھے بتائیں اور اگر میں آپ سے اور پوچھتا تو آپ مجھے اور بتاتے۔
(تشریح)ابراهیم بن حمزہ نے ہم سے بیان کیا، کہا: ابن ابی حازم اور دراوردی نے مجھے بتایا۔ انہوں نے یزید سے، یزید نے محمد بن ابراہیم سے، انہوں نے ابوسلمہ بن عبد الرحمان سے۔ ابوسلمہ نے حضرت ابو ہریرہ سے روایت کی کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا۔ آپ فرماتے تھے۔ بھلا بتاؤ تو سہی کہ اگر تم میں سے کسی ایک کے دروازے کے پاس ندی ہو جس میں وہ ہر روز پانچ دفعہ نہائے۔ تمہارا کیا خیال ہے یہ (نہانا) اس کی کچھ میل باقی رہنے دے گا؟ انہوں نے جواب دیا کہ کوئی میل بھی نہیں رہنے دے گا۔ آپ نے فرمایا: یہ پانچوں نمازوں کی مثال ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کے ذریعہ سے گناہوں کو مٹا بہ دیتا ہے۔
(تشریح)عمرو بن زرارہ نے ہم سے بیان کیا، کہا: عبد الواحد بن واصل ابو عبیدہ حداد نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عثمان بن ابی رواد؛ عبدالعزیز کے بھائی سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: میں نے زہری کو کہتے سنا کہ میں دمشق میں حضرت انس بن مالک کے پاس آیا اور وہ رو رہے تھے۔ میں نے کہا: آپ کو کیا بات رُلارہی ہے؟ تو انہوں نے کہا: جن باتوں کو میں نے پایا تھا اُن میں سے کسی بات کو بھی نہیں دیکھتا سوا اس نماز کے اور یہ نماز بھی ضائع کر دی گئی ہے۔ اور بکر (بن خلف) نے کہا: ہم سے محمد بن بکر برسانی نے بیان کیا کہ عثمان بن ابی روّاد نے ہمیں اسی طرح بتایا۔
(تشریح)