بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 33 hadith
حمیدی نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا کہ سفیان نے ہمیں بتایا: عمروبن دینار سے مروی ہے کہ انہوں نے کہا: ہم نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے ایسے شخص کی نسبت پوچھا؛ جس نے عمرہ میں بیت اللہ کا طواف کیا اور صفا ومروہ کا طواف نہ کیا؛ کیا وہ اپنی بیوی سے مباشرت کر سکتا ہے؟ انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم (مکہ میں) آئے اور بیت اللہ کا سات بار طواف کیا اور مقامِ ابراہیم کے پیچھے دو رکعتیں نماز پڑھی اور صفا اور مروہ کے درمیان سات بار طواف کیا اور یقینا تمہارے لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں قابل پیروی نیک نمونہ ہے۔
(عمرو بن دینار نے) کہا: ہم نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے پوچھا تو انہوں نے کہا: وہ (اپنی بیوی کے) قریب نہ جائے؛ جب تک صفا و مروہ کے درمیان طواف نہ کرلے۔
معلیٰ بن اسد نے ہم سے بیان کیا کہ یزید بن زُرَیع نے ہمیں بتایا۔ خالد (حذائ) نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے عکرمہ سے، عکرمہ نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں آئے تو عبدالمطلب کی اولاد سے کم سن لڑکوں نے آپؐ کا استقبال کیا تو (ا ن میں سے) ایک کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے آگے سوار کرلیا اور ایک کو پیچھے۔
احمد بن حجاج(شیبانی) نے ہم سے بیان کیا کہ انس بن عیاض نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عبیداللہ(عمری) سے، عبیداللہ نے نافع سے، نافع نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب مکہ کو روانہ ہوتے تو درخت والی مسجد میں نماز پڑھتے اور جب آپؐ لوٹتے تو ذو الحلیفہ کی وادی میں نماز پڑھتے اور وہیں رات گذارتے یہاں تک کہ صبح ہوتی۔
موسیٰ بن اسماعیل نے ہم سے بیان کیا کہ ہمام (بن یحيٰ) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے اسحق بن عبداللہ بن ابی طلحہ سے، اسحق نے حضرت انس ص سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر والوں کے پاس رات کو اچانک نہیں آتے تھے۔ آپؐ صبح یا شام کو داخل ہوا کرتے۔ اپنے گھر والوں کے پاس اچانک رات کو نہ آتے؛ جب مدینہ پہنچے
مسلم بن ابراہیم نے ہم سے بیان کیا کہ شعبہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے محارب (بن دثار) سے، محارب نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: نبی ﷺ نے منع فرمایا ہے کہ کوئی اپنے گھر والوں کے پاس رات کے وقت اچانک آئے۔
(تشریح)محمد بن بشار نے ہم سے بیان کیا کہ غندر (محمد بن جعفر) نے ہمیں بتایا؛(کہا:) شعبہ نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے قیس بن مسلم سے، قیس نے طارق بن شہاب سے، انہوں نے حضرت ابوموسیٰ اشعری ص سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: میں نبی ا کے پاس بطحاء میں حاضر ہوا۔ جبکہ آپؐ وہاں اُترے ہوئے تھے تو آپؐنے فرمایا: کیاحج کا قصد ہے؟ میں نے کہا: ہاں۔ فرمایا: کس کا لبیک پکارا ہے (حج کا یا عمرہ کا؟) میں نے کہا: اس کا کہ جس کا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارادہ کیا ہے۔ آپؐ نے فرمایا: اچھا کیا ہے۔ بیت اللہ اور صفا و مروہ کا طواف کریں۔پھر احرام کھول کر آزاد ہوجائیں۔ چنانچہ میں نے بیت اللہ اور صفا مروہ کا طواف کیا۔ پھر قبیلہ قیس کی ایک عورت کے پاس آیا۔ اس نے میرے سر کی جوئیں نکالیں۔ پھر میں نے حج کا لبیک پکار کر احرا م باندھا۔ سو میں اس کا فتویٰ دیا کرتا تھا۔ یہاں تک کہ حضرت عمرؓ کی خلافت کا زمانہ ہوا تو انہوں نے کہا: اگر ہم کتاب اللہ کے مطابق عمل کریں تو وہ ہمیں (حج اور عمرہ) پورا کرنے کا حکم دیتی ہے اور اگر ہم نبی ﷺ کے فرمودہ پر عمل کریں تو آپؐ احرام کھول کر اس وقت تک حج کی پابندیوں سے آزاد نہیںہوئے جب تک کہ قربانی اپنے ٹھکانے پر نہ پہنچ گئی۔
احمد بن عیسیٰ نے ہم سے بیان کیا۔ ابن وہب نے ہمیں بتایا کہ عمرو نے ہمیں خبردی۔ ابوالاسود سے مروی ہے۔حضرت اسماء بنت ابی بکرؓ کے آزاد کردہ غلام عبداللہ نے ان سے بیان کیا کہ حضرت اسمائؓ جب کبھی مقامِ جحون سے گذرتیں تو وہ ان کو یہ کہتے سنا کرتے تھے: صلی اللہ علیٰ محمد۔ ہم آپؐ کے ساتھ یہاںاُترے تھے اور ہم ان دِنوں ہلکے پھلکے تھے۔ ہماری سواریاں کم تھیں اور زادِ راہ بھی کم تھی۔ میں نے اور میری بہن عائشہؓ اور زبیرؓ اور فلاں فلاں نے عمرہ کیا۔ جب ہم نے بیت اللہ کو چھو لیا }تو ہم احرام کھول کر آزاد ہوگئے۔ پھر٭{ عشاء کے وقت ہم نے حج کا لبیک پکار کر احرام باندھا۔
(تشریح)عبداللہ بن یوسف نے ہم سے بیان کیا کہ مالک نے ہمیں خبردی۔ انہوں نے نافع سے، نافع نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کبھی کسی غزوہ یا حج یا عمرہ سے لوٹتے تو زمین کی ہر بلندی پر چڑھتے وقت اللہ اکبر تین بار کہتے۔ پھر فرماتے: ایک اللہ کے سوا اور کوئی معبود نہیں۔ کوئی اس کا شریک نہیں۔ اسی کی بادشاہت ہے اور اس کی ستائش ہے اور وہ ہر شئے پر قدرت رکھنے والا ہے۔ لوٹ رہے ہیں۔ اپنے ربّ کی طرف متوجہ ہیں۔ اسی کے عبادت گذار، اسی کو سجدہ کرنے والے ہیں اور اپنے ربّ کے شکر گذار ہیں۔ اللہ نے اپنا وعدہ سچا کردیا اوراپنے بندے کی نصرت فرمائی ۔ اس نے جتھوں کو تنہا شکست دے دی۔
سعید بن ابی مریم نے ہم سے بیان کیا کہ محمد بن جعفر نے ہمیں خبردی۔ انہوں نے کہا: حمید (طویل) نے مجھے بتایا کہ انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے سنا۔ وہ کہتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی سفر سے واپس آتے اور مدینہ کے بلند مقامات دیکھتے تو اپنی اونٹنی کو تیز چلاتے۔ اگر کوئی اور سواری ہوتی تو اسے تیز کرتے۔ ابوعبداللہ نے کہا کہ حارث بن عمیر نے حمید سے روایت کرتے ہوئے اتنا بڑھایا کہ مدینہ کی محبت کی وجہ سے آپؐ اسے دوڑاتے۔ قتیبہ نے ہم سے بیان کیا کہ اسماعیل (بن جعفر) نے ہمیںبتایا۔ انہوں نے حمید سے، حمید نے حضرت انسؓ سے روایت کی۔ انہوں نے (بجائے لفظ درجات کے) جدرات بیان کیا؛ یعنی دیواریں۔ حارث بن عمیر نے بھی اسی طرح نقل کیا۔
(تشریح)