بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 8 of 18 hadith
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، (کہا) کہ ہم کو (محمد بن جعفر) غندر نے بتایا، کہا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا۔ انہوں نے عمرو (بن مرہ) سے، انہوں نے ابوالبختری سے روایت کی۔ (انہوں نے کہا) کہ میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا کہ کھجور (کے درخت پر جو پھل لگا ہو اُس) کی بیع سلم کی جاسکتی ہے؟ تو انہوں نے بتایا کہ نبی ﷺ نے پھل بیچنے سے منع کیا ہے، تا وقتیکہ وہ پکنا شروع ہوجائے۔ اور چاندی کو سونے کے بدلے میں (بھی اس طرح) بیچنے سے منع فرمایا ہے کہ ایک طرف اُدھار ہو اور دوسری طرف نقد ہو۔ اور میں نے حضرت ابن عباسؓ سے پوچھا تو انہوں نے کہا کہ نبی ﷺ نے کھجور (کے پھل) بیچنے سے منع فرمایا جب تک کہ وہ کھائے یا کھانے کے قابل ہوجائے اور یہاں تک کہ اس کا وزن کیا جاسکے۔ میں نے کہا: وزن کیاجانے سے کیا مراد ہے؟ تو ایک شخص نے جو ان کے پاس (بیٹھا ہوا) تھا، کہا: یہاں تک کہ اس کا اندازہ ہوسکے۔
(تشریح)محمد بن سلام نے مجھ سے بیان کیا، (کہا ) کہ یعلٰی (بن عبید بن امیہ) نے ہم کو بتایا۔(انہوںنے کہا) کہ اعمش نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے ابراہیم (نخعی) سے، ابراہیم نے اسود (بن یزید) سے، اسود نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی۔ انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک یہودی سے اُدھار پرغلہ خریدا اور اپنی لوہے کی زِرہ اس کے پاس رہن رکھی۔
موسیٰ بن اسماعیل نے ہم سے بیان کیا کہ جویریہ (بن اسمائ) نے ہمیں خبردی۔ انہوں نے نافع سے، نافع نے حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا کہ لوگ اُونٹوں کی خریدوفروخت اس شرط پر کیا کرتے تھے کہ حاملہ اُونٹنی کا بچہ بڑا ہوکر بچہ جنے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا۔ نافع نے حَبَلُ الْحَبَلَۃِ کی یہ تفسیر کی ہے کہ اُونٹنی وہ بچہ جنے جو اس کے پیٹ میں ہو۔
(تشریح)ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، (کہا) کہ ہم کو (محمد بن جعفر) غندر نے بتایا، کہا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا۔ انہوں نے عمرو (بن مرہ) سے، انہوں نے ابوالبختری سے روایت کی۔ (انہوں نے کہا) کہ میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا کہ کھجور (کے درخت پر جو پھل لگا ہو اُس) کی بیع سلم کی جاسکتی ہے؟ تو انہوں نے بتایا کہ نبی ﷺ نے پھل بیچنے سے منع کیا ہے، تا وقتیکہ وہ پکنا شروع ہوجائے۔ اور چاندی کو سونے کے بدلے میں (بھی اس طرح) بیچنے سے منع فرمایا ہے کہ ایک طرف اُدھار ہو اور دوسری طرف نقد ہو۔ اور میں نے حضرت ابن عباسؓ سے پوچھا تو انہوں نے کہا کہ نبی ﷺ نے کھجور (کے پھل) بیچنے سے منع فرمایا جب تک کہ وہ کھائے یا کھانے کے قابل ہوجائے اور یہاں تک کہ اس کا وزن کیا جاسکے۔ میں نے کہا: وزن کیاجانے سے کیا مراد ہے؟ تو ایک شخص نے جو ان کے پاس (بیٹھا ہوا) تھا، کہا: یہاں تک کہ اس کا اندازہ ہوسکے۔
(تشریح)ابونُعَیم نے ہم سے بیان کیا، (کہا) کہ سفیان (بن عیینہ) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابن ابی نجیح سے، ابن ابی نجیح نے عبداللہ بن کثیر سے، عبداللہ نے ابوالمنہا ل سے، ابوالمنہال نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ میں آئے اور حالت یہ تھی کہ (لوگ) پھلوں میں دو دو اور تین تین سال کے لئے بیع سلم کیا کرتے تھے۔ آپؐ نے فرمایا: پھلوں میں مقررہ ماپ سے مقررہ میعاد کے لئے بیع سلم کیا کرو۔ اور عبداللہ بن ولید نے کہا: سفیان (بن عیینہ) نے ہم سے بیان کیا کہ ابن ابی نجیح نے ہمیں جو بتایا( وہ یوں ہے:) آپؐ نے فرمایا: مقررہ ماپ اور مقررہ وزن سے۔
محمد بن مقاتل نے ہم سے بیان کیا، (کہا) کہ عبداللہ (بن مبارک) نے ہمیں خبردی، (کہا) کہ سفیان (ثوری) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے سلیمان شیبانی سے، سلیمان نے محمد بن ابی مجالد سے روایت کی۔ انہوں نے کہا کہ ابوبردہ اور عبداللہ بن شداد نے مجھے حضرت عبدالرحمن بن ابزیٰ ؓ اور حضرت عبداللہ بن ابی اوفٰی ؓکے پاس بھیجا تو میں نے ان سے بیع سلم کے متعلق پوچھا تو ان دونوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہم غنیمت کا حصہ پاتے تھے تو شام کے نبطی ہمارے پاس آتے اور ہم گندم، جو اور منقیٰ ۱؎لینے کی غرض سے مقررہ وقت تک کے لئے ان کو پیشگی رقم دے دیتے۔ کہا: میں نے پوچھا کہ ان کی زراعت ہوتی تھی یا نہ؟ تو ان دونوں نے کہا: ہم اس کی نسبت ان سے نہیں پوچھا کرتے تھے۔
(تشریح)محمد بن مقاتل نے ہم سے بیان کیا، (کہا) کہ عبداللہ (بن مبارک) نے ہمیں خبردی، (کہا) کہ سفیان (ثوری) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے سلیمان شیبانی سے، سلیمان نے محمد بن ابی مجالد سے روایت کی۔ انہوں نے کہا کہ ابوبردہ اور عبداللہ بن شداد نے مجھے حضرت عبدالرحمن بن ابزیٰ ؓ اور حضرت عبداللہ بن ابی اوفٰی ؓکے پاس بھیجا تو میں نے ان سے بیع سلم کے متعلق پوچھا تو ان دونوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہم غنیمت کا حصہ پاتے تھے تو شام کے نبطی ہمارے پاس آتے اور ہم گندم، جو اور منقیٰ ۱؎لینے کی غرض سے مقررہ وقت تک کے لئے ان کو پیشگی رقم دے دیتے۔ کہا: میں نے پوچھا کہ ان کی زراعت ہوتی تھی یا نہ؟ تو ان دونوں نے کہا: ہم اس کی نسبت ان سے نہیں پوچھا کرتے تھے۔
(تشریح)