بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 27 hadith
یحيٰ بن بکیر نے ہم سے بیان کیا کہ لیث نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عُقَیل سے، عُقَیل نے ابن شہاب سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: عروہ بن زبیر نے مجھے بتایا کہ انہوں نے مروان اور مِسوَر بن مخرمہ رضی اللہ عنہما سے سنا۔ اُن دونوں نے بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ سے روایت ہے۔ انہوں نے کہا: جب (حدیبیہ میں) سہیل بن عمرو نے (صلح نامہ) لکھوایا تو اس وقت سہیل بن عمرو نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر جو شرطیں لگائیں (اُن میں یہ شرط بھی تھی) کہ ہم میں سے جو شخص آپؐ کے پاس آئے گو وہ آپؐ کے دین پر ہی ہو تو آپؐ اُسے ضرور ہماری طرف واپس کریں گے اور ہمارے اور اس کے درمیان دخل نہ دیں گے۔ مومنوں نے اسے بُرا مانا اور اس سے بہت پیچ و تاب کھائے مگر سہیل نے اس کے بغیر (صلح کرنے سے) انکار کردیا۔ اس لئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی اُس کو لکھ دیا اور آپؐ نے اُسی دِن ابوجندلؓ کو اس کے باپ سہیل بن عمرو کی طرف لَوٹا دیا اور اس اَثناء میں جو مرد بھی آپؐ کے پاس آتا آپؐ اسے واپس کر دیتے گو وہ مسلمان ہی ہوتا۔ اور مومن عورتیں ہجرت کرکے آئیں اور حضرت امّ کلثوم بنت عقبہ بن ابی معیط بھی انہیں عورتوں میں سے تھیں، جو اُن دِنوں (مکہ سے) نکل کر رسول اللہ ﷺ کے پاس آئیںاور وہ کنواری تھیں۔ ان کے رشتہ دار آئے۔ نبی ﷺ سے درخواست کرنے لگے کہ آپؐ انہیں واپس کر دیں۔ آپؐ نے انہیں واپس نہیں دیا کیونکہ اللہ نے اُن عورتوں سے متعلق حکم نازل کیا تھا: جب مومن عورتیں تمہارے پاس ہجرت کرکے آئیں تو انہیں اچھی طرح آزما لیا کرو۔ اللہ اُن کے ایمان کو خوب جانتا ہے۔ لیکن اگر تم بھی جان لو کہ وہ مومن عورتیں ہیں تو اُن کو کافروں کی طرف نہ لَوٹائو۔ نہ وہ اُن (یعنی کافروں ) کے لئے جائز ہیں؛ اور نہ وہ (کافر) ان عورتوں کے لئے جائز ہیں۔
ابونعیم نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان (ثوری) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے زیادبن علاقہ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: میں نے جریر ( بن عبداللہ بجلی) رضی اللہ عنہ سے سنا۔ وہ کہتے تھے: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی تو آپؐ نے مجھ پر یہ شرط بھی عائد کی کہ ہر ایک مسلمان کی خیر خواہی بھی کرنی ہوگی۔
مسدد نے ہم سے بیان کیا کہ یحيٰ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے اسماعیل سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: قیس بن ابی حازم نے مجھے بتایا۔ انہوں نے حضرت جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ۔ انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نماز سنوار کر پڑھنے، زکوٰۃ دینے اور ہر ایک مسلمان کے لئے خیر خواہی کرنے کی بیعت کی۔
عبداللہ بن یوسف نے ہم سے بیان کیا کہ مالک نے ہمیںبتایا۔ انہوں نے نافع سے، نافع نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو ایسی کھجوریں بیچے جنہیں پیوند کیاجاچکا ہو تو اُن کا پھل بیچنے والے کے لئے ہوگا؛ سوائے اس کے کہ خریدار شرط کرلے۔
(تشریح)موسیٰ بن اسماعیل نے ہم سے بیان کیا کہ جویریہ بن اسماء نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے نافع سے، نافع نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر اس شرط پر یہود کو دے دیا کہ وہ اس میں محنت کریں اور کاشت کریں اور جو اس سے پیداوار ہوگی ان کو آدھا ملے گا۔
(تشریح)یحيٰ بن بکیر نے ہم سے بیان کیا کہ لیث نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عُقَیل سے، عُقَیل نے ابن شہاب سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: عروہ بن زبیر نے مجھے بتایا کہ انہوں نے مروان اور مِسوَر بن مخرمہ رضی اللہ عنہما سے سنا۔ اُن دونوں نے بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ سے روایت ہے۔ انہوں نے کہا: جب (حدیبیہ میں) سہیل بن عمرو نے (صلح نامہ) لکھوایا تو اس وقت سہیل بن عمرو نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر جو شرطیں لگائیں (اُن میں یہ شرط بھی تھی) کہ ہم میں سے جو شخص آپؐ کے پاس آئے گو وہ آپؐ کے دین پر ہی ہو تو آپؐ اُسے ضرور ہماری طرف واپس کریں گے اور ہمارے اور اس کے درمیان دخل نہ دیں گے۔ مومنوں نے اسے بُرا مانا اور اس سے بہت پیچ و تاب کھائے مگر سہیل نے اس کے بغیر (صلح کرنے سے) انکار کردیا۔ اس لئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی اُس کو لکھ دیا اور آپؐ نے اُسی دِن ابوجندلؓ کو اس کے باپ سہیل بن عمرو کی طرف لَوٹا دیا اور اس اَثناء میں جو مرد بھی آپؐ کے پاس آتا آپؐ اسے واپس کر دیتے گو وہ مسلمان ہی ہوتا۔ اور مومن عورتیں ہجرت کرکے آئیں اور حضرت امّ کلثوم بنت عقبہ بن ابی معیط بھی انہیں عورتوں میں سے تھیں، جو اُن دِنوں (مکہ سے) نکل کر رسول اللہ ﷺ کے پاس آئیںاور وہ کنواری تھیں۔ ان کے رشتہ دار آئے۔ نبی ﷺ سے درخواست کرنے لگے کہ آپؐ انہیں واپس کر دیں۔ آپؐ نے انہیں واپس نہیں دیا کیونکہ اللہ نے اُن عورتوں سے متعلق حکم نازل کیا تھا: جب مومن عورتیں تمہارے پاس ہجرت کرکے آئیں تو انہیں اچھی طرح آزما لیا کرو۔ اللہ اُن کے ایمان کو خوب جانتا ہے۔ لیکن اگر تم بھی جان لو کہ وہ مومن عورتیں ہیں تو اُن کو کافروں کی طرف نہ لَوٹائو۔ نہ وہ اُن (یعنی کافروں ) کے لئے جائز ہیں؛ اور نہ وہ (کافر) ان عورتوں کے لئے جائز ہیں۔
عروہ نے کہا: حضرت عائشہؓ نے مجھے بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عورتوں کو یٰاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا اِذَا جَآئَ کُمُ الْمُؤْمِنٰتُ مُھٰجِرَاتٍ فَامْتَحِنُوْھُنَّ… کی آیت کی بناء پر آزمایا کرتے تھے۔ عروہ نے کہا: حضرت عائشہؓ کہتی تھیں: اُن (عورتوں) میں سے جو شرائط مان لیتی؛ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اُس سے فرماتے: میں نے تجھ سے بیعت لے لی ہے۔ یہ بات آپؐ اس سے زبان ہی سے کہتے اور بخدا آپؐ کا ہاتھ بیعت کے وقت کبھی کسی عورت کے ہاتھ سے نہ چھوتااور عورتوں سے صرف اپنی زبان سے بیعت لے لیتے۔
عبداللہ بن مسلمہ نے ہم سے بیان کیا کہ لیث نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابن شہاب سے، ابن شہاب نے عروہ سے روایت کی کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے انہیں خبردی کہ بریرہؓ حضرت عائشہؓ کے پاس آئی۔ ان سے اپنی کتابت کے متعلق مدد مانگتی تھی اور ابھی تک اس نے اپنی کتابت سے کچھ بھی ادا نہیں کیا تھا۔ حضرت عائشہؓ نے اس سے کہا: اپنے مالکوں کے پاس واپس جائو۔ اگر وہ پسند کریں کہ میں تمہاری طرف سے تمہاری کتابت (کا روپیہ) اَدا کردوںاور تمہارا حق وراثت میرا ہو تو میں ادا کئے دیتی ہوں۔ بریرہؓ نے اپنے مالکوں سے یہ ذکر کیا تو وہ نہ مانے اور انہوں نے کہا: اگر حضرت عائشہؓ چاہیں کہ اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے تم پر کوئی احسان کریں تو وہ کریں مگر تمہا را حق وراثت ہمارا ہی ہوگا۔ پھر حضرت عائشہؓ نے رسول اللہ ﷺ سے ذکر کیا۔ آپؐ نے ان سے فرمایا: تم خرید لو اور آزاد کردو کیونکہ حق وراثت تو اسی کا ہوتا ہے جو آزاد کردے۔
(تشریح)ابونعیم نے ہم سے بیان کیا کہ زکریا نے ہمیں بتایا، کہا: میں نے عامر (شعبی) سے سنا۔ وہ کہتے تھے: حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے مجھ سے بیان کیا کہ وہ اپنے ایک اُونٹ پر سفر کررہے تھے جو بالکل تھک کر رہ گیا تھا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم پاس سے گزرے اور آپؐ نے اس (اُونٹ) کو مارا }اور اس کیلئے دعا کی٭{ تو وہ ایسا چلا کہ کبھی ویسا نہیں چلا کرتا تھا۔ پھر آپؐ نے فرمایا: یہ (اُونٹ) ایک اوقیہ (چاندی) کے عوض میرے پاس بیچ دو۔ }میں نے کہا: نہیں۔ پھر آپؐ نے فرمایا: ایک اوقیہ (چاندی) کے بدلے میرے ہاتھ فروخت کر دو۔٭{ تو میں نے بیچ دیا۔ میں نے یہ شرط لگائی کہ اپنے گھر والوں کے پاس اس پر سوار ہوکر جائوں گا۔ جب ہم (مدینہ) پہنچے تو میںآپؐ کے پاس وہ اُونٹ لے آیا اور آپؐ نے اس کی قیمت مجھے دی۔ پھر میں واپس چلا آیا۔ آپؐ نے میرے پیچھے ایک آدمی بھیجا، فرمایا: میں ایسا نہیں ہوں، تمہارا اُونٹ لوں۔ اپنے اس اُونٹ کو لے لو۔ وہ تمہارا ہی مال ہے۔ شعبہ نے مغیرہ سے، مغیرہ نے عامر سے، عامر نے حضرت جابرؓ سے روایت کرتے ہوئے یوں کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ تک اُونٹ کی پیٹھ پر سوار رہنے کی مجھ کو اجازت دی۔ اور اسحاق نے جریر سے، جریر نے مغیرہ سے روایت کرتے ہوئے یوں کہا: میں نے (آپؐ کے ہاتھ) وہ (اُونٹ) بیچ دیا؛ اس شرط پر کہ مدینہ پہنچنے تک اُس کی پیٹھ پر سوار رہوں گا۔ اور عطاء (بن ابی رباح) وغیرہ نے (حضرت جابرؓ سے) یوں نقل کیا کہ (آنحضرتﷺ نے فرمایا:) تمہیں اجازت ہے کہ مدینہ تک تم اس پر سواررہو۔ اور محمد بن منکدر نے حضرت جابرؓ سے روایت کرتے ہوئے یوں کہا: مدینہ تک اُونٹ کی پیٹھ پر سوار رہنے کی شرط کرلی۔ اور زید بن اسلم نے حضرت جابرؓ سے یہ روایت نقل کرتے ہوئے یوں کہا کہ (آنحضرتؐ نے فرمایا:) لَوٹنے تک اُونٹ کی پیٹھ پر تم سوار رہ سکتے ہو۔ اور ابوزبیر نے حضرت جابرؓسے یوں نقل کیا: مدینہ تک ہم نے تمہیں اُونٹ پر سواری کرنے کیلئے اس کی پیٹھ تمہاری ملکیت کردی۔ اور اعمش نے سالم سے، سالم نے حضرت جابرؓ سے روایت کرتے ہوئے یوں کہا کہ اپنے گھر والوں کے پاس اسی پر پہنچو۔ ابوعبداللہ (امام بخاریؒ) نے کہا: شرط کر لینے کا ذکر کثرت سے ہے اور یہ میرے نزدیک زیادہ صحیح ہے۔ اور عبیداللہ اور (محمد) بن اسحاق نے وہب سے، انہوں نے حضرت جابرؓ سے یوں نقل کیا کہ نبی ﷺ نے اس (اُونٹ) کو ایک اوقیہ پر خرید لیا۔ اور (وہب کی طرح) زید بن اسلم نے بھی حضرت جابرؓ سے یہی روایت کی۔ اور ابن جریج نے عطاء وغیرہ سے، انہوں نے حضرت جابرؓ سے روایت کرتے ہوئے یوں کہا: میں نے اس کو چار دینار پر لے لیا اور یہ ایک دینار دس درہم کے حساب سے اوقیہ ہی ہوتا ہے۔ اور مغیرہ نے شعبی سے، شعبی نے حضرت جابرؓ سے، اور ابن منکدر اور ابوزبیر نے بھی حضرت جابرؓ سے روایت کرتے ہوئے کوئی قیمت بیان نہیں کی۔ اور اعمش نے سالم سے، سالم نے حضرت جابرؓ سے روایت کرتے ہوئے یوں کہا: سونے کے ایک اوقیہ کے بدلے (تم سے اُونٹ خریدا۔) اور ابواسحاق نے سالم سے، سالم نے حضرت جابرؓ سے روایت کرتے ہوئے دوسودرہم کہے۔ اور دائود بن قیس نے عبیداللہ بن مِقسم سے، عبیداللہ نے حضرت جابرؓ سے روایت کرتے ہوئے یوں کہا کہ آپؐ نے اس (اُونٹ) کو تبوک کے رستے میں خریدا تھا۔ میرا خیال ہے کہ انہوں نے کہا: چار اوقیہ پر۔ اور ابونضرہ (منذربن مالک) نے حضرت جابرؓ سے روایت کرتے ہوئے یوں کہا: آپؐ نے اس کو بیس دینار پر خریدا۔ اور (عامر) شعبی نے جو کہاہے کہ ایک اوقیہ پر؛ یہ اکثر (روایتوں میں) ایسا ہی ہے۔ ابو عبد اللہ (امام بخاریؒ) نے کہا کہ یہ شرط (کہ مدینہ تک سوار رہو یہ بھی) اکثر روایتوں میں آتا ہے اور یہ میرے نزدیک زیادہ صحیح ہے۔
(تشریح)