حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ قَالَ أَخْبَرَنِي الزُّهْرِيُّ قَالَ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ عَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ وَمَرْوَانَ يُصَدِّقُ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا حَدِيثَ صَاحِبِهِ قَالَ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم زَمَنَ الْحُدَيْبِيَةِ حَتَّى كَانُوا بِبَعْضِ الطَّرِيقِ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم إِنَّ خَالِدَ بْنَ الْوَلِيدِ بِالْغَمِيمِ فِي خَيْلٍ لِقُرَيْشٍ طَلِيعَةً فَخُذُوا ذَاتَ الْيَمِينِ . فَوَاللَّهِ مَا شَعَرَ بِهِمْ خَالِدٌ حَتَّى إِذَا هُمْ بِقَتَرَةِ الْجَيْشِ فَانْطَلَقَ يَرْكُضُ نَذِيرًا لِقُرَيْشٍ وَسَارَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم حَتَّى إِذَا كَانَ بِالثَّنِيَّةِ الَّتِي يُهْبَطُ عَلَيْهِمْ مِنْهَا بَرَكَتْ بِهِ رَاحِلَتُهُ. فَقَالَ النَّاسُ حَلْ حَلْ. فَأَلَحَّتْ فَقَالُوا خَلأَتِ الْقَصْوَاءُ خَلأَتِ الْقَصْوَاءُ. فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم مَا خَلأَتِ الْقَصْوَاءُ وَمَا ذَاكَ لَهَا بِخُلُقٍ وَلَكِنْ حَبَسَهَا حَابِسُ الْفِيلِ ثُمَّ قَالَ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لاَ يَسْأَلُونِي خُطَّةً يُعَظِّمُونَ فِيهَا حُرُمَاتِ اللَّهِ إِلاَّ أَعْطَيْتُهُمْ إِيَّاهَا . ثُمَّ زَجَرَهَا فَوَثَبَتْ قَالَ فَعَدَلَ عَنْهُمْ حَتَّى نَزَلَ بِأَقْصَى الْحُدَيْبِيَةِ عَلَى ثَمَدٍ قَلِيلِ الْمَاءِ يَتَبَرَّضُهُ النَّاسُ تَبَرُّضًا فَلَمْ يُلَبِّثْهُ النَّاسُ حَتَّى نَزَحُوهُ وَشُكِيَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الْعَطَشُ فَانْتَزَعَ سَهْمًا مِنْ كِنَانَتِهِ ثُمَّ أَمَرَهُمْ أَنْ يَجْعَلُوهُ فِيهِ فَوَاللَّهِ مَا زَالَ يَجِيشُ لَهُمْ بِالرِّيِّ حَتَّى صَدَرُوا عَنْهُ فَبَيْنَمَا هُمْ كَذَلِكَ إِذْ جَاءَ بُدَيْلُ بْنُ وَرْقَاءَ الْخُزَاعِيُّ فِي نَفَرٍ مِنْ قَوْمِهِ مِنْ خُزَاعَةَ وَكَانُوا عَيْبَةَ نُصْحِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنْ أَهْلِ تِهَامَةَ فَقَالَ إِنِّي تَرَكْتُ
عبداللہ بن محمد (مسندی) نے مجھے بتایا کہ عبدالرزاق نے ہم سے بیان کیا کہ معمر نے ہمیں خبردی۔ انہوں نے کہا کہ زہری نے مجھے خبر دی۔ انہوں نے کہا: عروہ بن زبیر نے مِسور بن محزمہ اور مروان سے روایت کرتے ہوئے مجھے بتایا۔ اُن میں سے ہر ایک اپنے ساتھی کی بات کی تصدیق کرتا تھا۔ اُن دونوں نے کہا: جن دِنوں حدیبیہ کی صلح ہوئی رسول اللہ ﷺ اُن دِنوں (مکہ جانے کے لئے) نکلے۔ جب راستے کا کچھ حصہ طے ہوگیا تو نبی ﷺ نے فرمایا: خالد بن ولید قریش کے کچھ سوار لئے ہوئے بطور ہراول مقام غمیم میں موجود ہے۔ اِس لئے دائیں طرف کا راستہ اِختیار کرو۔ بخدا خالد کو اُن کی خبر بھی نہ ہوئی۔ اچانک اُس کے سواروں نے فوج کے گرد وغبار کو دیکھا تو وہ قریش کو آگاہ کرنے کے لئے جلدی سے گیا اور نبی ﷺ بھی چلتے رہے۔ یہاں تک کہ جب آپؐ اُس گھاٹی میں پہنچے جہاں سے مکہ میں اُترا کرتے ہیں۔ آپؐ کی اُونٹنی آپؐ کو لئے ہوئے بیٹھ گئی۔ لوگ اُس کو اُٹھانے کے لئے حل حل کے الفاظ کہنے لگے۔ مگر وہ بیٹھی رہی۔ لوگ کہنے لگے: قصواء اَڑ بیٹھی۔ قصواء اَڑ بیٹھی۔ نبی ﷺ نے فرمایا: قصواء اَڑ کر نہیں بیٹھی اور نہ یہ اس کی عادت ہے بلکہ ہاتھیوں کے روکنے والے نے اس کو روک لیا ہے۔ پھر آپؐ نے فرمایا: اُس ذات کی قسم ہے جس کے ہاتھ میں میری جان ہے؛ جو بات بھی وہ مجھ سے ایسی چاہیں گے جس میں الٰہی حرمتوں کی تعظیم ہوگی میں اُن کی وہ بات ضرور قبول کرلوں گا۔ پھر آپؐ نے اُس کو ڈانٹا اور وہ اُٹھ کھڑی ہوئی۔ (عروہ بن زبیر نے) کہا: آپؐ مکہ والوں کی طرف سے ہٹ کر حدیبیہ کے پرلے کنارے ایک حوض کے پاس جا اُترے جس میں تھوڑا سا پانی تھا۔ لوگ اُس سے پانی لیتے رہے۔ ابھی دیر نہیں گذری تھی کہ لوگوں نے سب پانی کھینچ کر اُسے خشک کر دیا۔ بعد ازاں رسول اللہ ﷺ سے پیاس کی شکایت ہوئی تو آپؐ نے اپنے ترکش سے ایک تیر نکالا اور انہیں حکم دیا کہ وہ اُس تیر کو اُس 6حوض میں گاڑ دیں۔ بخدا جب تک وہ پانی پی پلا کر وہاں سے چلے نہیں آئے وہ برابر جوش مار مار کر انہیں پانی دیتا رہا۔ لوگ اِسی حالت میں تھے کہ بدیل بن ورقاء خزاعی اپنی قوم خزاعہ کے چند آدمیوں کو لے کر آگیا اور اہل تہامہ میں سے یہ لوگ رسول اللہ ﷺ کے خیر خواہ اور محرم راز تھے۔ (بدیل نے) کہا: میں کعب بن لوئی اور عامر بن لوئی کو چھوڑ آیا ہوں۔ وہ حدیبیہ کے اُن بہتے چشموں پر اُترے ہیں جن کے پانی ختم نہیں ہوئے۔ اُن کے ساتھ بال بچے بھی ہیںاور وہ آپؐ کے ساتھ لڑنے پر آمادہ ہیں اور آپؐ کو بیت اللہ (کا طواف کرنے) سے روکیں گے۔ اِس پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ہم کسی سے لڑنے کیلئے نہیں آئے بلکہ عمرہ کرنے کے اِرادہ سے آئے ہیں اور قریش کو تو لڑائی نے کمزور کردیا اور انہیں نقصان پہنچایا ہے۔ اگر وہ چاہیں تو میں اُن کے ساتھ ایک مقررہ وقت کے لئے صلح کرلوں گا اور وہ میرے اور لوگوں کے درمیان دخل نہ دیں۔ پس اگر مَیں غالب ہوجائوں اور یہ لوگ اِس (دین) میں داخل ہونا چاہیں جس میں اور لوگ داخل ہو رہے ہیں تو ایسا کرلیں ورنہ پھر وہ (اِس وقفہ میں) اپنی کھوئی ہوئی طاقت تو دوبارہ حاصل کریں گے اور اگر وہ نہ مانیں تو پھر اُسی ذات کی قسم ہے جس کے ہاتھ میں میری جان ہے۔ میں اپنے اس دین کی حفاظت کیلئے اُن کا مقابلہ ضرور کرتا رہوں گا یہاں تک کہ میری گردن الگ ہو جائے اور اللہ اپنی بات ضرور پوری کرکے رہے گا۔ بدیل نے کہاـ: جو آپؐ کہتے ہیں میں انہیں پہنچا دیتا ہوں۔(عروہ) نے کہا: وہ چلے گئے اور قریش کے پاس پہنچے ۔ انہوں نے کہا: ہم اُس شخص (یعنی آنحضرت
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ عَنِ الأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ إِنَّ لِلَّهِ تِسْعَةً وَتِسْعِينَ اسْمَا مِائَةً إِلاَّ وَاحِدًا مَنْ أَحْصَاهَا دَخَلَ الْجَنَّةَ .
ابوالیمان نے ہم سے بیان کیا کہ شعیب نے ہمیں خبردی۔ ابوزناد نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے اعرج سے، اعرج نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: اللہ کے ننانوے نام ہیں، یعنی ایک کم سو۔ جس نے انہیں اچھی طرح سمجھ لیا۔ جنت میں داخل ہوگیا۔
نَزَلُوا أَعْدَادَ مِيَاهِ الْحُدَيْبِيَةِ وَمَعَهُمُ الْعُوذُ الْمَطَافِيلُ وَهُمْ مُقَاتِلُوكَ وَصَادُّوكَ عَنِ الْبَيْتِ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم
قَائِمٌ عَلَى رَأْسِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَمَعَهُ السَّيْفُ وَعَلَيْهِ الْمِغْفَرُ فَكُلَّمَا أَهْوَى عُرْوَةُ بِيَدِهِ إِلَى لِحْيَةِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ضَرَبَ يَدَهُ بِنَعْلِ السَّيْفِ وَقَالَ لَهُ أَخِّرْ يَدَكَ عَنْ لِحْيَةِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم. فَرَفَعَ عُرْوَةُ رَأْسَهُ فَقَالَ مَنْ هَذَا قَالُوا
) کی طرف سے تمہارے پاس آئے ہیں اور ہم نے اُس کو ایک بات کہتے سنا ہے اگر تم چاہو کہ ہم تمہارے سامنے وہ پیش کریں تو ہم پیش کردیں۔ اُن میں سے جو بیوقوف تھے، کہنے لگے: ہمیں ضرورت نہیں کہ تم اُس کی طرف سے ہمیں کوئی بات کہو، اور جو اُن میں سے اہل الرائے تھے انہوں نے کہا: اچھا کہو جو تم نے اُس کو کہتے سنا۔ (بدیل نے) کہا: میں نے اُس کو یہ کہتے سنا ہے۔ اور جو باتیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے (بدیل سے) کی تھیں وہ انہوں نے اُن کو بتادیں۔ یہ سن کر عروہ بن مسعود کھڑے ہوئے اور انہوں نے کہا: میری قوم! کیا تم (میرے لئے) ایسے نہیں جیسے باپ؟ انہوں نے کہا:کیوں نہیں۔ (عروہ نے) کہا: کیا میں (تمہارے لئے) ایسا (خیر خواہ) نہیں جیسے بیٹا ہوتا ہے؟ انہوں نے کہا:کیوں نہیں۔عروہ نے کہا: تو کیا تم مجھ پر کوئی شبہ رکھتے ہو؟ انہوں نے کہا: نہیں۔ عروہ نے کہا: کیا تم جانتے نہیں کہ میں نے عکاظ والوں کو جنگ میں تمہاری مدد کے لئے ترغیب دی تھی؟ جب انہوں نے میری بات نہ مانی تو میں اپنے بال بچوں، اپنے خاندان کے لوگوں اور اُن کو جنہوں نے میرا کہامانا تھا، ساتھ لے کر تمہارے پاس آگیا تھا۔ انہوں نے کہا: بے شک۔ (عروہ نے) کہا: (اب سنو!) اس شخص (یعنی بدیل) نے حقیقت میں تمہاری بہتری کے لئے بھلائی کا راستہ پیش کیا ہے۔ اِسے مان لو اور مجھے محمد (
ﷺ
) کے پاس جانے دو۔ انہوں نے کہا: آپ اُس کے پاس جائیں۔ چنانچہ عروہ آپؐ کے پاس آئے اور نبی
ﷺ
سے گفتگو کرنے لگے۔ نبی
ﷺ
نے بدیل سے جو باتیںکی تھیں وہی باتیں عروہ سے بھی کیں۔ عروہ نے یہ باتیں سن کر کہا: محمدؐ ! بتائو تو سہی اگر تم نے اپنی قوم کو بالکل نابود کردیا تو کیا تم نے عربوں میں سے کسی عرب کی نسبت سنا ہے جس نے تم سے پہلے اپنے ہی لوگوں کو تباہ کردیا ہو اور اگر دوسری بات ہو (یعنی قریش غالب ہوئے) تو اللہ کی قسم! میں تمہارے ساتھیوں کے چہروں کو دیکھ رہا ہوں جو اِدھر اُدھر سے اکٹھے ہوگئے ہیں وہ بھاگ جائیں گے اور تمہیں چھوڑ دیں گے۔ یہ سن کر حضرت ابوبکرؓ نے (عروہ بن مسعود سے) کہا:لات کی شرمگاہ چوس، کیا ہم بھاگ جائیں گے اور آپؐ کو چھوڑ دیں گے؟ اِس پر عروہ نے پوچھا: یہ کون ہے؟ لوگوں نے کہا: ابوبکرؓ ۔ عروہ نے کہا: دیکھو اُس ذات کی قسم! جس کے ہاتھ میں میری جان ہے۔ اگر تمہارا مجھ پر ایک اِحسان نہ ہوتا جس کا میں نے ابھی تک تمہیں بدلہ نہیں دیا تو میں (اِس کا) تمہیں جواب دیتا۔ عروہ نے یہ کہا: اور نبی
ﷺ
سے باتیں شروع کردیں اور جب وہ کوئی بات کرتا تو آپؐ کی داڑھی کو ہاتھ لگاتا اور حضرت مغیرہؓ بن شعبہ نبی
ﷺ
کے پاس تلوار لئے خَود پہنے کھڑے تھے۔ جب کبھی عروہ اپنے ہاتھ کو نبی
ﷺ
کی داڑھی کی طرف بڑھاتا تو حضرت مغیرہؓ اُس کے ہاتھ کو تلوار کی میان کی نوک لگا کر کہتے: رسول اللہ
ﷺ
کی داڑھی سے اپنا ہاتھ پیچھے رکھ۔ آخر عروہ نے اپنا سر اُٹھایا اور پوچھا: یہ کون ہے؟ (انہوں نے) کہا: مغیرہ ؓبن شعبہ۔ (عروہ نے) کہا: اے دغاباز! کیا میں (ابھی تک) تیری دغا بازی کا خمیازہ نہیں بھگت رہا۔ کوشش میں ہوں کہ (کسی طرح) اس کا تدارک ہو اور مغیرہؓ زمانہ جاہلیت میں (بنوثقیف کے) کچھ لوگوں کے ساتھ سفر میں گئے اور مغیرہؓ نے انہیں قتل کردیا اور اُن کے مال لے لئے تھے۔ پھر آکر مسلمان ہوگئے؛ اِس پر نبی
ﷺ
نے فرمایا: تمہارا اِسلام تو میں قبول کرتا ہوں۔ لیکن جو مال ہے میرا اُس سے کچھ بھی واسطہ نہیں۔ پھر عروہ نبی
ﷺ
کے صحابہؓکو ترچھی نگاہوں سے دیکھنے لگا۔ (عروہ بن زبیر) کہتے تھے: اللہ کی قسم! نبی
ﷺ
جب بھی کوئی تھوک تھوکتے تو آپؐ کا تھوک اُن (صحابہؓ) میں سے کوئی نہ کوئی اپنی ہتھیلی پر لے لیتااور اُسے اپنے منہ اور بدن پر (بطور تبرک) مل لیتا اور جب کبھی آپؐ انہیں کوئی حکم دیتے تو آپؐ کا حکم بجالانے کے لئے ایک دوسرے سے آگے بڑھ کر لپکتے اور جب آپؐ وضو کرتے تو قریب ہوتا کہ وضو کے پانی کے تبرک پر لڑپڑیں اور جب وہ ان کے پاس بات کرتے تو اپنی آوازوں کو دھیما کرلیتے اور صحابہ آپؐ کی عظمت کی وجہ سے آپؐ کی طرف نظر اُٹھا کر نہ دیکھتے تھے۔ پھر عروہ اپنے ساتھیوں کی طرف لَوٹ گیا۔ اُن سے کہا: اے میری قوم! بخدا میں تو بادشاہوں کے پاس بھی جاچکا ہوں۔ قیصروکسریٰ کے پاس بھی گیا اور نجاشی کے پاس بھی گیا۔ بخدا میں نے کبھی کوئی بادشاہ نہیں دیکھا جس کے ساتھی اُس کی وہ تعظیم کرتے ہوں جو تعظیم محمد (
ﷺ
) کے ساتھی آپؐ کی کرتے ہیں اور اللہ کی قسم! جب وہ (
ﷺ
) تھوکتے ہیں تو اُن کے متبعین میں سے کوئی نہ کوئی اُس کو اپنے ہاتھ میں لے لیتا اور اُسے اپنے منہ اور بدن پر (بطور تبرک) مل لیتا ہے اور جب وہ اُن کو حکم دیتے تو وہ حکم بجالانے کیلئے ایک دوسرے سے آگے بڑھتے ہوئے لپکتے ہیں اور جب وہ وضو کرتے تو قریب ہوتا ہے کہ وہ (یعنی صحابہؓ) وضو کے پانی پر آپس میں لڑپڑیں اور جب وہ کوئی بات کرتے ہیں تو وہ اُن کے پاس اپنی آوازیں پست کر لیتے ہیں اور اُن کی عظمت کی وجہ سے اُن کی طرف نظر اُٹھا کر نہیں دیکھتے اور بات یہ ہے کہ اُس نے تمہارے سامنے تمہارے فائدہ کی بات پیش کی ہے ۔ تم اُس کو مان لو، تو بنی کنانہ میں سے ایک شخص بولا کہ مجھے اُس کے پاس جانے دو۔ انہوں نے کہا: جائو۔ جب نبی
ﷺ
اور آپؐ کے صحابہؓ کو وہ (گھاٹی پر) چڑھتے ہوئے نظر آیا تو رسول اللہ
ﷺ
نے فرمایا: یہ فلاں ہے اور وہ ایسی قوم سے ہے جو قربانی کے اُونٹوں کی بہت تعظیم کرتے ہیں۔ اِس لئے یہ قربانی کے اُونٹ اُس کے سامنے لے آئو۔ چنانچہ وہ سامنے لائے گئے اور لوگوں نے لبیک پکارتے ہوئے اُس کا اِستقبال کیا۔ جب اُس نے یہ نظارہ دیکھا تو کہا: سبحان اللہ! اِن لوگوں کو تو بیت اللہ سے روکنا نہیں چاہیے۔ پھر جب وہ اپنے ساتھیوں کے پاس لَوٹا تو اُس نے کہا: میں نے تو قربانی کے اُونٹ دیکھے ہیں جن کی گردنوں میں ہار ڈالے ہوئے ہیں اور اُن کے کوہان چیرے ہوئے ہیں۔ میں مناسب نہیں سمجھتا کہ وہ بیت اللہ سے روکے جائیں۔ یہ سن کر اُن میں سے ایک شخص کھڑا ہوا جسے مکرز بن حفص کہتے تھے۔ اُس نے کہا: مجھے اُس کے پاس جانے دو۔ انہوں نے کہا: جائو۔ جب وہ گھاٹی پر چڑھتے ہوئے نظر آیا تو نبی
ﷺ
نے فرمایا: یہ مکرز ہے جو فاجر شخص ہے۔ وہ آکر نبی
ﷺ
سے باتیں کرنے لگا۔ ابھی وہ آپؐ سے باتیں کرہی رہا تھا کہ سہیل بن عمرو آگیا۔ معمر کہتے ہیں: ایوب نے عکرمہ سے روایت کرتے ہوئے مجھے بتایا کہ جب سہیل بن عمرو آیا تو نبی
ﷺ
نے فرمایا: اب تمہارا کام آسان ہوگیا۔ معمر کہتے ہیں: زہری نے اپنی روایت میں یوں کہا کہ سہیل بن عمرو آیا تو اُس نے کہا: لائیے میں اپنے اور تمہارے درمیان ایک تحریر لکھ دوں۔ نبی
ﷺ
نے کاتب کو بلایا اور فرمایا: }لکھو:٭{ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم۔ سہیل نے کہا: خدا کی قسم! میں رحمن کو نہیں جانتا کہ کون ہے؟ مناسب یہ ہے کہ یوں لکھو: بِاسْمِکَ اللّٰھُمَّ جس طرح تم پہلے لکھوا یا کرتے تھے، مسلمانوں نے کہا: اللہ کی قسم! ہم یہ نہیں لکھیں گے۔ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم ہی لکھیں گے۔نبی
ﷺ
نے فرمایا: لکھو بِاسْمِکَ اللّٰھُمَّ پھر آپؐ نے لکھوایا: یہ وہ شرطیں ہیں جن پر محمد رسول اللہ نے صلح کا فیصلہ کیا ہے۔ سہیل نے کہا: بخدا ! اگر ہم جانتے کہ آپؐ رسول اللہ ہیں تو ہم آپؐ کو بیت اللہ سے کبھی نہ روکتے اور نہ آپؐ سے لڑتے۔ لیکن یوں لکھو: محمد بن عبداللہ۔ نبی
ﷺ
نے فرمایا: اللہ کی قسم! مَیں حقیقت میں اللہ کا رسول ہی ہوں گو تم مجھے جھٹلاتے ہو۔ محمد بن عبداللہ ہی لکھو۔ زُہری کہتے ہیں کہ یہ اِس لئے کیا کہ آپؐ فرما چکے تھے: وہ جو بات بھی مجھ سے ایسی چاہیں گے جس میں اُن کی طرف سے الٰہی حرمات کی تعظیم ہوگی تو میں اُن کی وہ بات (خوشی سے) منظور کرلوں گا۔ نبی
ﷺ
نے پھر یہ لکھنے کیلئے فرمایا: تم ہمیں بیت اللہ میں جانے دو تاکہ ہم اس کا طواف کریں۔ سہیل نے کہا: خدا کی قسم! کہیں عرب یہ چرچا نہ کریں کہ ہم سے یہ جبراً منوایا گیا ہے۔ لیکن یہ آئندہ سال ہوگا۔ چنانچہ یہی لکھا۔ پھر سہیل نے کہا اور ہم میں سے جو شخص بھی خواہ وہ آپؐ کے دین پر ہی ہو آپؐ کے پاس آئے تو آپؐ اُسے ہماری طرف واپس کر دیںگے۔مسلمان بول اُٹھے: سبحان اللہ! مشرکوں کے پاس وہ کیونکر لوٹایا جائے گا؟ جبکہ وہ مسلمان ہوکر آیا ہے۔ ابھی وہ انہی باتوں میں تھے کہ حضرت ابوجندلؓ بن سہیل بن عمرو اپنی زنجیروں میں لڑکھڑاتے ہوئے آئے اور وہ مکہ کے نچلے حصہ کی طرف سے نکل کر آئے تھے اور آکر اُنہوں نے اپنے آپ کو مسلمانوں کے درمیان ڈال دیا۔ سہیل نے کہا: محمدؐ! یہ وہ پہلا شخص ہے جس کا میں مطالبہ کرتا ہوں کہ آپؐ اِس کو مجھے واپس کردیں۔ نبی
ﷺ
نے فرمایا: ابھی تو ہم یہ تحریر نہیں لکھ چکے۔ سہیل نے کہا: پھر تو میں اللہ کی قسم! آپؐ سے کسی بات پر بھی کبھی صلح نہیں کروں گا۔ نبی
ﷺ
نے فرمایا: پھر میری خاطر اِس کی اِجازت دے دے۔ اُس نے کہا: میں تو آپؐ کی خاطر اِس کی اِجازت نہیں دوں گا۔ آپؐ نے فرمایا: نہیں یہ ضرور کرو۔ اُس نے کہا: میں تو یہ نہیں کروں گا۔ مکرز نے کہا: ہم نے آپؐ کی خاطر اِس کی اِجازت دے دی (مگر سہیل نہ مانا۔) ابو جندلؓ نے کہا: اے مسلمانوں کی جماعت! کیا میں مشرکوں کے حوالے کیا جائوں گا، حالانکہ میں مسلمان ہوکر آیا ہوں۔ کہا: کیا تم نہیں دیکھتے جو مصائب میں جھیل چکا ہوں۔ ابوجندل کو اللہ کی راہ میں فی الحقیقت سخت دُکھ اُٹھانا پڑا تھا۔ (زُہری نے) کہا: حضرت عمرؓبن خطاب کہتے تھے کہ میںنبی
ﷺ
کے پاس آیا اور میں نے کہا: کیا آپؐ سچ مچ اللہ کے نبی نہیں ہیں؟ آپؐ نے فرمایا: کیوں نہیں۔ میں نے کہا: کیا ہم حق پر نہیں اور ہمارا دشمن باطل پر؟ آپؐ نے فرمایا: کیوں نہیں۔ میں نے عرض کیا: تو پھر ہم اپنے دین سے متعلق ذِلت آمیز شرطیں کیوں مانیں؟ آپؐ نے فرمایا: میں اللہ کا رسول ہوں اور میں اُس کی نافرمانی نہیں کروں گا۔ وہ میری مدد کرے گا۔ میں نے کہا: کیا آپؐ ہم سے نہیں کہتے تھے کہ ہم عنقریب بیت اللہ میں پہنچیں گے اور اُس کا طواف کریں گے؟ آپؐ نے فرمایا: بے شک، اور کیا میں نے تمہیں یہ بتایا تھا کہ ہم بیت اللہ اِسی سال پہنچیں گے؟ (حضرت عمرؓ) کہتے تھے: میں نے کہا: نہیں۔ تو آپؐ نے فرمایا: تو پھر تم بیت اللہ ضرور پہنچو گے اور اُس کا طواف بھی کرو گے۔ (حضرت عمرؓ) کہتے تھے: یہ سن کر میں ابو بکرؓ کے پاس آیا اور میں نے کہا: ابوبکرؓ! کیا حقیقت میں آنحضرت
ﷺ
اللہ کے نبی نہیں ہیں؟ انہوں نے کہا: کیوں نہیں۔ میں نے کہا: کیا ہم حق پر نہیں ہیں اور ہمارا دشمن باطل پر؟ انہوں نے کہا: کیوں نہیں۔ میں نے کہا: ہم اپنے دین سے متعلق ذِلّت آمیز شرط کیوں قبول کریں۔ (اُس وقت ابوبکرؓ) نے کہا: او مردِ خدا! بے شک آنحضرت
ﷺ
اللہ کے رسول ہیں اور رسول اپنے ربّ کی نافرمانی نہیں کیا کرتا اور اللہ ضرور اُن کی مدد کرے گا۔آپؐ کے طے فرمودہ معاہدے کو مضبوطی سے تھامے رہو۔ اللہ کی قسم! آپؐ یقینا حق پر ہیں۔ میں نے کہا: کیا آپؐ ہم سے نہیں کہتے تھے کہ ہم ضرور بیت اللہ میں پہنچیں گے اور اُس کا طواف کریں گے۔ (ابوبکرؓ نے) کہا: بے شک۔ کیا آپؐ نے تم کو یہ بھی بتایا تھا کہ تم اِسی سال وہاں پہنچو گے۔ میں نے کہا: نہیں۔ (ابوبکرؓ نے) کہا: پھر تم ضرور وہاں پہنچو گے اور اُس کا طواف کروگے۔ زُہری نے کہا: حضرت عمرؓ کہتے تھے: میں نے اِس غلطی کی وجہ سے بطور کفارہ کئی (نیک) عمل کئے، کہتے تھے: جب آپؐ اس تحریرکے قضیہ سے فارغ ہوئے تو رسول اللہ
ﷺ
نے اپنے صحابہؓ سے فرمایا: اُٹھو اپنے اُونٹوں کو ذبح کرو اور پھر سر منڈوائو۔ کہتے تھے: اللہ کی قسم! اُن میں سے ایک شخص بھی نہ اُٹھا۔ یہاں تک کہ آپؐ نے تین بار حکم دیا۔ جب اُن میں سے کوئی نہ اُٹھا تو آپؐ حضرت امّ سلمہؓ کے پاس اندر گئے اور لوگوں کے رویّہ سے آپؐ کو جو تکلیف پہنچی تھی اُن سے اُس کا ذکر کیا۔ حضرت امّ سلمہؓ نے کہا: اے اللہ کے نبی! آپؐ یہی چاہتے ہیں تو باہر جائیں اور اُن میں سے کسی سے کوئی بات نہ کریں اور اپنی قربانی کی اُونٹنی ذبح کردیں اور اپنے حجام کو بلالیں تا آپؐ کے بال اُتارے۔ چنانچہ آپؐ باہر آئے، اُن میں سے کسی سے بات نہ کی اور حضرت امّ سلمہؓ کے مشورہ پر عمل کیا۔ اپنی قربانی کو ذبح کیا اور حجام کو بلایا اور اُس نے آپؐ کے سر کے بال صاف کردئیے۔ جب صحابہ ؓ نے یہ دیکھا تو وہ بھی اُٹھے اور انہوںنے قربانیاں ذبح کیں اور ایک دوسرے کے سر مونڈنے لگے۔ یہاں تک کہ قریب تھا کہ اژدہام کی وجہ سے وہ ایک دوسرے کو مار ڈالتے۔ پھر اِس کے بعد چند مومن عورتیں آپؐ کے پاس آئیں اور اللہ تعالیٰ نے یہ وحی نازل کی: اے مومنو! جب تمہارے پاس مومن عورتیں ہجرت کرکے آئیں تو اُن کو اچھی طرح آزما لیا کرو۔ اللہ اُن کے اِیمانوں کو خوب جانتا ہے۔ لیکن اگر تم بھی جان لو کہ وہ مومن عورتیں ہیں تو اُن کو کافروں کی طرف مت لَوٹاؤ۔ نہ وہ اُن کافروں کے لئے جائز ہیں اور نہ وہ کافر اُن کیلئے جائز ہیں اور چاہیے کہ کفا ر نے جو (اُن عورتوں کے نکاح پر) خرچ کیا ہو وہ اُن کو واپس کردو (اور جب تم اُن عورتوں کو کفار سے فارغ کروا لو تو) اُن کے معاوضے (یعنی مہر) ادا کرنے کی صورت میں اگر تم ان سے شادی کر لو تو تم پر کوئی اِعتراض نہیں اور کافر عورتوں کے ننگ وناموس کو قبضہ میں نہ رکھو۔ اِس پر حضرت عمرؓ نے اُسی دن اپنی اُن دو عورتوں کو طلاق دے دی جو مشرکہ تھیں۔ اُن میں سے ایک سے تو معاویہ بن ابی سفیان نے شادی کرلی اور دوسری سے صفوان بن امیہ نے۔ پھر نبی
ﷺ
مدینہ واپس آئے۔ آپؐ کے پاس قریش میں سے ایک شخص ابوبصیر آیا اور وہ مسلمان ہوچکا تھا۔ اہل مکہ نے اُن کی تلاش کے لئے قریش میں سے دو آدمی بھیجے۔ انہوں نے آکر کہا: اُس عہد کی پابندی کیجئے جو آپؐ نے ہم سے کیا ہے۔تب آپؐ نے ابوبصیر کو اُن دو آدمیوںکے حوالہ کردیا۔ وہ اُس کو لے کر چلے گئے۔ یہاں تک کہ ذوالحلیفہ میں پہنچے اور وہاں اُتر کر جو کھجوریں اُن کے پاس تھیں، کھانے لگے۔ ابوبصیر نے اُن دو آدمیوں میں سے ایک سے کہا: اے فلاں! خدا کی قسم! میں تمہاری تلوار عمدہ دیکھتا ہوں۔ دوسرے نے اُس کو کھینچ کر کہا: بے شک یہ تو خدا کی قسم! بہت ہی عمدہ ہے میں اس کو کئی بار آزماچکا ہوں۔ ابوبصیر نے کہا: مجھے دکھائو میں اسے دیکھوں۔ پھر ابو بصیر نے اس سے پکڑ لی اور اُس پر ایسی ضرب لگائی کہ وہیں ٹھنڈا ہوگیا اور دوسرا بھاگ کر مدینہ پہنچا اور پھر بھاگتا ہوا مسجد میں داخل ہوگیا۔ رسول اللہ
ﷺ
نے جب اُس کو دیکھا تو فرمایا: اس نے ضرور کوئی ہیبت ناک واقعہ دیکھا ہے۔ جب وہ نبی
ﷺ
کے پاس پہنچا تو اُس نے کہا: اللہ کی قسم! میرا ساتھی مارا گیا اور میں بھی ضرور مارا جائوں گا۔ اتنے میں ابوبصیر بھی آپہنچے اور کہنے لگے: اے اللہ کے نبی! خدا کی قسم؛ اللہ نے آپؐ کی ذمہ داری پوری کردی ہے۔ آپؐ نے تو مجھے ان کی طرف واپس بھیج دیا تھا۔ پھر اللہ نے مجھے ان سے نجات دِلوائی۔ نبی
ﷺ
نے فرمایا: اس کی ماں کا بھلا ہو یہ تو لڑائی پیدا کرنے والا ہے۔ کاش کوئی اس کو سنبھالے۔ جب اُس نے یہ سنا وہ سمجھ گیا کہ آپؐ اس کو ضرور اُن کے پاس لَوٹا دیں گے، وہاں سے نکل کر سمندر کے کنارے چلا آیا۔ زُہری نے کہا: ابوجندلؓ بن سہیل بھی اُن سے چھوٹ کر ابوبصیر سے آملا۔ پھر قریش میں سے جو شخص بھی ایسا نکلتا جو مسلمان ہوچکا ہوتا وہ ابوبصیر سے جاملتا۔ یہاں تک کہ ایسے آدمیوں کا ایک جتھا اکٹھا ہوگیا۔ پھر اللہ کی قسم! جس قافلہ کو سن پاتے کہ قریش کا (مال لے کر) شام کی طرف نکلا ہے تو وہ اُس سے ضرور ہی چھیڑ چھاڑ کرتے اور اُن کو مارتے اور اُن کا مال لُوٹ لیتے۔ آخر قریش نے تنگ آکر نبی
ﷺ
کو اللہ کی قسم اور رشتہ ناطہ کا واسطہ دے کر کہلا بھیجا کہ آپؐ ابوبصیر کو ضرور بلالیں اور پھر جو بھی آپؐ کے پاس آئے وہ ہماری طرف سے اَمن میں ہے۔ تب نبی
ﷺ
نے اُن کو بلا لیا اور پھر اللہ تعالیٰ نے یہ وحی نازل کی: اور یہ خدا ہی ہے جس نے اُن کے ہاتھوں کو تم سے اور تمہارے ہاتھوں کو اُن سے مکہ کی وادی میں روک دیا، بعد اس کے کہ اس نے تمہیں (حالات کے مطابق) اُن پر فتح عطا فرما دی تھے ۔۔۔۔ جب وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا اپنے دلوں میں غیرت کا یعنی جاہلانہ غیرت کا مسئلہ بنا بیٹھے۔ اُن کی حمیت جاہلیہ کا یہ حال تھا کہ انہوں نے نہ تو اِقرار کیا کہ آنحضرت
ﷺ
اللہ کے نبی ہیں اورنہ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ کو اپنی جگہ رہنے دیا اور بیت اللہ کے درمیان اور مسلمانوں کے درمیان روک بن گئے۔ (یعنی مسلمانوں کو بیت اللہ کے طواف سے روک دیا۔)
ابو عبد اللہ (امام بخاری ؒ) نے کہا: مَعَرَّۃٌ یعنی عیب وملامت کی تکلیف۔ تَزَیَّلُوْا کے معانی ہیں نتھر کر الگ ہو گئے۔ حَمَیْتُ الْقَوْمَ کے معانی ہیں میں نے حفاظت کے لیے انہیں روکا۔ اور اَحْمَیْتُ الْحِمَی کے معانی ہیں کہ میں نے اس کو ایسی چراگاہ بنایا کہ اس میں داخل نہ ہوا جا سکے۔ اور اَحْمَیْتُ الرَّجُلَ کہتے ہیں جب تو اُسے غصہ دِلا کر خوب بھڑکا دے۔
عبداللہ بن محمد (مسندی) نے مجھے بتایا کہ عبدالرزاق نے ہم سے بیان کیا کہ معمر نے ہمیں خبردی۔ انہوں نے کہا کہ زہری نے مجھے خبر دی۔ انہوں نے کہا: عروہ بن زبیر نے مِسور بن محزمہ اور مروان سے روایت کرتے ہوئے مجھے بتایا۔ اُن میں سے ہر ایک اپنے ساتھی کی بات کی تصدیق کرتا تھا۔ اُن دونوں نے کہا: جن دِنوں حدیبیہ کی صلح ہوئی رسول اللہ ﷺ اُن دِنوں (مکہ جانے کے لئے) نکلے۔ جب راستے کا کچھ حصہ طے ہوگیا تو نبی ﷺ نے فرمایا: خالد بن ولید قریش کے کچھ سوار لئے ہوئے بطور ہراول مقام غمیم میں موجود ہے۔ اِس لئے دائیں طرف کا راستہ اِختیار کرو۔ بخدا خالد کو اُن کی خبر بھی نہ ہوئی۔ اچانک اُس کے سواروں نے فوج کے گرد وغبار کو دیکھا تو وہ قریش کو آگاہ کرنے کے لئے جلدی سے گیا اور نبی ﷺ بھی چلتے رہے۔ یہاں تک کہ جب آپؐ اُس گھاٹی میں پہنچے جہاں سے مکہ میں اُترا کرتے ہیں۔ آپؐ کی اُونٹنی آپؐ کو لئے ہوئے بیٹھ گئی۔ لوگ اُس کو اُٹھانے کے لئے حل حل کے الفاظ کہنے لگے۔ مگر وہ بیٹھی رہی۔ لوگ کہنے لگے: قصواء اَڑ بیٹھی۔ قصواء اَڑ بیٹھی۔ نبی ﷺ نے فرمایا: قصواء اَڑ کر نہیں بیٹھی اور نہ یہ اس کی عادت ہے بلکہ ہاتھیوں کے روکنے والے نے اس کو روک لیا ہے۔ پھر آپؐ نے فرمایا: اُس ذات کی قسم ہے جس کے ہاتھ میں میری جان ہے؛ جو بات بھی وہ مجھ سے ایسی چاہیں گے جس میں الٰہی حرمتوں کی تعظیم ہوگی میں اُن کی وہ بات ضرور قبول کرلوں گا۔ پھر آپؐ نے اُس کو ڈانٹا اور وہ اُٹھ کھڑی ہوئی۔ (عروہ بن زبیر نے) کہا: آپؐ مکہ والوں کی طرف سے ہٹ کر حدیبیہ کے پرلے کنارے ایک حوض کے پاس جا اُترے جس میں تھوڑا سا پانی تھا۔ لوگ اُس سے پانی لیتے رہے۔ ابھی دیر نہیں گذری تھی کہ لوگوں نے سب پانی کھینچ کر اُسے خشک کر دیا۔ بعد ازاں رسول اللہ ﷺ سے پیاس کی شکایت ہوئی تو آپؐ نے اپنے ترکش سے ایک تیر نکالا اور انہیں حکم دیا کہ وہ اُس تیر کو اُس 6حوض میں گاڑ دیں۔ بخدا جب تک وہ پانی پی پلا کر وہاں سے چلے نہیں آئے وہ برابر جوش مار مار کر انہیں پانی دیتا رہا۔ لوگ اِسی حالت میں تھے کہ بدیل بن ورقاء خزاعی اپنی قوم خزاعہ کے چند آدمیوں کو لے کر آگیا اور اہل تہامہ میں سے یہ لوگ رسول اللہ ﷺ کے خیر خواہ اور محرم راز تھے۔ (بدیل نے) کہا: میں کعب بن لوئی اور عامر بن لوئی کو چھوڑ آیا ہوں۔ وہ حدیبیہ کے اُن بہتے چشموں پر اُترے ہیں جن کے پانی ختم نہیں ہوئے۔ اُن کے ساتھ بال بچے بھی ہیںاور وہ آپؐ کے ساتھ لڑنے پر آمادہ ہیں اور آپؐ کو بیت اللہ (کا طواف کرنے) سے روکیں گے۔ اِس پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ہم کسی سے لڑنے کیلئے نہیں آئے بلکہ عمرہ کرنے کے اِرادہ سے آئے ہیں اور قریش کو تو لڑائی نے کمزور کردیا اور انہیں نقصان پہنچایا ہے۔ اگر وہ چاہیں تو میں اُن کے ساتھ ایک مقررہ وقت کے لئے صلح کرلوں گا اور وہ میرے اور لوگوں کے درمیان دخل نہ دیں۔ پس اگر مَیں غالب ہوجائوں اور یہ لوگ اِس (دین) میں داخل ہونا چاہیں جس میں اور لوگ داخل ہو رہے ہیں تو ایسا کرلیں ورنہ پھر وہ (اِس وقفہ میں) اپنی کھوئی ہوئی طاقت تو دوبارہ حاصل کریں گے اور اگر وہ نہ مانیں تو پھر اُسی ذات کی قسم ہے جس کے ہاتھ میں میری جان ہے۔ میں اپنے اس دین کی حفاظت کیلئے اُن کا مقابلہ ضرور کرتا رہوں گا یہاں تک کہ میری گردن الگ ہو جائے اور اللہ اپنی بات ضرور پوری کرکے رہے گا۔ بدیل نے کہاـ: جو آپؐ کہتے ہیں میں انہیں پہنچا دیتا ہوں۔(عروہ) نے کہا: وہ چلے گئے اور قریش کے پاس پہنچے ۔ انہوں نے کہا: ہم اُس شخص (یعنی آنحضرت ﷺ) کی طرف سے تمہارے پاس آئے ہیں اور ہم نے اُس کو ایک بات کہتے سنا ہے اگر تم چاہو کہ ہم تمہارے سامنے وہ پیش کریں تو ہم پیش کردیں۔ اُن میں سے جو بیوقوف تھے، کہنے لگے: ہمیں ضرورت نہیں کہ تم اُس کی طرف سے ہمیں کوئی بات کہو، اور جو اُن میں سے اہل الرائے تھے انہوں نے کہا: اچھا کہو جو تم نے اُس کو کہتے سنا۔ (بدیل نے) کہا: میں نے اُس کو یہ کہتے سنا ہے۔ اور جو باتیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے (بدیل سے) کی تھیں وہ انہوں نے اُن کو بتادیں۔ یہ سن کر عروہ بن مسعود کھڑے ہوئے اور انہوں نے کہا: میری قوم! کیا تم (میرے لئے) ایسے نہیں جیسے باپ؟ انہوں نے کہا:کیوں نہیں۔ (عروہ نے) کہا: کیا میں (تمہارے لئے) ایسا (خیر خواہ) نہیں جیسے بیٹا ہوتا ہے؟ انہوں نے کہا:کیوں نہیں۔عروہ نے کہا: تو کیا تم مجھ پر کوئی شبہ رکھتے ہو؟ انہوں نے کہا: نہیں۔ عروہ نے کہا: کیا تم جانتے نہیں کہ میں نے عکاظ والوں کو جنگ میں تمہاری مدد کے لئے ترغیب دی تھی؟ جب انہوں نے میری بات نہ مانی تو میں اپنے بال بچوں، اپنے خاندان کے لوگوں اور اُن کو جنہوں نے میرا کہامانا تھا، ساتھ لے کر تمہارے پاس آگیا تھا۔ انہوں نے کہا: بے شک۔ (عروہ نے) کہا: (اب سنو!) اس شخص (یعنی بدیل) نے حقیقت میں تمہاری بہتری کے لئے بھلائی کا راستہ پیش کیا ہے۔ اِسے مان لو اور مجھے محمد (ﷺ) کے پاس جانے دو۔ انہوں نے کہا: آپ اُس کے پاس جائیں۔ چنانچہ عروہ آپؐ کے پاس آئے اور نبی ﷺ سے گفتگو کرنے لگے۔ نبی ﷺ نے بدیل سے جو باتیںکی تھیں وہی باتیں عروہ سے بھی کیں۔ عروہ نے یہ باتیں سن کر کہا: محمدؐ ! بتائو تو سہی اگر تم نے اپنی قوم کو بالکل نابود کردیا تو کیا تم نے عربوں میں سے کسی عرب کی نسبت سنا ہے جس نے تم سے پہلے اپنے ہی لوگوں کو تباہ کردیا ہو اور اگر دوسری بات ہو (یعنی قریش غالب ہوئے) تو اللہ کی قسم! میں تمہارے ساتھیوں کے چہروں کو دیکھ رہا ہوں جو اِدھر اُدھر سے اکٹھے ہوگئے ہیں وہ بھاگ جائیں گے اور تمہیں چھوڑ دیں گے۔ یہ سن کر حضرت ابوبکرؓ نے (عروہ بن مسعود سے) کہا:لات کی شرمگاہ چوس، کیا ہم بھاگ جائیں گے اور آپؐ کو چھوڑ دیں گے؟ اِس پر عروہ نے پوچھا: یہ کون ہے؟ لوگوں نے کہا: ابوبکرؓ ۔ عروہ نے کہا: دیکھو اُس ذات کی قسم! جس کے ہاتھ میں میری جان ہے۔ اگر تمہارا مجھ پر ایک اِحسان نہ ہوتا جس کا میں نے ابھی تک تمہیں بدلہ نہیں دیا تو میں (اِس کا) تمہیں جواب دیتا۔ عروہ نے یہ کہا: اور نبی ﷺ سے باتیں شروع کردیں اور جب وہ کوئی بات کرتا تو آپؐ کی داڑھی کو ہاتھ لگاتا اور حضرت مغیرہؓ بن شعبہ نبی ﷺ کے پاس تلوار لئے خَود پہنے کھڑے تھے۔ جب کبھی عروہ اپنے ہاتھ کو نبی ﷺ کی داڑھی کی طرف بڑھاتا تو حضرت مغیرہؓ اُس کے ہاتھ کو تلوار کی میان کی نوک لگا کر کہتے: رسول اللہ ﷺ کی داڑھی سے اپنا ہاتھ پیچھے رکھ۔ آخر عروہ نے اپنا سر اُٹھایا اور پوچھا: یہ کون ہے؟ (انہوں نے) کہا: مغیرہ ؓبن شعبہ۔ (عروہ نے) کہا: اے دغاباز! کیا میں (ابھی تک) تیری دغا بازی کا خمیازہ نہیں بھگت رہا۔ کوشش میں ہوں کہ (کسی طرح) اس کا تدارک ہو اور مغیرہؓ زمانہ جاہلیت میں (بنوثقیف کے) کچھ لوگوں کے ساتھ سفر میں گئے اور مغیرہؓ نے انہیں قتل کردیا اور اُن کے مال لے لئے تھے۔ پھر آکر مسلمان ہوگئے؛ اِس پر نبی ﷺ نے فرمایا: تمہارا اِسلام تو میں قبول کرتا ہوں۔ لیکن جو مال ہے میرا اُس سے کچھ بھی واسطہ نہیں۔ پھر عروہ نبی ﷺ کے صحابہؓکو ترچھی نگاہوں سے دیکھنے لگا۔ (عروہ بن زبیر) کہتے تھے: اللہ کی قسم! نبی ﷺ جب بھی کوئی تھوک تھوکتے تو آپؐ کا تھوک اُن (صحابہؓ) میں سے کوئی نہ کوئی اپنی ہتھیلی پر لے لیتااور اُسے اپنے منہ اور بدن پر (بطور تبرک) مل لیتا اور جب کبھی آپؐ انہیں کوئی حکم دیتے تو آپؐ کا حکم بجالانے کے لئے ایک دوسرے سے آگے بڑھ کر لپکتے اور جب آپؐ وضو کرتے تو قریب ہوتا کہ وضو کے پانی کے تبرک پر لڑپڑیں اور جب وہ ان کے پاس بات کرتے تو اپنی آوازوں کو دھیما کرلیتے اور صحابہ آپؐ کی عظمت کی وجہ سے آپؐ کی طرف نظر اُٹھا کر نہ دیکھتے تھے۔ پھر عروہ اپنے ساتھیوں کی طرف لَوٹ گیا۔ اُن سے کہا: اے میری قوم! بخدا میں تو بادشاہوں کے پاس بھی جاچکا ہوں۔ قیصروکسریٰ کے پاس بھی گیا اور نجاشی کے پاس بھی گیا۔ بخدا میں نے کبھی کوئی بادشاہ نہیں دیکھا جس کے ساتھی اُس کی وہ تعظیم کرتے ہوں جو تعظیم محمد (ﷺ) کے ساتھی آپؐ کی کرتے ہیں اور اللہ کی قسم! جب وہ (ﷺ) تھوکتے ہیں تو اُن کے متبعین میں سے کوئی نہ کوئی اُس کو اپنے ہاتھ میں لے لیتا اور اُسے اپنے منہ اور بدن پر (بطور تبرک) مل لیتا ہے اور جب وہ اُن کو حکم دیتے تو وہ حکم بجالانے کیلئے ایک دوسرے سے آگے بڑھتے ہوئے لپکتے ہیں اور جب وہ وضو کرتے تو قریب ہوتا ہے کہ وہ (یعنی صحابہؓ) وضو کے پانی پر آپس میں لڑپڑیں اور جب وہ کوئی بات کرتے ہیں تو وہ اُن کے پاس اپنی آوازیں پست کر لیتے ہیں اور اُن کی عظمت کی وجہ سے اُن کی طرف نظر اُٹھا کر نہیں دیکھتے اور بات یہ ہے کہ اُس نے تمہارے سامنے تمہارے فائدہ کی بات پیش کی ہے ۔ تم اُس کو مان لو، تو بنی کنانہ میں سے ایک شخص بولا کہ مجھے اُس کے پاس جانے دو۔ انہوں نے کہا: جائو۔ جب نبی ﷺ اور آپؐ کے صحابہؓ کو وہ (گھاٹی پر) چڑھتے ہوئے نظر آیا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: یہ فلاں ہے اور وہ ایسی قوم سے ہے جو قربانی کے اُونٹوں کی بہت تعظیم کرتے ہیں۔ اِس لئے یہ قربانی کے اُونٹ اُس کے سامنے لے آئو۔ چنانچہ وہ سامنے لائے گئے اور لوگوں نے لبیک پکارتے ہوئے اُس کا اِستقبال کیا۔ جب اُس نے یہ نظارہ دیکھا تو کہا: سبحان اللہ! اِن لوگوں کو تو بیت اللہ سے روکنا نہیں چاہیے۔ پھر جب وہ اپنے ساتھیوں کے پاس لَوٹا تو اُس نے کہا: میں نے تو قربانی کے اُونٹ دیکھے ہیں جن کی گردنوں میں ہار ڈالے ہوئے ہیں اور اُن کے کوہان چیرے ہوئے ہیں۔ میں مناسب نہیں سمجھتا کہ وہ بیت اللہ سے روکے جائیں۔ یہ سن کر اُن میں سے ایک شخص کھڑا ہوا جسے مکرز بن حفص کہتے تھے۔ اُس نے کہا: مجھے اُس کے پاس جانے دو۔ انہوں نے کہا: جائو۔ جب وہ گھاٹی پر چڑھتے ہوئے نظر آیا تو نبی ﷺ نے فرمایا: یہ مکرز ہے جو فاجر شخص ہے۔ وہ آکر نبی ﷺ سے باتیں کرنے لگا۔ ابھی وہ آپؐ سے باتیں کرہی رہا تھا کہ سہیل بن عمرو آگیا۔ معمر کہتے ہیں: ایوب نے عکرمہ سے روایت کرتے ہوئے مجھے بتایا کہ جب سہیل بن عمرو آیا تو نبی ﷺ نے فرمایا: اب تمہارا کام آسان ہوگیا۔ معمر کہتے ہیں: زہری نے اپنی روایت میں یوں کہا کہ سہیل بن عمرو آیا تو اُس نے کہا: لائیے میں اپنے اور تمہارے درمیان ایک تحریر لکھ دوں۔ نبی ﷺ نے کاتب کو بلایا اور فرمایا: }لکھو:٭{ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم۔ سہیل نے کہا: خدا کی قسم! میں رحمن کو نہیں جانتا کہ کون ہے؟ مناسب یہ ہے کہ یوں لکھو: بِاسْمِکَ اللّٰھُمَّ جس طرح تم پہلے لکھوا یا کرتے تھے، مسلمانوں نے کہا: اللہ کی قسم! ہم یہ نہیں لکھیں گے۔ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم ہی لکھیں گے۔نبی ﷺ نے فرمایا: لکھو بِاسْمِکَ اللّٰھُمَّ پھر آپؐ نے لکھوایا: یہ وہ شرطیں ہیں جن پر محمد رسول اللہ نے صلح کا فیصلہ کیا ہے۔ سہیل نے کہا: بخدا ! اگر ہم جانتے کہ آپؐ رسول اللہ ہیں تو ہم آپؐ کو بیت اللہ سے کبھی نہ روکتے اور نہ آپؐ سے لڑتے۔ لیکن یوں لکھو: محمد بن عبداللہ۔ نبی ﷺ نے فرمایا: اللہ کی قسم! مَیں حقیقت میں اللہ کا رسول ہی ہوں گو تم مجھے جھٹلاتے ہو۔ محمد بن عبداللہ ہی لکھو۔ زُہری کہتے ہیں کہ یہ اِس لئے کیا کہ آپؐ فرما چکے تھے: وہ جو بات بھی مجھ سے ایسی چاہیں گے جس میں اُن کی طرف سے الٰہی حرمات کی تعظیم ہوگی تو میں اُن کی وہ بات (خوشی سے) منظور کرلوں گا۔ نبی ﷺ نے پھر یہ لکھنے کیلئے فرمایا: تم ہمیں بیت اللہ میں جانے دو تاکہ ہم اس کا طواف کریں۔ سہیل نے کہا: خدا کی قسم! کہیں عرب یہ چرچا نہ کریں کہ ہم سے یہ جبراً منوایا گیا ہے۔ لیکن یہ آئندہ سال ہوگا۔ چنانچہ یہی لکھا۔ پھر سہیل نے کہا اور ہم میں سے جو شخص بھی خواہ وہ آپؐ کے دین پر ہی ہو آپؐ کے پاس آئے تو آپؐ اُسے ہماری طرف واپس کر دیںگے۔مسلمان بول اُٹھے: سبحان اللہ! مشرکوں کے پاس وہ کیونکر لوٹایا جائے گا؟ جبکہ وہ مسلمان ہوکر آیا ہے۔ ابھی وہ انہی باتوں میں تھے کہ حضرت ابوجندلؓ بن سہیل بن عمرو اپنی زنجیروں میں لڑکھڑاتے ہوئے آئے اور وہ مکہ کے نچلے حصہ کی طرف سے نکل کر آئے تھے اور آکر اُنہوں نے اپنے آپ کو مسلمانوں کے درمیان ڈال دیا۔ سہیل نے کہا: محمدؐ! یہ وہ پہلا شخص ہے جس کا میں مطالبہ کرتا ہوں کہ آپؐ اِس کو مجھے واپس کردیں۔ نبی ﷺنے فرمایا: ابھی تو ہم یہ تحریر نہیں لکھ چکے۔ سہیل نے کہا: پھر تو میں اللہ کی قسم! آپؐ سے کسی بات پر بھی کبھی صلح نہیں کروں گا۔ نبی ﷺ نے فرمایا: پھر میری خاطر اِس کی اِجازت دے دے۔ اُس نے کہا: میں تو آپؐ کی خاطر اِس کی اِجازت نہیں دوں گا۔ آپؐ نے فرمایا: نہیں یہ ضرور کرو۔ اُس نے کہا: میں تو یہ نہیں کروں گا۔ مکرز نے کہا: ہم نے آپؐ کی خاطر اِس کی اِجازت دے دی (مگر سہیل نہ مانا۔) ابو جندلؓ نے کہا: اے مسلمانوں کی جماعت! کیا میں مشرکوں کے حوالے کیا جائوں گا، حالانکہ میں مسلمان ہوکر آیا ہوں۔ کہا: کیا تم نہیں دیکھتے جو مصائب میں جھیل چکا ہوں۔ ابوجندل کو اللہ کی راہ میں فی الحقیقت سخت دُکھ اُٹھانا پڑا تھا۔ (زُہری نے) کہا: حضرت عمرؓبن خطاب کہتے تھے کہ میںنبی ﷺ کے پاس آیا اور میں نے کہا: کیا آپؐ سچ مچ اللہ کے نبی نہیں ہیں؟ آپؐ نے فرمایا: کیوں نہیں۔ میں نے کہا: کیا ہم حق پر نہیں اور ہمارا دشمن باطل پر؟ آپؐ نے فرمایا: کیوں نہیں۔ میں نے عرض کیا: تو پھر ہم اپنے دین سے متعلق ذِلت آمیز شرطیں کیوں مانیں؟ آپؐ نے فرمایا: میں اللہ کا رسول ہوں اور میں اُس کی نافرمانی نہیں کروں گا۔ وہ میری مدد کرے گا۔ میں نے کہا: کیا آپؐ ہم سے نہیں کہتے تھے کہ ہم عنقریب بیت اللہ میں پہنچیں گے اور اُس کا طواف کریں گے؟ آپؐ نے فرمایا: بے شک، اور کیا میں نے تمہیں یہ بتایا تھا کہ ہم بیت اللہ اِسی سال پہنچیں گے؟ (حضرت عمرؓ) کہتے تھے: میں نے کہا: نہیں۔ تو آپؐ نے فرمایا: تو پھر تم بیت اللہ ضرور پہنچو گے اور اُس کا طواف بھی کرو گے۔ (حضرت عمرؓ) کہتے تھے: یہ سن کر میں ابو بکرؓ کے پاس آیا اور میں نے کہا: ابوبکرؓ! کیا حقیقت میں آنحضرت ﷺ اللہ کے نبی نہیں ہیں؟ انہوں نے کہا: کیوں نہیں۔ میں نے کہا: کیا ہم حق پر نہیں ہیں اور ہمارا دشمن باطل پر؟ انہوں نے کہا: کیوں نہیں۔ میں نے کہا: ہم اپنے دین سے متعلق ذِلّت آمیز شرط کیوں قبول کریں۔ (اُس وقت ابوبکرؓ) نے کہا: او مردِ خدا! بے شک آنحضرت ﷺ اللہ کے رسول ہیں اور رسول اپنے ربّ کی نافرمانی نہیں کیا کرتا اور اللہ ضرور اُن کی مدد کرے گا۔آپؐ کے طے فرمودہ معاہدے کو مضبوطی سے تھامے رہو۔ اللہ کی قسم! آپؐ یقینا حق پر ہیں۔ میں نے کہا: کیا آپؐ ہم سے نہیں کہتے تھے کہ ہم ضرور بیت اللہ میں پہنچیں گے اور اُس کا طواف کریں گے۔ (ابوبکرؓ نے) کہا: بے شک۔ کیا آپؐ نے تم کو یہ بھی بتایا تھا کہ تم اِسی سال وہاں پہنچو گے۔ میں نے کہا: نہیں۔ (ابوبکرؓ نے) کہا: پھر تم ضرور وہاں پہنچو گے اور اُس کا طواف کروگے۔ زُہری نے کہا: حضرت عمرؓ کہتے تھے: میں نے اِس غلطی کی وجہ سے بطور کفارہ کئی (نیک) عمل کئے، کہتے تھے: جب آپؐ اس تحریرکے قضیہ سے فارغ ہوئے تو رسول اللہ ﷺ نے اپنے صحابہؓ سے فرمایا: اُٹھو اپنے اُونٹوں کو ذبح کرو اور پھر سر منڈوائو۔ کہتے تھے: اللہ کی قسم! اُن میں سے ایک شخص بھی نہ اُٹھا۔ یہاں تک کہ آپؐ نے تین بار حکم دیا۔ جب اُن میں سے کوئی نہ اُٹھا تو آپؐ حضرت امّ سلمہؓ کے پاس اندر گئے اور لوگوں کے رویّہ سے آپؐ کو جو تکلیف پہنچی تھی اُن سے اُس کا ذکر کیا۔ حضرت امّ سلمہؓ نے کہا: اے اللہ کے نبی! آپؐ یہی چاہتے ہیں تو باہر جائیں اور اُن میں سے کسی سے کوئی بات نہ کریں اور اپنی قربانی کی اُونٹنی ذبح کردیں اور اپنے حجام کو بلالیں تا آپؐ کے بال اُتارے۔ چنانچہ آپؐ باہر آئے، اُن میں سے کسی سے بات نہ کی اور حضرت امّ سلمہؓ کے مشورہ پر عمل کیا۔ اپنی قربانی کو ذبح کیا اور حجام کو بلایا اور اُس نے آپؐ کے سر کے بال صاف کردئیے۔ جب صحابہ ؓ نے یہ دیکھا تو وہ بھی اُٹھے اور انہوںنے قربانیاں ذبح کیں اور ایک دوسرے کے سر مونڈنے لگے۔ یہاں تک کہ قریب تھا کہ اژدہام کی وجہ سے وہ ایک دوسرے کو مار ڈالتے۔ پھر اِس کے بعد چند مومن عورتیں آپؐ کے پاس آئیں اور اللہ تعالیٰ نے یہ وحی نازل کی: اے مومنو! جب تمہارے پاس مومن عورتیں ہجرت کرکے آئیں تو اُن کو اچھی طرح آزما لیا کرو۔ اللہ اُن کے اِیمانوں کو خوب جانتا ہے۔ لیکن اگر تم بھی جان لو کہ وہ مومن عورتیں ہیں تو اُن کو کافروں کی طرف مت لَوٹاؤ۔ نہ وہ اُن کافروں کے لئے جائز ہیں اور نہ وہ کافر اُن کیلئے جائز ہیں اور چاہیے کہ کفا ر نے جو (اُن عورتوں کے نکاح پر) خرچ کیا ہو وہ اُن کو واپس کردو (اور جب تم اُن عورتوں کو کفار سے فارغ کروا لو تو) اُن کے معاوضے (یعنی مہر) ادا کرنے کی صورت میں اگر تم ان سے شادی کر لو تو تم پر کوئی اِعتراض نہیں اور کافر عورتوں کے ننگ وناموس کو قبضہ میں نہ رکھو۔ اِس پر حضرت عمرؓ نے اُسی دن اپنی اُن دو عورتوں کو طلاق دے دی جو مشرکہ تھیں۔ اُن میں سے ایک سے تو معاویہ بن ابی سفیان نے شادی کرلی اور دوسری سے صفوان بن امیہ نے۔ پھر نبیﷺ مدینہ واپس آئے۔ آپؐ کے پاس قریش میں سے ایک شخص ابوبصیر آیا اور وہ مسلمان ہوچکا تھا۔ اہل مکہ نے اُن کی تلاش کے لئے قریش میں سے دو آدمی بھیجے۔ انہوں نے آکر کہا: اُس عہد کی پابندی کیجئے جو آپؐ نے ہم سے کیا ہے۔تب آپؐ نے ابوبصیر کو اُن دو آدمیوںکے حوالہ کردیا۔ وہ اُس کو لے کر چلے گئے۔ یہاں تک کہ ذوالحلیفہ میں پہنچے اور وہاں اُتر کر جو کھجوریں اُن کے پاس تھیں، کھانے لگے۔ ابوبصیر نے اُن دو آدمیوں میں سے ایک سے کہا: اے فلاں! خدا کی قسم! میں تمہاری تلوار عمدہ دیکھتا ہوں۔ دوسرے نے اُس کو کھینچ کر کہا: بے شک یہ تو خدا کی قسم! بہت ہی عمدہ ہے میں اس کو کئی بار آزماچکا ہوں۔ ابوبصیر نے کہا: مجھے دکھائو میں اسے دیکھوں۔ پھر ابو بصیر نے اس سے پکڑ لی اور اُس پر ایسی ضرب لگائی کہ وہیں ٹھنڈا ہوگیا اور دوسرا بھاگ کر مدینہ پہنچا اور پھر بھاگتا ہوا مسجد میں داخل ہوگیا۔ رسول اللہ ﷺ نے جب اُس کو دیکھا تو فرمایا: اس نے ضرور کوئی ہیبت ناک واقعہ دیکھا ہے۔ جب وہ نبی ﷺ کے پاس پہنچا تو اُس نے کہا: اللہ کی قسم! میرا ساتھی مارا گیا اور میں بھی ضرور مارا جائوں گا۔ اتنے میں ابوبصیر بھی آپہنچے اور کہنے لگے: اے اللہ کے نبی! خدا کی قسم؛ اللہ نے آپؐ کی ذمہ داری پوری کردی ہے۔ آپؐ نے تو مجھے ان کی طرف واپس بھیج دیا تھا۔ پھر اللہ نے مجھے ان سے نجات دِلوائی۔ نبی ﷺ نے فرمایا: اس کی ماں کا بھلا ہو یہ تو لڑائی پیدا کرنے والا ہے۔ کاش کوئی اس کو سنبھالے۔ جب اُس نے یہ سنا وہ سمجھ گیا کہ آپؐ اس کو ضرور اُن کے پاس لَوٹا دیں گے، وہاں سے نکل کر سمندر کے کنارے چلا آیا۔ زُہری نے کہا: ابوجندلؓ بن سہیل بھی اُن سے چھوٹ کر ابوبصیر سے آملا۔ پھر قریش میں سے جو شخص بھی ایسا نکلتا جو مسلمان ہوچکا ہوتا وہ ابوبصیر سے جاملتا۔ یہاں تک کہ ایسے آدمیوں کا ایک جتھا اکٹھا ہوگیا۔ پھر اللہ کی قسم! جس قافلہ کو سن پاتے کہ قریش کا (مال لے کر) شام کی طرف نکلا ہے تو وہ اُس سے ضرور ہی چھیڑ چھاڑ کرتے اور اُن کو مارتے اور اُن کا مال لُوٹ لیتے۔ آخر قریش نے تنگ آکر نبی ﷺ کو اللہ کی قسم اور رشتہ ناطہ کا واسطہ دے کر کہلا بھیجا کہ آپؐ ابوبصیر کو ضرور بلالیں اور پھر جو بھی آپؐ کے پاس آئے وہ ہماری طرف سے اَمن میں ہے۔ تب نبی ﷺ نے اُن کو بلا لیا اور پھر اللہ تعالیٰ نے یہ وحی نازل کی: اور یہ خدا ہی ہے جس نے اُن کے ہاتھوں کو تم سے اور تمہارے ہاتھوں کو اُن سے مکہ کی وادی میں روک دیا، بعد اس کے کہ اس نے تمہیں (حالات کے مطابق) اُن پر فتح عطا فرما دی تھے ۔۔۔۔ جب وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا اپنے دلوں میں غیرت کا یعنی جاہلانہ غیرت کا مسئلہ بنا بیٹھے۔ اُن کی حمیت جاہلیہ کا یہ حال تھا کہ انہوں نے نہ تو اِقرار کیا کہ آنحضرت ﷺ اللہ کے نبی ہیں اورنہ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ کو اپنی جگہ رہنے دیا اور بیت اللہ کے درمیان اور مسلمانوں کے درمیان روک بن گئے۔ (یعنی مسلمانوں کو بیت اللہ کے طواف سے روک دیا۔)
ابو عبد اللہ (امام بخاری ؒ) نے کہا: مَعَرَّۃٌ یعنی عیب وملامت کی تکلیف۔ تَزَیَّلُوْا کے معانی ہیں نتھر کر الگ ہو گئے۔ حَمَیْتُ الْقَوْمَ کے معانی ہیں میں نے حفاظت کے لیے انہیں روکا۔ اور اَحْمَیْتُ الْحِمَی کے معانی ہیں کہ میں نے اس کو ایسی چراگاہ بنایا کہ اس میں داخل نہ ہوا جا سکے۔ اور اَحْمَیْتُ الرَّجُلَ کہتے ہیں جب تو اُسے غصہ دِلا کر خوب بھڑکا دے۔
اور عقیل نے زُہری سے روایت کرتے ہوئے بتایا کہ عروہ نے کہا کہ حضرت عائشہؓ نے مجھے بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عورتوں کا اِمتحان لیا کرتے تھے اور ہمیں یہ خبر پہنچی ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے یہ حکم نازل کیا کہ (مسلمان) مشرکوں کو اُن کے وہ خرچ دے دیں، جو انہوں نے اپنی ان بیویوں پر کئے ہیں جو ہجرت کرکے (مسلمانوں کے پاس) آگئی ہیں اور مسلمانوں کو یہ حکم بھی دیا کہ کافر عورتوں کو نکاح میں نہ رکھیں تو حضرت عمرؓ نے اپنی دو بیویوں کو طلاق دے دی ایک قریبہ بنت ابی امیہ اور دوسری بنت جرول الخزاعی۔ پھر معاویہ نے قریبہ سے شادی کرلی اور دوسری سے ابوجہم نے۔ اور جب کفار نے اُس خرچ کی اَدائیگی کا اِقرار کرنے سے اِنکار کیا جو مسلمانوں نے اپنی بیویوں پر کیا تھا تو اللہ تعالیٰ نے یہ وحی نازل کی: اگر تمہاری بیویوں میں سے کوئی کافروں کے پاس چلی جائے (اور وہ خرچ نہ دیں) تو تم بھی اُن سے ویسا ہی سلوک کرو۔ (فَعَاقِبُوْھُمْ، عَقَبَ سے ہے۔) اور عقب وہ خرچ ہے جو مسلمان کافروں میں سے اُس شخص کو دیتے تھے جس کی بیوی (مسلمان ہوکر اور) ہجرت کرکے (مدینہ) آجاتی۔ تو اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ جس مسلمان کی بیوی (مرتد ہوکر مکہ) چلی جائے اُس مسلمان کو وہ خرچ دے دیا جائے جو کافروں کی اُن عورتوں کا مہر ہے جنہوں نے ہجرت کرلی ہے اور کسی مہاجر عورت کا ہمیں علم نہیں کہ وہ اِیمان لانے کے بعد مرتد ہوئی ہو اور ہمیں یہ خبر پہنچی ہے کہ ابوبصیر بن اسید ثقفی نبی ﷺ کے پاس مسلمان ہوکر مدت صلح میں ہجرت کرکے آیا تواخنس بن شریق نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو لکھا اور آپؐ سے ابوبصیر کی واپسی کا مطالبہ کیا۔ پھر یہی حدیث بیان کی (جس کا ذِکر اُوپر گذر چکا ہے)۔
لیث نے کہا: جعفر بن ربیعہ نے مجھ سے بیان کیا۔ انہوں نے عبدالرحمن بن ہرمز سے، عبدالرحمن نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے، حضرت ابوہریرہؓ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپؐ نے ایک شخص کا ذکر کیا جس نے بنی اِسرائیل میں سے کسی شخص کو ایک ہزار دینار قرض دینے کے لئے کہا اور اُس نے اُس کو وہ اشرفیاں مقررہ معیاد تک کے لئے دے دیں۔
اور حضرت (عبداللہ) بن عمر رضی اللہ عنہما اور عطاء (بن ابی رباح) نے کہا: اگر قرض میں مدت مقرر کرلیں تو یہ جائز ہے۔
ـ رضى الله عنها ـ قَالَتْ أَتَتْهَا بَرِيرَةُ تَسْأَلُهَا فِي كِتَابَتِهَا فَقَالَتْ إِنْ شِئْتِ أَعْطَيْتُ أَهْلَكِ وَيَكُونُ الْوَلاَءُ لِي. فَلَمَّا جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ذَكَّرْتُهُ ذَلِكَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم
علی بن عبداللہ (مدینی) نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان (بن عیینہ) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے یحيٰ (بن سعید انصاری) سے، یحيٰنے عمرہ سے، عمرہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی۔ وہ کہتی تھیں کہ اُن کے پاس بریرہؓ آئیں جو اپنی کتابت کے بارے میں اُن سے کچھ مدد مانگتی تھیں۔ حضرت عائشہؓ نے کہا: اگر تم چاہو تو مَیں (تمہارے معاہدہ کے مطابق رقم) تمہارے مالکوں کو دے دیتی ہوں مگر حق وراثت میرا ہوگا۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو حضرت عائشہؓ نے آپؐ سے اس کا ذکر کیا۔ نبیﷺ نے فرمایا: تم اُسے خرید لو پھر اُسے آزاد کردو۔ کیونکہ حق وراثت اُسی کا ہوتا ہے جو آزاد کرے۔ پھر اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر کھڑے ہوئے اور آپؐ نے فرمایا: اُن لوگوں کا کیا حال ہے جو ایسی شرطیں کرتے ہیں کہ وہ اللہ کی کتاب میں نہیں۔ جو شخص ایسی شرط کرے گا جو اللہ کی کتاب میں نہیں تو وہ (شرط) اُس کے لئے (مفید) نہ ہوگی؛ گو وہ سَو شرطیں کرے۔
قُتَیبہ بن سعید نے ہمیں بتایا کہ محمد بن عبداللہ انصاری نے ہم سے بیان کیا کہ (عبداللہ) بن عون نے ہمیں یہ بتایا، کہا کہ نافع نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مجھے خبردی کہ حضرت عمرؓ بن خطاب نے خیبر میں کچھ زمین حاصل کی اور وہ نبی ﷺ کے پاس اُس کے متعلق مشورہ کرنے آئے۔ انہوں نے کہا: یارسول اللہ !میں نے خیبر میں زمین حاصل کی ہے۔ میرے نزدیک اس سے بہتر مجھے کبھی کوئی جائیداد نہیں ملی۔ آپؐ مجھے اس کے بارہ میں کیا مشورہ دیتے ہیں؟ آپؐ نے فرمایا: اگر تم چاہو تو اصل زمین وقف کردو اور اس کی آمدنی غرباء پر خرچ کرو۔ (نافع) کہتے تھے: پھر حضرت عمرؓ نے وہ صدقہ میں دے دی؛ اس شرط پر کہ نہ وہ بیچی جائے اور نہ کسی کو ہبہ دی جائے، نہ ورثہ میں تقسیم کی جائے۔ اور انہوں نے وہ زمین محتاجوں، رشتہ داروں، غلاموں کے آزاد کرنے، اللہ کی راہ میں اور مسافروں اور مہمانوں کے لئے وقف کردی۔ اور جو زمین کا نگران ہو اُس کے لئے کوئی حرج نہیں کہ وہ اس میں سے دستور کے مطابق خود کھائے اور کھلائے مگر مال کو جمع کرنے والا نہ ہو۔ (ابن عون) کہتے تھے: میں نے ابن سیرین کے پاس یہ روایت بیان کی۔ انہوں نے کہا: (اِس کے یہ معنی ہیں کہ متولی اس کی آمد سے) کوئی جائیداد بنانے والا نہ ہو۔