بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 18 hadith
عمروبن زُرارہ نے مجھ سے بیان کیا کہ اسماعیلبن علیہ نے ہمیں بتایا، (کہا) کہ ابن ابی نجیح نے ہمیں خبر دی۔ انہوں نے عبد اللہ بن کثیر (مکی قاری) سے، عبداللہ نے ابوالمنہال (عبدالرحمن بن مطعم) سے، ابو المنہال نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی۔ انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ میں آئے اور حالت یہ تھی کہ لوگ پھلوں سے متعلق سال اور دو سال کی یا کہا کہ دو یا تین سال کی میعاد پر بیع سلم کیا کرتے تھے۔ (مدت کے بارے میں) اسماعیل کو شک ہے۔ تب آپؐ نے فرمایا: جو (خریدار) کھجوروں کے متعلق پیشگی دے تو چاہیے کہ وہ پیشگی قیمت دیتے وقت ماپ اور تول مقرر کرلے۔ محمد (بن سلام) نے ہم سے بیان کیا۔ اسماعیل (بن علیہ) نے ہمیں خبر دی۔ انہوں نے ابن ابی نجیح سے یہی روایت کی کہ (بیع سلم میں) مقررہ ماپ اور مقررہ وزن ہو۔
قتیبہ (بن سعید) نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان (بن عیینہ) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابن ابی نجیح سے، ابن ابینجیح نےعبداللہ بنکثیرسے،عبداللہ نے ابوالمنہالسے روایت کی۔انہوںنے کہا: میں نے حضرتابن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا۔ کہتے تھے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم (مدینہ میں) آئے اور فرمایا: مقررہ ماپ اور مقررہ تول کے ساتھ مقررہ میعاد تک کیلئے پیشگی رقم دی جائے۔
صدقہ (بن فضل) نے ہم سے بیان کیا کہ (سفیان) بن عیینہ نے ہمیں بتایا، (کہا) کہ ابن ابی نجیح نے ہمیں خبر دی ۔ انہوں نے عبد اللہ بن کثیر سے، عبداللہ نے ابوالمنہال سے، ابوالمنہال نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی۔ انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ میں آئے، حالت یہ تھی کہ (لوگ) کھجوروں کی خرید کے لئے دوسال اور تین سال کی میعاد پر پیشگی رقم دیا کرتے تھے۔ آپؐ نے فرمایا: جو شخص کسی چیز کے لئے پیشگی رقم دے تو مقررہ ماپ اور مقررہ تول مقررہ میعاد تک کے لئے دے۔ علی( بن مدینی) نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان (بن عیینہ) نے ہمیں بتایا، کہا کہ ابن ابی نجیح نے مجھ سے حدیث بیان کی۔ (اس میں یوں ہے کہ) آنحضرت ﷺ نے فرمایا: چاہیے کہ ماپ مقررہ کے ساتھ مقررہ مدت تک کے لئے پیشگی قیمت دے۔
ابوالولید نے ہم سے بیان کیا، (کہا) کہ شعبہ نے ہمیں بتایا کہ ابن ابی المجالد سے مروی ہے۔ (دوسری اسناد) نیز یحيٰ (بن موسیٰ) نے ہم سے بیان کیا، (کہا) کہ ہمیں وکیع نے بتایا۔ انہوں نے شعبہ سے، انہوں نے محمد بن ابی مجالد سے روایت کی۔ حفص بن عمر نے ہم سے بیان کیا کہ شعبہ نے ہمیں بتایا، کہا کہ محمد (بن ابی المجالد) نے مجھے خبردی یا یہ کہا کہ عبد اللہ بن ابی المجالد نے مجھے خبر دی، کہا کہ عبداللہ بن شداد بن ہاد اور ابوبردہ (عامر بن ابی موسیٰ) نے بیع سلم کے بارے میں اختلاف کیا تو لوگوں نے مجھے حضرت عبداللہ بن ابی اوفٰی رضی اللہ عنہ کے پاس بھیجا۔ میں نے ان سے پوچھا تو انہوں نے کہا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابوبکرؓ اور حضرت عمرؓ کے زمانہ میں گندم اور جو اور منقیٰ اور کھجوروں کی بیع سلم کیا کرتے تھے۔ اور میں نے (حضرت عبدالرحمن) بن ابزیٰ ؓسے پوچھا تو انہوں نے بھی ایسا ہی کہا۔
(تشریح)ابوالولید نے ہم سے بیان کیا، (کہا) کہ شعبہ نے ہمیں بتایا کہ ابن ابی المجالد سے مروی ہے۔ (دوسری اسناد) نیز یحيٰ (بن موسیٰ) نے ہم سے بیان کیا، (کہا) کہ ہمیں وکیع نے بتایا۔ انہوں نے شعبہ سے، انہوں نے محمد بن ابی مجالد سے روایت کی۔ حفص بن عمر نے ہم سے بیان کیا کہ شعبہ نے ہمیں بتایا، کہا کہ محمد (بن ابی المجالد) نے مجھے خبردی یا یہ کہا کہ عبد اللہ بن ابی المجالد نے مجھے خبر دی، کہا کہ عبداللہ بن شداد بن ہاد اور ابوبردہ (عامر بن ابی موسیٰ) نے بیع سلم کے بارے میں اختلاف کیا تو لوگوں نے مجھے حضرت عبداللہ بن ابی اوفٰی رضی اللہ عنہ کے پاس بھیجا۔ میں نے ان سے پوچھا تو انہوں نے کہا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابوبکرؓ اور حضرت عمرؓ کے زمانہ میں گندم اور جو اور منقیٰ اور کھجوروں کی بیع سلم کیا کرتے تھے۔ اور میں نے (حضرت عبدالرحمن) بن ابزیٰ ؓسے پوچھا تو انہوں نے بھی ایسا ہی کہا۔
(تشریح)موسیٰ بن اسماعیل نے ہم سے بیان کیا کہ عبدالواحد (بن زیاد) نے ہمیں بتایا، (کہا کہ ابواسحاق) شیبانی نے ہم سے بیان کیا کہ محمد بن ابی المجالد نے ہمیں بتایا، کہا کہ عبداللہ بن شداد اور ابوبردہ نے مجھے حضرت عبداللہ بن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہما کے پاس بھیجا اور انہوں نے کہا کہ ان سے پوچھو: کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں گندم میں بیع سلم کیا کرتے تھے؟ حضرت عبداللہؓ نے کہا کہ ہم ملک شام کے کاشتکاروں کو گندم اور جو اور زیتون کی خرید کے لئے ماپ اور مدت مقرر کرکے پیشگی رقم دیا کرتے تھے۔ میں نے پوچھا: انہی لوگوں کو جن کے پاس اصل جنس ہوتی؟ کہا: ہم اس کی بابت ان سے پوچھا نہیں کرتے تھے۔ پھر ان دونوں نے مجھے حضرت عبدالرحمن بن ابزیٰ ؓ کے پاس بھیجا اور میں نے ان سے پوچھا تو انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں بیع سلم کیا کرتے تھے اور ہم ان (بیچنے والوں) سے یہ نہیں پوچھا کرتے تھے کہ آیا ان کی کھیتی ہے یا نہیں۔ اسحاق (بن شاہین) نے ہم سے بیان کیا کہ خالد بن عبداللہ نے ہمیںبتایا۔انہوں نے(سلیمان) شیبانیسے،شیبانی نے محمد بن ابی مجالد سے یہی حدیث نقل کی ہے (اور وہ یوں ہے:) اور انہوں نے کہا: ہم گندم اور جو کیلئے ان کو پیشگی رقم دیا کرتے تھے۔ اور عبداللہ بن ولید نے جو سفیان سے روایت کی۔ (سفیان نے کہا کہ) شیبانی نے ہم سے بیان کیا۔ اس میں زیتون کا لفظ زیادہ ہے۔ (اور قتیبہ کی روایت یوں ہے:) قتیبہ نے ہم سے بیان کیا، (کہا:) کہ جریر نے ہمیں بتایا کہ شیبانی سے روایت ہے۔انہوں نے کہا کہ گندم اور جو اور منقیٰ کے لئے (پیشگی قیمت دیا کرتے تھے) (پہلی روایت میں زیتون کا لفظ تھا تو اِس میں منقیٰ کا ذکر ہے۔)
موسیٰ بن اسماعیل نے ہم سے بیان کیا کہ عبدالواحد (بن زیاد) نے ہمیں بتایا، (کہا کہ ابواسحاق) شیبانی نے ہم سے بیان کیا کہ محمد بن ابی المجالد نے ہمیں بتایا، کہا کہ عبداللہ بن شداد اور ابوبردہ نے مجھے حضرت عبداللہ بن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہما کے پاس بھیجا اور انہوں نے کہا کہ ان سے پوچھو: کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں گندم میں بیع سلم کیا کرتے تھے؟ حضرت عبداللہؓ نے کہا کہ ہم ملک شام کے کاشتکاروں کو گندم اور جو اور زیتون کی خرید کے لئے ماپ اور مدت مقرر کرکے پیشگی رقم دیا کرتے تھے۔ میں نے پوچھا: انہی لوگوں کو جن کے پاس اصل جنس ہوتی؟ کہا: ہم اس کی بابت ان سے پوچھا نہیں کرتے تھے۔ پھر ان دونوں نے مجھے حضرت عبدالرحمن بن ابزیٰ ؓ کے پاس بھیجا اور میں نے ان سے پوچھا تو انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں بیع سلم کیا کرتے تھے اور ہم ان (بیچنے والوں) سے یہ نہیں پوچھا کرتے تھے کہ آیا ان کی کھیتی ہے یا نہیں۔ اسحاق (بن شاہین) نے ہم سے بیان کیا کہ خالد بن عبداللہ نے ہمیںبتایا۔انہوں نے(سلیمان) شیبانیسے،شیبانی نے محمد بن ابی مجالد سے یہی حدیث نقل کی ہے (اور وہ یوں ہے:) اور انہوں نے کہا: ہم گندم اور جو کیلئے ان کو پیشگی رقم دیا کرتے تھے۔ اور عبداللہ بن ولید نے جو سفیان سے روایت کی۔ (سفیان نے کہا کہ) شیبانی نے ہم سے بیان کیا۔ اس میں زیتون کا لفظ زیادہ ہے۔ (اور قتیبہ کی روایت یوں ہے:) قتیبہ نے ہم سے بیان کیا، (کہا:) کہ جریر نے ہمیں بتایا کہ شیبانی سے روایت ہے۔انہوں نے کہا کہ گندم اور جو اور منقیٰ کے لئے (پیشگی قیمت دیا کرتے تھے) (پہلی روایت میں زیتون کا لفظ تھا تو اِس میں منقیٰ کا ذکر ہے۔)
آدم (بن ابی ایاس) نے ہم سے بیان کیا کہ شعبہ نے ہمیں بتایا۔(انہوں نے کہا) کہ عمرو (بن مرہ) نے ہمیں خبر دی، کہا کہ میں نے ابوالبختری طائی سے سنا۔ انہوں نے کہا کہ میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کھجور کے درختوں کی بیع سلم کے متعلق پوچھا۔ انہوں نے بتایا کہ نبی صلیاللہ علیہوسلم نے کھجور کے درخت کی بیع سے منع فرمایا ہے، تاوقتیکہ کھجور کھانے کے لائق ہوجائے اور اس کا وزن کیا جاسکے۔ ایک شخص بولا: کس چیز کا وزن کیا جائے؟ تو ایک دوسرے شخص نے جو اس کے پاس بیٹھا ہوا تھا، کہا: یہاں تک کہ محفوظ کیا جاسکے۔ اور معاذ( بن معاذ) نے کہا کہ شعبہ نے عمرو سے روایت کرتے ہوئے ہمیں بتایا کہ ابوالبختری نے کہا: میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سناکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا ہی منع فرمایا ہے۔
(تشریح)ابوالولید نے ہم سے بیان کیا کہ شعبہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عمرو (بن مرہ) سے، عمرو نے ابولبختری (سعید بن فیروز) سے حدیث بیان کی۔ انہوں نے کہا: میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے کھجور کے درختوں (کے پھلوں) کی بیع سلم کرنے کی نسبت پوچھاتو انہوں نے کہا: کھجور (کے پھل) کی خریدوفروخت اس وقت تک منع ہے کہ وہ کھانے کے لائق ہو جائے۔ اور چاندی کی خریدوفروخت بھی ایسے طور پر منع ہے کہ ایک طرف تو (چاندی) نقد ہو اور دوسری طرف اُدھار ہو اور میں نے حضرت ابن عباسؓ سے (بھی درخت پر) کھجور کی بیع سلم کی نسبت پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کھجور کی خریدوفروخت سے منع فرمایا ہے تاوقتیکہ وہ کھانے کے قابل ہوجائے۔ یا یہ کہا کہ وہ اسے خود کھائے، یہاں تک کہ اس کا وزن کیا جاسکے۔
ابوالولید نے ہم سے بیان کیا کہ شعبہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عمرو (بن مرہ) سے، عمرو نے ابولبختری (سعید بن فیروز) سے حدیث بیان کی۔ انہوں نے کہا: میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے کھجور کے درختوں (کے پھلوں) کی بیع سلم کرنے کی نسبت پوچھاتو انہوں نے کہا: کھجور (کے پھل) کی خریدوفروخت اس وقت تک منع ہے کہ وہ کھانے کے لائق ہو جائے۔ اور چاندی کی خریدوفروخت بھی ایسے طور پر منع ہے کہ ایک طرف تو (چاندی) نقد ہو اور دوسری طرف اُدھار ہو اور میں نے حضرت ابن عباسؓ سے (بھی درخت پر) کھجور کی بیع سلم کی نسبت پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کھجور کی خریدوفروخت سے منع فرمایا ہے تاوقتیکہ وہ کھانے کے قابل ہوجائے۔ یا یہ کہا کہ وہ اسے خود کھائے، یہاں تک کہ اس کا وزن کیا جاسکے۔