بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 5 of 15 hadith
موسیٰ بن اسماعیل نے ہم سے بیان کیا، کہا: جویریہ بن اسماء نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے نافع سے، نافع نے حضرت عبداللہ بن عمرؓ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم سفر میں اپنی سواری پر ہی رات کی نماز پڑھا کرتے تھے۔ آپؐ کا منہ اسی طرف ہوتا جدھر وہ آپؐ کو لے جارہی ہوتی۔ آپؐ اشارہ سے ہی( سجدہ ورکوع) کرتے، سوائے فرض نمازوں کے اور اپنی سواری پر ہی وتر پڑھتے۔
(تشریح)مسدد نے ہم سے بیان کیا، کہا: حماد بن زید نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ایوب (سختیانی) سے، ایوب نے محمد (بن سیرین) سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: حضرت انس (بن مالکؓ) سے پوچھا گیا : کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صبح کی نماز میں کھڑے ہوکر دعا کی ہے؟ انہوں نے کہا: ہاں۔ پھر ان سے پوچھا گیا : کیا آپؐ نے رکوع سے پہلے دعا کی تھی؟ انہوں نے کہا:رکوع کے بعد لیکن تھوڑے دنوں تک۔
احمد بن یونس نے ہم سے بیان کیا، کہا: زائدہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے (سلیمان) تیمی سے، تیمی نے ابومجلز سے، انہوں نے حضرت انسؓ (بن مالک) سے روایت کی، کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے رِعل اور ذَکوان قبیلوں پر ایک ماہ تک بددعا کی۔
مسدد نے ہم سے بیان کیا، کہا: اسماعیل (بن عُلیّہ) نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا: خالد (حذّائ) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابوقلابہ سے، ابوقلابہ نے حضرت انس (بن مالکؓ) سے روایت کی۔ وہ کہتے تھے: قنوت مغرب اور فجرکی نمازوں میں ہوا کرتا تھا۔
(تشریح)مسدد نے ہم سے بیان کیا، کہا: عبدالواحد (بن زیاد) نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا: عاصم (بن سلیمان) نے ہمیں بتایا۔ کہا: میں نے حضرت انس بن مالکؓ سے قنوت کی بابت پوچھا۔ انہوں نے جواب دیا: قنوت ہوا کرتا تھا۔ میں نے کہا: رکوع سے پہلے یا رکوع کے بعد؟ انہوں نے کہا: رکوع سے پہلے۔ کہتے تھے: (میں نے کہا:) فلاں شخص نےآپؐ سے روایت کرتے ہوئے مجھے بتایا کہ آپؐ نے کہا ہے: رکوع کے بعد ہوتا تھا۔ انہوں نے جواب دیا: اس نے غلط کہا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رکوع کے بعد تو کھڑے ہوکر ایک مہینہ دعا کی تھی۔میرا خیال ہے کہ آپؐ نے جو ستر کے قریب آدمی جو قاری کہلاتے تھے؛ مشرکوں کی ایک قوم (بنی عامر) کی طرف بھیجے ،یہ وہ نہ تھے اور ان کے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان عہد تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ماہ ان پر بددعا کی۔