بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 68 hadith
ا بومعمر(عبداللہ بن عمرو) نے ہم سے بیان کیا، (کہا:) عبدالوارث نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا: عبدالعزیز بن صہیب نے ہمیں بتایاکہ حضرت ا نس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔ انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے ۔ کیا دیکھتے ہیں کہ ایک رسی دوستونوں کے درمیان تنی ہوئی ہے۔ آپؐ نے پوچھا : یہ رسی کیسی ہے؟ لوگوں نے کہا: یہ حضرت زینبؓ کی رسی ہے۔ جب تھک جاتی ہیں تو اس سے سہارا لیتی ہیں۔ نبی ﷺ نے فرمایا: نہیں۔ اسے کھول دو۔ چاہیے کہ ہر شخص تم میں سے جب تک دل لگا رہے، نماز پڑھے۔ جب تھک جائے تو بیٹھ جائے۔
حضرت حفصہؓ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے میرا یہ خواب بیان کیا تو آپؐ نے فرمایا: عبداللہ اچھا آدمی ہے، اگر رات کو نماز بھی پڑھا کرتا۔ چنانچہ حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ رات کو نماز پڑھتے تھے۔
اور صحابہ ہمیشہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے خوابیں بیان کیا کرتے کہ لیلۃ القدر آخری عشرہ کی ساتویں رات میں ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں دیکھتا ہوں، تمہاری خوابیں آخری عشرہ سے متعلق متفق ہوگئی ہیں۔ سو جو شخص اس کا متلاشی ہو تو وہ آخری عشرے میں ہی اسے ڈھونڈے۔
(تشریح)(اور امام بخاریؒ نے) کہا: عبداللہ بن مسلمہ (قعنبی) نے کہا: انہوں نے مالک سے، مالک نے ہشام بن عروہ سے، ہشام نے اپنے باپ سے، ان کے باپ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی۔ وہ کہتی تھیں : بنی اسد (قبیلہ) کی ایک عورت (جس کا نام خولہ بنت تویت تھا) میرے پاس (بیٹھی ہوئی) تھی۔ رسول اللہ ﷺ تشریف لائے اور آپؐ نے پوچھا: یہ کون ہے؟ میں نے کہا: وہ عورت جو رات بھر نہیں سوتی اور اس کی نماز کا حال بیان کیا۔ آپؐ نے فرمایا: بس چپ رہو۔ اتنا ہی عمل کرو جتنا تم کرسکتے ہو۔ اللہ تعالیٰ تو نہیں اُکتاتا۔ مگر تم اُکتاجائو گے۔
(تشریح)عباس بن حسین نے ہم سے بیان کیا، کہا: مبشر(بن اسماعیل کلبی) نے ہمیں بتایا کہ اوزاعی سے مروی ہے۔ اور محمد بن مقاتل ابوالحسن نے بھی مجھ سے بیان کیا، کہا: عبداللہ(بن مبارک) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے کہا: اوزاعی نے ہم سے بیان کیا، کہا: یحيٰبن ابی کثیر نے ہمیں بتایا، کہا: ابوسلمہ بن عبد الرحمن نے مجھ سے بیان کیا ۔ انہوں نے کہا: حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاصؓ نے مجھ سے بیان کیا، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: عبداللہ! اس شخص کی طرح نہ ہونا جو رات کو اُٹھاکرتا تھا۔ پھر اس نے رات کو اُٹھنا چھوڑ دیا۔اور ہشام (بن عمار)نے کہا۔ (عبدالحمید ) بن ابی العشرین نے ہم سے بیان کیا، کہا اورزاعی نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے کہا: یحيٰ(بن ابی کثیر) نے ہمیں بتایا۔ عمر بن حکم بن ثوبان سے مروی ہے کہ انہوں نے کہا: ابوسلمہ(بن عبدالرحمن) نے مجھ سے یہی حدیث بیان کی اور (ابن ابی العشرین کی طرح) عمرو بن ابی سلمہ نے بھی اوزاعی سے روایت کرتے ہوئے یہ بیان کیا۔
(تشریح)علی بن عبداللہ (مدینی) نے ہم سے بیان کیا،کہا: سفیان نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عمرو (بن دینار) سے، عمرونے ابوالعباس(سائب بن فروخ ) سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: میں نے حضرت عبداللہ بن عمرو(بن العاص) رضی اللہ عنہما سے سنا۔ انہوں نے کہا : نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: کیا مجھے تمہارے ہی متعلق نہیں بتایا گیا کہ تم رات بھر عبادت کرتے ہو اور دن کو روزہ رکھتے ہو؟ میں نے کہا: میں ایسا ہی کرتا ہوں۔ آپؐ نے فرمایا: اگر تم ایسا کرو گے تو تمہاری آنکھیں بیٹھ جائیں گی اور تمہاری جان تھک کر رہ جائے گی اور دیکھو تمہارے نفس کا بھی تم پر حق ہے اور تمہاری بیوی کا بھی تم پر حق ہے۔ روزہ بھی رکھو اور افطار بھی کرو۔ عبادت بھی کرو اور آرام بھی۔
(تشریح)صدقہ بن فضل نے ہم سے بیان کیا، کہا: ولید نے جو مسلم کے بیٹے ہیں، ہمیں خبردی کہ اوزاعی سے مروی ہے۔ انہوں نے کہا: عمیر بن ہانی نے مجھ سے بیان کیا، کہا: جنادہ بن ابی امیہ نے مجھ سے بیان کیا ۔ (انہوں نے کہا:) حضرت عبادہؓ بن صامت نے مجھے بتایا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے۔ آپؐ نے فرمایا: جو رات کو بے خوابی سے بے قرار ہو اور کہے: کوئی معبود نہیں مگر ایک اللہ۔ اس کا کوئی شریک نہیں۔ اسی کی بادشاہت ہے اور اسی کی حمد اور وہ ہرشئے پر قادر ہے۔ سب حمد اللہ کے لئے ہے اور پاک ہے اللہ۔اور اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔ اور اللہ سب سے بڑا ہے نہ بدیوں سے بچنے کی طاقت ہے اور نہ نیکی کرنے کی قدرت مگر اللہ ہی کی مدد سے ۔ پھر کہے: اے اللہ! مغفرت سے مجھے نواز یا دعا کرے تو اس کی قبول ہوگی اور اگر وہ وضو بھی کرے اور نماز پڑھے۔٭ تو اس کی نماز قبول ہوگی۔
یحيٰ بن بکیرنے ہم سے بیان کیا، کہا: لیث(بن سعد) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے یونس سے، یونس نے ابن شہاب سے روایت کی ۔( انہوں نے کہا:) ھیثم بن ابی سنان نے مجھے بتایا کہ انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا۔ وہ اپنے واقعات سنارہے تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خوبیاں بیان کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا: تمہارے ہی ایک بھائی ہیں۔ وہ کوئی بے جا تو نہیں کہتے۔ اس سے ان کی مراد حضرت عبداللہؓ بن رواحہ سے تھی۔ (جنہوں نے عربی میں یہ شعر کہے ہیں۔ جن کا ترجمہ یہ ہے ) اور ہمیں میں ہیں اللہ کے رسولؐ جو کتاب اللہ ایسے وقت میں کہ جب صبح کو پو پھٹتی ہے، پڑھ کر سناتے ہیں۔ انہوں نے ہمیں اندھے پن کے بعد راست روی دکھائی ۔ جس سے ہمارے دل یقین کئے ہوئے ہیں کہ جو کچھ بھی آپؐ نے فرمایا تھا وہ ضرور پورا ہو کر رہے گا۔ آپؐ رات اس طرح کاٹتے ہیں کہ بستر پر آرام کی کروٹ نہیں لیتے۔ جبکہ مشرکوں کے بستر خوابِ غفلت سے بوجھل ہوتے ہیں۔ (یونس کی طرح) اس روایت کو عقیل نے بھی زہری سے روایت کیا۔ اور زبیدی نے یوں کہا: زہری نے مجھے بتایا ۔ انہوں نے سعید (بن مسیب) اور اعرج سے، ان (دونوں) نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔
ابونعمان نے ہم سے بیان کیا، (کہا:) حماد بن زید نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ایوب سے، ایوب نے نافع سے، نافع نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں خواب دیکھا کہ گویا میرے ہاتھ میں گاڑھے ریشمی کپڑے کا ٹکڑا ہے اور جنت میں جس جگہ چاہتا ہوں وہیں وہ مجھے اُڑا کر لے جاتا ہے اور میں نے دیکھا جیسے دو شخص میرے پاس آئے ہیں۔ چاہتے تھے کہ مجھ کو جہنم کی طرف لے جائیں۔ ایک فرشتہ اُن سے ملا اور اس نے کہا: تو ڈر نہیں ( اور ان سے کہا:) اسے چھوڑ دو۔
عبداللہ بن یزید نے ہم سے بیان کیا، (کہا:) سعید بن ابی ایوب نے ہمیں بتایا ۔ انہوں نے کہا: جعفر بن ربیعہ نے مجھے بتایا۔ انہوں نے عراک بن مالک سے، عراک نے ابوسلمہ سے، ابوسلمہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی۔ وہ کہتی تھیں: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عشاء کی نماز پڑھائی اور آٹھ رکعتیں(تہجد کی) پڑھیں اور دو رکعتیں بیٹھ کر پڑھیں اور پھر دورکعتیں اذان اور تکبیر کے درمیان پڑھیں اور یہ آپؐ کبھی ترک نہ کرتے تھے۔
(تشریح)