بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 42 hadith
ابو الیمان نے ہم سے بیان کیا، کہا: شعیب نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے زہری سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: سالم بن عبداللہ نے مجھے بتایا۔ حضرت عبداللہ بن عمرؓ کہتے تھے: حضرت عمرؓ نے ایک گاڑھے ریشمی کپڑے کا چوغہ جو بازار میں بک رہا تھا ،لیا اور (اسے) رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے آئے اور کہا: یا رسول اللہ! آپ ؐاسے لے لیں۔ عید کے دن اور قاصدوں کی ملاقات کے لئے اسے زیب تن فرمایا کریں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: یہ لباس تو ان لوگوں کا ہے جو (آخر ت میں) بے نصیب ہیں۔ (یہ سن کر) حضرت عمر ؓ جب تک بھی اللہ نے چاہا ٹھہرے رہے۔ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ریشمی چوغہ ان کو بھیجا۔حضرت عمرؓ اس کو لے کر رسول اللہ کے پاس آئے اور کہا: یارسول اللہ ! آپؐ نے تو فرمایا تھا: یہ ان کا لباس ہے جو (آخرت میں) بے نصیب ہیں اور آپؐ نے مجھے یہ چوغہ بھیج دیا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا: آپؓ اس کو بیچ دیں اور اس کی قیمت سے اپنی ضرورت پوری کرلیں۔
اور یہ عید کا دن تھا۔ اس دن حبشی لوگ ڈھالوں اور برچھیوں سے کھیل رہے تھے۔ یا تو میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی یا خود آپؐ نے فرمایا: تم دیکھنا چاہتی ہو؟ میں نے کہا: جی ہاں۔ آپؐ نے مجھے اپنے پیچھے کھڑا کر لیا ۔ میرا رخسار آپؐ کے رخسار سے ملا ہوا تھا۔ اور آپؐ کہہ رہے تھے: اے بنی ارفدہ کھیلو۔ آخر جب میں اکتا گئی تو آپؐ نے (مجھ سے) پوچھا : بس ۔ میں نے کہا: ہاں۔ آپؐ نے فرمایا: جائو۔
حجاج (بن منہال) نے ہم سے بیان کیا، کہا: شعبہ نے ہم سے بیان کیا کہ زبید (بن حارث) نے مجھے بتایا۔ انہوں نے کہا: میں نے شعبی سے سنا کہ حضرت برائؓ سے مروی ہے ۔ انہوں نے کہا: میں نے نبی
ابراہیم بن منذر(حزامی) نے ہم سے بیان کیا، کہا: انس (بن عیاض) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عبیداللہ (عمر ی) سے، عبیداللہ نے نافع سے، نافع نے حضرت عبداللہ بن عمرؓ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عید الاضحٰی اورعید الفطر میں (پہلے) نماز پڑھتے اور پھر نماز کے بعد لوگوں سے مخاطب ہوتے۔
احمد (بن عیسیٰ) نے ہم سے بیان کیا، کہا: (عبداللہ) بن وہب نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا: عمرو (بن حارث) نے ہمیں بتایا کہ محمدبن عبدالرحمن اسدی نے عروہ سے، عروہ نے حضرت عائشہؓ سے روایت کی کہ وہ کہتی تھیں:نبی ﷺ میرے پاس آئے اور اس وقت میرے پاس دو لڑکیاں تھیں جو بعاث کی لڑائی کے گیت گا رہی تھیں۔ آپؐ بچھونے پر لیٹ گئے اور اپنا منہ ایک طرف کرلیا اورحضرت ابوبکرؓ اندر آئے۔ تو انہوں نے مجھ کو جھڑکا اور کہا: شیطان کی بانسریاں نبی ﷺ کے پاس! رسول اللہ علیہ السلام ان کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: انہیں رہنے دو۔ جب آپ کی توجہ ہٹ گئی تو میںنے ان دونوں کو اشارہ کیا۔ وہ باہر چلی گئیں۔
عبیدبن اسماعیل نے ہم سے بیان کیا، کہا: ابواسامہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ہشام سے، ہشام نے اپنے باپ سے، ان کے باپ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی۔ وہ کہتی تھیں: حضرت ابوبکرؓ اندرآئے ۔ اس وقت میرے پاس انصار کی لڑکیوں میں سے دولڑکیاں تھیں،وہ گارہی تھیں جو اشعار بعاث کی جنگ میں انصار نے کہے تھے۔ کہتی تھیں: وہ کوئی ڈومنیاں نہ تھیں۔ تو حضرت ابوبکرؓ نے کہا: کیا رسول اللہ ﷺ کے گھر میں شیطان کی بانسریاں (لے کربیٹھی ہو؟) اور یہ واقعہ عید کے دن کا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ابوبکرؓ! ہر ایک قوم کی عید ہوا کرتی ہے اور یہ ہماری عید ہے۔
(تشریح)محمد بن عبدالرحیم نے ہم سے بیان کیاکہ سعید بن سلیمان نے ہمیں بتایا۔انہوں نے کہا: ہشیم (بن بشیر) نے ہمیں خبردی، کہا: عبیداللہ بن ابی بکربن انس نے ہمیں بتایا۔ حضرت انسؓ (بن مالک) سے مروی ہے۔ انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ عیدالفطر کے دن نہ نکلتے ۔ جب تک کچھ کھجوریں نہ کھالیتے۔ مرجّا بن رجاء نے کہا: عبیداللہ (بن ابی بکر) نے مجھ سے بیان کیا ، کہا: حضرت انسؓ نے نبی ﷺ سے روایت کرتے ہوئے مجھے بھی یہی بتایا (اور کہا:) اورآپؐ انہیں طاق صورت میں کھاتے۔
(تشریح)مسدد نے ہم سے بیان کیا، کہا: اسماعیل نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ایوب (سختیانی) سے، ایوب نے محمد (بن سیرین) سے، انہوں نے حضرت انسؓ (بن مالک) سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: نبی ﷺ نے فرمایا: جس نے نماز سے پہلے ذبح کیا، چاہیے کہ وہ دوبارہ ذبح کرے۔ اس پر ایک شخص اٹھا اور اس نے کہا: یہ دن ہے جس میں گوشت کی خواہش ہوتی ہے اور اس نے اپنے پڑوسیوں کی محتاجی کا حال بیان کیا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی تصدیق کی۔ اس نے کہااور میرے پاس ایک سال کی پٹھیا ہے جو گوشت والی دو بکریوں سے مجھے بہت زیادہ پسند ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو اجازت دی۔ میں نہیں جانتا آیا یہ اجازت کسی اور کو بھی ہوئی یا نہیں۔
عثمان (بن ابی شیبہ) نے ہم سے بیان کیا، کہا: جریر نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے منصور سے، منصور نے سے، نے حضرت براء بن عازبؓ سے روایت کی ۔ انہوں نے کہا: عیدالاضحٰی کے دن نماز کے بعد نبی ﷺ نے ہمیں مخاطب کیا۔ فرمایا: جس نے ہماری نماز کی طرح نماز پڑھی اور ہماری قربانی کی طرح قربانی کی۔ تو اس نے ٹھیک قربانی کی اور جس نے نماز سے پہلے قربانی کی چونکہ وہ نماز سے پہلے ہوئی اس کی کوئی قربانی نہیں۔ اس پر حضرت ابوبردہ بن نیارؓ نے جو حضرت براء (بن عازبؓ) کے ماموں تھے، کہا: یا رسول اللہ! میں نے تو اپنی بکری نماز سے پہلے ذبح کرلی تھی۔ میں تو یہ سمجھا تھا کہ آج کھانے پینے کا دن ہے اور میں نے چاہا کہ پہلی بکری جو ذبح ہو وہ میرے ہی گھر میں ہو اس لئے میں نے اپنی بکری ذبح کردی اور نماز کو آنے سے پہلے ناشتہ کیا۔ آپؐ نے فرمایا: تمہاری بکری تو گوشت کی بکری ہوئی اس نے کہا: یارسول اللہ! ہمارے پاس ایک سال کی پٹھیا ہے جو مجھے دوبکریوں سے بھی زیادہ پیاری ہے۔ کیا وہ میری طرف سے بطور قربانی کافی ہوگی؟ آپؐ نے فرمایا: ہاں۔ تمہارے بعد کسی کو بطور قربانی کام نہ آئے گی۔
(تشریح)سعید بن ابی مریم نے ہم سے بیان کیا، کہا: محمد بن جعفر نے ہم سے بیان کیا، کہا: زید (بن اسلم) نے مجھے بتایا۔ انہوں نے عیاض بن عبداللہ بن ابی سرح سے، انہوں نے حضرت ابوسعید خدریؓ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عیدالفطر اور عید الاضحی میں عید گاہ کو جاتے تو پہلا کام جس سے آپؐ ابتداء کرتے وہ نماز ہوتی۔ پھر فارغ ہوکر لوگوں کے سامنے کھڑے ہوتے اور لوگ اپنی اپنی صفوں میں بیٹھے رہتے۔ آپؐ ان کو وعظ و نصیحت کرتے اور احکام سے آگاہ فرماتے۔ پھر اگر کوئی فوج بھیجنا چاہتے تو اس کا فیصلہ کرتے یا کوئی اور حکم دینا ہوتا تو وہ دیتے۔ پھر لوٹ جاتے۔ حضرت ابوسعیدؓ کہتے تھے: لوگ ہمیشہ اسی طرح کرتے رہے۔ یہاں تک کہ میں مروان کے ساتھ جو مدینہ کا حاکم تھا؛ عیدالاضحٰی یا عیدالفطر کے لئے نکلا۔ جب ہم عید گاہ میں آئے تو کیا دیکھتے ہیں کہ وہاں ایک منبر ہے جس کو کثیر بن صلت نے بنوایا تھا اور (کہا:) مروان اس پر نماز پڑھنے سے پہلے چڑھنا چاہتا ہے۔ میں نے اس کو کپڑے سے کھینچا تو اس نے مجھے کھینچ لیا اور منبر پرچڑھ گیا اور نماز سے پہلے خطبہ پڑھا۔ میں نے کہا: اللہ کی قسم! تم نے (سنت کو) بدل ڈالا۔ اس نے جواب دیا: ابوسعید ؓ اب وہ (زمانہ) گذر گیا جس کو تم جانتے ہو۔میںنے کہا: بخدا جس زمانہ کو میں جانتا ہوں۔ وہ اس زمانہ سے بہتر ہے جس کو میں نہیںجانتا۔ انہوں نے کہا: بات یہ ہے کہ لوگ نماز کے بعدہمارے لیے بیٹھتے نہیں۔ اس لئے میں نے خطبہ نماز سے پہلے کردیا ہے۔
(تشریح)