بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 21 hadith
اور موسیٰ بن مسعود نے کہا: سفیا ن بن سعید نے ہمیں بتایا کہ ابواسحاق سے مروی ہے۔ انہوں نے حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہما سے روایت کی۔ کہتے تھے: نبی ﷺ نے حدیبیہ کے دن مشرکوں سے تین باتوں پر صلح کی کہ جو مشرکین میں سے اُن کے پاس آئے گا آپؐ اسے اُن کی طرف واپس کردیں گے اور جو اُن کے پاس مسلمانوں میں سے آئے وہ اُس کو واپس نہیں کریں گے۔ اور آپؐ آئندہ (سال) مکہ میں آئیں گے اور اُس میں تین دن ٹھہریں گے۔ ہتھیار تلوار اور کمان وغیرہ غلاف میں رکھے ہوئے (مکہ میں) داخل ہوں گے۔ حضرت ابوجندلؓ زنجیروں میں لڑکھڑاتے ہوئے آئے تو آپؐ نے انہیں اُن کی طرف واپس کردیا۔ ابو عبد اللہ (امام بخاریؒ) نے کہا: مومل (بن اسماعیل) نے سفیان (ثوری) سے روایت کرتے ہوئے حضرت ابوجندلؓ کا ذکر نہیں کیا اور لفظ جُلُبَّان کی جگہ جُلُبکہا۔
مسدد نے ہم سے بیان کیا کہ بشر نے ہمیں بتایا۔ (انہوں نے کہا:) یحيٰ (بن سعید انصاری) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے بُشَیر بن یسار سے، بُشَیر نے سہل بن ابی حثمہ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: عبداللہ بن سہل اور مُحَیِّصہ بن مسعود بن زید خیبر کی طرف چلے گئے اور (اہل خیبر سے) اُن دِنوں صلح کی ہوئی تھی۔
اسحاق (بن منصور) نے ہم سے بیان کیا کہ عبدالرزاق نے ہمیں خبردی ۔ معمر نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ہمام سے، ہمام نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آدمی کے ہر جوڑ پر ہر دن جس میں سورج نکلتا ہے صدقہ لازم ہے۔ لوگوں کے درمیان عدل کرے تو یہ بھی صدقہ ہے۔
محمد بن رافع نے ہمیں بتایا۔ سُرَیج بن نعمان نے ہم سے بیان کیا کہ فُلَیح نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے نافع سے، نافع نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ عمرہ کرنے کے لئے نکلے۔ مگر کفارِ قریش نے آپؐ کے اور بیت اللہ کے درمیان رکاوٹ ڈالی اور آپؐ نے حدیبیہ میں اپنی قربانی کے اُونٹ ذبح کردئیے اور اپنے سر کے بال منڈوا دئیے اور اُن سے فیصلہ کیا کہ آئندہ سال آپؐ عمرہ کریں گے اور تلواروں کے سوا کوئی ہتھیار نہیں لائیں گے اور مکہ میں آپؐ اتنی ہی دیر ٹھہریں گے جتنی دیر وہ چاہیں گے۔ چنانچہ آپؐ نے آئندہ سال عمرہ کیا اور اس طرح مکہ میں داخل ہوئے جس طرح کہ آپؐ نے اُن سے معاہدہ کیا تھا۔ جب آپؐ وہاں تین دن رہے تو مشرکوں نے آپؐ سے چلے جانے کے لئے کہا اور آپؐ چلے گئے۔ طرفہُ: ۴۲۵۲۔
محمد بن عبداللہ انصاری نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا: حمید (طویل) نے مجھے بتایا۔ حضرت انسؓ نے اُن سے بیان کیا کہ رُبیع نے جو نضر کی بیٹی تھیں ایک لڑکی کا دانت توڑ ڈالا۔ (لڑکی والوں نے) دِیت مانگی اور (رُبیع کے لوگوں نے) معافی مانگی۔ انہوں نے نہ مانا۔ وہ نبی ﷺ کے پاس آئے ۔ آپؐ نے اُن سے فرمایا: قصاص لیں۔ حضرت انس بن نضرؓ (جو حضرت انسؓ بن مالک کے چچا تھے) نے کہا: یارسول اللہ ! کیا رُبیع کا دانت توڑا جائے گا؛ نہیں۔ اُس ذات کی قسم ہے جس نے آپؐکو سچائی کے ساتھ مبعوث کیا، ایسا تو نہیں ہوگا۔ آپؐ نے فرمایا: انس! اللہ کا حکم یہی ہے کہ قصاص لیا جائے۔ پھر وہ لوگ (لڑکی والے) راضی ہوگئے اور انہوں نے معاف کردیا۔ نبی ﷺ نے فرمایا: اللہ کے بندوں میں سے بعض ایسے بھی ہیں جو اگر اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرتے ہوئے قسم کھائیں تو وہ اُن کی قسم کو ضرور سچا کردیتا ہے۔ (مروا ن بن معاویہ) فزاری نے حمید سے، حمید نے حضرت انسؓ سے روایت کرتے ہوئے اِتنا زیادہ بیان کیا۔ پھر وہ لوگ راضی ہوگئے اور انہوں نے دِیت قبول کرلی۔
ہم سے عبداللہ بن محمد نے بیان کیا، (کہا:) سفیان(بن عیینہ) نے ہمیں بتایا کہ ابوموسیٰ سے روایت ہے۔ انہوں نے کہا: میں نے حسن (بصری) سے سنا۔ کہتے تھے: حضرت حسن بن علیؓ بخدا پہاڑوں کی طرح فوجیں لے کر معاویہؓ کا مقابلہ کرنے کے لئے آئے تھے۔ عمروؓ بن عاص نے کہا: میں تو ایسی فوجیں دیکھ رہا ہوں جو تاوقتیکہ اپنے ہمسروں کو مار نہ لیں پیٹھ نہ پھیریں گی۔ حضرت معاویہؓ نے جو بخدا عمروؓبن عاص سے بہتر تھے، کہا: عمروؓ! اگر انہوں نے ان کو مارڈالا اور انہوں نے ان کو تو لوگوں کی حکومت کون سنبھالے گا۔ ان کی عورتوں کا اور ان کی جائیدادوں کا نگران کون ہوگا؟ پھر معاویہؓ نے قریش کے دوشخصوں کو جو کہ عبدالشمس کی اولاد میں سے تھے۔ یعنی عبدالرحمن بن سمرہ اور عبداللہ بن عامر بن کریز کو اُن کے پاس بھیجا اور کہا: تم اس شخص کے پاس جائو اور اس کے سامنے صلح پیش کرواور اس سے گفتگو کرو اور اس سے منوائو۔ چنانچہ وہ دونوں ان کے پاس آئے اور گفتگو کی اور ان سے بات کی اور صلح کا مطالبہ کیا۔ حضرت حسن بن علیؓ نے ان سے کہا: ہم عبدالمطلب کے بیٹے ہیں۔ ہمیں مال تو مل چکا ہے اور اصل بات یہ ہے کہ یہ امت اپنی خونریزیوں میں حد سے گزر گئی ہے۔ انہوں نے کہا: وہ آپؓ کے سامنے یہ یہ شرطیں پیش کرتے ہیں اور آپؓ سے صلح چاہتے ہیں اور یہ مطالبہ کرتے ہیں۔ (حضرت حسنؓ نے) کہا: ان باتوں کا کون ذمہ دار ہوگا؟ اُن دونوں نے کہا: ہم آپؓ کے لئے اِس کے ذمہ دار ہیں۔ جس بات کا بھی حضرت حسنؓ ان دونوں سے مطالبہ کرتے وہ یہی کہتے کہ ہم اِس کے ذمہ دار ہیں۔ آخر انہوں نے معاویہؓ سے صلح کرلی۔ حسن (بصری) کہتے تھے: میں نے حضرت ابوبکرہؓ سے سنا۔ وہ کہتے تھے: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو منبر پر دیکھا اور حضرت حسن بن علیؓ آپؐ کے پہلو میں تھے۔ آپؐ کبھی لوگوں کی طرف متوجہ ہوتے اور کبھی اُن کی طرف اور فرماتے: میرا یہ بیٹا سردار ہے اور اُمید ہے کہ اللہ اِس کے ذریعے مسلمانوں کی دو بڑی جماعتوں کے درمیان صلح کرائے گا۔ ابو عبد اللہ (امام بخاریؒ ) کہتے ہیں: علی بن عبداللہ (مدینی) نے مجھے کہا کہ حضرت ابوبکرہؓ سے حسن (بصری) کا سننا صرف اِس حدیث سے ثابت ہوا ہے۔
(تشریح)اسماعیل بن ابی اُویس نے ہم سے بیان کیا، کہا: میرے بھائی (عبدالحمید) نے مجھے بتایا۔ انہوں نے سلیمان (بن بلال) سے، سلیمان نے یحيٰ بن سعید سے، یحيٰ نے ابوالرجال محمد بن عبدالرحمن سے روایت کی کہ اُن کی ماں عمرہ بنت عبدالرحمن نے کہا: میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہاسے سنا۔ وہ کہتی تھیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دروازے پر بعض جھگڑا کرنے والوں کی آواز سنی ۔ دونوں٭ کی آوازیں بلند ہو رہی تھیں۔ اِتنے میں دونوں میں سے ایک دوسرے سے کچھ قرضہ چھوڑنے اور نرمی کرنے کے لئے کہہ رہا تھا اور دوسرا کہہ رہا تھا: اللہ کی قسم ! میں نہیں چھوڑوں گا۔ یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اُن کے پاس باہر گئے اور پوچھا: وہ کہاں ہے جو اللہ کی قسم کھا رہا تھا کہ وہ نیکی نہیں کرے گا؟ اُس نے کہا: یارسول اللہ ! میں ہوں اور جو کچھ وہ چاہتا ہے میں اُس کے لئے کئے دیتا ہوں۔
یحيٰ بن بکیر نے ہم سے بیان کیا کہ لیث نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے جعفر بن ربیعہ سے، جعفر نے اعرج سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: عبداللہ بن کعب بن مالک نے مجھے بتایا۔ حضرت کعب بن مالکؓسے روایت ہے کہ عبداللہ بن ابی حَدْرَدْ اسلمی کے ذمہ اُن کا کچھ قرضہ تھا۔ وہ اُن سے ملے اور اُن سے چمٹ گئے۔ یہاں تک کہ دونوں کی آوازیں بلند ہوئیں۔ اِتنے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی اُن کے پاس سے گزرے اور آپؐ نے فرمایا: کعبؓ ! اور اپنے ہاتھ سے اشارہ کیا جیسے کوئی کہتا ہے آدھا چھوڑ دو۔ چنانچہ حضرت کعبؓ نے جو عبداللہ کے ذمہ تھا، اُس کا آدھا لے لیا اور آدھا چھوڑ دیا۔
ابوالیمان نے ہم سے بیان کیا کہ شعیب نے ہمیں بتایا کہ زہری سے روایت ہے۔ انہوں نے کہا: عروہ بن زبیر نے مجھے بتایا کہ حضرت زبیرؓ (ان سے) بیان کرتے تھے کہ مدینہ کی پتھریلی زمین کے ایک کاریزہ٭ کے متعلق اُن کا ایک انصاری شخص سے جھگڑا ہوا جو غزوۂ بدر میں شریک ہوئے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس وہ جھگڑا فیصلہ کے لئے لے آئے۔ وہ دونوں زمین کو اُس کاریزہ سے پانی دیا کرتے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت زبیرؓ سے فرمایا: زبیر! تم پانی دو۔ پھر اپنے پڑوسی کے لئے چھوڑ دو۔ وہ انصاری ناراض ہوگیا۔ اُس نے کہا: یا رسول اللہ! اس لئے کہ وہ آپؐ کی پھوپھی کا بیٹا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ سرخ ہوگیا۔ پھر آپؐ نے (حضرت زبیرؓ سے) فرمایا: تم پانی دواوراسے روکے رکھو۔ یہاں تک کہ وہ منڈیروں تک آجائے۔ رسول اللہ ﷺ نے حضرت زبیرؓکو ان کا پوراحق دِلوایا۔ حالانکہ رسول اللہ ﷺ اس سے پہلے حضرت زبیرؓ کو اپنی رائے کا اشارہ کرچکے تھے، جس میں اُن کے اور اُس انصاری کے لئے بڑی گنجائش تھی۔ جب انصاری نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ناراض کردیا تو آپؐ نے حضرت زبیرؓ کو صاف صحیح فیصلہ دے کر ان کا پوراحق دِلا دیا۔ عروہ نے کہا: حضرت زبیرؓ کہتے تھے: بخدا! میں یہی سمجھتا ہوں کہ یہ آیت اسی (واقعہ) سے متعلق نازل ہوئی: تیرے رب کی ہی قسم ہے ہرگز ہرگز مومن نہیں ہو ں گے جب تک کہ وہ تجھے اُن باتوں میں حَکَم نہ بنائیں جو اُن کے درمیان اِختلافی صورت اختیار کرتی ہیں۔
(تشریح)محمد بن بشار نے مجھے بتایا۔ عبدالوہاب نے ہم سے بیان کیا کہ عبیداللہ (عمری) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے وہب بن کیسان سے، وہب نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: میرے باپ فوت ہوگئے اور اُن کے ذمہ کچھ قرض تھا۔ میں نے اُن کے قرض خواہوں کے سامنے تجویز پیش کی کہ جو قرض اُن کے ذمہ ہے، اُس کے بدلہ میں پھل لے لیں۔ وہ نہ مانے کیونکہ اس میں وہ اپنے قرضہ کی پوری اَدائیگی نہ دیکھتے تھے۔ میں نبی ﷺ کے پاس آیا اور آپؐ سے اِس کا ذکرکیا۔ آپؐ نے فرمایا: جب تم انہیں توڑو اور خرمن میں رکھ دو تو رسول اللہ ﷺ کو اطلاع دینا۔ پھر آپؐ آئے اور آپؐ کے ساتھ حضرت ابوبکرؓ اور حضرت عمرؓ بھی تھے۔ آپؐ (خرمن) کے قریب بیٹھ گئے اور برکت کے لئے دعا کی۔ پھر آپؐ نے فرمایا: اپنے قرض خواہوں کو بلائو اور انہیں اُن کا قرضہ پورا پورا اَدا کرو۔ پھر جس کسی شخص کا قرض بھی میرے باپ کے ذمہ تھا۔ میں نے اُسے نہیں چھوڑا اور قرض اَدا کردیا۔ تیرہ وسق بچ رہے۔ سات وسق عجوہ (کھجور کی قسم) اور چھ وسق لون (کھجور کی قسم) یا چھ وسق عجوہ اور سات وسق لون۔ پھر میں مغرب کے وقت رسول اللہ ﷺ سے ملا اور آپؐ سے اِس کا ذکر کیا۔ آپؐ ہنسے اور فرمایا: ابوبکرؓ اور عمرؓ کے پاس جائو اور انہیں بتائو۔ اُن دونوں نے کہا: جب رسول اللہ ﷺ نے وہ کیا جو آپؐ نے کیا تو ہم اُسی وقت جان چکے تھے کہ ایسا ہی ہوگا۔ اور ہشام نے وہب سے، وہب نے حضرت جابرؓ سے روایت کرتے ہوئے (مغرب کی جگہ) عصر کی نماز کا ذکر کیا اور حضرت ابوبکرؓ کا ذکر نہیں کیا اور نہ کہا کہ آپؐ ہنس پڑے اور یہ بھی کہا: میرے باپ نے اپنے ذمہ تیس وسق قرضہ چھوڑا تھا۔ اور ابن اسحاق نے وہب سے، وہب نے حضرت جابرؓ سے روایت کرتے ہوئے ظہر کی نماز کا ذکر کیا۔