بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 3 of 3 hadith
مسدد (بن مسرہد) نے ہم سے بیان کیا کہ عبدالواحد نے ہمیں بتایا۔ (عبد الواحد نے کہا) کہ معمر نے ہمیں خبردی۔ انہوں نے زُہری سے، زُہری نے ابوسلمہ بن عبدالرحمن سے، ابوسلمہ نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہراُس (مال) میں جو تقسیم نہ کیا گیا ہو، شفعہ کا فیصلہ فرمایا ہے۔ مگر جب (تقسیم ہوگئی اور) حدیں پڑ گئیں اور راستے الگ الگ نکال دئیے گئے تو پھر شفعہ نہیں۔
(تشریح)مکی بن ابراہیم نے ہم سے بیان کیا کہ ابن جریج نے ہمیں بتایا، (کہا) کہ ابراہیم بن میسرہ نے عمرو بن شرید سے مجھے خبردی۔ انہوں نے کہا: میں حضرت سعد بن ابی وقاصؓ کے پاس کھڑا تھا کہ حضرت مِسوَر بن مخرمہؓ آئے اور میرے ایک کندھے پر انہوں نے اپنا ہاتھ رکھا۔ اتنے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے آزاد کردہ غلام ابورافعؓ آئے اور کہنے لگے: سعد! میرے دو گھر جو آپؓ کی حویلی میںہیں، خرید لیں۔ حضرت سعدؓ نے کہا: بخدا میں انہیں نہیں خریدوں گا۔ حضرت مسوَرؓ نے کہا: بخدا آپؓ نے ضرور انہیں خریدنا ہو گا۔ تو حضرت سعدؓ نے کہا: بخدامیں آپؓ کو چار ہزار (درہم۱؎) سے زیادہ نہیں دوں گا اور وہ بھی قسط وار۔ (راوی کہتا ہے کہ انہوں نے لفظ) مُنَجَّمَۃٌ بولا تھا یا مُقَطَّعَۃٌ۔ ابورافعؓ نے کہا: مجھے تو اس کی قیمت پانچ سو دینار۱؎ ملتی تھی۔ اگر میںنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ نہ سُنا ہوتا جو آپؐ فرماتے تھے: پڑوسی اپنے قرب کی وجہ سے زیادہ حقدار ہے تو میں آپؓ کو چار ہزار (درہم) پر نہ دیتا۔ کیونکہ مجھے تو اس کے پانچ سو دِینار مل رہے تھے۔ (مگر اَب میں آپؓ کو دیتا ہوں۔) چنانچہ انہوں نے حضرت سعدؓ کو وہ گھر دے دیے۔
(تشریح)حجاج (بن منہال) نے ہم سے بیان کیا کہ شعبہ نے ہمیں بتایا۔ اس کی دوسری سند یوں ہے کہ علی بن عبداللہ نے بھی ہم سے بیان کیا کہ شبابہ نے ہمیں بتایا (اور کہا) کہ شعبہ نے ہم سے بیان کیا۔ (انہوں نے کہا) کہ ابوعمران نے ہمیں بتایا، کہاکہ طلحہ بن عبداللہ سے میں نے سنا۔ انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ میں نے کہا: یارسول اللہ! میرے دو پڑوسی ہیں۔ ان دونوں میں سے کس کو ہدیہ بھیجوں؟ آپؐ نے فرمایا: ان دونوں میں سے جس کا دروازہ تم سے زیادہ قریب ہے۔
(تشریح)