بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 118 hadith
(ابوقدامہ) عبیداللہ بن سعید نے ہم سے بیان کیا، (کہا:) ابونعمان حکم جو عبداللہ بصری کے بیٹے ہیں نے ہم سے بیان کیا۔ (انہوں نے کہا:)شعبہ (بن حجاج) نے ہمیں بتایا کہ سلیمان سے مروی ہے۔ انہوں نے ابووائل سے، ابووائل نے حضرت ابومسعود (انصاری) رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: جب صدقہ کی آیت نازل ہوئی؛ ہم بوجھ اُٹھایا کرتے تھے ایک شخص (حضرت عبدالرحمن بن عوفؓ) آیا اور اس نے بہت سا صدقہ دیا۔ لوگوں نے کہا: ریا کار ہے اور ایک اور شخص (حضرت ابوعقیلؓ) آیا تو اس نے ایک صاع (کھجور) صدقہ میں دی تو لوگوں نے کہا: اللہ ایک صاع کا محتاج نہیں۔ تب یہ آیت نازل ہوئی کہ جو مومنوں میں سے بخوشی صدقہ دینے والوں کو صدقات کے بارے میں طعنہ دیتے ہیں اور ان کو جو اپنے مقدور کے سوا نہیں پاتے۔۔۔۔ ۔
سعید بن یحيٰ نے ہم سے بیان کیا۔ (کہا:) میرے باپ نے ہم سے بیان کیا۔(انہوں نے کہا:) اعمش نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے شقیق سے، شقیق نے حضرت ابومسعود انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب ہمیں صدقہ کا حکم دیتے تو ہم میں سے کوئی بازار جاتا اور (وہاں مزدوری پر) بوجھ اُٹھاتا اور ایک مُدّ( غلہ) حاصل کرتا اور آج یہ حالت ہے کہ ان میں سے بعض کے پاس تو ایک ایک لاکھ (دینار) ہیں۔
سلیمان بن حرب نے ہم سے بیان کیا، (کہا:) شعبہ نے ہمیں بتایا کہ ابواسحاق ( عمروبن عبد اللہ سبیعی) سے مروی ہے۔ انہوں نے کہا: میں نے عبداللہ بن معقل سے سنا۔ انہوں نے کہا: میں نے حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ سے سنا۔ انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا۔ آپؐ فرماتے تھے کہ آگ سے بچو خواہ ایک ٹکڑا کھجور کا دے کر۔
علی بن جعد نے ہم سے بیان کیا، (کہا:) شعبہ نے ہمیں بتایا ۔ انہوں نے کہا: مجھے معبد بن خالد نے بتایا۔ انہوں نے کہا: میں نے حضرت حارثہ بن وہب خزاعی رضی اللہ عنہ سے سنا۔ کہتے تھے کہ میں نے نبی
بشر بن محمد نے ہم سے بیان کیا، کہا: عبداللہ (بن مبارک) نے ہمیں بتایا۔ (انہوں نے کہا:) معمر نے ہمیں بتایا کہ زہری سے مروی ہے کہ انہوں نے کہا: مجھے عبداللہ بن ابی بکر بن حزم نے بتایا۔ انہوں نے عروہ(بن زبیر) سے، عروہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی۔ وہ کہتی تھیں: ایک عورت آئی۔ اس کے ساتھ اس کی دو لڑکیاں تھیں۔وہ مانگ رہی تھی۔ میرے پاس اس نے سوائے ایک کھجور کے اور کچھ نہ پایا۔ میں نے اسے وہ کھجور دے دی اور اس نے اپنی دو لڑکیوں کے درمیان اسے بانٹ دیا اور خود اُسے نہ کھایا۔ پھر اٹھی اور باہر چلی گئی اور نبی ﷺ ہمارے پاس آئے اور میں نے آپؐ کو یہ واقعہ بتایا۔ آپؐ نے فرمایا: جواِن بیٹیوں کی وجہ سے کسی تکلیف میں مبتلا ہو تو وہ اس کے لئے آگ سے آڑ ہوں گی۔
(تشریح)موسیٰ بن اسماعیل نے ہم سے بیان کیا، (کہا:) عبدالواحد (بن زیاد) نے ہم سے بیان کیا۔ (انہوں نے کہا:) عمارہ بن قعقاع نے ہمیں بتایا (کہا:) ابوزرعہ نے ہم سے بیان کیا۔ (انہو ں نے کہا:) ہم سے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا۔ انہوں نے کہا: ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا۔ اس نے کہا: یا رسول اللہ! ثواب میں کونسا صدقہ بڑھ کر ہے؟ آپؐ نے فرمایا: یہ کہ تو صدقہ کرے جب تو تندرست ہو۔ مال حاصل کرنے کی خواہش رکھتا ہو اور بخیل ہو۔ محتاجی سے ڈرے اور مال دار ہونے کی امید رکھتا ہو اور اتنی دیر نہ کر کہ جان حلق میں آپہنچے اور تو کہے کہ فلاں کو اتنا دینا۔ فلاں کو اتنا دینا۔ حالانکہ فلاں کا تو ہو ہی چکا ہے۔
موسیٰ بن اسماعیل نے ہم سے بیان کیا، (کہا:) ابوعوانہ (وضاح یشکری) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے فراس (بن یحيٰ) سے، فراس نے شعبی سے، شعبی نے مسروق سے، مسروق نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ نبی ﷺ کی بعض ازواج نے نبی ﷺ سے کہا: ہم میں سے کون سب سے جلدی آپؐ سے ملے گی؟ آپؐ نے فرمایا: جس کے ہاتھ زیادہ لمبے ہیں تو ایک لکڑی لے کر وہ اپنے اپنے ہاتھ ناپنے لگیں۔ حضرت سودہؓ کا ہاتھ سب سے زیادہ لمبا تھا۔ ہمیں بعد میں معلوم ہوا کہ ہاتھ کی لمبائی سے مراد تو صدقہ تھا اور ہم میں سے وہ زوجہ سب سے پہلے آنحضرت ﷺ سے ملیں جو صدقہ کو بہت پسند کرتی تھیں۔
(تشریح)ابوالیمان نے ہم سے بیان کیا، (کہا:) شعیب نے ہم سے بیان کیا۔ (انہوں نے کہا:) ابوزناد نے ہمیں بتایا ۔ انہوں نے اعرج سے، اعرج نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک شخص نے کہا: (آج) میں صدقہ ضرور کروں گا۔ چنانچہ وہ اپنا صدقہ لے کر نکلا اور ایک چور کے ہاتھ میں اسے رکھ دیا۔ صبح کو لوگ باتیں کرنے لگے کہ چور کو صدقہ دیا گیا۔ (یہ سن کر) اس نے کہا: اے اللہ! تیرے لیے سب حمد ہے۔ میں اور صدقہ کروں گا۔ چنانچہ وہ اپنا صدقہ لے کر نکلااور ایک کنچنی کے ہاتھ میں اس نے رکھ دیا۔ صبح کو لوگ باتیں کرنے لگے کہ آج رات کنچنی کو صدقہ دیا گیا۔ اس پر اس نے کہا: اے اللہ! تیرے لئے ہی سب حمد ہے کہ کنچنی کو صدقہ ملا۔ میں اور صدقہ کروں گا۔ چنانچہ وہ اپنا صدقہ لے کر نکلا اور ایک مالدار کے ہاتھوں میں اسے رکھ دیا۔ صبح کو لوگ باتیں کرنے لگے کہ غنی کو صدقہ دیا گیا تو اس نے کہا: اے اللہ! تیرے لئے ہی سب حمد ہے جو چور، کنچنی اور مالدار کو صدقہ دیا گیا۔ پھر اس کے پاس کوئی آیا اور اس نے اسے کہا کہ چور کو جو تو نے صدقہ دیا ہے ہوسکتا ہے کہ وہ چوری سے باز رہے اور جو کنچنی کو دیا ہے؛ ہوسکتا ہے کہ وہ زنا سے پرہیز کرے اور جو مالدار کو دیا ہے؛ ہو سکتا ہے کہ وہ عبرت حاصل کرے اور وہ مال جو اللہ نے اسے دیا ہے اس میں سے خرچ کرے۔
(تشریح)محمد بن یوسف (فریابی) نے ہم سے بیان کیا (کہا) اسرائیل ( بن یونس) نے ہم سے بیان کیا۔ (انہوں نے کہا:) ابوالجویریہ (حطان بن خفاف) نے ہمیں بتایا ۔ حضرت معن بن یزید رضی اللہ عنہ نے ان سے بیان کیا، (کہا:) رسول اللہ ﷺ سے میں نے اور میرے باپ( حضرت یزیدؓ) اور میرے دادا ( حضرت اخنس بن حبیبؓ) نے بیعت کی اور آپؐ نے میرا رشتہ تجویز کیا اور نکاح پڑھایا اور میں آپؐ کے پاس ایک مقدمہ لے کر گیا۔ میرے باپ حضرت یزیدؓ نے کچھ اشرفیاں خیرات کرنے کے لئے نکالیں اور مسجد میں ایک آدمی کے پاس رکھ دیں۔ میں اس کے پاس آیا اور میں نے وہ اشرفیاں لے لیں اور اپنے باپ کے پاس لے آیا۔ انہوں نے کہا: اللہ کی قسم! میں تجھے دینا نہیں چاہتا تھا۔ آخرمیںنے ان کے خلاف رسول اللہ ﷺ کے پاس یہ قضیہ پیش کیا۔ آپؐ نے فرمایا: یزید! تیرے لئے وہی ہے جس کی تو نے نیت کی اور معن! تیرے لئے ہے جو تو نے لے لیا۔
(تشریح)مسدد نے ہم سے بیان کیا، (کہا:) یحيٰ (بن سعید قطان) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عبیداللہ (عمری ) سے روایت کی۔ کہا: خُبَیب بن عبدالرحمن نے مجھے بتایا۔ انہوں نے حفص بن عاصم سے، حفص نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے، حضرت ابوہریرہؓ نے نبی ﷺ سے روایت کی کہ آپؐ نے فرمایا: سات شخص ہیں جن کو اللہ تعالیٰ اس دن اپنے سایہ میں رکھے گا جس دن اس کے سایہ کے سوا اور کوئی سایہ نہ ہوگا۔ عادل بادشاہ اور وہ جو اللہ تعالیٰ کی عبادت میں جوان ہوا ہو اور وہ آدمی جس کا دل سجدوں میں لگا ہوا ہے اور وہ دو آدمی جنہوں نے اللہ تعالیٰ کے لئے محبت رکھی اور اس پر اکٹھے رہے او ر اس پر جدا ہوئے اور وہ مرد جس کو عالی مرتبہ خوبصورت عورت نے بلایا ہو اور وہ (اسے) کہے: میں اللہ سے ڈرتا ہوں اور وہ شخص جو صدقہ کرے اور اسے ایسا چھپائے کہ اس کے بائیں کو علم نہ ہو کہ اس کے دائیں نے کیا خرچ کیا ہے اور وہ آدمی جو تنہائی میں اللہ تعالیٰ کو یاد کرے اور اس کے آنسو بہہ پڑیں۔