بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 7 of 117 hadith
ابوالیمان نے ہم سے بیان کیا کہ شعیب نے ہمیں خبردی۔ زہری سے مروی ہے کہ انہوں نے کہا: عروہ بن زبیر نے مجھے خبردی کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عاشورہ کے دِن روزہ رکھنے کا اِرشاد فرمایاتھا مگر جب رمضان فرض ہوا تو جو چاہتا روزہ رکھتا اور جو چاہتا روزہ نہ رکھتا۔
عبداللہ بن مسلمہ (قعنبی) نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے مالک سے، مالک نے ہشام بن عروہ سے، ہشام نے اپنے باپ سے، اُن کے باپ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: زمانہ جاہلیت میں قریش عاشورہ کے دِن روزہ رکھا کرتے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی زمانہ جاہلیت میں یہ روزہ رکھتے۔ جب آپؐ مدینہ میں آئے تو آپؐ نے وہ روزہ رکھا اور اُس دن روزہ رکھنے کا اِرشاد فرمایا۔ جب رمضان فرض ہوا تو آپؐ نے عاشورہ کا روزہ چھوڑ دیا اور جو چاہتا روزہ رکھتا اور جو چاہتا نہ رکھتا۔
علی بن عبداللہ (مدینی) نے ہم سے بیان کیا کہ ابواُسامہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابوعمیس سے، ابوعمیس نے قیس بن مسلم سے، قیس نے طارق بن شہاب سے، انہوں نے حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: عاشورہ کا دِن ایسا تھا کہ یہود اُسے عید شمار کرتے تھے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے (صحابہ سے) فرمایا: تم بھی اس دِن روزہ رکھو۔
عبیداللہ بن موسیٰ نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے (سفیان) بن عیینہ سے، سفیان نے عبیداللہ بن ابی یزید سے، عبیداللہ نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو میں نے نہیں دیکھا کہ آپؐ یہ سمجھ کر روزہ کی جستجو رکھتے کہ وہ آپؐکے نزدیک کسی دوسرے دِن سے افضل ہے مگر یہ دن یعنی عاشوراء کا دِن اور یہ مہینہ یعنی ماہِ رمضان۔
مکی بن ابراہیم نے ہم سے بیان کیا۔ یزید بن ابی عبید نے ہمیں بتایا کہ حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسلم (قبیلے) کے ایک شخص سے فرمایا کہ لوگوں میں اِعلان کر دو کہ جس نے کچھ کھایا ہو تو وہ اس دِن کا باقی وقت روزہ سے رہے اور جس نے کچھ نہ کھایا ہو تو چاہیے کہ وہ بھی روزہ رکھے کیونکہ آج عاشورہ کا دِن ہے۔
(تشریح)عبداللہ بن مسلمہ (قعنبی) نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے مالک سے، مالک نے ابن شہاب سے، ابن شہاب نے حمید بن عبدالرحمن سے روایت کی کہ انہوں نے حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما کو عاشورہ کے دن جس سال انہوں نے حج کیا، منبر پر کہتے سنا: اے مدینہ والو ! تمہارے علماء کہاں ہیں؟ (کہ یہ روزہ نہیں رکھتے۔) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے میں نے سنا کہ آپؐ فرماتے تھے: یہ عاشوراء کا دِن ہے، اس دِن روزہ اگرچہ اللہ نے تم پر فرض نہیں کیا مگر میں روزہ دار ہوں، سو جو چاہے روزہ رکھے اور جو چاہے نہ رکھے۔
ابومعمر نے ہم سے بیان کیا۔ عبدالوارث نے ہمیں بتایا کہ ایوب سے مروی ہے۔ انہوں نے عبداللہ بن سعید بن جبیر سے، انہوں نے اپنے باپ سے، اُن کے باپ نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ میں آئے تو یہود کو دیکھا کہ وہ عاشورہ کا روزہ رکھتے ہیں۔ آپؐ نے پوچھا: یہ کیا ہے ؟ انہوں نے کہا: یہ بھلا دِن ہے، یہ وہ دِن ہے کہ اللہ نے بنی اسرائیل کو اُن کے دشمن سے نجات دی تھی تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے یہ روزہ رکھا تھا۔ آپؐ نے فرمایا: پھر میں تو تم سے بڑھ کر حضرت موسٰیؑ سے تعلق کا حق رکھتا ہوں۔ چنانچہ آپؐ نے وہ روزہ رکھا اور اُس دِن روزہ رکھنے کا اِرشاد فرمایا۔