بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 117 hadith
قتیبہ بن سعید نے ہم سے بیان کیا کہ اسماعیل بن جعفر نے ہمیں بتایا۔ انہوںنے ابوسہیل سے، ابوسہیل نے اپنے باپ سے، اُن کے باپ (مالک) نے حضرت طلحہ بن عبیداللہؓ سے روایت کی کہ ایک بدوی رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا؛ حالت یہ تھی کہ سر کے بال پراگندہ تھے۔ اس نے کہا: یا رسول اللہ! آپؐ مجھے بتائیں اللہ نےنماز میں سے کیا کچھ مجھ پر فرض کیا ہے؟ آپؐنے فرمایا: پانچ نمازیں، سوائے اِس کے کہ تو خوش نفسی سے کچھ اور پڑھے تو اُس نے کہا: مجھے بتائیں روزوں سےاللہ نے مجھ پر جو فرض کیا ہے؟ تو آپؐ نے فرمایا: رمضانکا مہینہ سوائے اِس کے کہ تو خوش نفسی سے کچھ اور روزے رکھے تو اُس نے کہا: مجھے بتائیں زکوٰۃ سے اللہ نے مجھ پر کیا فرض کیا ہے؟ (حضرت طلحہ بن عبیداللہؓ) کہتے تھے: رسول اللہﷺ نے شریعت کے اَحکام اُس کو بتائے ۔ اُس نے کہا: اُسی ذات کی قسم ہے جس نے آپؐکو حق کے ساتھ عزت بخشی، میں بطور نفل کچھ نہیں کروں گا اور نہ اِس سے کچھ کم کروں گا جو اللہ نے مجھ پر فرض کیا ہے۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا: بامراد ہوگیا اگر یہ سچا ہے یا (فرمایا:) جنت میں داخل ہوگیا اگر یہ سچا ہے۔
مسدد (بن مسرہد) نے ہم سے بیان کیا کہ اسماعیل (بن ابراہیم) نے ہمیں بتایا۔ انہوںنے ایوب سے، ایوب نے نافع سے، نافع نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی۔ انہوں نے کہا کہ نبی ﷺ
قتیبہ نے ہم سے بیان کیا کہ اسماعیل بن جعفر نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابوسہیل (نافع بن مالک) سے، ابوسہیل نے اپنے باپ سے، اُن کے باپ نے حضرت ابوہریرہ صسے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب رمضان آتا ہے تو جنت کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں۔
قتیبہ بن سعید نے ہم سے بیان کیا کہ لیث نے ہمیں بتایا کہ یزید بن ابی حبیب سے مروی ہے کہ عراک بن مالک نے اُن سے بیان کیا کہ عروہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہوئے اُنہیں خبردی کہ قریش جاہلیت میں عاشورہ کے دِن روزہ رکھا کرتے تھے۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی یہ روزہ رکھنے کا حکم دیا، یہاں تک کہ رمضان (کے روزے) فرض ہوئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو چاہے یہ روزہ رکھے اور جو چاہے نہ رکھے۔
(تشریح)عبداللہ بن مسلمہ (قعنبی) نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے مالک سے، مالک نے ابوالزناد سے، ابوالزناد نے اعرج سے، اعرج نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: روزے ڈھال ہیں۔ سو کوئی شخص فحش بات نہ کرے اور نہ جہالت کی بات، اور اگر کوئی آدمی اُس سے لڑے یا گالی دے تو چاہیے کہ اُس سے دوبار کہے کہ میں روزہ دار ہوں۔ اس ذات کی قسم ہے جس کے ہاتھ میں میری جان ہے روزہ دار کے منہ کی بُو اللہ تعالیٰ کو مشک سے زیادہ پسندیدہ ہے۔ (اللہ تعالیٰ فرماتا ہے) کہ وہ اپنا کھانا اور اپنا پینا اور اپنی شہوت میری خاطر چھوڑ دیتا ہے۔ روزے میرے لئے ہیں اور میں ہی اُس کا بدلہ ہوں اور نیکی کا بدلہ دس گنا ہے۔
(تشریح)علی بن عبداللہ نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان (بن عیینہ) نے ہمیں بتایا۔ جامع (بن ابی راشد) نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے ابووائل سے، ابووائل نے حضرت حذیفہؓ سے روایت کی۔انہوں نے کہا: حضرت عمررضی اللہ عنہ نے پوچھا: فتنہ کی بابت نبی ﷺ سے کسی کو حدیث یاد ہے؟ حضرت حذیفہؓ نے کہا: میں نے آپؐ سے سنا۔ فرماتے تھے: آدمی کو جو فتنہ اُس کے بال بچوں اور اُس کے مال اور اُس کے ہمسایہ کی وجہ سے لاحق ہوتا ہے؛نماز، روزے اور صدقہ اُس کا کفارہ ہوتے ہیں۔ (حضرت عمرؓ نے) کہا: اس کی نسبت میں نہیں پوچھتا بلکہ میں تو اُس(فتنہ) سے متعلق پوچھتا ہوں جو سمندر کی موجوں کی مانند اُمڈ کرآئے گا۔ (حضرت حذیفہ ؓ نے) کہا اور اُس کے ورے ایک بند دروازہ ہے تو انہوں نے پوچھا: کیا وہ کھولا جائے گا یا توڑا جائے گا؟ (حضرت حذیفہؓ نے) کہا: توڑا جائے گا۔ تو انہوں نے کہا: یہ دروازہ توڑا گیا تو قیامت تک بند نہیں ہوگا۔ ہم نے مسروق سے کہا: (حضرت حذیفہؓ) سے پوچھو: کیا حضرت عمرؓ اس دروازے کو جانتے تھے؟ تو انہوں نے حضرت حذیفہؓ سے پوچھا: حضرت حذیفہؓ نے کہا:ہاں ایسا ہی جیسا یہ جانتے تھے کہ دِن کے بعد رات آئے گی۔
(تشریح)خالد بن مخلد نے ہم سے بیان کیا کہ سلیمان بن بلال نے ہمیں بتایا۔ انہوںنے کہا: ابوحازم نے مجھے بتایا۔ انہوں نے حضرت سہل رضی اللہ عنہ سے، حضرت سہلؓ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپؐ نے فرمایا: جنت میں بھی ایک دروازہ ہے۔ جس کو ریان کہتے ہیں۔ قیامت کے دِن روزہ دار اُس سے داخل ہوں گے۔ اُن کے سوا کوئی اُس سے داخل نہیں ہوگا۔ پوچھا جائے گا: روزہ دار کہاں ہیں؟ تو وہ کھڑے ہوجائیں گے۔ اُن کے سوا کوئی اُس سے داخل نہیں ہوگا۔ پس جب وہ داخل ہوجائیں گے تو وہ بند کردیا جائے گا توپھر کوئی بھی اُس سے داخل نہ ہوگا۔
ابراہیم بن منذر نے ہم سے بیان کیا، کہا: معن (بن عیسیٰ) نے مجھے بتایا، کہا: مالک نے مجھ سے بیان کیا۔ انہوں نے ابن شہاب سے، ابن شہاب نے حمید بن عبدالرحمن سے، حمید نے حضرت ابوہریرہ ص سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے اللہ کی راہ میں جوڑہ خرچ کیا؛ جنت کے دروازوں سے اُسے آواز دی جائے گی۔ اے اللہ کے بندے ! یہ (دروازہ) اچھا ہے۔ سو جو نماز پڑھنے والوں میں سے ہوگا، وہ نماز کے دروازہ سے بلایا جائے گا۔ جو جہاد کرنے والوں میں سے ہوگا، وہ جہاد کے دروازہ سے بلایا جائے گا۔ جو روزہ داروں میں سے ہوگا، اُسے ریان دروازہ سے بلایا جائے گا۔ جو صدقہ دینے والوں میں سے ہوگا، اُسے صدقہ کے دروازہ سے بلایا جائے گا۔ تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے (یہ سن کر) کہا: یا رسول اللہ! میرے ماں باپ آپؐ پر قربان جو اِن دروازوںمیں سے بلایا گیا تو اُسے کوئی ضرورت نہیں رہے گی۔ (حضور فرمائیں:) کیا کوئی ایسا بھی ہے جسے اِن سب دروازوں میں سے بلایا جائے گا؟ آپؐ نے فرمایا: ہاں۔ اور میں اُمید رکھتا ہوں کہ آپؓ بھی انہیں میں سے ہوں گے۔
(تشریح)یحيٰ بن بکیر نے مجھ سے بیان کیا، کہا: لیث نے مجھے بتایا۔ انہوں نے عقیل سے، عقیل نے ابن شہابسے روایت کی کہ انہوں نے کہا: مجھے (ابوسہیل) ابن ابی انس نے خبردی اور وہ تیمیین کے آزاد کردہ غلام تھے کہ اُن کے باپ نے اُن سے بیان کیا کہ انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا۔ وہ کہتے تھے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب رمضان کا مہینہ آجاتا ہے تو آسمان کے دروازے کھولے جاتے ہیں اور جہنم کے دروازے بند کردئیے جاتے ہیں اور شیاطین زنجیروں میں جکڑ دئیے جاتے ہیں۔
یحيٰ بن بکیر نے ہم سے بیان کیا، کہا: لیث نے مجھے بتایا۔ انہوںنے عقیل سے، عقیل نے ابن شہاب سے روایت کی۔انہوںنے کہا: سالم نے مجھے خبردی کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا۔ آپؐ فرماتے تھے: جب تم اسے (چاند) دیکھو تو روزہ رکھو اور جب تم اسے دیکھو روزہ چھوڑ دو۔ اگر تمہیں اَبر کی وجہ سے نظر نہ آئے تو پھر تم اُس کے لئے اندازہ کرلو۔ اور یحيٰ کے سِوا اور لوگوں نے لیث سے یوں نقل کیا: مجھ سے عقیل اور یونس نے بیان کیا، (کہا:) رمضان کے چاند کا اندازہ کرلو۔
(تشریح)