بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 2 of 172 hadith
ہم سے عمرو بن علی نے بیان کیا، کہا سبھی نے ہمیں بتلایا۔ کہا: عبید اللہ نے ہم سے بیان کیا، کہا: قاسم نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہوئے ہمیں بتایا۔ کہتی تھیں: کیا ہی بُری بات ہے کہ تم نے ہمیں کتّے اور گدھے کے برابر کر دیا ہے۔ میں نے خود اپنے آپ کو دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ رہے ہوتے اور میں آپ کے اور قبلہ کے درمیان لیٹی ہوئی ہوتی۔ جب سجدہ کرنا چاہتے تو میرے پاؤں کو دبا دیتے تو میں اُن کو سکیڑ لیتی۔
(تشریح)ہم سے احمد بن اسحاق سرماری نے بیان کیا، کہا : عبد الله بن موسیٰ نے ہم سے بیان کیا، کہا: اسرائیل نے ابو اسحاق سے، ابو اسحاق نے عمرو بن میمون سے، عمرو نے حضرت عبد اللہ سے روایت کرتے ہوئے ہمیں بتلایا۔ انہوں نے کہا: ایک بار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کعبہ کے قریب کھڑے نماز پڑھ رہے تھے اور قریش کا ایک گروہ مجلس لگائے ہوئے تھا۔ اتنے میں ان میں سے کسی کہنے والے نے کہا: کیا تم اس ریا کار کو نہیں دیکھتے؟ تم میں سے کون آل فلاں کی قربانی کی اونٹنی کی طرف جائے اور اس کی لید اور خون اور اوجھڑی کو اکٹھا کر کے لے آوے۔ پھر اس کو اتنی ڈھیل دے کہ جب وہ سجدہ کرے تو اس کو اس کے دونوں کندھوں کے درمیان رکھ دے۔ اس پر اُن میں سے سب سے بدبخت جلدی سے اُٹھ کھڑا ہوا اور جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سجدہ کیا تو اُسے آپ کے دونوں کندھوں کے درمیان رکھ دیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم سجدہ کی حالت میں ہی پڑے رہے اور وہ ہنسے یہاں تک کہ ہنسی کے مارے وہ ایک دوسرے پر جھک جھک پڑتے تھے۔ (یہ دیکھ کر) کوئی جانے والا حضرت فاطمہ علیہا السلام کی طرف گیا اور وہ اس وقت لڑکی تھیں تو وہ بھاگتی ہوئی آئیں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم سجدہ کی حالت میں پڑے ہوئے تھے یہاں تک کہ حضرت فاطمہ نے آپ سے اس کو اتار کر پھینک دیا۔ وہ ان کی طرف متوجہ ہو کر اُن کو بُرا بھلا کہنے لگیں۔ جب رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ چکے تو آپ نے فرمایا: اے اللہ! تو ہی قریش سے سمجھ، اے اللہ! تو ہی قریش سے سمجھ، اے اللہ! تو ہی قریش سے سمجھ۔ پھر آپ نے نام لیا۔ اے اللہ! عمرو بن ہشام اور عتبہ بن ربیعہ اور شیبہ بن ربیعہ اور ولید بن عتبہ اور امیہ بن خلف اور عقبہ بن ابی معیط اور عمارہ بن ولید سے سمجھ۔ حضرت عبداللہ کہتے تھے اللہ کی قسم! میں نے خود اُن کو بدر کے دن پچھڑے ہوئے دیکھا۔ پھر ان کو بدر کے کنوئیں میں گھسیٹ کر پھینکا گیا۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کنوئیں والے لعنت کے نیچے ہیں۔
(تشریح)