بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 44 hadith
عبداللہ بن یوسف نے ہم سے بیان کیا کہ مالک نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے نافع سے، نافع نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کسی مسلمان کو جس کے پاس کوئی ایسی چیز ہو کہ اُس میں اُسے وصیت کرنی چاہیے، مناسب نہیں کہ وہ دو راتیں بغیر وصیت تحریر کردینے کے گزارے۔ (مالک کی طرح) محمد بن مسلم نے عمرو (بن دینار) سے، عمرو نے حضرت ابن عمرؓ سے، حضرت ابن عمرؓ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی روایت کی۔
(تشریح)خلاد بن یحيٰ نے ہم سے بیان کیا کہ مالک نے ہمیں بتایا، جو مِغْوَل کے بیٹے تھے۔(انہوں نے کہا:) طلحہ بن مصرف نے ہم سے بیان کیا، کہا کہ میں نے حضرت عبداللہ بن ابی ادفیٰ رضی اللہ عنہما سے پوچھا: کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی وصیت کی تھی؟ تو انہوں نے کہا:نہیں۔ میں نے کہا: پھر لوگوں پر کیسے وصیت فرض کی گئی یا ( یہ کہا کہ ) انہیں وصیت کا حکم کیسے دیا گیا؟ حضرت عبداللہؓ نے کہا: آپؐ نے کتاب اللہ پر عمل کرنے کی وصیت کی ہے۔
قُتَیبہ بن سعید نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان (بن عیینہ) نے ہمیں بتایا۔ انہو ں نے ہشام بن عروہ سے، ہشام نے اپنے باپ سے، انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی۔ انہوں نے کہا کہ اگر لوگ (تہائی سے بھی کچھ کم یعنی) چوتھائی حصہ مال کی وصیت کریں (تو بہتر ہے۔) کیونکہ رسول اللہ
حسان بن ابی عباد نے ہم سے بیان کیا کہ ہمام نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے قتادہ سے، قتادہ نے حضرت انس ص سے روایت کی کہ ایک یہودی نے ایک لڑکی کا سر دو پتھروں سے کچل دیا (ابھی وہ لڑکی زندہ تھی) اُس سے پوچھا گیا: تجھے کس نے مارا ہے؟ کیا فلاں فلاں نے؟ آخر جب اُس یہودی کا نام لیا گیا تو اُس نے اپنے سر سے اِشارہ کیا کہ ہاں۔ تب وہ یہودی پکڑ کر لایا گیا اور تفتیش جاری رہی یہاں تک کہ اُس نے اِقرار کرلیا۔ اِس پر نبی
ابراہیم بن حارث نے ہم سے بیان کیا کہ یحيٰبن ابی بکیر نے ہمیں بتایا۔(انہوں نے کہا:) زہیر بن معاویہ جعفی نے ہم سے بیان کیا کہ ابواسحاق (عمروبن عبداللہ) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عمروبن حارث سے روایت کی جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے برادر نسبتی یعنی حضرت جویریہؓ بنت حارث کے بھائی تھے۔ انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی وفات کے وقت نہ درہم چھوڑا، نہ دینار، نہ غلام، نہ لونڈی، نہ کوئی اور چیز، سوائے اپنے ایک سفید خچر کے اور اپنے ایک ہتھیار کے اور کچھ زمین کے جس کو آپؐ وقف کرگئے تھے۔
عمروبن زُرارہ نے ہم سے بیان کیا کہ اسماعیل (بن علیہ) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے (عبداللہ) بن عون سے، ابن عون نے ابراہیم (نخعی) سے، ابراہیم نے اسود (بن یزید) سے روایت کی، کہا کہ (بعض لوگوں) نے حضرت عائشہ کے پاس یہ ذکر کیا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہما (نبی ﷺ کے) وصی تھے۔ انہوں نے کہا: آپؐ نے اُن کو کب وصی بنایا تھا، بحالیکہ میں تو آپؐ کو وفات کے وقت اپنے سینے سے سہارا دئیے ہوئے تھی۔ یا کہا: اپنی گود میں لئے ہوئے تھی۔ آپؐ نے طشت منگوایا اور میری گود ہی میں آپؐ جھک گئے اورمجھے پتہ ہی نہ لگا کہ آپؐ فوت ہوگئے ہیں۔ تو آپؐ نے علیؓ کے حق میں کب وصیت کی تھی؟ طرفہُ: ۴۴۵۹۔
ابونعیم نے ہم سے بیان کیا کہ ہم سے سفیان (بن عیینہ) نے بیان کیا۔ انہوں نے سعد بن ابراہیم سے، سعد نے عامر بن سعد سے اور عامر نے حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا کہ نبیﷺ میری عیادت کے لئے آئے۔ اُن دِنوں میں مکہ میں تھا اور آپؐ ناپسند فرماتے تھے کہ کوئی اُس زمین میں فوت ہو جس سے وہ ہجرت کرچکا ہو۔ آپؐ نے فرمایا: اللہ عفراء کے بیٹے پر رحم کرے۔ میں نے کہا: یارسول اللہ! کیا میں اپنے سارے مال کی وصیت کردوں؟ آپؐ نے فرمایا: نہیں۔ میں نے کہا: آدھا۔ آپؐ نے فرمایا: نہیں۔ میں نے کہا: تہائی۔ آپؐ نے فرمایا: تہائی سہی اور تہائی بھی بہت ہے۔ تم اگر اپنے وارثوں کو دولت مند چھوڑو تو یہ اِس سے بہتر ہے کہ تم اُن کو ایسا محتاج چھوڑو کہ وہ لوگوں کے سامنے اپنے ہاتھ پھیلاتے پھریں اور جو خرچ بھی تم کروگے تو وہ صدقہ ہی ہوگا۔ یہاں تک کہ وہ لقمہ جو تم اُٹھا کر اپنی بیوی کے منہ میں ڈالو (وہ بھی صدقہ ہی ہے۔) اور عین ممکن ہے کہ اللہ تمہیں اِس بیماری سے صحت دے کر اُٹھا ئے اور بعض لوگ تم سے فائدہ حاصل کریں اور بعض کو تمہاری وجہ سے نقصان پہنچے۔ اور اُن دِنوں حضرت سعدؓکی صرف ایک ہی بیٹی تھی۔
محمد بن عبدالرحیم نے مجھ سے بیان کیاکہ زکریا بن عدی نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے کہا کہ مروان (بن معاویہ) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ہاشم بن ہاشم سے، ہاشم نے عامر بن سعد سے، انہوں نے اپنے باپ (حضرت سعد بن ابی وقاص) ص سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: میں بیمار ہوگیا تو نبیﷺ میری بیمار پرسی کیلئے تشریف لائے۔ میں نے کہا: یارسول اللہ! اللہ سے دعا کریں کہ وہ مجھے اُلٹے پائوں واپس نہ کرے۔ (یعنی مکہ میں نہ مارے۔) آپؐ نے فرمایا: امید ہے کہ اللہ تمہیں (اِس بیماری سے صحت دے کر) اُٹھائے گا اور تمہارے ذریعہ کچھ لوگوں کو فائدہ پہنچائے گا۔ میں نے کہا: میں چاہتا ہوں کہ وصیت کروں اور میری صرف ایک ہی بیٹی ہے۔میں نے کہا: میں نصف کی وصیت کرنا چاہتا ہوں۔ آپؐ نے فرمایا: نصف تو بہت ہے۔ میں نے عرض کی: اچھا تہائی کی کروں؟ فرمایا: تہائی سہی اور تہائی بھی بہت ہے۔ (راوی کو شک ہے کہ مفہوم ’’بہت‘‘ کیلئے حضورﷺ نے لفظ کَثِیْرٌ اِستعمال فرمایا یا کَبِیْرٌ) حضرت سعدؓ کہتے تھے: پھر لوگ تہائی کی وصیت کرنے لگے اور یہ اُن کیلئے جائز ہوگیا۔
عبداللہ بن مسلمہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے مالک سے، مالک نے ابن شہاب سے، ابن شہاب نے عروہ بن زبیر سے، عروہ نے نبی ﷺ کی حرم حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ وہ کہتی تھیں: عتبہ بن ابی وقاص نے اپنے بھائی سعد بن ابی وقاص کو یہ وصیت کی تھی کہ زمعہ کی لونڈی کا بیٹا میرا ہے، اُسے لے کر اپنے پاس لے رکھنا۔ جس سال مکہ فتح ہوا تو سعدؓ نے اُسے لے لیا اور کہنے لگے: یہ میرا بھتیجا ہے۔ (میرے بھائی نے) اِس کی نسبت مجھے وصیت کی تھی۔ عبد بن زمعہ کھڑے ہوگئے اور انہوں نے کہا: یہ میرا بھائی ہے اور میرے باپ کی لونڈی کا بیٹا ہے۔ میرے باپ کے بستر سے پیدا ہوا ۔ تب دونوں مقدمہ فیصلہ کے لئے رسول اللہ ﷺ کے پاس لائے۔ سعدؓ نے کہا: یارسول اللہ ! یہ میرے بھائی کا بیٹا ہے۔ میرے بھائی نے مجھے اس کی بابت وصیت کی تھی۔ عبدبن زمعہ نے کہا: یہ میرا بھائی ہے اور میرے باپ کی لونڈی کا بیٹا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: عبد بن زمعہ یہ لڑکا تیرے سپرد ہے کیونکہ بچہ اُسی کو ملتا ہے جس کی عورت ہو اور زانی کو پتھر پڑتے ہیں۔ پھر سودہؓ بنت زمعہ سے آپؐ نے فرمایا: تم اس سے پردہ کیا کرو۔ کیونکہ آپؐ نے اُس کی شکل و شباہت عتبہ سے ملتی جلتی دیکھی۔ چنانچہ اُس لڑکے نے بھی حضرت سودہؓ کو پھر کبھی نہیں دیکھا، یہاں تک کہ وہ اللہ سے جاملا۔
محمد بن یوسف (فریابی) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ورقاء سے، ورقاء نے ابن ابی نجیح سے، انہوں نے عطاء (بن ابی رباح) سے، عطاء نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: (اِبتدائی زمانہ میں) ترکہ اَولاد کا ہوا کرتا تھا اور وصیت والدین کے لئے، تو اللہ تعالیٰ نے اِس دستور میں سے جو چاہا منسوخ کردیا اور بیٹے کے لئے بیٹی کے حصہ سے دو گنا حصہ مقرر فرمایا اور ماں باپ میں سے ہر ایک کے لئے چھٹا حصہ رکھا اور بیوی کے لئے آٹھواں یا چوتھا اور خاوند کے لئے آدھا یا چوتھا حصہ رکھا۔