بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 117 hadith
مسدد نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا: یحيٰ (قطان) نے مجھے بتایا۔ شعبہ سے مروی ہے کہ انہوںنے کہا:قتادہ نے مجھ سے بیان کیا۔ انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے نبی ﷺ سے روایت کی۔ آپؐ نے فرمایا: بغیر سحری کھانے کے مسلسل روزے نہ رکھو۔ صحابہؓ نے کہا: آپؐ تو وصال کے روزے خود رکھتے ہیں۔ آپؐ نے فرمایا: میں تم میں سے کسی کی طرح نہیں ہوں۔ مجھے تو کھلایا جاتا ہے اور پلایا جاتا ہے۔ یا (فرمایا:)میں تو رات ایسی حالت میں گذارتا ہوں کہ مجھے کھلایا بھی جاتا ہے اور پلایا بھی۔
عبداللہ بن یوسف نے ہم سے بیان کیا کہ مالک نے ہمیں خبردی۔ انہوں نے نافع سے، نافع نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وصال کے روزے سے منع فرمایا۔ صحابہ نے کہا: آپؐ تو خود وصال کا روزہ رکھتے ہیں۔ آپؐ نے فرمایا: میں تمہاری طرح نہیں ہوں۔ مجھے تو کھلایا بھی جاتا ہے اور پلایا بھی جاتا ہے۔
عبداللہ بن یوسف نے ہم سے بیان کیا کہ لیث (بن سعد) نے ہمیں بتایا کہ (یزید) بن ہاد نے مجھ سے بیان کیا۔انہوں نے عبداللہ بن خباب سے، عبداللہ نے حضرت ابوسعید (خدری) رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ انہوں نے نبی ﷺ کو فرماتے سنا کہ وصال کے روزے نہ رکھو۔ تم میں سے جو چاہے سحری تک ہی وصال کرے۔ صحابہؓ نے کہا: یارسول اللہ! آپؐ تو وصال کے روزے رکھتے ہیں۔ آپؐ نے فرمایا: میری حالت تمہاری حالت جیسی نہیں۔ میں تو رات ایسی حالت میں گذارتا ہوں کہ میرے لئے ایک کھلانے والا ہوتا ہے جو مجھے کھلاتا ہے اور ایک پلانے والا جو مجھے پلاتا ہے۔
عثمان بن ابی شیبہ اور محمد(بن سلام) نے ہم سے بیان کیا۔ اُن دونوں نے کہا: عبدہ نے ہمیں خبر دی۔ انہوں نے ہشام بن عروہ سے، ہشام نے اپنے باپ سے، اُن کے باپ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی۔ وہ کہتی تھیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وصال سے منع فرمایا ہے، اُن پر نرمی کرنے کی غرض سے۔ صحابہؓ نے کہا:آپؐ تو وصال کے روزے رکھتے ہیں۔ آپؐ نے فرمایا: تمہاری حالت میری حالت جیسی نہیں۔ مجھے تو میرا ربّ کھلاتا ہے اور پلا تا ہے۔ ابو عبد اللہ (امام بخاریؒ) نے کہا: عثمان نے رَحْمَۃً لَّھُمْ کے الفاظ کا ذکر نہیں کیا۔
(تشریح)ابوالیمان نے ہم سے بیان کیا کہ شعیب نے ہمیں خبردی۔ زہری سے مروی ہے۔ انہوں نے کہا: ابوسلمہ بن عبدالرحمن نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول اللہﷺ نےوصال کے روزے سے منع فرمایا تو مسلمانوں میں سے ایک شخص نے آپؐکوکہا: یا رسول اللہ! آپؐتووصال کے روزے رکھتے ہیں۔ آپؐنے فرمایا: میری مانند تم میں سے کون ہے؟ میں رات ایسی حالت میں گذارتا ہوں کہ میرا ربّ مجھے کھلاتا ہے اور پلاتا ہے۔ جب وہ وصال کے روزے رکھنے سے باز نہ آئے تو آپؐ نے اُن کے ساتھ ایک دِن وصال کا روزہ رکھا۔ پھر ایک دِن اور وصال کیا ۔ پھر لوگوں نے عید کا چاند دیکھا تو آپؐنے فرمایا: اگر چاند نکلنے میں تاخیر ہوتی تو میں اِس سے زیادہ وصال کرتا، گویا اُن کو عبرت دِلانے کے لیے جب وہ باز نہ آئے۔
ابراہیم بن حمزہ نے ہم سے بیان کیا کہ (عبدالعزیز) بن ابی حازم نے مجھے بتایا۔ انہوں نے یزید (بن ہاد) سے، یزید نے عبداللہ بن خباب سے، عبداللہ نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: وصال کے روزے نہ رکھو۔ تم میں سے جو چاہے کہ اپنے روزے کو دوسرےروزے سے ملائے تو چاہیے کہوہ افطار کےبعد سحری تک کچھ نہ کھائے۔ صحابہ نے کہا: یارسول اللہ! آپؐ تو وصال کے روزے رکھتے ہیں۔ فرمایا: میری حالت تمہاری طرح نہیں ہے۔ میں ایسی حالت میں رات گذارتا ہوں کہ میرے لئے ایک کھلانے والا ہوتا ہے جو مجھے کھلاتاہے اور ایک ساقی ہوتا ہے جو مجھے پلاتا ہے۔
(تشریح)محمد بن بشار نے ہم سے بیان کیا کہ جعفر بن عون نے ہمیں بتایا۔ ابوالعمیس(عتبہ بن عبداللہ) نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے عون بن ابی جُحَیفہ سے، عون نے اپنے باپ(وہب بن عبداللہ سوائی) سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: نبی ﷺ نے حضرت سلمانؓ اور حضرت ابودردائؓ کو آپس میں بھائی بھائی بنایا۔ حضرت سلمانؓ حضرت ابودردائؓ سے ملنے گئے تو انہوں نے حضرت امّ دردائؓ کو دیکھا کہ انہوں نے میلے کچیلے کپڑے پہنے ہوئے ہیں۔ انہوں نے اُن سے پوچھا: تمہارا یہ کیا حال ہے؟ وہ کہنے لگیں: تمہارے بھائی ابودردائؓکودنیا میں کوئی حاجت نہیں۔ اِتنے میں حضرت ابودردائؓ آئے تو انہوں نے حضرت سلمانؓ کے لئے کھانا تیار کیا اور اُن سے کہا: آپؓکھائیں(اور) کہا: میںتو روزہ دار ہوں۔ حضرتسلمانؓ نے کہا: میں اس وقت تک ہرگزنہکھائوں گا جب تک آ پؓ نہ کھائیں۔ (وہب نے) کہا: حضرت ابودردائؓ نے کھانا کھایا اور جب رات ہوئی تو حضرت ابودردائؓ کھڑے ہوکر نماز پڑھنے لگے۔ (حضرت سلمانؓ نے) کہا: سوئیں۔ تو وہ سوگئے۔ پھر نماز کے لئے اُٹھنے لگے تو انہوں نے کہا: ابھی سوئیں۔ جب رات کا آخری حصہ ہوا تو حضرت سلمانؓ نے کہا: اب اُٹھیں اور دونوں نےنماز پڑھیاور حضرت سلمانؓ نے اُن سے کہا: تیرے ربّ کا بھی تجھ پر حق ہے اور تیرے نفس کا بھی اور تیری بیوی کا بھی تجھ پر حق ہے۔ اس لئے ہر حق والے کو اُس کا حق دے۔ حضرت ابودردائؓ نبی ﷺ کے پاس آئے اور آپؐ سے اس بات کا ذکر کیاتو نبی ﷺ نے اُن سے فرمایا: سلمانؓ نے سچ کہا ہے۔
(تشریح)معاذ بن فضالہ نے ہم سے بیان کیا کہ ہشام نے ہمیں بتایا۔ انہوںنے یحيٰ سے، یحيٰ نے ابوسلمہ سے روایت کی کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے اُن سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم شعبان سے زیادہ کسی مہینے میں روزے نہیں رکھتے تھے۔ آپؐ شعبان کا سارا مہینہ روزے رکھتے اور فرمایا کرتے تھے: اُتنا ہی عمل کرو جتنی تم طاقت رکھتے ہو کیونکہ اللہ تعالیٰ تو نہیں اُکتاتا۔ تم ہی اُکتا جائو گے۔ اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو سب سے پیاری نماز وہ تھی جو ہمیشہ پڑھی جائے اگر چہ وہ تھوڑی ہی ہو، اور جب آپؐ کوئی (نفل) نماز پڑھتے تو آپؐ اُسے ہمیشہ ہی پڑھا کرتے۔
(تشریح)