بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 68 hadith
علی بن عبداللہ(مدینی) نے ہم سے بیان کیا، کہا: سفیان (بن عیینہ) نے ہم سے بیان کیا۔انہوں نے کہا: سلیمان بن ابی مسلم نے ہمیں بتایا۔ طائوس سے مروی ہے کہ انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا۔ انہوں نے کہا: نبی ﷺ جب رات کو تہجد پڑھنے کے لئے اٹھتے تو فرماتے: اے اللہ سب خوبیاں تیرے لئے ہیں تو آسمانوں اور زمین کا قائم رکھنے والا ہے اور ان کا بھی جو اُن میں موجود ہیں اور سب خوبیاں تیرے ہی لئے ہیں۔تیرے لیے آسمانوں اور زمین کی بادشاہت ہے اور جو کچھ ان میں ہے(اس کی بھی) اور تمام خوبیاں تیرے ہی لیے ہیں۔ تو آسمانوں کا نور ہے اور زمین کا نور اور سب خوبیاں تیرے ہی لئے ہیں تو آسمانوں کا بادشاہ ہے اور زمین کااور اُن کا بھی جو ان میںموجودہیں اور سب خوبیاں تیرے ہی لئے ہیں۔ تو ہی برحق ہے اور تیرا وعدہ سچا ہے اور تیری ملاقات بھی ضرورہوگی اور تیری باتیں سچی ہیں اور جنت بھی حق ہے اور دوزخ بھی حق ہے اور تمام نبی سچے ہیں اور حضرت محمدﷺ بھی سچے ہیں اور قیامت کی گھڑی بھی برحق ہے ۔ اے اللہ میں نے تیرے حضور اپنی گردن ڈال دی ہے اور تجھ پر ایمان لایا ہوں اور تجھی پر میں نے بھروسہ کیا ہے اور تیری ہی طرف میں جھکا ہوں اور تیری ہی خاطر میں نے یہ جھگڑا اُٹھا یا ہے اور تیرے ہی حضور فیصلہ چاہا ہے۔ میری مغفرت فرما ، اس تقدیم و تاخیر میں جو میں نے کی ہے اور اس میں بھی جسے میں نے پوشیدہ رکھا اور جس کا میں نے اظہار کیا۔ تو ہی مقدّم کرنے والا اور تو ہی مؤخر کرنے والاہے۔ کوئی معبود نہیں مگر تو ہی یا (فرماتے:) تیرے سوا اور کوئی معبود نہیں۔ سفیان کہتے تھے اور ابو امیہ عبد الکریم (ابن ابی المخارق) نے یہ بڑھایا ۔ نہ بدی سے بچنے کی طاقت ہے نہ نیکی کرنے کی قوت۔ مگر اللہ ہی کی مدد سے۔ سفیان کہتے تھے کہ سلیمان بن ابی مسلم نے کہا : انہوں نے یہ بات طائوس سے سنی۔ طائوس نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہماسے، حضرت ابن عباسؓ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے۔
(تشریح)میں نے یہ خواب حضرت حفصہؓ سے بیان کیا۔حضرت حفصہؓ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیا۔ آپؐ نے فرمایا: عبداللہؓ اچھا آدمی ہے، کاش رات کو تہجد کی نماز بھی پڑھا کرتا۔ اور اس کے بعد وہ رات کو کم ہی سویا کرتے تھے۔
(تشریح)ابونعیم نے ہم سے بیان کیا،کہا: سفیان (ثوری) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے اسود سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: میں نے حضرت جندبؓ (بن عبداللہ بَجلی) سے سنا۔ وہ کہتے تھے: نبی صلی اللہ علیہ وسلم بیمار ہوئے تو آپؐ ایک یا دو راتیں نہیں اُٹھے۔
عبداللہ بن یوسف (تنیسی) نے ہم سے بیان کیا، کہا: مالک نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابن شہاب سے، ابن شہاب نے عروہ سے، عروہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ۔ وہ کہتی تھیں: رسول اللہ
ہم سے عبداللہ بن محمد(مسندی) نے بیان کیا، کہا: ہشام (بن یوسف صنعانی) نے ہم سے بیان کیا، کہا: معمر نے ہمیں بتایا۔ … اور محمود(بن غیلان ) نے بھی مجھ سے بیان کیا، کہا: عبدالرزاق نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا: معمر نے ہمیں بتایاکہ زہری سے مروی ہے ۔ انہوںنے سالم سے، سالم نے اپنے باپ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: نبی ﷺ کی زندگی میں جب کوئی شخص خواب دیکھتا تو وہ اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتا ۔ میں نے بھی خواہش کی کہ کوئی خواب دیکھوں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کروں۔ میں نوجوان تھااور رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں مسجد میں سویا کرتا تھا۔ میں نے خواب میں دیکھا جیسے دو فرشتوں نے مجھے پکڑ لیاہے اور وہ مجھے دوزخ کی طرف لے گئے ہیں۔ میں کیا دیکھتا ہوں کہ کنوئیں کی طرح وہ اندر سے بنا ہواہے اور اس کے دو کولَے (ستون) ہیں اور کیا دیکھتا ہوں ۔ اس میں کچھ لوگ ہیں جنہیں میں نے پہچان لیاہے۔ (یہ دیکھ کر) میں نے کہنا شروع کیا: میں آگ سے اللہ کی پناہ لیتا ہوں۔ کہتے تھے : پھر ہمیں ایک اور فرشتہ ملا اور اس نے مجھ سے کہا: ڈرو نہیں۔
ابوالیمان نے ہم سے بیان کیا، کہا: شعیب نے ہمیں بتایا۔ زہری سے مروی ہے کہ انہوں نے کہا: عروہ نے مجھے خبر دی کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے انہیں بتایاکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تہجد کے وقت گیارہ رکعتیں پڑھا کرتے تھے۔ یہی آپؐ کی تہجد کی نماز ہوتی۔ اس میں آپؐ سجدہ اتنا (لمبا) کرتے کہ جتنے میں تم میں سے کوئی پچاس آیتیں آپؐ کے سر اُٹھانے سے پہلے پڑھ لے۔ صبح کی نماز سے پہلے دو رکعتیں پڑھا کرتے پھر آپؐ اپنی دا ہنی کروٹ پر لیٹ جاتے۔ یہاں تک کہ مؤذن آپؐ کے پاس نماز کے لئے آتا۔
(تشریح)محمد بن کثیر نے (بھی) ہم سے بیان کیا، کہا: سفیان نے ہمیں بتایا۔انہوں نے اسود بن قیس سے، اسودنے حضرت جندب بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: جبرائیل صلی اللہ علیہ وسلم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آنے سے (کچھ مدت) رُکے رہے تو قریش کی ایک عورت نے کہا: اس کے شیطان نے اس کے پاس آنے میں دیر کر دی ہے۔ اس پر یہ آیات نازل ہوئیں: وَالضُّحٰی وَاللَّیْلِ اِذَا سَجٰی مَا وَدَّعَکَ رَبُّکَ وَمَاقَلٰی۔ یعنی دن کی روشنی کی قسم! اور رات کی جب وہ پرسکون ہو۔ تیرے رب نے نہ توتجھے چھوڑا ہے اور نہ وہ ناراض ہواہے۔
(تشریح)(محمد) بن مقاتل نے ہم سے بیان کیا، کہا: عبداللہ (بن مبارک) نے ہمیں بتایا۔( انہوں نے کہا:) معمر نے ہمیں بتایا کہ زہری سے مروی ہے۔ زہری نے ہند بنت حارث سے ۔ ہند نے حضرت ام سلمہؓ سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک رات جاگے اور آپؐ نے فرمایا: سبحان اللہ ! آج رات کیا کچھ بلائیں اُتاری گئیں اور کیا کیا خزانے اُتارے گئے۔ ان حجرے والیوں کو کون جگائے؟ بہت سی ہیں جو دنیا میں کپڑے پہنے ہوئے ہیں۔ آخرت میں ننگی ہونگی۔
ابوالیمان نے ہم سے بیان کیا، کہا: شعیب نے ہمیں بتایا۔ زہری سے مروی ہے۔ انہوں نے کہا: علی بن حسین (امام زین العابدین) نے مجھے خبردی کہ حسین بن علی نے ان سے بیان کیا کہ حضرت علیؓ بن ابی طالب نے ان کو بتایا تھا کہ رسول اللہ ﷺ ایک رات ان کے اورحضرت فاطمہ ؓ کے پاس جو نبی علیہ السلام کی بیٹی تھیں، آئے اور فرمایا: کیا تم دونوں نماز نہیں پڑھو گے؟ میں نے کہا: یارسول اللہ! ہماری جانیں اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہیں۔ جب ہمیں اُٹھانا چاہے ہمیں اُٹھاتا ہے۔ جب میں نے یہ کہا: تو آپؐ لوٹ گئے اور مجھے کچھ جواب نہ دیا۔ پھر میں نے جبکہ آپؐ پیٹھ موڑ کر جا رہے تھے، سنا۔ اپنی ران پر ہاتھ مارتے تھے۔ آپ ؐ کہہ رہے تھے: انسان اکثر باتوں میں جھگڑا کرتاہے۔
عبداللہ بن یوسف (تنیسی) نے ہم سے بیان کیا، کہا: مالک نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابن شہاب سے، ابن شہاب نے عروہ بن زبیر سے، عروہ نے حضرت عائشہ ام المومنین رضی اللہ عنہا سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک رات مسجد میں نماز پڑھی ۔ لوگوں نے بھی آپؐ کی اقتداء میں نماز پڑھی ۔ پھر آپؐ نے دوسری رات بھی پڑھی اور لوگ بہت ہوگئے ۔ پھر تیسری یا چوتھی رات کو بھی اکٹھے ہوئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اُن کے پاس باہر نہیں گئے۔ جب صبح ہوئی تو آپؐ نے فرمایا: میں نے دیکھ لیا تھا جو تم کرتے تھے اور مجھے تمہارے پاس باہر آنے سے اسی بات نے روکا ہے کہ میں ڈر گیا مبادا تم پر (تہجد) فرض ہوجائے اور یہ واقعہ رمضان میں ہوا۔
(تشریح)